جموں و کشمیر
حاجن بانڈ ی پورہ کا پورا علاقہ لاک ڈاؤ ن

شمالی ضلع بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والے کورونا وائرس سے متاثرہ 4مریضوں کے 36افراد خانہ کو قرنطینہ مرکز منتقل کیا گیا جبکہ حاجن بانڈی پورہ علاقے کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا۔اس دوران ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے سے وابستہ ڈاکٹروں کی کئی ٹیموں نے علاقے کا دورہ کرکے مزید جانکار ی حاصل کی۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق سرینگر سے تعلق رکھنے والے مریض کی موت کے بعد پولیس وفورسز نے جمعرات کو شمالی ضلع بانڈی پورہ کے حاجن علاقے کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن کیا۔اس دوران کورونا وائرس سے4 متاثرین کے افراد خانہ کے36ممبران کو ’کوارنٹائن‘ مرکز (قرنطینہ مرکز) منتقل کیا گیا۔ انتظامی افسر کے مطابق کشمیر طیبہ کالج شلواتھ سمبل،جوکہ قرنطینہ مرکز میں تبدیل کیا گیا،میں ان متاثرہ افراد کے اٖفراد خانہ کو طبی ضوابط وقواعد کے تحت رکھا گیا ہے۔
علاقے میں میو نسپل کمیٹی حاجن نے بھی جمعرات کی علی الصبح علاقے میں کیڑے مار دواؤں کا چھڑکاؤ کیا۔یاد رہے کہ یہ وہ چار متاثرہ مریض ہیں،جنہوں نے سرینگر کے فوت ہوئے شخص کیساتھ تبلیغی جماعت کی مجالس میں ایک ساتھ شرکت کی۔اس دوران ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کی کئی ٹیموں نے مذکورہ علاقے کا دورہ کیا اور مریضوں کے بارے بارے میں جانکاری حاصل کی جبکہ متاثرین کے قریبی افراد سے بھی جانکاری حاصل کی گئی۔ادھر پولیس نے بھی اپنی سطح تحقیقات شروع کردی گزشتہ چند روز کے دوران متاثرین کہاں کہاں گئے اور کن لوگوں کے درمیان رہے۔کورونا وائرس ایک ایسی عالمی وبا ہے،جو جانوروں سے انسانوں میں داخل ہوئی اور اب ایک انسان سے دوسرے انسان میں تیزی بلکہ برق رفتاری کیساتھ پھیل رہی ہے۔ہندوستان میں اس وبا سے نمٹنے کیلئے 21روزہ کا لاک ڈاؤن شروع ہوچکا ہے جبکہ کشمیر میں گزشتہ آٹھ روز سے لاک داؤن جاری ہے۔کشمیر میں کورو نا وائرس کا پہلا کیس 18مارچ کو سامنے آیا تھا۔متاثرہ خاتون کا تعلق خیام خانیار سے ہے اور وہ صحتیاب ہورہی ہیں۔
جموں و کشمیر
ریاست کا درجہ بحال ہونے تک عمر کابینہ میں شامل نہیں ہوگی کانگریس: طارق کرّا
سرینگر، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کے صدر طارق حمید کرّا نے جمعرات کو کہا ہے کہ جب تک جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاست کا درجہ بحال نہیں کر دیا جاتا، تب تک کانگریس عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی کابینہ (وزراء کی کونسل) میں شامل نہیں ہوگی۔
طارق کرّا نے آج یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی اولین ترجیح جموں و کشمیر کی ریاست کا درجہ بحال کرانا ہے، نہ کہ کوئی وزیر کا عہدہ حاصل کرنا۔ انہوں نے واضح کیا، “کابینہ میں شامل ہونا ہمارا مسئلہ نہیں ہے، ہمارا اصل مسئلہ ریاست کا درجہ بحال کرانا ہے۔ اگر ہم حکومت سے باہر ہیں، تو یہ ایک اصول کی وجہ سے ہیں۔ ہم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جب تک مکمل ریاست کا درجہ واپس نہیں ملتا، ہم کابینہ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ پارٹی کا یہ فیصلہ ‘اصولوں پر مبنی’ ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “اس کے باوجود ہم عمر عبداللہ حکومت کی مکمل حمایت کر رہے ہیں۔ جب بھی ہمیں لگے گا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت پر حملہ کر رہی ہے یا حکومت کو بی جے پی سے کوئی خطرہ ہے، تو اس وقت آپ کانگریس پارٹی کو نیشنل کانفرنس کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا پائیں گے۔”
کانگریس رہنما کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی کابینہ میں توسیع اور ردو بدل کی قیاس آرائیاں تیز ہو رہی ہیں۔ نیشنل کانفرنس کی حکومت کو باہر سے حمایت دے رہی کانگریس مسلسل یہ کہہ رہی ہے کہ ریاست کا درجہ بحال کرنا اس کا سب سے بڑا سیاسی مطالبہ ہے اور اس نے حکومت میں شمولیت کو اسی شرط سے جوڑ رکھا ہے۔ حال ہی میں عمر عبداللہ نے بھی اشارہ دیا تھا کہ کابینہ میں جلد توسیع کی جا سکتی ہے۔
طارق کرّا نے ریاست کے درجے کی بحالی کے لیے دہلی کے جنتر منتر پر دھرنے میں شامل ہونے کی نیشنل کانفرنس کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ کانگریس ایک سال سے زیادہ عرصے سے اس مہم کی قیادت کر رہی ہے۔ جب ان سے نیشنل کانفرنس کے اس اعلان کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے دن احتجاج کے لیے ‘انڈیا الائنس’ کے اراکین اور دیگر جماعتوں کو مدعو کرے گی، تو انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت نے کانگریس کے دیرینہ مؤقف کو درست ثابت کر دیا ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا، “ہم پہلے بھی جنتر منتر جا چکے ہیں۔ اگر آپ دیکھیں تو ہم نے ایک سال پہلے ‘سرینگر چلو’، ‘جموں چلو’ اور پھر ‘دہلی چلو’ کا نعرہ دیا تھا۔ اصل میں یہ ہمارے لیے خوشی کی بات ہے اور میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ جو بات ہم نے ایک سال پہلے کہی تھی اور جو کام ہم نے شروع کیا تھا، آج وہ لوگ بھی اس میں شامل ہو رہے ہیں جنہیں اس وقت تھوڑی ہچکچاہٹ تھی یا کوئی مجبوری تھی۔ آج تمام لوگ اسی نکتے پر پہنچ گئے ہیں جہاں سے کانگریس پارٹی نے شروعات کی تھی۔
یواین آئی۔م اع
جموں و کشمیر
سِنہا نے 4,822 یاتریوں کے پہلے قافلے کو بابا برفانی کی مقدس گپھا کے لیے روانہ کیا
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے جمعرات کے روز بھگوتی نگر بیس کیمپ سے شری امرناتھ یاترا کے عقیدت مندوں کے پہلے قافلے کو مقدس گپھا کی جانب روانہ کیا۔
پہلے قافلے میں 4,822 یاتری 259 ہلکی اور بھاری گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ شری امرناتھ یاترا کے لیے روانہ ہوئے۔ اس موقع پر بالتال اور پہلگام کے دونوں بیس کیمپوں پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، مجموعی طور پر 2,510 یاتری روایتی پہلگام راستے سے سفر کر رہے ہیں، جبکہ 2,312 یاتریوں نے مختصر بالتال راستہ اختیار کیا ہے۔ پہلے قافلے میں 3,707 مرد یاتری، 816 خواتین، 16 بچے، 246 سادھو اور 37 سادھویاں شامل ہیں۔ قافلے میں 106 بسیں، 39 درمیانی موٹر گاڑیاں (ایم ایم وی)، 111 ہلکی موٹر گاڑیاں (ایل ایم وی) اور تین دو پہیہ گاڑیاں شامل ہیں۔
منوج سِنہا نے مقدس یاترا پر روانہ ہونے والے تمام یاتریوں کو نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ “شری امرناتھ جی یاترا ایک ایسا مقدس ذریعہ ہے جہاں عقیدت اور روحانی بیداری کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔ میں تمام یاتریوں کے لیے محفوظ، آرام دہ، خوشگوار اور روحانی طور پر اطمینان بخش سفر کی دعا کرتا ہوں۔ یہ مقدس یاترا سب کے لیے بے پناہ خوشی اور الٰہی سکون کا باعث بنے۔”
انہوں نے کہا کہ یاتریوں کے لیے مناسب سیکیورٹی، طبی سہولیات، صفائی، رہائش اور دیگر تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔ جموں و کشمیر انتظامیہ، شری امرناتھ جی شرائن بورڈ، جموں و کشمیر پولیس، فوج، سیکورٹی فورسز، مقامی برادری اور دیگر متعلقہ اداروں نے ملک اور بیرونِ ملک سے آنے والے عقیدت مندوں کے لیے جامع انتظامات کیے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جعلی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر نوکری پانے کے معاملے میں چار لوگوں کے خلاف چارج شیٹ
سرینگر، جموں و کشمیر پولیس کی اقتصادی جرائم کے ونگ (ای او ڈبلیو) نے جعلی تعلیمی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر محکمہ صحت میں سرکاری نوکری حاصل کرنے کے الزام میں چار لوگوں کے خلاف فردِ جرم داخل کی ہے۔ حکام نے جمعرات کو بتایا کہ بھرتی گھوٹالے کا انکشاف ہونے کے تقریباً 12 برس بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔ اقتصادی جرائم کے ونگ کے مطابق ملزمان کے خلاف رنبیر تعزیرات ہند (آر پی سی) کی دفعہ 420 (دھوکہ دہی)، 468 (جعل سازی) اور 471 (جعلی دستاویز کا استعمال) کے تحت فردِ جرم داخل کی گئی ہے۔
تحقیقاتی ایجنسی نے بتایا کہ یہ معاملہ ایک شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ چار امیدواروں نے سروس سلیکشن ریکروٹمنٹ بورڈ (ایس ایس آر بی) کے ذریعے محکمہ صحت میں مختلف عہدوں پر تقرری فرضی تعلیمی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر حاصل کی تھی۔ ای او ڈبلیو کے مطابق، دستاویزات کی تصدیق کے دوران ملزمان کی طرف سے پیش کردہ سرٹیفکیٹس جعلی پائے گئے اور انتخاب کے وقت فراہم کیے گئے ریکارڈ سے ان کا میل نہیں ہوا۔ اس کے بعد چاروں کی تقرریاں منسوخ کر دی گئیں۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان نے جعلی سرٹیفکیٹس کا استعمال کر کے دھوکہ دہی سے سرکاری نوکری حاصل کی اور متعلقہ حکام کو گمراہ کیا۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان3 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
جموں و کشمیر6 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
دنیا3 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت








































































































