تجزیہ
خود اعتمادی کیا ہے اور یہ بچوں میں کیسے پیدا کی جائے؟

خود اعتمادی پر باتیں تو بہت ہوتی ہیں لیکن عموما اس کے مطلب اور مفہوم کو نظر انداز کر کے خصوصاَ بچوں کے تناظر (Perspective) میں اس پر بہت کم گفتگو ہوتی ہے۔
خود اعتمادی کا مطلب ہے ‘ذاتی تاثر’ یعنی ‘ہم اپنے بارے میں کیا سوچتے اور محسوس کرتے ہیں’ یہ سوچ اور احساس ہی ایک انسان کو اپنی ذات پر اعتماد دیتے ہیں یا احساس کمتری میں مبتلا کرتے ہیں۔
بچے جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں وہ دوسروں کے الفاظ اور رویوں سے اپنے بارے میں رائے بنانا شروع کر دیتے ہیں، اہم بات یہ ہے کہ والدین کے الفاظ اور رویے بچوں کی رائے بنانے میں سب سے زیادہ موثر ہوتے ہیں۔بچہ چاہے گود کا ہو، گھٹنوں چلتا یا نوجوانی کی حدود میں داخل ہونے والا ہو، ان کے لیے محبت و احساس جیسے جذبات خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے سب سے اہم ستون ہیں، یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اپنے بچے کو خود اعتمادی جیسی اہم صفت پیدا کرنے میں کیسے مدد فراہم کرتے ہیں یا انہیں احساس کمتری میں مبتلا شخصیت بنانے کا کام کرتے ہیں۔خود اعتمادی کو کیسے پہچانا جائے؟
بچوں کا مختلف حالات اور واقعات میں ردعمل بچوں میں خود اعتمادی ہونے یا نہ ہونے کا عندیہ دے سکتا ہے۔
کمتر خود اعتمادی کی نشانیاں
نئے اور اجنبی تجربات و حالات سے گریز
اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ نہ ہونا
دوسروں سے غیر ضروری متاثر ہونا
جلدی جھنجھلا جانا
دفاعی مزاج ہونا اور تنقید سے گھبرانا
باربار اپنے ظاہری حلیے بدلتے جانا
سماجی سرگرمیوں سے گریز
بہتر خود اعتمادی کی نشانیاں
نئے اور غیر مانوس تجربات اور حالات کو خوش آمدید کہنا
اپنی صلاحیتوں اور کاموں پر مطمئن ہونا
غلطیوں سے سیکھنا
مثبت تنقید کو قبول کرنا
اپنے حلیے پر اعتماد ہوناخود اعتمادی کیسے بچوں پر اثر انداز ہوتی ہے؟
خود اعتمادی بچوں کو مختلف حوالوں اور دائروں میں مدد فراہم کرتی ہے، مثلا یہ بچوں کے رویے، ان کی ذاتی توانائی اور ہم عمر بچوں کے پریشر کا سامنا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان کے سیکھنے، شخصی و جسمانی نشوونما اور تخلیقیت کے لیے بھی اہم ہے۔لاوہ ازیں اپنے اہداف طے کرنا، ان تک پہنچنا، فیصلہ سازی اور مسائل کے حل کی استطاعت پیدا کرنا بھی خود اعتمادی کے بغیر ممکن نہیں۔
والدین بچوں میں خود اعتمادی کیسے پیدا کریں؟
خود اعتمادی کی طرف پہلا قدم محبت اور خیال رکھنے والے ماحول کی تشکیل ہے، اس کے ذریعے بچے کا ‘ذاتی تاثر’ ‘بہتر بنانے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، اس کے لیے درج ذیل 4 اہم کام کرنے کی ضرورت ہے۔
1 – تعلق بھرا احترامخود اعتمادی دراصل نام ہی ذاتی احترام اور ذاتی قدر (Value) کا ہے، بحیثیت والدین سب سے اہم کام جو آپ کر سکتے ہیں وہ خود کو اپنے شریک حیات کو اور بچے کو تعلق بھرا احترام دینا ہے، بچے یہ بات آپ سے خود بخود سیکھ لیں گے۔
اس کے علاوہ بچے کے ساتھ حقیقی دلچپسپی کا اظہار کریں، مثلا بچے سے گھر کے مختلف مسائل میں رائے پوچھیں، اس کی رائے کا احترام کریں، اگرچہ یہ آپ کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
بچے کے انتخاب، رائے اور اس کی ذاتی متعلقات (Belongings) کا احترام کریں، ان پر اپنا حکم تھوپنے کے بجائے انہیں دو یا زائد آپشن دیں، اس کے ساتھ بچوں کو منفی القابات دینے، مسترد کرنے اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے جیسے ‘رویے’ کو محدود سے محدود تر کرتے جائیں۔
بچوں کو اپنی مثبت خاندانی روایات سے جوڑیں تاکہ وہ اپنی ذات کو مضبوط اور قابل فخر سمجھ سکیں، یاد رکھیں کہ بچوں کی انفرادیت کو تسلیم کرنا اور انہیں احترام دینا، انہیں دوسروں کی ترجیحات کا احترام کرنا بھی سکھائے گی۔
تجزیہ
ہیٹ ویوز اور اوزون: ہندوستان میں دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے بڑھتی ہوئی اموات کا سنگین بحران
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
موسمیاتی تبدیلی اکیسویں صدی کا سب سے بڑا عالمی چیلنج بن چکی ہے, دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، خشک سالی، سیلاب اور گرمی کی لہروں نے انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کیا ہے, ہندوستان جو دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ممالک میں شامل ہے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کرنے والے ممالک کی صفِ اول میں کھڑا ہے, حالیہ برسوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کی لہروں کی تعداد، شدت اور دورانیہ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی، خصوصاً سطحی اوزون ایک خاموش مگر مہلک خطرے کے طور پر ابھر رہی ہے۔
12 جون کو نیچر پورٹ فولیو کے جریدے ’این پی جے کلین ائر‘ میں شائع ہونے والی ایک جائزہ تحقیق نے ایک نہایت اہم اور تشویشناک حقیقت کو اجاگر کیا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق ہندوستان میں گرمی کی لہروں کے دوران سطحی اوزون کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے ہونے والی اموات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ مطالعے کے مطابق 2024 کے دوران ہیٹ ویو کے دنوں میں تقریباً 830 اضافی اموات ریکارڈ ہوئیں، جن کا تعلق گرمی اور اوزون کے مشترکہ اثرات سے تھا۔
یہ تحقیق اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی الگ الگ مسائل نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بحران ہیں جو انسانی صحت کے لیے دوہرا خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔
عام طور پر جب اوزون کا ذکر ہوتا ہے تو لوگوں کے ذہن میں فضا کی بالائی تہہ میں موجود اوزون کی حفاظتی پرت آتی ہے، جو سورج کی نقصان دہ بالائے بنفشی شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ تاہم سطحی اوزون اس سے بالکل مختلف ہے۔
سطحی اوزون ایک ثانوی فضائی آلودگی ہے جو براہ راست خارج نہیں ہوتی بلکہ مختلف آلودہ گیسوں کے باہمی کیمیائی تعامل سے بنتی ہے۔ گاڑیوں، صنعتی کارخانوں، بجلی گھروں اور دیگر ذرائع سے خارج ہونے والے نائٹروجن آکسائیڈز اور غیر مستحکم نامیاتی مرکبات سورج کی روشنی اور زیادہ درجہ حرارت کی موجودگی میں اوزون پیدا کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے گرم اور دھوپ والے دنوں میں اوزون کی سطح زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ جب گرمی کی لہریں آتی ہیں تو درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ اوزون کی تشکیل کے عمل کو مزید تیز کر دیتا ہے۔
تحقیق کے مطابق شمالی ہندوستان میں گرمی کی لہروں کے دوران اوزون کی سطح 85 سے 110 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی محفوظ حد 100 مائیکروگرام فی مکعب میٹر مقرر کی گئی ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہیٹ ویو کے دوران اوزون کی مقدار محفوظ سطح سے کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گرمی کی لہر ختم ہونے کے تقریباً تین سے چار دن بعد اوزون کی سطح دوبارہ کم ہونا شروع ہو جاتی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شدید گرمی اوزون کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
ہندوستان کے شمالی علاقوں خصوصاً دہلی، پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور راجستھان میں گرمی کی شدت زیادہ ہونے کے باعث اوزون کی سطح بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ تاہم مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ملک کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں اوزون کی سطح عالمی ادارہ صحت کی سفارش کردہ حد سے نیچے رہی ہو۔
سطحی اوزون کو دنیا کے خطرناک ترین فضائی آلودگی پھیلانے والے عناصر میں شمار کیا جاتا ہے۔ جب انسان آلودہ ہوا میں سانس لیتا ہے تو اوزون براہ راست پھیپھڑوں اور نظامِ تنفس کو متاثر کرتی ہے۔
اس کے فوری اثرات میں شامل ہیں: سانس لینے میں دشواری، کھانسی اور گلے میں جلن، سینے میں درد، دمہ کی شدت میں اضافہ اور پھیپھڑوں کی کارکردگی میں کمی
تاہم اس کے طویل مدتی اثرات کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ مسلسل اوزون کی نمائش دل کی بیماریوں، فالج، دائمی پھیپھڑوں کی بیماریوں اور قبل از وقت اموات کے خطرات کو بڑھا دیتی ہے۔تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ اوزون صرف پھیپھڑوں ہی نہیں بلکہ قلبی نظام کو بھی متاثر کرتی ہے۔ یہ خون کی نالیوں میں سوزش پیدا کرتی ہے، جس سے دل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور دل کے دورے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اسکیمک دل کی بیماری (Ischemic Heart Disease) دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دل کو خون فراہم کرنے والی شریانیں تنگ یا بند ہو جاتی ہیں۔
مطالعے کے مطابق 2024 میں ہیٹ ویو کے دوران اوزون کے بڑھنے سے تقریباً 26,500 اموات اسکیمک دل کی بیماری اور سی او پی ڈی سے منسلک پائی گئیں۔ ان میں سے تقریباً 490 اضافی اموات صرف دل کی بیماریوں کے سبب واقع ہوئیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرمی اور فضائی آلودگی کا امتزاج دل کے مریضوں کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بزرگ افراد، ہائی بلڈ پریشر کے مریض، ذیابیطس کے شکار افراد اور پہلے سے دل کے امراض میں مبتلا لوگ اس خطرے کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری (Chronic Obstructive Pulmonary Disease (COPD) ایک سنگین بیماری ہے جس میں پھیپھڑوں کی ہوا کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں اور مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔اوزون پھیپھڑوں میں سوزش پیدا کرتی ہے اور سی او پی ڈی کے مریضوں کی حالت مزید خراب کر دیتی ہے۔ تحقیق کے مطابق گرمی کی لہروں کے دوران سی او پی ڈی سے متعلق تقریباً 342 اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ فضائی آلودگی صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین صحت عامہ کا بحران ہے۔
گرمی کی لہروں میں اضافہ محض اتفاق نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے شدید گرمی کے واقعات زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں۔ہندوستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران گرمی کی لہروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایسے حالات اوزون کی تشکیل کے لیے مثالی ماحول فراہم کرتے ہیں۔یعنی ایک طرف موسمیاتی تبدیلی درجہ حرارت بڑھا رہی ہے اور دوسری طرف یہی درجہ حرارت فضائی آلودگی کو مزید مہلک بنا رہا ہے۔ اس طرح دونوں عوامل مل کر انسانی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
بڑے شہروں میں صورتحال نسبتاً زیادہ تشویشناک ہے۔ دہلی، ممبئی، کولکاتا، چنئی، بنگلورو اور حیدرآباد جیسے شہروں میں گاڑیوں کی بڑھتی تعداد، صنعتی سرگرمیاں اور شہری پھیلاؤ فضائی آلودگی کو بڑھا رہے ہیں۔شہری علاقوں میں ‘اربن ہیٹ آئی لینڈ’ کا اثر بھی پایا جاتا ہے، جس کے تحت کنکریٹ کی عمارتیں اور سڑکیں گرمی کو جذب کرکے درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ نتیجتاً اوزون کی تشکیل میں اضافہ ہوتا ہے۔
اسی لیے شہری آبادیوں کو دوہرے خطرے کا سامنا ہے: شدید گرمی اور بلند اوزون۔
ہیٹ ویوز اور اوزون کی بڑھتی ہوئی سطح صرف صحت ہی کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ ان کے وسیع معاشی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ ہسپتالوں پر دباؤ بڑھتا ہے، صحت کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، مزدوروں کی پیداواری صلاحیت کم ہو جاتی ہے، معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے اور کم آمدنی والے طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
غریب خاندان اکثر ایئر کنڈیشننگ، صاف رہائش اور معیاری طبی سہولیات سے محروم ہوتے ہیں، اس لیے وہ ان خطرات کا زیادہ شکار بنتے ہیں۔
اس بحران سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے فضائی آلودگی کے بنیادی ذرائع کو کم کرنا ہوگا۔اس مقصد کے لیے:گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں میں کمی لائی جائے، صاف توانائی کے ذرائع کو فروغ دیا جائے، صنعتی اخراج پر سخت نگرانی کی جائے، قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے اور شہری منصوبہ بندی میں سبز علاقوں کا اضافہ کیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہیٹ ایکشن پلانز کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ شدید گرمی کے دوران حساس آبادیوں کو بروقت تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
’این پی جے کلین ائر‘ میں شائع ہونے والی یہ تحقیق ہندوستان میں موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ مطالعہ واضح کرتا ہے کہ گرمی کی لہریں صرف براہِ راست گرمی سے متعلق بیماریوں کا باعث نہیں بنتیں بلکہ اوزون کی سطح میں اضافے کے ذریعے دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے اموات میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔
2024 کے دوران تقریباً 830 اضافی اموات کا تخمینہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہیٹ ویوز اور اوزون کا امتزاج ایک خاموش مگر سنگین عوامی صحت کا بحران بن چکا ہے۔ مزید برآں، اوزون سے منسلک تقریباً 26,500 اموات اس مسئلے کی وسعت کو ظاہر کرتی ہیں۔
اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی گرمی کی لہریں مستقبل میں مزید جانیں لے سکتی ہیں۔ لہٰذا حکومت، سائنسی اداروں، صحت ماہرین اور عوام کو مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو نہ صرف فضائی آلودگی کو کم کریں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے مقابلے کے لیے معاشرے کو زیادہ مضبوط اور محفوظ بنائیں۔ یہی راستہ انسانی صحت، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
(یواین آئی)
تجزیہ
یہ التجا مفتی کون ہے
تحریر۔۔ محمد رفیق راتھر
آج کل جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک سوال بار بار سنائی دیتا ہے: “یہ التجا مفتی کون ہے” یہ سوال نیشنل کانفرنس کے بعض رہنما، وزراء اور ترجمان اکثر اٹھاتے رہتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سوال خود اپنے اندر ایک سیاسی اعتراف بھی رکھتا ہے۔ اگر التجا مفتی غیر اہم ہوتیں تو ان کا نام اتنی شدت سے سیاسی بحث کا موضوع نہ بنتا اور نہ ہی ان کے بیانات پر مسلسل ردعمل سامنے آتا۔
التجا مفتی کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہیں، نہ وہ وزیر ہیں، نہ رکن اسمبلی اور نہ ہی کسی آئینی منصب کی حامل ہیں۔ ان کی اصل شناخت یہ ہے کہ وہ ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والی ایسی نوجوان خاتون ہیں جنہوں نے مشکل ترین حالات میں اپنی سیاسی رائے اور عوامی مسائل کے بارے میں آواز بلند کی۔ وہ سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی صاحبزادی ہیں، مگر صرف یہی ان کی شناخت نہیں۔
جموں و کشمیر کی سیاست میں خاندانی پس منظر رکھنے والے افراد کا سیاست میں متحرک ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ نیشنل کانفرنس، کانگریس، بی جے پی اور دیگر جماعتوں میں بھی سیاسی خاندانوں کے افراد اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اگر کسی سیاستدان کا بیٹا یا بیٹی سیاسی معاملات پر اظہار خیال کرے تو اسے غیر معمولی نہیں سمجھا جاتا۔ پھر صرف التجا مفتی کے حوالے سے ہی یہ سوال کیوں اٹھایا جاتا ہے
حقیقت یہ ہے کہ التجا مفتی نے گزشتہ چند برسوں میں عوامی مسائل، انسانی حقوق، نوجوانوں کے مستقبل، روزگار، زمینوں کے تحفظ اور جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال پر مسلسل بات کی ہے۔ انہوں نے ایسے وقت میں اپنی آواز بلند کی جب بہت سے لوگ خاموش رہنے کو ترجیح دے رہے تھے۔ ان کے بیانات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی سیاست پر تنقید کی جا سکتی ہے، مگر ان کے حقِ اظہار پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں نوجوان نسل محض تماشائی بن کر رہنے کے لیے تیار نہیں۔ نوجوان اپنے مستقبل، شناخت، روزگار اور سیاسی حقوق کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ التجا مفتی اسی نئی نسل کی ایک نمائندہ آواز کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر نہ صرف اپنی رائے کا اظہار کیا بلکہ عوامی مسائل کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
التجا مفتی نے صرف سیاسی بیانات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ جموں و کشمیر کے عوامی جذبات، احساسات اور خدشات کی ترجمانی بھی کی ہے۔ خصوصاً 5 اگست 2019 کے بعد پیدا ہونے والی غیر معمولی سیاسی صورتحال میں انہوں نے ان موضوعات پر کھل کر بات کی جن پر بہت سے لوگ خاموش رہنے کو ترجیح دے رہے تھے۔ جموں و کشمیر کے سلب شدہ آئینی حقوق، شناخت اور وقار کی بحالی، مقامی زمینوں اور وسائل کے تحفظ، نوجوانوں کے روزگار اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کے بڑھتے ہوئے تنازع جیسے حساس معاملات پر ان کا مؤقف واضح اور دوٹوک رہا ہے۔
جموں و کشمیر کے ہزاروں نوجوانوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ان کے مستقبل، روزگار اور مواقع سے متعلق فیصلے ان کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق نہیں ہو رہے۔ ایسے میں التجا مفتی نے ان خدشات کو سیاسی اور عوامی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ زمینوں کے تحفظ، مقامی حقوق، روزگار کے مواقع اور سیاسی اختیارات کی بحالی جیسے موضوعات پر ان کی مسلسل آواز نے انہیں نوجوان نسل کے ایک بڑے حلقے میں قابلِ توجہ مقام دلایا ہے۔
سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں نئی آوازوں کو ابتدا میں تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر جمہوری معاشروں میں شخصیات نہیں بلکہ خیالات اور دلائل کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔ اگر التجا مفتی کی باتیں غلط ہیں تو ان کا جواب حقائق اور دلیل سے دیا جانا چاہیے۔ محض یہ پوچھتے رہنا کہ “یہ التجا مفتی کون ہے؟” دراصل اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ بار بار پوچھتے ہیں کہ “یہ التجا مفتی کون ہے؟” دراصل وہ خود ان کی سیاسی اہمیت کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں۔ سیاست میں کسی شخصیت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ مخالفین اس کا ذکر کتنی بار کرتے ہیں۔ اگر التجا مفتی کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوتا تو ان کے مخالفین کو ان پر ردعمل دینے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔
جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں خواتین کا کردار ہمیشہ قابلِ ذکر رہا ہے، مگر بدقسمتی سے خواتین سیاستدانوں اور سماجی کارکنوں کو اکثر مرد سیاستدانوں کے مقابلے میں زیادہ سخت تنقید اور ذاتی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی نوجوان خاتون اپنی سیاسی رائے کا اظہار کرتی ہے اور عوامی مسائل پر بات کرتی ہے تو یہ جمہوری عمل کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جانی چاہیے، نہ کہ اسے تنقید کا نشانہ بنا کر خاموش کرانے کی کوشش کی جائے۔
عوام آج یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بے روزگاری کیسے کم ہوگی، نوجوانوں کو روزگار کب ملے گا، زمینوں اور وسائل کا تحفظ کیسے ہوگا اور جموں و کشمیر کے سیاسی حقوق کی بحالی کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔ سیاست کا اصل مقصد بھی یہی ہونا چاہیے۔ کسی شخصیت کو ہدف بنانے کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینا ہی سیاسی بلوغت اور جمہوری ذمہ داری کی علامت ہے۔
جمہوریت کی بنیاد ہی یہ ہے کہ ہر شہری کو اپنی رائے رکھنے اور اس کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہو۔ اگر ایک نوجوان خاتون سیاسی معاملات پر گفتگو کرتی ہے تو اس کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ اس کے وجود یا شناخت پر سوال اٹھا کر۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، لیکن سیاسی مخالفین کی تضحیک یا ان کی شناخت کو موضوعِ بحث بنانا جمہوری روایات کو کمزور کرتا ہے۔
لہٰذا جب اگلی بار کوئی پوچھے کہ “یہ التجا مفتی کون ہے؟” تو جواب سادہ ہے: وہ جموں و کشمیر کی ایک نوجوان سیاسی آواز ہیں جن کی باتوں سے اتفاق یا اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر جنہیں نظر انداز کرنا ان کے ناقدین کے لیے بھی ممکن نہیں رہا۔
اگر وہ غیر اہم ہوتیں تو ان کا ذکر روزانہ سیاسی بیانات میں نہ ہوتا۔ ان کی موجودگی اور ان پر ہونے والی بحث اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ریاست کی سیاسی گفتگو کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ التجا مفتی کون ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان کی اٹھائی ہوئی باتوں اور عوامی مسائل کا جواب کیا ہے۔ جمہوریت میں شخصیات نہیں، مسائل اور نظریات اہم ہوتے ہیں۔ جو سیاست عوامی مسائل کے بجائے شخصیات کے گرد گھومنے لگے، وہ اپنی اصل ذمہ داری سے دور ہو جاتی ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام بھی آج یہی چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل پر بات ہو، ان کے حقوق کی بات ہو اور ان کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ گفتگو ہو۔ یہی کسی بھی صحت مند جمہوری معاشرے کی پہچان ہے۔
مضمون نگار ٹریڈ یونین و سیاسی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معروف قلمکار بھی ہیں۔
تجزیہ
سبز توانائی اور موسمیاتی بحران
خصوصی مضمون: ظفراقبال
اکیسویں صدی کا سب سے بڑا عالمی مسئلہ موسمیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) ہے، دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، غیر معمولی بارشیں، خشک سالی، جنگلات کی آگ، گلیشیئرز کا پگھلنااور سمندری سطح میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کر ہ ارض ایک سنگین ماحولیاتی بحران سے گزر رہا ہے، گزشتہ چند دہائیوں میں سائنس دانوں اور ماہرین ماحولیات نے بارہا خبردار کیا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری اور مؤثر کمی نہ کی گئی تو انسانی تہذیب کو ناقابلِ تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تناظر میں قابلِ تجدید توانائی یا سبز توانائی کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ کا ایک اہم ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ شمسی توانائی، ہوائی توانائی، آبی توانائی اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع کو فروغ دینے کے لیے دنیا بھر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ تاہم تازہ ترین عالمی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار میں تاریخی اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود عالمی درجہ حرارت میں اضافہ جاری ہے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں خاطر خواہ کمی نہیں آ سکی۔ یہی حقیقت اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا صرف سبز توانائی ہی موسمیاتی بحران کا حل ہے یا اس کے لیے مزید جامع اور ہمہ گیر اقدامات کی ضرورت ہے
گزشتہ چند برسوں کے دوران قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں غیر معمولی ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ شمسی اور ہوائی توانائی کی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے جس کے باعث یہ کئی ممالک میں فوسل فیول کے مقابلے میں زیادہ سستی اور قابلِ عمل بن چکی ہے۔ چین اور ہندوستان جیسے بڑے ممالک نے شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔
پچھلے سال عالمی سطح پر قابلِ تجدید توانائی کی تنصیبات نے ایک اہم سنگ میل عبور کیا جب شمسی، ہوائی اور آبی توانائی نے بجلی پیدا کرنے میں فوسل ایندھن کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ دنیا آہستہ آہستہ صاف توانائی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
اس ترقی کے متعدد فوائد سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف کاربن کے اخراج میں کمی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں تو دوسری طرف توانائی کی خود کفالت، روزگار کے نئے مواقع اور معاشی ترقی کو بھی فروغ ملا ہے۔ کئی ممالک اب درآمد شدہ تیل اور گیس پر انحصار کم کر رہے ہیں، جس سے ان کی معیشتیں زیادہ مستحکم ہو رہی ہیں۔
اگرچہ سبز توانائی کی ترقی حوصلہ افزا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ رک نہیں سکا۔ تازہ ترین سائنسی رپورٹس کے مطابق 2025 میں انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں عالمی حدت 1.37 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گئی، جو صنعتی دور سے پہلے کے درجہ حرارت کے مقابلے میں ایک خطرناک اضافہ ہے۔
یہ صورتحال اس لیے مزید تشویشناک ہے کیونکہ پیرس معاہدے کے تحت دنیا نے درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سیلسیس سے نیچے رکھنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ سائنس دان خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ چند برسوں میں یہ حد بھی عبور ہو سکتی ہے۔
توانائی کے شعبے میں اگرچہ قابلِ تجدید ذرائع کا حصہ بڑھ رہا ہے، لیکن صنعت کا ایک بڑا حصہ اب بھی کوئلے، تیل اور قدرتی گیس پر انحصار کرتا ہے۔ فولاد، سیمنٹ، کیمیکل، کھاد اور دیگر بھاری صنعتیں بڑی مقدار میں فوسل فیول استعمال کرتی ہیں۔
ان صنعتوں کو سبز توانائی پر منتقل کرنا آسان نہیں۔ اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بھاری سرمایہ کاری اور طویل مدتی منصوبہ بندی درکار ہے۔ مثال کے طور پر گرین ہائیڈروجن کو مستقبل کا صاف ایندھن قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس کی پیداوار ابھی مہنگی ہے اور اس کے لیے مطلوبہ انفراسٹرکچر بھی مکمل طور پر موجود نہیں۔صنعتی شعبے میں تبدیلی کی سست رفتار عالمی اخراج میں کمی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ صرف صاف توانائی پیدا کرنا کافی نہیں بلکہ توانائی کے استعمال میں بھی اصلاحات ضروری ہیں۔
توانائی بچانے والی مشینری، جدید پیداواری نظام اور وسائل کے مؤثر استعمال سے اخراج میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
ری سائیکلنگ اس سلسلے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ری سائیکل شدہ ایلومینیم کی تیاری میں نئے ایلومینیم کے مقابلے میں بہت کم توانائی درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح پلاسٹک، شیشہ اور کاغذ کی ری سائیکلنگ سے نہ صرف وسائل کی بچت ہوتی ہے بلکہ کاربن اخراج بھی کم ہوتا ہے۔تاہم ان اقدامات کو وسیع پیمانے پر اپنانے کے لیے حکومتی پالیسیوں، مالی مراعات اور عوامی شعور کی ضرورت ہے۔
موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے حوالے سے ترقی پذیر ممالک کو منفرد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان ممالک میں غربت، آبادی میں اضافہ، توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب اور محدود مالی وسائل پائیدار ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
بہت سے ترقی پذیر ممالک کے لیے فوری ترجیح معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس وجہ سے وہ اکثر سستی توانائی کے لیے کوئلے اور دیگر فوسل فیولز پر انحصار کرتے ہیں۔اگر عالمی برادری واقعی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا چاہتی ہے تو اسے ترقی پذیر ممالک کو مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرنا ہوگی تاکہ وہ صاف توانائی کی طرف تیزی سے منتقل ہو سکیں۔
موسمیاتی بحران کے حل میں علم اور ٹیکنالوجی کی منتقلی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ جدید سبز ٹیکنالوجی زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک کے پاس موجود ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک کو اس تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں، حکومتوں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر جدید تحقیق اور اختراعات کو عالمی سطح پر تیزی سے منتقل کیا جائے تو صاف توانائی کی لاگت مزید کم ہو سکتی ہے اور اس کے استعمال میں اضافہ ممکن ہے۔بدقسمتی سے اب تک یہ شعبہ عالمی کوششوں کی ایک کمزور کڑی ثابت ہوا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق دنیا کے پاس محدود ‘کاربن بجٹ’ باقی رہ گیا ہے۔ کاربن بجٹ سے مراد گرین ہاؤس گیسوں کی وہ مقدار ہے جو مزید خارج کی جا سکتی ہے جبکہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد کے اندر رکھا جا سکے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق موجودہ اخراج کی رفتار برقرار رہی تو یہ بجٹ تقریباً تین سال میں ختم ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کو فوری اور غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے۔
اگر ایسا نہ کیا گیا تو درجہ حرارت میں اضافے کے نتائج مزید شدید ہو جائیں گے، جن میں سمندری سطح میں اضافہ، خوراک کی قلت، پانی کی کمی، قدرتی آفات اور انسانی ہجرت شامل ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے کوئی ایک ملک تنہا حل نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ حکمتِ عملی اور تعاون ناگزیر ہے۔اقوام متحدہ کے تحت ہونے والی موسمیاتی کانفرنسیں اسی مقصد کے لیے منعقد کی جاتی ہیں، لیکن اکثر سیاسی اختلافات اور معاشی مفادات مؤثر اقدامات کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ممالک اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور اخراج میں کمی کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
ترقی یافتہ ممالک کو تاریخی ذمہ داری کے تحت زیادہ کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ عالمی اخراج میں ان کا حصہ زیادہ رہا ہے۔
قابلِ تجدید توانائی بلا شبہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ کا ایک اہم ستون ہے، لیکن یہ اکیلے اس بحران کا حل نہیں۔ اگرچہ شمسی، ہوائی اور آبی توانائی کی ترقی امید کی ایک کرن ہے، لیکن گرین ہاؤس گیسوں کے مسلسل بڑھتے ہوئے اخراج سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا کو مزید جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔
صنعتی شعبے کی اصلاح، توانائی کی بچت، ری سائیکلنگ، گرین ہائیڈروجن کی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، ترقی پذیر ممالک کی معاونت اور عالمی تعاون کے بغیر موسمیاتی اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
انسانیت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ آنے والے چند برس یہ طے کریں گے کہ آیا دنیا موسمیاتی بحران پر قابو پا سکتی ہے یا آنے والی نسلوں کو ایک زیادہ گرم، غیر مستحکم اور خطرناک سیارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وقت کم ہے، لیکن اگر عالمی برادری سنجیدگی، بصیرت اور اجتماعی عزم کا مظاہرہ کرے تو اب بھی امید باقی ہے کہ زمین کو ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔
(یواین آئی)
ہندوستان1 week ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
تازہ ترین4 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان2 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
کھیل1 week agoڈیوڈ کی ہیٹ ٹرک، کینیڈا نے قطر کو شکست دے کر ورلڈ کپ میں پہلی بار جیت درج کی
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
دنیا4 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا4 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا1 week agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoکشتواڑ میں دہشت گردوں کے معاون نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی
دنیا1 week agoاعلیٰ ترین قیادت کے دستخط سے معاہدے کی خلاف ورزی کی سیاسی قیمت زیادہ ہو گئی: اسماعیل بقائی
دنیا1 week agoتل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی: ایران
تازہ ترین4 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ








































































































