اہم خبریں
سخت ترین حفاظتی انتظامات کے بیچ وادی میں یوم آزادی کی تقریبات جوش و خروش سے منائی گئی

جموں کشمیر کی ترقی اور امن میں تشدد بڑی رکاوٹ ،کشمیر ی پنڈتوں کی با عزت واپسی کیلئے وعدہ بند
سرینگر/15اگست: سخت ترین حفاظتی انتظامات کے بیچ سرینگر سمیت وادی کے تمام ضلع صدر مقامات پر یوم آزادی کی تقریبات انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی جس دوران جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر سمیت دیگر انتظامیہ کے افسرا ن نے ’ترنگا ‘‘لہرانے کے بعد مارچ پاسٹ پر سلامی لی۔اس موقعہ پر جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر نے اپنے خطاب میں کہا کہسال 2020میں اپنی نوعیت کے پہلے کامیاب ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات نے جموں کشمیر سے ’’جنگل راج” کا خاتمہ کر دیا ۔ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے جموں کشمیر کی ترقی اور امن میں تشدد بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا کہ جو بھی نوجوانوں کو تشدد کی جانب اکسا رہے ہیں ان کے خلاف سخت کارورائی ہو گی ۔ اسی دوران انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کشمیری پنڈتوں کی عزت سے واپسی کیلئے وعدہ بند ہے۔ سی این آئی کے مطابق سرینگر اور وادی کے دوسرے ضلع مقامات پر 15اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات منانے کے سلسلے میں یہاں شیر کشمیر سٹیڈیم سرینگر اور دوسرے ضلع صدر مقات اور تحصیل مقامات پر خصوصی تقریبا ت کا انعقاد ہوا ۔
سرینگر کے شیر کشمیر سٹیڈم میں جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے تقریب کامعائینہ کیااور تقریب پر قومی پرچم لہرانے کی رسم انجام دی اور پریڈ پر سلامی لی۔ تقریب میں جموں وکشمیر پولیس،آئی آر پی، سی آر پی ایف ،این سی سی ،فائر اینڈ ایمر جنسی سروسز ،فارسٹ پروٹکشن فورس،جے کے آکزلری پولیس نے حصہ لیا۔ تقریب میں یومِ آزادی منانے کے سلسلے میں ترتیب دئے گئے تمام پروگراموں کا بھی جائزہ لیا گیا ۔اس موقعہ پر اپنی تقریر میں جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کو کہا کہ مرکز کا زیر انتظام علاقہ گذشتہ برس کی تبدیلیوں کے باعث نئی معمولات کی بحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جموں کشمیر میں تبدیلی لانے کیلئے امن اور ترقی کو زینہ بنائیں گے۔
اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ سال 2020میںکامیاب ڈی ڈی سی انتخابات کے بعد جموں کشمیر میں ’’جنگل راج” کا خاتمہ ہو چکا ہے جبکہ جمہوریت اور امن و امان پھل پھولنے لگا ہے۔انہوںنے کہا کہ اٹل بہاری واجپائی کے جمہوریت کے اصول کو کئی دہائیوں تک جموں وکشمیر میں کلکٹریٹ روایت نے پنپنے نہیں دیا۔ لیفٹنٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر نے میں رائے دہندگان نے ڈی ڈی سی کے منصفانہ، شفاف اور تشدد سے پاک انتخابات میں حصہ کر اپنے نمائندے منتخب کئے ہیں جو عوام کے حقیقی نمائندے ہیں۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کی ترقی اور امن میں تشدد بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا کہ جو بھی نوجوانوں کو تشدد کی جانب اکسا رہے ہیں ان کے خلاف سخت کارورائی ہو گی ۔
انہوں نے پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمسایہ ملک کشمیر میں نوجوانوں کو عسکریت کی طرف بہکاتا ہے، لیکن اس کا بھر پور اور ٹھوس مقابلہ کیا جائے گا۔انہوں نے دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد ہونے والی ترقی اور تعمیری کاموں کی تفصیل دے کر کہا کہ جموں وکشمیر اگلے 25 سالوں میں نیا کشمیر بننے والا ہے جہاں امن و خوشحالی ہوگئی اور لوگ ترقی کے نئے ادوار دیکھیں گے۔انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر میں پانچ نئے میڈیکل کالجز کھولے گئے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ کووڈ 19 وبائی مرض پر قابو پانے کے حکومتی اقدامات کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ اس وبا کو روکنے کے لئے طبی و دیگر عملے نے جذبے سے کام کرکے اس وبا کے پھیلاؤ کو قابو کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ آنے والی دہائی میں جموں و کشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے 10 لاکھ نوکریوں کے ذرایعہ پیدا کئے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ مہاجر کشمیری پنڈتوں کی ان جائیدادوں کو بحال کرے گی جن پر لوگوں نے زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوںنے کہا کہ جمہوریت کو مضبوط بنانے میں جموں کشمیر حکومت اپنے وعدوں پر کار بند ہے ۔ اسی طرح وادی کے دوسرے ضلع صدر مقامات پر بھی یومِ آزادی کے سلسلے میں تقریبات ہوئی ۔ ادھر شہر سرینگر کے علاوہ وادی کے دیگر اضلاع میں بھی یوم آزادی کی تقریبات جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی جس دوران سیول اور پولیس آفیسران نے پرچم کشائی کرکے پریڈ پر سلامی لی ۔
ادھر یوم آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کیلئے جموںکشمیر میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا تھا اور حفاظت کے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے تھے ۔مولانا آزاد اسٹیڈیم جموں اور شیر کشمیر اسٹیڈیم سرینگر کے علاقوں کو فوجی چھاونی میں تبدیل کر دیا گیا تھاجبکہ پولیس وفورسز ذرائع کے مطابق تقریبات کے دوران جنگجوئوں کے حملوںکا خدشہ موجود ہیں جسے ٹالنے کیلئے پولیس وفورسز کو حد متارکہ کے ساتھ ساتھ پورے جموںکشمیر میں سیکورٹی کو متحرک کردیا گیا تھا ۔ اسٹیڈیم کی طرف جانے والی شاہرائوں پر چیکنگ پوائنٹ قائم کئے گئے ہیں ،شارپ شوٹرس کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہیں، سی سی ٹی وی کیمرو ںاور ڈرون کے ذریعے لوگوں کی نقل وحرکت پر کڑی نظر رکھی جار ہی ہیں۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

ہندوستان5 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی
دنیا5 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
دنیا2 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا2 days agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا5 days agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی




































































































