تازہ ترین
لاک ڈاؤن دوم کا12واں اورسخت ترین بندشوں کا دوسرا دن

18ویں ہفتے بھی بڑے جمعہ اجتماعات منعقد نہ ہوسکے
نہ اللہ اکبر ،اللہ اکبر کی صدائیں ، ناہی بم بم بولے ،ہرہر مہادیو کی گونج ،سناٹے کو چیرتی فورسز کی سیٹیاں ہی سیٹیاں
خبراردو:-
سرینگر:کورونا لاک ڈاؤن دوم کے 12ویں اور سخت ترین بندشوں کے دوسرے روز جمعہ کو وادی کے طول وعرض میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے جبکہ مسلسل18ویں ہفتے بھی وادی میں بڑے جمعہ اجتماعات منعقد نہ ہوسکے ۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں کورونا مثبت معاملات اور اموات کے نہ تھمنے والے سلسلے کو روکنے کےلئے انتظامیہ کی جانب سے نافذ کئے گئے سخت ترین لاک ڈاؤن کے نتیجے میں پوری وادی میں چہار سو سناٹا چھا یہ ہوا ہے ۔
شہر ودیہات میں سبھی دکانات ،بازار ،کاروباری وتجارتی مرکز اور پیٹرول پمپ بھی بند ہیں جبکہ ہر طرح کا پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں اور شاہراہوں سے غائب ہے ۔ سخت ترین بندشوں اور پابندیوں کے سبب دارالحکومت سرینگر سمیت شمال وجنوب میں ہو کا عالم ہے ۔
دارالحکومت سرینگر کی مرکزی عبادت گاہوں میں مسلسل18ویں ہفتے کو بھی جمعے اجتماعات منعقد نہ ہوسکے ۔ مرکزی جامع مسجد ،آثار شریف حضرتبل ،خانقاہ معلی اور صوفی بزر گان دین کی زیارت گاہوں کے منبر ومحراب خاموش رہے جسکے نتیجے میں یہاں اللہ اکبر ،اللہ اکبرکی گونجتی صدائیں تاحال خاموش ہیں ۔
تاہم محلہ سطح کی چھوٹی مساجد میں مختصر اور طبی مشوروں وہدایات کے تحت لوگوں نے نماز جمعہ ادا کیں ۔ ائمہ مساجد نے جمعہ خطبہ کو مختصر رکھا اور لوگوں کو وبا سے محفوظ رہنے کےلئے احتیاطی تدابیر اپنا نے پر زوردیا ۔ اسی طرح کی صورتحال شمال وجنوب کے دیہات میں بھی دیکھنے کو ملی ،جہاں پر اطلاعات کے مطابق چھوٹی مساجد میں جمعہ کے مختصر اجتماعات منعقد ہوئے ۔
ادھرجمعہ اجتماعات کے پیش نظر عائد پابندیاں اور بندشیں مزید سخت کی گئی تھیں ۔ لوگوں کو گھروں تک محدود رکھنے کےلئے جہاں پولیس کی جپسیوں پر نصب لاءوڈ اسپیکروں کے ذریعے صبح سویرے اعلانات کئے جارہے تھے ،وہیں سڑکوں کی سخت ترین ناکہ بندی ،تار بندی اور رکاوٹیں کھڑی کرکے لوگوں کی نقل وحرکت محدود کرکے رکھ دیا گیا تھا ۔ شہر خاص کے نوہٹہ علاقے میں واقع تاریخی جامع مسجد اور دریائے جہلم کے کنارے واقع خا نقاہ معلی کی طرف جانے والے راستوں کو خاردار تاروں سے سیل کیا گیا تھا جبکہ ان مذہبی مقامات کے گرد ونواح میں پولیس اور فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی ۔
اسی طرح کے شہر کے مشرق میں ڈل جھیل کے کنارے واقع آثار شریف حضرتبل کی جانب جانے والے راستوں کو بھی سیل کیا گیا تھا ۔ جمعہ کو دوپہر تک ہر سو سنا ٹا چھایہ ہوا تھا اور چہار سو ہو کاعالم تھا ۔ صرف چند ایک لازمی سروس وابستہ گاڑیاں اور نجی گاڑیاں وموٹر سائیکل سڑکوں پر نظر آرہے تھے اور اُنہیں سخت پوچھ تاچھ کے بعد ہی کہیں آنے جانے کی اجازت دی جاتی تھی ۔ مرکزی رابطہ سڑکوں پر پولیس وفورسز نے ناکے لگا رکھے تھے جبکہ بریکیٹس نصب کرکے گاڑیوں کی آوا جاہی کو محدود کیا گیا تھا ۔
شہر میں انتظامیہ نے80علاقوں کو ریڈ زون قرار دیکر موٹی موٹی سلاخوں سے 12روز قبل سیل کیا تھا اور تاحال ان علاقوں کی ناکہ بندی برقرار ہے ۔ اس دوران فورسز کی سیٹیاں خاموشی کو چیر رہی تھیں ،جو نجی گاڑیوں میں مجبوری کے عالم میں گھروں سے باہر آنے والوں کو غیر ضروری طورگھروں سے باہر نہ آنے کا اشارہ کررہے تھے ،یہ سلسلہ دن بھر دیکھنے کو مل رہا تھا ۔ تاہم بعد دوپہر شہر کے سیول لائنز علاقوں میں نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی آوا جاہی میں اچانک اضافہ بھی دیکھنے کو مل رہا تھا ۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انتظامیہ نے وادی کشمیر کے9اضلاع میں سخت ترین بندشوں کا اعلان کر رکھا ہے ،تاہم سرکاری دفاتر کو بند کرنے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے اور ملازمین کو ڈیوٹی پر حاضر ہونے کےلئے پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے سبب نجی ٹرانسپورٹ کا سہارا لینا پڑ رہا ہے ،البتہ بیشتر ملازمین پبلک ٹرانسپورٹ کی وجہ سے ڈیوٹی پر حاضرنہیں ہو پارہے ہیں ،کیونکہ اُنہیں کافی مشکلات کا سامنا ہے ۔
صوبائی انتظامیہ کشمیر نے کورونا کیسز میں تشویشناک اُچھال اور اموات میں مسلسل اضافے کے پیش بدھ کی شام6بجے سے بانڈی پورہ کو چھوڑ کر سخت ترین بندشیں اور پابندیاں عائد کی ہیں ،تاکہ کورونا کے برق رفتار پھیلاءو کی زنجیر کو توڑا جاسکے ۔ انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے جارہے اقدامات صورتحال سے نمٹنے میں ناکافی ثابت ہورہے ہیں جبکہ لوگ بھی لا پروائی اور غفلت شعاری کے مرتکب ہورہے ہیں ،جسکی وجہ سے عالمی وبا (کووڈ ۔ 19) تیزی سے پھیل رہی ہے ۔
اس بیچ وادی کشمیر کے دیگرلاک ڈاءون زدہ8اضلاع بارہمولہ ،کپوارہ ،بڈگام ،گاندر بل ،شوپیان ،پلوامہ ،کولگام اور اننت ناگ میں بھی جمعہ کو مسلسل سخت ترین بندشوں اور پابندیوں کے دوسرے روز معمولات زندگی ٹھپ رہے ۔ یہاں بھی ہر طرح کے دکانات ،بازار ،کاروباری وتجارتی ادارے بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا ۔ ضلع صدور اور تحاصیل سطح پر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے جسکے نتیجے میں ان اضلاع کے مرکزی قصبہ جات میں جمعہ کو ہو کا عالم رہا ۔
شمالی ضلع بانڈی پورہ میں کورونا ۔ 19گائیڈ لائنز کے تحت معمول سرگرمیاں جاری ہیں ،البتہ یہاں بھی دیگر اضلاع کی ناکہ بندی کا اثر دیکھنے کو ملا ۔ واضح رہے کہ شرائن بورڈ انتظامیہ نے کووڈ ۔ 19کے برق رفتار پھیلا ءو اور تشویشناک صورتحال کے پیش نظر سالانہ امر ناتھ یاترا منسوخ کی ۔ تاہم شرائن بورڈ کا کہنا ہے کہ یاترا سے متعلق مذہبی روایات بھائی ۔ بہن کے پیار ومحبت کی علامت تصور کرنے والے تہوار رکھشا بندھن تک جاری رہیں اور ممکنہ طور پر یاتری گھر بیٹھے آن لائن طور پر برفیلی شیو لنگم کے درشن بھی کرسکتے ہیں ۔ یہ پہلا موقع ہے جب شرائن بورڈنے گزشتہ تین دہائیوں میں پہلی مرتبہ سالانہ امرناتھ یاترا کو کسی وجہ سے منسوخ کیا ہو ۔
یہ فیصلہ لیفٹیننٹ گور نر جو امر ناتھ شرائن بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں ،نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں لیا ۔ یاد رہے کہ ہر سال ’بم بم بولے اور ہر ہر مہادیو ‘ کے نعروں کے بیچ سالانہ امرناتھ یاترا کا آغاز ہوتا تھا ،لیکن رواں برس یہ گونج بھی فی الحال خاموش ہوگئی ہے ۔ وادی کشمیر میں کورونا کیسز میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے جبکہ اس میں ہر دن اچھال دیکھنے کو مل رہا جبکہ اموات کا بھی سلسلہ جاری ہے ،جسکی وجہ سے عوام میں ضطراب کی لہر پائی جارہی ہے ۔
دنیا
ایران کا امریکہ کو دوبارہ انتباہ، آبنائے ہرمز میں مداخلت پر فوری جواب کی دھمکی
تہران، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی امریکی مداخلت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، یہ بیان دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ تکنیکی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ ایران اپنے دشمنوں، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غلطی نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جبکہ تمام بحری جہاز تہران کی جانب سے مقرر کردہ سمندری راستے استعمال کرنے کے پابند ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق علی عبداللہی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں امریکی موجودگی خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی سرزمین کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کارروائی یا خطرے کی صورت میں ایرانی مسلح افواج بھرپور جواب دیں گی۔
ایرانی کمانڈر نے سابق رہبرِ انقلاب علی خامنہ ای کی دفاعی حکمت عملی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں نمایاں پیش رفت کے ساتھ اپنی قومی سلامتی کو مضبوط بنایا ہے۔
یہ انتباہ دوحہ میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو روزہ تکنیکی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے، جسے دونوں جانب سے مثبت قرار دیا گیا تھا۔
قطر اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور جلد متوقع ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ جب تک ناگزیر نہ ہو، امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی نہیں کرے گا، جبکہ واشنگٹن کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو بغیر کسی رکاوٹ یا فیس کے یقینی بنانا ہے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر سال بھر پروگرام منعقد کریں گے ہندوستان اور جاپان
نئی دہلی، ہندوستان اور جاپان اگلے سال سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر ‘انڈیا-جاپان ایئر آف شیئرڈ ہورائزنز’ منائیں گے۔
وزارت خارجہ نے جمعرات کو بتایا کہ دونوں ممالک نے اسٹریٹجک، ثقافتی، اقتصادی، سائنسی اور عوامی تعلقات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے سال بھر مختلف پروگرام منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان پروگراموں میں انڈیا-جاپان ویک (28 اپریل 2027 سے)، نوجوانوں پر مبنی ثقافتی تبادلہ، منگا-اینیمی-گیمنگ شراکت داری، پالیسی مذاکرات (شیئرڈ فیوچر-75)، آرٹ اینڈ کلچر پروگرام، بدھ مت یاترا پہل، کھیلوں میں تعاون، تجارت اور علاقائی شراکت داری نیز لوپیکس قمری مشن سمیت سائنس اور ٹیکنالوجی کے تعاون کو فروغ دینے والے اقدامات شامل ہیں۔
دونوں ممالک نے کہا ہے کہ یہ تقریبات دونوں ممالک میں بڑے پیمانے پر ہوں گی اور ان میں نوجوانوں کی سرگرم شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
جاپان کی ‘موگامی’ پیشکش: اسٹریٹجک موقع یا مقامی بحری منصوبوں سے توجہ ہٹانے کی کوششَ
نئی دہلی، جاپان نے ایشیا میں اپنے اہم ترین اسٹریٹجک شراکت دار ہندوستان کو جدید ‘موگامی کلاس’ اسٹیلتھ فریگیٹ کی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی پیشکش کی ہے اس پیشکش کے تحت جنگی جہاز کے ڈیزائن اور پروڈکشن کے مکمل حقوق بھی ہندوستان کو دیے جائیں گے یہ تجویز، جس پر دونوں ممالک کے حکام گزشتہ کچھ عرصے سے غور و خوض کر رہے ہیں، ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپانی وزیر اعظم تاکائیچی نے جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔
تاہم، ہندوستانی دفاعی منصوبہ سازوں کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ یہ تجویز ہندوستان کے نیول ماڈرنائزیشن کے ایک نازک موڑ پر آئی ہے۔ ہندوستانی بحریہ پہلے ہی ‘پروجیکٹ 17اے’ کے ذریعے مقامی جنگی جہازوں کے ڈیزائن میں خطیر سرمایہ کاری کر چکی ہے، جس کے تحت کئی ‘نیلگیری کلاس’ اسٹینتھ فریگیٹس زیر تعمیر ہیں۔ بحری انٹیلی جنس کے سابق ڈائرکٹر کموڈور رنجیت رائے (ریٹائرڈ) نے یو این آئی کو بتایا کہ ہندوستان مستقل طور پر اپنے مقامی پروجیکٹ 17اے فریگیٹس کی صلاحیتوں کو بڑھا رہا ہے اور اسے بیرون ملک سے جنگی جہاز درآمد کرنے کی بہت کم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ان کی صلاحیتیں کچھ بھی ہوں، اس مرحلے پر فریگیٹس درآمد کرنا ہمارے پروڈکشن پلانز کو متاثر کرے گا اور ملک کی مقامی جہاز سازی کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچائے گا۔”
تاہم، سفارتی اور تزویراتی نقطۂ نظر سے جاپان کی یہ پیشکش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹوکیو اب اپنے جدید بحری جنگی پلیٹ فارم برآمد کرنے کے لیے تیار ہے اور ہندوستان کو طویل مدتی تزویراتی مینوفیکچرنگ شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اگر اسے قبول کر لیا جاتا ہے تو ہندوستان کے جہاز ساز ادارے جیسے کولکاتہ میں قائم ‘گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز’ یا ممبئی کا ‘مزاگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ’ مقامی طور پر جاپانی ڈیزائن کردہ فریگیٹس تیار کر سکتے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق، اس معاہدے میں بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کی منتقلی، ڈیزائن کی ملکیت اور ہندوستان کے ‘برہموس’ سپرسونک کروز میزائل جیسے ہتھیاروں کا سسٹم شامل کرنا ممکن ہو سکے گا۔
انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز کے سابق سینئر فیلو راجارام پانڈا کے مطابق “جاپان کی یہ پیشکش اس لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے کہ یہ ٹوکیو کی دفاعی برآمدی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کئی دہائیوں تک جاپان نے فوجی سازوسامان کی برآمد پر تقریباً مکمل پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔”
اسٹرے ٹیجک اعتبار سے یہ پیشکش ہند۔ بحرالکاہل خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے بحری اثر و رسوخ کے تناظر میں نئی دہلی اور ٹوکیو کے امن و استحکام برقرار رکھنے کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔ دونوں ممالک علاقائی سلامتی میں بحری تعاون کو کلیدی اہمیت دیتے ہیں، جب کہ جدید ‘اسٹیلتھ فریگیٹس’ کی مشترکہ تیاری سے نہ صرف دفاعی تعاون کو نئی جہت ملے گی بلکہ دفاعی صنعت میں باہمی انضمام بھی مضبوط ہوگا، جو مشترکہ فوجی مشقوں اور سفارتی ہم آہنگی سے کہیں آگے کی پیش رفت ہوگی۔
تاہم، دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ہی جدید اسٹینتھ فریگیٹس ہیں، لیکن موگامی اور نیلگیری کلاسیز کو مختلف آپریشنل حکمت عملیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
پروجیکٹ 17اے کے تحت تیار کردہ ہندوستانی نیلگیری کلاس اسٹینتھ فریگیٹ، جیسے کہ ‘آئی این ایس تاراگیری’ جسے دو ماہ قبل بحریہ میں شامل کیا گیا تھا، بنیادی طور پر بھاری بھرکم ہتھیاروں سے لیس ایک کثیر المقاصد جنگی جہاز ہے، جسے بحری تجزیہ کار “پاکٹ ڈسٹرائر” کہتے ہیں۔
تقریباً 6,670 ٹن وزنی یہ اسٹیلتھ جنگی جہاز 32 باراک-8 فضائی دفاعی میزائلوں اور آٹھ برہموس سپرسونک کروز میزائلوں سے لیس ہے۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ جدید ایم ایف-اسٹار راڈار اور اینٹی سب میرین وارفیئر نظام سے آراستہ یہ مقامی جنگی جہاز طویل المدت اور شدید بحری جنگی کارروائیوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس کے برعکس جاپانی موگامی کلاس فریگیٹ وزن میں کم (تقریباً 5,500 ٹن) اور زیادہ آٹومیٹڈ ہے، جس کے لیے نیلگیری کلاس کے 226 عملے کے مقابلے میں صرف 90 اہلکاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکام نے بتایا کہ ” جاپان یا دیگر مغربی ممالک کے برعکس ہماری بحریہ میں تربیت یافتہ افرادی قوت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس لیے صرف آٹومیشن ہمارے لیے بہت بڑا پلس پوائنٹ نہیں ہے، حالاں کہ ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جہاں جاپانی جہاز ہمارے مقابلے میں آگے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کے موگامی کلاس فریگیٹس کا راڈار سگنیچر (راڈار کی نظروں سے بچنے کی صلاحیت) ہمارے جہاز سے زیادہ بہتر ہے، لیکن اسے مستقبل کے ماڈلز میں ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔” ہندوستان نے ہمیشہ ایسے بھاری ہتھیاروں سے لیس جہازوں کو ترجیح دی ہے، جو دشمن کے پانیوں میں آزادانہ طور پر کام کر سکیں، جبکہ “جاپان نے ایسے انتہائی خودکار اور لچکدار پلیٹ فارمز پر توجہ مرکوز کی ہے جو افرادی قوت کی ضرورت کو کم کرتے ہوئے کارکردگی کو بڑھاتے ہیں”۔
حکام کا کہنا ہے کہ جاپان کی یہ پیشکش ہندوستان کے مقامی بحری جہاز سازی پروگرام کے حوالے سے بھی اہم سوالات پیدا کرتی ہے۔ ان کے مطابق، “پروجیکٹ 17اے جدید جنگی جہازوں کے ڈیزائن اور تیاری میں ملک کی کئی دہائیوں کی مہارت کا مظہر ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان اب غیر ملکی ڈیزائن پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی سطح پر جدید جنگی جہاز تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، جن میں ملکی اور بین الاقوامی ٹیکنالوجیز کا امتزاج موجود ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کسی نئی غیر ملکی فریگیٹ کلاس کو شامل کرنے سے نہ صرف الگ لاجسٹک اور دیکھ بھال کا نظام قائم کرنا پڑے گا بلکہ عملے کی تربیت اور سپلائی چین کا نیا ڈھانچہ بھی تشکیل دینا ہوگا۔ اگرچہ ان جنگی جہازوں کی تیاری ہندوستان میں ہوگی، تاہم، جاپانی ساختہ پرزوں اور مخصوص ٹیکنالوجی پر طویل المدت انحصار برقرار رہے گا۔ حکام کے مطابق ہندوستانی شپ یارڈز اس وقت ڈسٹرائرز، فریگیٹس، آبدوزوں اور طیارہ بردار جہازوں سمیت کئی اہم منصوبوں پر بیک وقت کام کر رہے ہیں، اس لیے غیر ملکی ڈیزائن کے لیے پیداواری صلاحیت مختص کرنے سے مقامی بحری پروگراموں کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، الا یہ کہ اس عمل کی انتہائی محتاط منصوبہ بندی کی جائے۔
یو این آئی۔ م ع
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان4 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر6 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا4 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت





































































































