ہندوستان
معصوم مرادآبادی کی دستاویزی کتاب ’تاریخ مرادآباد‘ کا اجراء 18جولائی کو

نئی دہلی سرکردہ صحافی، ادیب ومحقق معصوم مرادآبادی کی دستاویزی کتاب ’تاریخ مرادآباد‘کا اجراء 18جولائی کو سہ پہر مرادآباد کے تاریخی ہیوٹ مسلم انٹرکالج میں عمل میں آئے گا اس موقع پدم شری پروفیسر اخترالواسع بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔ تقریب کی صدارت ڈاکٹر حسن احمد نظامی فرمائیں گے مرادآباد کے ممبرپارلیمنٹ ڈاکٹر ایس ٹی حسن اور جامعہ ہمدردنئی دہلی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر سراج حسین مہمان ذی وقار کے طورپر شریک ہوں گے۔ اجراء کی اس تقریب میں عالمی شہرت یافتہ شاعراظہرعنایتی اور منصور عثمانی کے علاوہ انجمن ترقی اردو اترپردیش کے صدر ڈاکٹر حکیم سراج الدین ہاشمی اورآل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سیکریٹری ڈاکٹر مولانا یاسین عثمانی مہمان اعزازی کے طورپر شرکت کریں گے۔ ڈاکٹر شعائراللہ خاں وجیہی (رامپور)اور ڈاکٹر محمد آصف حسین (مرادآباد)اس موقع پر کتاب کا تعارف کرائیں گے۔ پروگرام کی نظامت سینئر صحافی سیدمحمدہاشم کریں گے۔اجراء کی اس تقریب کا اہتمام مرادآباد ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی نے کیا ہے۔
واضح رہے کہ مغربی یوپی کا صنعتی شہر مرادآباد یوں تو اپنی پیتل صنعت کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، لیکن یہ بات کم ہی لوگوں کو معلوم ہے کہ کسی زمانے میں یہ شہر تہذیب وثقافت، علم وادب اور شعر وشاعری کا گہوارہ تھا۔جگر مرادآبادی جیسا شاعراور قاضی عبدالغفار جیسا نثرنگار اسی سرزمین میں پیدا ہوا۔ اس شہر کو شاہجہاں کے دور میں 1624 میں آباد کیا گیا اور شاہجہاں کے بیٹے شہزادہ مراد بخش کے نام پر اس کا نام رکھا گیا۔ اس اعتبار سے یہ شہر اپنے قیام کے چار سوسال مکمل کررہا ہے۔اس موقع پر مرادآباد کی تاریخ، تہذیب وتمدن،سماجی زندگی اور شعروادب پرمشتمل معصوم مرادآبادی کی تقریباً پانچ سو صفحات کی مذکورہ کتاب منظرعام پر آئی ہے۔
پہلے باب میں مرادآباد کی تاریخ اور یہاں کی جامع مسجد کی مفصل تاریخ بیان کی گئی ہے۔ اس باب میں اردو کی شہرہ آفاق ناول نگار قرۃ العین حیدر کا ایک تفصیلی مضمون ”لانکڑی والان“ بھی شامل ہے جو مرادآباد کے ایک تاریخی محلہ سے متعلق ہے۔
دوسرے باب میں 1857کی جنگ آزادی میں اہل مرادآباد کی قربانیوں کاتفصیلی ذکر ہے۔ یہاں پہلی جنگ آزادی کے دوران سولہ ہزار لوگوں کو پھانسی دی گئی تھی۔تیسرے باب میں مرادآباد میں سرسید کی سرگرمیوں کا تفصیلی ذکر ہے۔
واضح رہے کہ سرسید نے مرادآباد میں بہ حیثیت صدرالصدور ساڑھے تین سال کا عرصہ گزارا، یہیں انھوں نے اپنی دومعرکۃ الآراء کتابیں ’اسباب بغاوت ہند‘ اور ’تاریخ سرکشی بجنور‘ تصنیف کیں۔ اس کتاب کا سب سے اہم باب ’میری یادوں میں مرادآباد‘ ہے، جس میں تاریخ کی عظیم ہستیوں نے اپنے وطن مرادآباد سے وابستہ یادوں کو بڑے دلچسپ اور انتہائی معلوماتی پیرائے میں بیان کیا ہے۔ سررضا علی، ڈاکٹر سید معین الحق،مظہر جلیل شوق، مولانا محمدعبدالملک جامعی، پروفیسر محمد حسن نے اپنے وطن کی ناقابل فراموش یادوں کو تازہ کیا ہے۔مجموعی طورپر یہ کتاب شہر جگر سے متعلق ایک انسائیکلوپیڈیا کا درجہ رکھتی ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے۔م الف
ہندوستان
مودی آج شام وزارت کے سکریٹریوں کے ساتھ میٹنگ کریں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی منگل کی شام راجدھانی میں وزارتوں کے سکریٹریوں کے ساتھ ایک میٹنگ کریں گے سرکاری ذرائع کے مطابق شام 4:00 بجے سے ہونے والی اس میٹنگ کا اہم ایجنڈہ سرکاری کام کاج کا جائزہ لینا، کاروبار کرنے میں آسانی، عام لوگوں کی روزمرہ کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے حکومت کے فیصلے کو فوری طور پر نافذ کرنے، پالیسیوں کے بہتر نفاذ کے ساتھ ساتھ کچھ اسکیموں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ میٹنگ میں کچھ منتخب محکموں کے سکریٹریوں کی جانب سے پریزنٹیشنز بھی دی جا سکتی ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کا الزام: مرکز منریگا کو کمزور کر رہا ہے، زیر التوا بقایا جات اور نئی دیہی روزگار اسکیم پر وزیر اعظم سے جواب طلب کیا
نئی دہلی، کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے منگل کو مرکز کے مجوزہ دیہی روزگار پروگرام کے نفاذ کے تعلق سے وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت نے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو مؤثر طریقے سے ختم کر دیا ہے اور دیہی ہندوستان کو اس کے “کام کے حق” سے محروم کر دیا ہے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کھرگے نے منریگا کی زیر التوا ادائیگیوں، مجوزہ وکست بھارت – گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن (گرامین) (وی بی-جی رام جی) کے فنڈنگ کے طریقہ کار اور ان اقدامات پر مرکز سے سوال اٹھائے جنہیں انہوں نے کسانوں اور دیہی مزدوروں کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا۔ کھرگے نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے سلسلہ وار سوالات اٹھانے سے پہلے کہا کہ مسٹر نریندر مودی، آپ نے مؤثر طریقے سے منریگا کو ختم کر دیا ہے، جس سے دیہی ہندوستان سے ‘کام کا حق’ چھن گیا ہے۔
لوک سبھا میں پیش کیے گئے ایک جواب کا حوالہ دیتے ہوئے کھرگے نے الزام لگایا کہ مارچ 2026 تک 34 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 17,144.13 کروڑ روپے کے بقایا جات زیر التوا تھے، جس میں اجرت کی واجب الادا رقم کے طور پر 7,846.25 کروڑ روپے شامل ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ مزدوروں کو اب تک وہ اجرت نہیں ملی ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ کیوں
کانگریس کے صدر نے مزید الزام لگایا کہ اگرچہ مرکز یکم جولائی سے نئی وی بی-جی رام جی اسکیم شروع کر رہا ہے، لیکن اس نے ابھی تک ریاستوں کو منریگا کی زیر التوا ادائیگیاں نہیں کی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک کو 700 کروڑ روپے، جھارکھنڈ کو 900 کروڑ روپے کا انتظار ہے، جبکہ تلنگانہ، تمل ناڈو اور کئی دیگر ریاستوں کو بھی ابھی تک ان کے بقایا جات نہیں ملے ہیں۔
کھرگے نے نئی اسکیم کے مجوزہ فنڈنگ ڈھانچے کی بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ منریگا کے برعکس، جس کے تحت مرکز اجرت کی پوری لاگت برداشت کرتا تھا، مجوزہ ڈھانچہ کل اخراجات کا 40 فیصد ریاستوں پر منتقل کرتا ہے۔ حق معلومات ایکٹ (آر ٹی آئی) کے تحت حاصل کردہ معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت والی مدھیہ پردیش اور بہار نے بھی جھارکھنڈ کے ساتھ مل کر مالی بوجھ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور فنڈنگ کے طریقہ کار پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کاشتکاری کے عروج کے سیزن کے دوران مجوزہ 60 دنوں کے “بلیک آؤٹ” کی فراہمی پر بھی اعتراض کیا اور دعویٰ کیا کہ کئی ریاستوں نے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ مرکزی حکومت کسانوں اور دیہی مزدوروں پر یہ مزدور دشمن انتظام کیوں تھوپ رہی ہے
کانگریس کے صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ 125 دن کا روزگار فراہم کرنے کے وعدے پر عمل درآمد سے مدھیہ پردیش پر 20,037 کروڑ روپے اور بہار پر 15,939 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا، اور انہوں نے سوال کیا کہ کیا مرکز اپنی نئی اسکیم کو نافذ کرنے کے لیے ریاستوں کو مالی بحران میں دھکیلنا چاہتا ہے۔
کھرگے نے دیہی روزگار پروگرام کے تحت کم از کم یومیہ اجرت 400 روپے کرنے کے کانگریس پارٹی کے مطالبے کو بھی دہرایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کم از کم پانچ ریاستوں نے اجرت کی اعلیٰ شرحوں کا مطالبہ کیا ہے، اور الزام لگایا کہ بہار اجرت کو 255 روپے سے بڑھا کر 413 روپے کرنا چاہتا ہے، جبکہ جموں و کشمیر نے 272 روپے سے بڑھا کر 311 روپے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مانسون کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کھرگے نے دعویٰ کیا کہ جون میں بارش معمول سے 42 فیصد کم رہی، خریف کی بوائی میں 22.7 فیصد کی کمی واقع ہوئی اور 300 سے زائد اضلاع کو خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ دیہی ذریعہ معاش کے بگڑتے ہوئے بحران کے درمیان منریگا کو ختم کرنا مزدوروں، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات اور غریبوں پر حملہ ہے۔ کھرگے نے کہا کہ مسٹر مودی، براہ کرم جواب دیں۔
مرکز کا موقف ہے کہ مجوزہ وی بی-جی رام جی فریم ورک کا مقصد دیہی روزی روٹی کو مضبوط بنانا اور نفاذ کے طریقہ کار کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم، کانگریس مستقل طور پر مجوزہ قانون سازی کی مخالفت کر رہی ہے اور الزام لگا رہی ہے کہ یہ منریگا کے حقوق پر مبنی فریم ورک کو کمزور کرتا ہے اور مالی و انتظامی بوجھ ریاستوں پر منتقل کرتا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
رام مندر چڑھاوا چوری پر ایس آئی ٹی رپورٹ عام کرے حکومت : کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوا چوری کے معاملے میں بڑے اور ذمہ دار لوگوں کو بچانے کا الزام لگاتے ہوئے مرکزی حکومت اور مندر ٹرسٹ سے اس معاملے کی جانچ کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) کی رپورٹ عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کی سوشل میڈیا اینڈ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی چیئرپرسن محترمہ سپریہ شرینیت نے منگل کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ رام مندر میں چڑھاوا چوری ‘مہاپاپ’ ہے لیکن پران پرتشٹھا اور سنگ بنیاد میں اہم کردار ادا کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی اس معاملے پر خاموش ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) کی رپورٹ جمع ہونے کے باوجود اسے عام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے عقیدت مندوں نے عقیدت کے ساتھ عطیہ دیا تھا لیکن ان کے عقیدت کے ساتھ کھلواڑ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں 40 دنوں کے اندر 70 چوریوں کا پتہ چلا ہے۔ ایسے میں گزشتہ ساڑھے پانچ برسوں میں ہوئی مبینہ چوریوں کا پورا حساب عوام کو بتایا جانا چاہیے۔ محترمہ شرینیت نے الزام لگایا کہ معاملے میں صرف چھوٹے ملزموں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ بڑے ذمہ دار لوگوں کو بچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے کا استعفیٰ اس بات کا اشارہ ہے کہ معاملہ سنگین ہے اور اس سے پورے ٹرسٹ کی ساکھ پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
کانگریس نے ایس آئی ٹی کی رپورٹ عام کرنے اور پورے معاملے کی شفاف جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان6 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
تازہ ترین1 week agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
دنیا1 week agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا1 week agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
جموں و کشمیر6 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
جموں و کشمیر4 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان6 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا5 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
تازہ ترین1 week agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا1 week agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
ہندوستان1 day agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا







































































































