اہم خبریں
مودی کی مقبولیت میں کمی کی باتیں: حقیقت یا سَراب

جاوید جمال الدین
ملک میں کوروناوباء کی ایک اور لہر آنے کے اندیشے اور بحث، کمرتوڑ مہنگائی پر عوامی پریشانی اور افغانستان میں طالبان کی واپسی کی خبر کے درمیان سے ایک ایسی خبر بلکہ سروے سامنے آیا ہے،جس کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی ہمنوا تنظیموں اور جماعتوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ کیونکہ ان کا ایجنڈا ہے اور اسی پر کام کرتے ہیں۔
البتہ یہ سچ ہے کہ سروے ایک معتبر میڈیا ہاؤس نے کرایا ہے اور اس کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت ایک سال میں 66فیصد سے کم ہو کرمحض 24 فیصد رہ گئی ہے۔ یعنی اگر تجزیہ کیا جائے تو احساس ہوگا کہ انڈیا ٹوڈے کے ذریعہ انجام دیئے گئے مذکورہ سروے کے مطابق مودی اپنی مقبولیت کھو چکے ہیں اور ان کی پارٹی کے دوسرے لیڈران اور اپوزیشن کے کئی قومی لیڈر نے عوام اپنی پکڑبنالی ہے، جنہیں وہ وہ اور ان کی پارٹی ذلیل وخوار کرتی رہے۔
اس سے پہلے کئے گئے سروے میں کورونا وائرس کی پہلی لہر سے پیدا شدہ حالات سے بہترین طریقے سے نمٹنے کی وجہ سے امسال کے آغاز میں جنوری 2021 میں وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت 73 فیصد تک پہنچ گئی تھی،حالانکہ تب عوام کو دشواریوں اور پریشانیوں کا شدید سامنا کرنا پڑا تھا اور کئی شہریوں سے ہجرت کرکے اپنے آبائی شہر پہنچنے کے لیے پاپڑ بیلنے پڑے تھے۔ سرکاری سطح پر پہلے تو چشم پوشی برتیں گئی، لیکن جب پانی سر سے اونچا ہوگیا تب مودی حکومت نے عوامی بہتری وفلاح کے لیے اقدامات کیے تھے۔ جس کا کریڈٹ حسب معمول مودی نے لیاتھا۔
لیکن مودی حکومت کے لیے دوسری لہر خطرناک ثابت ہوئی اور اس نے بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا، یہی وجہ ہے کہ مودی کی مقبولیت میں ایک دو نہیں بلکہ 49 فیصد تک کی کمی واقعی ہوئی۔ جوکہ انتہائی تشویشناک امر ہے۔ اس سروے نے پارٹی لیڈرشپ کی نیندیں حرام کردیں ہیں اور جونقصان پہنچا ہے، اس کی بھرپائی کے لیے ہاتھ پیر مارے جارہے ہیں، ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اس سلسلہ میں اترپردیش اسمبلی انتخابات کے قبل کئی نئے حربے اور طریقے اپنائے جائیں گے تاکہ سروے میں کورونا وباء کی پہلی لہر کے دوران ہوئے نقصان کو کم کیا جاسکے۔
مذکورہ سروے کے بار ے میں ذکرکیا جاچکاہے، جوکہ کیونکہ انگریزی نیوز چینل انڈیا ٹوڈے نے اسے انجام دیا ہے اور اس لیے اس کی حقیقت سے انکار یا اس کو مسترد بھی نہیں کیاجاسکتا ہے، یہ چینل کے موڈ آف دی نیشن پول کا سروے ہے، جوکہ 10 جولائی سے 20 جولائی 2021 کے درمیان کیاگیا ہے اور ملک کی 19 ریاستوں کے 115 پارلیمانی حلقوں اور 230 اہم ترین اسمبلی حلقوں میں کیا گیا ہے۔ سروے میں شامل لوگوں سے مختلف سوالات پوچھےگئے اور اس کے نتائج حیران کن کہہ جاسکتے ہیں، کیونکہ مودی کی مقبولیت میں زبردست کمی کے ساتھ ہی اترپردیش کے وزیراعلی یوگی ادیتیہ ناتھ اور کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کی مقبولیت میں بھی اضافہ ظاہر کیا گیا ہے، یہ نتائج مودی کانام بھرنے والوں کے لیے سانپ سونگھنے جیسا ہے۔ دراصل اترپردیش میں آئندہ سال کے اول میں اسمبلی کے انتخابات ہیں اور مودی کے بجائے یوگی کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگے گا، یہی پارٹی کے ایک طبقہ کے لیے سردرد ثابت ہوسکتا ہے۔
سروے کاجائزہ لیا جائے تویہ بتا یا گیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت میں یہ بڑی کمی محض آٹھ دس مہینے میں واقع ہوئی ہے۔ بلکہ عوام انہیں پسندیدہ وزیراعظم بھی نہیں سمجھتے ہیں۔ اس سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ عالمی وبا کورونا کی دوسری لہرسے ٹھیک طرح سے نہ نمٹنے کی وجہ سے نریندر مودی کی مقبولیت 66 فیصد سے گھٹ کر 24 فیصد پر آ گئی ہے۔ سروے کے مطابق 27 فیصد افراد نے بڑے بڑے سیاسی جلسوں اور انتخابی ریلیوں کو کورونا کی دوسری لہر کی وجہ قرار دیا،ظاہری بات ہے کہ کئی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات اور خصوصی طورپر مغربی بنگال میں کوروناوباء کی پرواہ کیے بغیر مودی اور شاہ نے بڑھ چڑھ کر انتخابی مہم میں حصہ لیا اور آخر دور میں عدالت کی مداخلت اور وباء کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کے نتیجے میں اپنے پاؤں پیچھے کھینچ لیے۔ جبکہ نتائج بھی پارٹی کے دعووں کے برعکس نکلے تھے۔ اس لیے عوام کے 26 فیصد کا خیال تھا کہ دوسری لہر میں کورونا وائرس کی شدت کو نظر انداز کیا گیا۔ اس
سروے میں شامل 71، فیصد افراد نے اس پر ناراضگی ظاہر کی ہے کہ کورونا کے باعث ہونے والی اموات سرکاری اعداد و شمار سے بہت زیادہ ہیں، جبکہ 44 فیصد نے اس دوران پیدا ہوئے صحت کے مسائل کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کوذمہ دار ٹھہرایا۔ ظاہر ہے کہ مہنگائی بھی اس میں ایک اہم جز رہا ہے،29 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی مودی حکومت کی ناکامی کی بڑی وجہ رہی ہیں جبکہ 23 فیصد افراد ایسے بھی ہیں جنہوں نے بے روزگاری کو حکومت کی ناکامی کی دوسری بڑی وجہ قرار دیاہے۔ ان دونوں مسائل سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے مختلف قسم۔ کے حربے اپنائے جارہے ہیں۔
ایک سال قبل مودی کو اگست 2020 میں 66 فیصد عوام نے اپنی پہلی پسند سمجھاتھا، لیکن اگست 2021 میں یہ تعداد گھٹ کرصرف 24 فیصد رہ گئی ہے۔ ابھی 8 مہینے قبل مودی جنوری 2021 میں 38 فیصد لوگوں کی پسند تھے- ہاں ہندوستان کیلیے آئندہ وزیر اعظم کی دوڑ میں ان کی اپنی پارٹی کے دو رہنماء کی مقبولیت میں ضرور اضافہ ہوا ہے- یوپی کے وزیراعظم یوگی آدتیہ ناتھ کو اگست 2021 میں 11 فیصد شرکاء نے وزیراعظم کے عہدے کے لیے بہترین قراردیاہے، جبکہ جنوری 2021 میں یہ تعداد 10 فیصد ہی تھی اور اگست 2020 میں تو صرف تین فیصد نے انہیں اس لائق سمجھاتھا،البتہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ان کی مقبولیت یوگی سے کم ہوئی ہے۔ جوکہ یوپی انتخابات کے پیش نظر یوگی کے حق میں ہے۔ حالانکہ جہاں تک یوپی اسمبلی انتخابات کا تعلق ہے،پی جے پی اور اس کی ہمنوا تنظیموں نے حسب معمول فرقہ پرست ایجنڈےپر عمل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، بلکہ عمل پیراہیں۔
جہاں تک اپوزیشن لیڈروں کی مقبولیت کا سوال ہے،کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کو میڈیا اور بی جے پی لیڈرشپ جس انداز میں بھی پیش کرتی رہے، اس سے ہٹ کر ان کی مقبولیت اگست2021میں 10فیصد تک پہنچ گئی ہے- جوکہ جنوری2021میں سات فیصد ہی تھی،البتہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی مقبولیت میں بھی پہلے کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے-
ہم سب اس سچائی سے بخوبی واقف ہیں کہ ہماراملک ہندوستان اس وقت دنیا میں عالمی وباء کورونا سے متاثر ہونے والا دوسرا بڑا ملک ہے، یہاں اب تک کورونا کے باعث 3 کروڑ 23 لاکھ 58 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے اور 4 لاکھ 33 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بی جے پی قیادت بڑی چالاکی اور چپی کے ساتھ آئندہ سال کے آغاز کے مہینوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات اور خصوصی طور پر یوپی اسمبلی الیکشن کے لیے کمربستہ ہے اور اپنے ایجنڈے پر کام کرنے کابھی من بنا لیا ہے۔ اس لیے کبھی کبھی اس قسم کے سروے بھی شکوک وشبہات پیدا کرتے ہیں کہ کہیں ‘بھکتوں ‘میں جوش بھرنے کے لیے منصوبہ بندی تو نہیں کی گئی ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر6 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
ہندوستان5 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا4 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا3 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا7 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
کھیل7 days agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
دنیا7 days agoلبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے: ابراہیم عزیزی
جموں و کشمیر3 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا5 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا1 week agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی







































































































