تازہ ترین
’پالیسی واضح:آج کا بھارت سمجھنے اور سمجھانے کی پالیسی پریقین رکھتا ہے‘ نریندر مودی

وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے سنیچر کے روز پاکستان اور چین کے نام سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی حکمت عملی اور پالیسی صاف وواضح ہے کہ آج کا بھارت سمجھنے اور سمجھانے کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرحد پر آزما نے کی کوشش کی گئی تو بھارت کا جواب بھی مناسب ہوگا۔کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق راجستھان کے جیسلمیر میں اسٹریٹجک لونگو والا چوکی پر فوجیوں کے ساتھ دیوالی منانے کے موقعے پر اپنے خطاب میں وزیر اعظم نریند رمودی نے کہا کہ اگر سرحد پر آزمانے کی کوشش کی گئی تو جواب بھی مناسب اور سخت ہوگا۔انہوں نے کہا ’اگر کوئی ہمیں سرحد پر آزمانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا جواب مناسب ہوگا‘۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے فوجیوں اور ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ چین پر واضح پیغام دیتے ہوئے پی ایم مودی نے اس کا نام لئے بغیر کہا کہ پوری دنیا ’توسیع پسند‘قوتوں سے پریشان محسوس ہوتی ہے اور توسیع پسندی ایک ’مسخ شدہ ذہنیت‘ کو ظاہر کرتی ہے جس کا تعلق 18 ویں صدی سے ہے۔نریندر مودی پاکستان اور چین کے نام سخت پیغام دیتے ہوئے کہا،بھارت کی پالیسی اور حکمت عملی واضح اور صاف ہے‘۔ان کا کہناتھا کہ ’ہندوستان دوسروں کو سمجھنے اور ان کو سمجھانے کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے لیکن اگر اس کو آزمانے کی کوشش کی گئی تو ملک سخت ردعمل دے گا۔‘انہوں نے کہا ’بھارت کی پالیسی واضح ہے کہ ہم سمجھنے اور سمجھانے پر یقین رکھتے ہیں،لیکن اگر۔۔۔۔۔سرحد پر آزمایا گیا تو جواب بھی سخت ہوگا‘۔نریندر مودی نے کہا کہ ہمارے فوجی جوان کہیں پر بھی شدت پسندوں کی جنت کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘۔فوجیوں کے ساتھ دیوالی گزارنا ایک روایت ہے کہ2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی نریندرمودی ہر سال اس کی پیروی کرتے ہیں۔جیسلمیر میں وزیر اعظم کا یہ بیان ایک روز بعد سامنے آئے ہیں جب جموں و کشمیر کے متعدد علاقوں میں پاکستانی فوجیوں کی طرف سے فائر نگ اور گولہ باری میں 5 فوجیوں سمیت 11 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے 1971 کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ہندوستان ان کے گھروں میں گھس کر دہشت گردوں اور ان کے رہنماؤں کو مار دیتا ہے۔ دنیا اب سمجھ گئی ہے کہ یہ قوم کسی بھی قیمت پر اپنے مفادات سے سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ہندوستان کی یہ شہرت اور قد آپ کی طاقت اور بہادری کی وجہ سے ہے۔وزیر اعظم نے کہا’ملک کی سرحد پر اگر کسی ایک پوسٹ کا نام ملک کے بیشتر لوگوں کو یاد ہوگا، بہت ساری نسلوں کو یاد ہوگا، اس پوسٹ کا نام لونگے والا پوسٹ ہے۔ اس پوسٹ پر آپ کے ساتھیوں نے بہادری کی ایک داستان لکھی ہے جو آج بھی ہر ہندوستانی کے دل کو جوش سے بھر دیتی ہے۔وزیر اعظم نے1971 کے پاکستان کے خلاف جنگ میں بریگیڈ کلدیپ سنگھ چاند پوری کی بہادری کو سلام پیش کیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف 1971 کی جنگ آرمی، بحریہ اور فضائیہ کے مابین مثالی ہم آہنگی کی ایک مثال ہے۔ وزیر اعظم نے کہا’ہر ہندوستانی ہمارے فوجیوں پر فخر کرتا ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت انہیں ہماری سرحدوں کے تحفظ سے نہیں روک سکتی‘۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان نے یہ ظاہر کیا ہے کہ چیلینج کرنے والوں کو اس کا بھرپور جواب دینے کی طاقت اور سیاسی قوت ہے۔نریندر مودی نے کہا ’ہندوستان کی متعدد ممالک کے ساتھ لمبی لمبی سرحدیں ہیں، لیکن اگر ایک ایسی سرحدی چوکی ہے جس کا نام ہر ہندوستانی جانتا ہے تو وہ لونگے والا ہے۔ لونگے والا کی لڑائی ایک ایسی بات ہے جس کے بارے میں ہر ہندوستانی جانتا ہے اورکہتا ہے ’جو بولے سو نہال ست سری کال‘۔‘وزیر اعظم مودی نے فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’جب بھی ہم اس کے بارے میں سوچتے ہیں، یہی ذہن میں آتا ہے‘۔اگلے سال 1971 کی ہندوستان۔پاکستان جنگ کے دوران لانگی والا کی لڑائی کو50 سال ہونے کا امکان ہے۔انہوں نے کہا’کچھ لوگ حیران ہوسکتے ہیں کہ مودی جی دیوالی پر سالانہ سال فوجیوں سے ملنے کیوں جاتے ہیں؟۔ لیکن مجھے ایک بات بتائیں، دیوالی ایک ایسا تہوار ہے جس کو ہم کنبہ کے ساتھ مناتے ہیں، اور ان لوگوں کے ساتھ جسے ہم اپنا کہتے ہیں۔۔۔لہٰذا ہر سال میں آپ سب کے ساتھ وقت گزارتا ہوں، کیونکہ آپ سب میرے، میرے کنبے، میرے اپنے ہیں۔‘وزیر اعظم کے ہمراہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بیپن راوت،آر می چیف ایم ایم نار وانے اور بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل راکیش استھانہ تھے۔
دنیا
یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم قرار، 15 کروڑ آبادی خطرے میں
جنیوا، یورپ کو دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم قرار دے دیا گیا ، جس سے پندرہ کروڑ افراد متاثر ہیں تفصیلات کے مطابق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے انتہائی تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے یورپ کو زمین کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم قرار دے دیا رپورٹ میں کہا گیا کہ یورپ میں درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں دگنی رفتار سے بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں بسنے والے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہروں کے باعث اس وقت تقریباً 15 کروڑ افراد براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرینِ صحت اور ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر کاربن گیسوں کے اخراج اور گلوبل وارمنگ پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے سالوں میں ہلاکتوں اور بیماریوں کی شرح میں ہولناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، یورپ میں گرمی کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹنے کے بعد اب ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بھی شدید ہیٹ ویو کے خطرے کے پیش نظر سخت الرٹ اور وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ “امریکہ کی وسطی اور مشرقی ریاستوں میں رواں ہفتے درجہ حرارت 30 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی پیش گوئی ہے، جس کے ساتھ حبس کی شدت بھی زیادہ ہوگی۔”
امریکی و یورپی حکام نے شہریوں، بالخصوص بزرگوں، بچوں اور دل کے مریضوں کو بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے، پانی کا استعمال بڑھانے اور ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں براعظموں میں بیک وقت شدید گرمی کی یہ لہر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ زمین کا درجہ حرارت اب انسانی کنٹرول سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
امرناتھ یاترا: جموں کے توئی ریور فرنٹ سینٹر پر ٹوکن کی تقسیم
جموں، جموں و کشمیر میں سالانہ شری امرناتھ یاترا کے باقاعدہ آغاز سے قبل، ٹوکن کی تقسیم کے پہلے ہی دن توئی ریور فرنٹ سینٹر پر ہزاروں عقیدت مندوں کا تانتا بندھ گیا۔ یہ سینٹر بھگوتی نگر میں واقع یاتری نواس سے محض چند میٹر کے فاصلے پر قائم کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ سالانہ شری امرناتھ یاترا کا باقاعدہ آغاز 3 جولائی سے ہوگا، جبکہ زائرین کا پہلا جتھہ 2 جولائی کو اسی مقام سے روانہ کیا جائے گا۔ جموں کے ڈپٹی کمشنر راکیش منہاس نے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) جوگندر سنگھ اور دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ مرکز کا دورہ کیا اور ٹوکن کی تقسیم کے عمل کی نگرانی کی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راکیش منہاس نے بتایا کہ”ٹوکن کی تقسیم کے پہلے دن عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد یہاں پہنچی اور آج کا مقررہ کوٹہ کامیابی کے ساتھ تقسیم کر دیا گیا ہے۔ یاتریوں کی رجسٹریشن کا عمل کل سے شروع ہوگا۔”انہوں نے مزید کہا کہ ضلع انتظامیہ تمام زائرین کے لیے یاترا کو پرامن، محفوظ اور آسان بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ جموں ضلع انتظامیہ نے امسال ‘شری امرناتھ جی یاترا 2026’ کے زائرین کے استقبال اور سہولت کے لیے وسیع انتظامات کیے ہیں۔ توئی ریور فرنٹ سینٹر پر تمام مسافروں کے ٹھہرنے اور آرام کرنے کی سہولیات کے ساتھ ساتھ 100 سے زائد بیت الخلا اور غسل خانے تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 24 گھنٹے لنگر (کمیونٹی کچن) کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ شفاف طریقے سے ٹوکن کی تقسیم اور رجسٹریشن کے لیے 18 کاؤنٹرز بنائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی گیتا بھون، مہاجن ہال، شری رام مندر پرانی منڈی اور ریلوے اسٹیشن جیسے دیگر مراکز بھی حسب معمول کام کرتے رہیں گے۔
یواین آئی ۔م ا ع
ہندوستان
کھرگے کا الزام: مرکز منریگا کو کمزور کر رہا ہے، زیر التوا بقایا جات اور نئی دیہی روزگار اسکیم پر وزیر اعظم سے جواب طلب کیا
نئی دہلی، کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے منگل کو مرکز کے مجوزہ دیہی روزگار پروگرام کے نفاذ کے تعلق سے وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت نے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو مؤثر طریقے سے ختم کر دیا ہے اور دیہی ہندوستان کو اس کے “کام کے حق” سے محروم کر دیا ہے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کھرگے نے منریگا کی زیر التوا ادائیگیوں، مجوزہ وکست بھارت – گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن (گرامین) (وی بی-جی رام جی) کے فنڈنگ کے طریقہ کار اور ان اقدامات پر مرکز سے سوال اٹھائے جنہیں انہوں نے کسانوں اور دیہی مزدوروں کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا۔ کھرگے نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے سلسلہ وار سوالات اٹھانے سے پہلے کہا کہ مسٹر نریندر مودی، آپ نے مؤثر طریقے سے منریگا کو ختم کر دیا ہے، جس سے دیہی ہندوستان سے ‘کام کا حق’ چھن گیا ہے۔
لوک سبھا میں پیش کیے گئے ایک جواب کا حوالہ دیتے ہوئے کھرگے نے الزام لگایا کہ مارچ 2026 تک 34 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 17,144.13 کروڑ روپے کے بقایا جات زیر التوا تھے، جس میں اجرت کی واجب الادا رقم کے طور پر 7,846.25 کروڑ روپے شامل ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ مزدوروں کو اب تک وہ اجرت نہیں ملی ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ کیوں
کانگریس کے صدر نے مزید الزام لگایا کہ اگرچہ مرکز یکم جولائی سے نئی وی بی-جی رام جی اسکیم شروع کر رہا ہے، لیکن اس نے ابھی تک ریاستوں کو منریگا کی زیر التوا ادائیگیاں نہیں کی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک کو 700 کروڑ روپے، جھارکھنڈ کو 900 کروڑ روپے کا انتظار ہے، جبکہ تلنگانہ، تمل ناڈو اور کئی دیگر ریاستوں کو بھی ابھی تک ان کے بقایا جات نہیں ملے ہیں۔
کھرگے نے نئی اسکیم کے مجوزہ فنڈنگ ڈھانچے کی بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ منریگا کے برعکس، جس کے تحت مرکز اجرت کی پوری لاگت برداشت کرتا تھا، مجوزہ ڈھانچہ کل اخراجات کا 40 فیصد ریاستوں پر منتقل کرتا ہے۔ حق معلومات ایکٹ (آر ٹی آئی) کے تحت حاصل کردہ معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت والی مدھیہ پردیش اور بہار نے بھی جھارکھنڈ کے ساتھ مل کر مالی بوجھ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور فنڈنگ کے طریقہ کار پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کاشتکاری کے عروج کے سیزن کے دوران مجوزہ 60 دنوں کے “بلیک آؤٹ” کی فراہمی پر بھی اعتراض کیا اور دعویٰ کیا کہ کئی ریاستوں نے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ مرکزی حکومت کسانوں اور دیہی مزدوروں پر یہ مزدور دشمن انتظام کیوں تھوپ رہی ہے
کانگریس کے صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ 125 دن کا روزگار فراہم کرنے کے وعدے پر عمل درآمد سے مدھیہ پردیش پر 20,037 کروڑ روپے اور بہار پر 15,939 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا، اور انہوں نے سوال کیا کہ کیا مرکز اپنی نئی اسکیم کو نافذ کرنے کے لیے ریاستوں کو مالی بحران میں دھکیلنا چاہتا ہے۔
کھرگے نے دیہی روزگار پروگرام کے تحت کم از کم یومیہ اجرت 400 روپے کرنے کے کانگریس پارٹی کے مطالبے کو بھی دہرایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کم از کم پانچ ریاستوں نے اجرت کی اعلیٰ شرحوں کا مطالبہ کیا ہے، اور الزام لگایا کہ بہار اجرت کو 255 روپے سے بڑھا کر 413 روپے کرنا چاہتا ہے، جبکہ جموں و کشمیر نے 272 روپے سے بڑھا کر 311 روپے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مانسون کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کھرگے نے دعویٰ کیا کہ جون میں بارش معمول سے 42 فیصد کم رہی، خریف کی بوائی میں 22.7 فیصد کی کمی واقع ہوئی اور 300 سے زائد اضلاع کو خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ دیہی ذریعہ معاش کے بگڑتے ہوئے بحران کے درمیان منریگا کو ختم کرنا مزدوروں، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات اور غریبوں پر حملہ ہے۔ کھرگے نے کہا کہ مسٹر مودی، براہ کرم جواب دیں۔
مرکز کا موقف ہے کہ مجوزہ وی بی-جی رام جی فریم ورک کا مقصد دیہی روزی روٹی کو مضبوط بنانا اور نفاذ کے طریقہ کار کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم، کانگریس مستقل طور پر مجوزہ قانون سازی کی مخالفت کر رہی ہے اور الزام لگا رہی ہے کہ یہ منریگا کے حقوق پر مبنی فریم ورک کو کمزور کرتا ہے اور مالی و انتظامی بوجھ ریاستوں پر منتقل کرتا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان6 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
تازہ ترین1 week agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
دنیا1 week agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا1 week agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
جموں و کشمیر6 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا5 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر4 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان6 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
تازہ ترین1 week agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا7 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا1 week agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی







































































































