تازہ ترین
کشمیر وادی منشیات کی دلدل میں مکمل طور پھنسی

2 اضلاع میں 3.5کروڑ روزانہ منشیات پرخرچ، سروے میں حیران کن انکشاف
نشے کی لت میں پڑے 300 افراد پر تحقیق، ہیروئن اور دیگر نشہ آور ادویات آسانی سے میسر
خبراردو:-
سرینگر: کشمیر وادی میں منشیات کے استعمال نے انتہائی تشویشناک رخ اختیار کر لیاہے۔اس دوران ایک ادارے کی جانب سے تازہ سروے کے مطابق کشمیرکے صرف 2 اضلاع میں روزانہ ساڑھے3 کروڑ روپے چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے۔سروے کے انچارج نے بتایاکہ لت میں پڑے 300 افراد پر تحقیق کی گئی، جس سے پتہ چلا کہ دونوں شہروں میں ہیروئن اور افیم کی دیگر نشہ اور ادویات آسانی سے میسر ہے۔
کشمیر نیوز سروس مانٹرنگ ڈیسک کے مطابق گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر کے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹلہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز نے حال ہی میں سری نگر اور اننت ناگ میں ایک پائلٹ سروے کی، یہ جاننے کے لئے کہ یہاں پر منشیات کا استعمال کس حد تک ہورہا ہے۔ سروے کے نتائج سب کے لئے پریشان کن ثابت ہورہے ہیں۔
سروے کے انچارج ڈاکٹر یاسر نے ایک قومی ٹیلی ویژن چینل کو بتایا کہ سروے میں نشے کی لت میں پڑے300 افراد پر تحقیق کی گئی اور یہ پتہ چلا کہ ان دو شہروں میں ہیروئن اور افیم کی دیگر نشہ اور ادویات آسانی سے میسر ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی پتہ چلا کہ ان شہروں میں دو فیصد آبادی منشیات میں ملوث ہے۔ روزانہ ساڑھے تین کروڑ روپئے صرف اننت ناگ اور سری نگر میں ہی منشیات کی خرید پر خرچ کئے جاتے ہیں۔
اس سے بڑھ کر پریشانی کا معاملہ یہ ہے کہ منشیات کی لت میں پڑے45 فیصد افراد اپنی رگوں میں ہیروین انجیکشن کے ذریعے پہنچاتے ہیں اور کئی لوگ ایک ہی سوئی کا استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انھیں ہیپاٹایٹس سی اور کئی دیگر خطرناک بیماریاں لگ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر یاسر نے کہا کہ سروے کے دوران انھیں پتہ چلا کہ کئی بچے اس لت میں پڑے ہیں مگر زیادہ تر نوجوان اس کی زد میں ہیں اور وہ بھی پڑھے لکھے اور اچھے ہنر مند نوجوان ہیں۔
ڈاکٹر یاسر کہتے ہیں کہ منشیات کی لت کووڈ-19 سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ نوجوان نسل کو نگل جاتی ہے۔ سروے میں پایا گیا کہ غلط صحبت، کھیل کود اور دیگر تفریح کے مواقع کی کمی اور ذہنی دباؤ اس لت میں پڑنے کی خاص وجوہات میں شامل ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس سال ابھی تک 208منشیات کے اسمگلر پولیس کی گرفت میں آئے ہیں۔ حال ہی میں جموں وکشمیر پولیس نے شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں منشیات کی ایک بڑی مقدار ضبط کی اور ان معاملوں کے پیچھے پاکستان میں مقیم عسکری تنظیم کو زمہ دار ٹہرایا۔
ادھر ریاست میں ڈرگ پالیسی کے اطلاق اور اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس کی کاروائیوں کے باوجود ڈرگ اسمگلروں پر قابو کیوں نہیں پایا جاسکتا؟ یہ سوال ہر شہری کے لب پر ہے۔ کئی لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث لوگوں کو کئی بار اثر لوگوں کا آشیرواد حاصل ہے۔
وہ سوال پوچھتے ہیں کہ جس وادی میں ہر شخص کی حرکت پر سیکوریٹی فورسز کی نظر ہے۔ وہاں اتنے بڑے ڈرگ اسمگلر کھلے عام اتنا بڑا کاروبار کیسے چلاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر نوجوان نشہ کی لت سے باہر آنا چاہتے ہیں اور انھیں ایک مریض سمجھ کر مدد کی جانی چاہئے اور ساتھ ہی اس زہر کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جانی چاہئے۔(بشمولات نیوز 18)
جموں و کشمیر
عمر نے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کے لئے انڈیا اتحاد سے حمایت طلب کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے قومی دارالحکومت میں اپوزیشن جماعتوں کے ‘انڈیا’ اتحاد کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کے لیے حمایت طلب کی ہے۔
مسٹر عبداللہ نے پیر کے روز نئی دہلی میں منعقدہ انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں یہ معاملہ اٹھایا اور اتحاد کے شراکت داروں سے قومی دارالحکومت میں ہونے والے پارٹی کے مجوزہ احتجاج میں شریک ہونے کی درخواست کی۔ انڈیا اتحاد کی اس میٹنگ میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی شرکت کی۔
نیشنل کانفرنس نے یہاں ایک بیان میں کہا، ’’آج ہونے والی انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تمام شرکاء سے کہا کہ جب ہم ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے دہلی میں احتجاج کرنے آئیں گے تو وہ جموں کسمیر نیشنل کانفرنس کے ساتھ جڑیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سلسلے میں تمام رہنماؤں کو الگ الگ خطوط بھی ارسال کریں گے۔‘‘
یواین آئی۔الف الف
دنیا
اختلافات کے برعکس ترک-ہند تعلقات اچھے ہونے چاہیئے:فیدان
انقرہ، ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے ترکیہ اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے اور یہ دلیل دی ہے کہ پاکستان کے ساتھ انقرہ کے قریبی تعلقات کی وجہ سے پیدا ہونے والے اختلافات کو ان دونوں علاقائی طاقتوں کے درمیان تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
پچھلے ہفتے سنگاپور میں چھٹے ‘آئی آئی ایس ایس رافلز م لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ ترکیہ اور ہندوستان کے درمیان کوئی بڑے دوطرفہ تنازعات نہیں ہیں اور دونوں کے پاس مثبت تعلقات برقرار رکھنے کی مضبوط وجوہات موجود ہیں۔
لیکچر کے بعد سوال و جواب کے ایک سیشن میں فیدان نے کہا کہ ہم واقعی ہندوستان کے ساتھ بہترین تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ ہماری کوئی سرحد نہیں ہے اور نہ ہی ہندوستان کے ساتھ ہمارا کوئی حل طلب دوطرفہ مسئلہ ہے۔
” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکیہ اور ہندوستان کی کوئی آپسی جنگی تاریخ نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے ان کے پاس اچھے تعلقات رکھنے کی ہر بہترین وجہ موجود ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ انقرہ کے دیرینہ تعلقات کا دفاع کیا اور انہیں تاریخی یکجہتی پر مبنی قرار دیا، جبکہ اس بات پر زور دیا کہ ان تعلقات کو نئی دہلی کے ساتھ تعاون میں رکاوٹ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
فیدان نے کہا کہ ترکیہ واحد ملک نہیں ہے جس کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور بعض مخصوص مسائل پر پاکستان کے ساتھ تاریخی یکجہتی موجود ہے۔
واضح رہے کہ تعلقات میں یہ مشکل موڑ مئی 2025 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جنگ کے بعد آیا تھا۔
نئی دہلی نے اس بحران کے دوران ہندوستانی حملوں کی ترک مذمت اور پاکستان کے لیے حمایت کے اظہار پر اعتراض اٹھایا تھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترکیہ ان پہلے ممالک میں شامل تھا جس نے 22 اپریل 2025 کو ہندوستان کے کشمیر کے علاقے پہلگام میں شہریوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی تھی جس کے بعد یہ جنگ شروع ہوئی تھی۔
ترک وزارت خارجہ نے اسی دن ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسے ایک “گھناؤنا حملہ” قرار دیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے اسرائیل پر حملے روکنے کا اعلان کردیا
تہران، ایرانی خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے اسرائیل کے خلاف مسلح افواج کی کارروائیاں روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کے مظلوم عوام کی حمایت میں صہیونی حکومت کو دردناک جواب دے دیا گیا ہے۔
خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرانی مسلح افواج نے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملوں اور مبینہ جارحیت کا جواب دے دیا ہے، جس کے بعد فوجی کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کو اس جواب سے سبق سیکھنا چاہیے، تاہم اگر جارحیت اور اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رہیں تو پہلے سے زیادہ شدید اور تباہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔
اس سے قبل پاسداران انقلاب نے گزشتہ روز شمالی اسرائیل میں واقع اسرائیلی ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔
ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی نیوتم ایئر بیس، تل انوف پر حملے کیے ہیں، اسرائیلی ایئر بیس پر حملے ایران میں ریڈار مقامات کو نشانہ بنانے کے جواب میں کیے گئے، کسی بھی صورتِ حال اور تمام محاذوں پر وسیع آپریشنز کے لیے تیار ہیں۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے مقبوضہ علاقوں میں اہم اور حساس اہداف کے خلاف کامیاب کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں دشمن کو بھاری اور مہنگا نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور خطے کی مزاحمتی قوتیں کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گی، اور اگر جارحیت جاری رہی تو اس کا زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ 8 اپریل کو ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان نافذ ہونے والی جنگ بندی تمام محاذوں پر جنگ بندی سے مشروط تھی، جبکہ اسرائیل پر لبنان میں کارروائیاں جاری ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر6 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
ہندوستان5 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا4 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا7 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
کھیل6 days agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
دنیا3 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا5 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا7 days agoلبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے: ابراہیم عزیزی
جموں و کشمیر3 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی






































































































