تجزیہ
کشمیر میں امن و خوشحالی کی تعمیر میں خواتین کا کردار

از قلم :ایڈووکیٹ صفا
دائرے توڑتے ہوئے :مسلم تخلیق کار بھارت میں کثرت پسندی کا تصور از سر نو وضع کررہے ہیں
قارئین کشمیر کا سماج اپنی گہری روحانی اور ثقافتی جڑوں کے ساتھ ہمیشہ سے خواتین کے کردار کو محض خاندان کے دائرے تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ انہیں معاشرتی تعمیر کے ایک لازمی ستون کے طور پر تسلیم کرتا آیا ہے۔ آج جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، کشمیری خواتین بھی اپنی روایتی حدود سے آگے بڑھ کر تعلیم، حکومت، کاروبار، سماجی خدمات اور بین المذاہب ہم آہنگی جیسے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کی یہ شراکت محض عددی نہیں بلکہ معنوی اور فکری سطح پر بھی تبدیلی کی علامت ہے۔قارئین وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والی خواتین نے ہر دور میں اپنی ہمت اور حوصلے سے نئی نئی تاریخیں رقم کرلی ہیں ۔ قارئین کشمیری خواتین کے کردار کو سمجھنے کے لیے ہمیں ماضی کے ان ادوار کو یاد رکھنا ہوگا جہاں خواتین نے علمی و روحانی میدان میں راہبری کا فریضہ انجام دیا۔لل دید، حبہ خاتون جیسی صوفی شاعرہ سے لے کر جدید دور کی ماہرِ تعلیم ڈاکٹر شاہینہ بشیر تک، کشمیر کی تاریخ ایسی خواتین سے بھری پڑی ہے جنہوں نے نہ صرف معاشرے کی رہنمائی کی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مثالیں قائم کیں۔کشمیری خواتین نے ہر شعبے میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہر ہ کیا ہے چاہئے وہ تعلیمی شعبہ ہو، کھیل کود ہوں ، تجارتی معاملات ہوں، کاروبار ہو، شعبہ طب ہو یا سیاسی میدان ہو کشمیری خواتین نے ہر میدان میں اپنا لوہا منوایا ہے ۔
وادی کشمیر میں مخدوش حالات کے دوران اگرکسی طبقے کو زیادہ مشکلات کا سامنا رہا ہے تو وہ صنف نازک ہی ہے ۔ خواتین ہر دور میں مشکلات کی شکار رہی ہیں۔ خاص طو رپرکشمیر سے متعلق بعض حلقوں کی طرف سے مذہبی آزادی پر قدغن کے جو دعوے کیے جاتے ہیں، ان کے برعکس یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے روایتی طور پر ایک پ±رامن بقائے باہمی کے ماحول میں رہتے آئے ہیں۔ خاص طور پر کشمیری صوفی روایت سے وابستہ خواتین نے امن، رحم دلی اور برداشت جیسے اسلامی اقدار کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ آج نہ صرف خواتین دینی تعلیم میں سرگرم ہیں بلکہ وہ زیارت گاہوں کی منتظم، مذہبی مجلسوں کی قائد اور روحانی رہنما کے طور پر بھی ابھر رہی ہیں۔ ان کی موجودگی انتہاپسندانہ نظریات کے سامنے ایک مضبوط فکری دیوار کا کام دیتی ہے اور مذہبی ہم آہنگی کو تقویت بخشتی ہے۔
قارئین وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والی خواتین نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ یہ حقیقت اب ناقابل انکار ہے کہ خواتین کی شمولیت کے بغیر کسی بھی سماج کی ترقی مکمل نہیں ہو سکتی۔ کشمیری خواتین آج امید، حوصلے اور غیرمعمولی استقامت کی علامت بن چکی ہیں۔ چاہے وہ قومی سطح کے امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والی طالبات ہوں یا کھیل، فنون اور کاروبار کے میدان میں غیر معمولی کامیابیاں سمیٹنے والی خواتین ، ہر ایک کی کہانی نئی نسل کو تعلیم اور خودمختاری کی طرف مائل کر رہی ہے۔ افشاں کی مثال لیجیے، جو فٹبالر سے کوچ کے سفر تک پہنچی، یا پروینا آہنگر، جنہیں انسانی حقوق کے شعبے میں غیرمعمولی خدمات پر نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔ ان خواتین نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ علم، محنت اور امن کا راستہ نہ صرف انفرادی ترقی کا ذریعہ ہے بلکہ ایک بہتر سماج کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
نوجوان نسل کے لیے یہ خواتین مشعلِ راہ ہیں۔ ان کی کامیابیاں یہ پیغام دیتی ہیں کہ بندوق یا نفرت کا راستہ کبھی پائیدار نہیں ہو سکتا، جبکہ تعلیم، امن اور سماجی مکالمہ ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ ایسے وقت میں جب دنیا دہشت گردی اور شدت پسندی سے نبرد آزما ہے، کشمیری خواتین نہایت مو¿ثر انداز میں نوجوانوں کو ان رجحانات سے دور رکھ کر معاشرے کو محفوظ بنا رہی ہیں۔
سیاحت کے شعبے میں بھی کشمیری خواتین کا بڑھتا ہوا کردار اس خطے میں پھیلتی ہوئی امن کی فضا اور معمولاتِ زندگی کی بحالی کا مظہر ہے۔ گھریلو قیام گاہوں سے لے کر دستکاری مراکز، رہنمائی اور میزبانی تک،خواتین کی شرکت نہ صرف انہیں معاشی طور پر بااختیار بناتی ہے بلکہ وادی کے متعلق دنیا کی رائے کو بہتر انداز میں تشکیل دیتی ہے۔
ان کی موجودگی کشمیر کی ایک ایسی تصویر دنیا کے سامنے رکھتی ہے جو خلوص، کشادگی اور مہمان نوازی سے بھرپور ہے۔خاص طور پر وادی کی نوجوان خواتین، جو مقامی ہوٹلوں، سیاحتی کیمپوں، اور روایتی قالین بافی سے لے کر جدید ای کامرس تک سرگرم ہیں، وہ نہ صرف اپنی شناخت خود تراش رہی ہیں بلکہ کشمیر کی معیشت میں بھی نئی جان ڈال رہی ہیں۔ ان کے ہاتھوں سے بنی مصنوعات اب بین الاقوامی سطح پر نمائشوں میں پیش کی جا رہی ہیں، جس سے ایک نیا سماجی اور معاشی افق ابھرتا ہے۔جہاں تک دستکاری کی بات ہے تو کشمیری خواتین کی جانب سے تیار کردہ دستکاریاں دنیا کے کونے کونے تک پہنچ رہی ہیں۔
اسی طرح اگر ہم سیاست کے شعبے میں خواتین کے کردار کی بات کریں تو حالیہ عام انتخابات میں خواتین کی بڑھ چڑھ کر شرکت چاہے بطور ووٹر ہو یا انتخابی عملے کا حصہ بن کر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نہ صرف سیاسی عمل کا حصہ بننا چاہتی ہیں بلکہ اپنے سماجی مستقبل کی معمار بھی ہیں۔ ان کی یہ شرکت جمہوری عمل پر اعتماد کو گہرا کرتی ہے اور خطے میں حکمرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے۔ ایسی خواتین جو پنچایت سے لے کر قانون ساز اسمبلی تک، مختلف سطحوں پر انتخابی عمل کا حصہ بنی ہیں، وہ سماجی قیادت کا ایک نیا چہرہ ہیں۔سیاسی قیادت میں خواتین نے جو مقام حاصل کیا ہے یہ گزشتہ تیس برسوں میں پہلی بار دیکھا گیا ہے ۔
قارئین جہاں تک وادی میں امن کے قیام میں خواتین کی بات ہے تو خواتین نے شدت پسندی کے خلاف ایک خاموش مگر مو¿ثر جدوجہد کا آغاز کر رکھا ہے۔ ماں، استانی، سماجی کارکن یا مذہبی اسکالر کے روپ میں وہ نئی نسل کو انتہا پسندی کے خطرات سے آگاہ کر رہی ہیں۔ مدارس، مکاتب اور گھریلو سطح پر جب علما، اساتذہ اور مائیں مل کر بین المذاہب ہم آہنگی، دین کی اصل تعلیمات اور پرامن معاشرے کی اہمیت پر بات کرتی ہیں تو اس کے مثبت اثرات نہایت گہرے ہوتے ہیں۔ایک ماں ، ایک بہن، ایک بیوی کی ذمہ داری ہے کہ وہ مردوں کو ایسے راستے پر چلنے کی ترغیب دیں جن میں ان کا مستقبل روشن ہواور قوم و ملک کی سلامتی کےلئے بہتر ہو۔
ثقافتی، موسیقی اور کھیلوں کی تقریبات میں ان کی سرگرم شرکت نہ صرف نوجوانوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ ان کے لیے اظہارِ رائے اور تخلیقی سرگرمیوں کا ایک نیا اور مثبت پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، جہاں سے وہ مستقبل کے امکانات کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔ وادی کے مختلف اضلاع میں حالیہ برسوں میں لڑکیوں کے لیے کھیلوں کے مقابلوں، تھیٹر ورکشاپس اور شاعری کی محفلوں کا انعقاد اسی رجحان کی علامت ہے۔
قارئین جہاں کشمیری خواتین کی جانب سے ہر مرحلے میں خدمات انجام دی جارہی ہیں وہیںشری امرناتھ یاترا 2025، جو 3 جولائی سے جاری ہے، اس میں بھی خواتین کی رضاکارانہ خدمات، صحت کے شعبے میں کام اور راہنمائی جیسے کردار نمایاں ہیں۔ ان کی موجودگی نہ صرف یاترا کو سہولت بخش بناتی ہے بلکہ ایک متحد اور ہم آہنگ سماج کا پیغام بھی دنیا تک پہنچاتی ہے۔ خواتین کا یہ کردار کشمیر کی اس مہمان نوازی اور مذہبی رواداری کو اجاگر کرتا ہے جو اس کی صدیوں پرانی پہچان ہے۔
مختصر یہ کہ کشمیری خواتین اب محض مشاہدہ کرنے والی خاموش ہستیاں نہیں رہیں، بلکہ وہ تبدیلی کی فعال معمار، امن کی سفیر اور خوشحالی کی ضامن بن چکی ہیں۔ ان کی فکری بلوغت، جذباتی پختگی اور عملی حکمت کشمیر کے مستقبل میں ایک ناگزیر عنصر بن چکی ہے۔ ان کے کردار کو تقویت دینا صرف اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ضرورت ہے، اگر ہم ایک ایسا کشمیر چاہتے ہیں جو واقعی پ±رامن، جامع اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔
تازہ ترین
یاسین ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ، 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کیس میں نئی چارج شیٹ

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، یعنی جے کے ایل ایف، کے چیئرمین یاسین ملک کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ایک طرف وہ پہلے ہی نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، تو دوسری جانب اب 36 سال پرانے کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ قتل کیس میں بھی ان کے خلاف ایک نئی چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی، یعنی ایس آئی اے، نے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے یاسین ملک سمیت پانچ افراد کو سرلا بھٹ کے اغوا، تشدد اور قتل کی سازش میں ملوث قرار دیا ہے۔ ایس آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرلا بھٹ کا قتل کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ جے کے ایل ایف کی قیادت میں انجام دی گئی ایک منظم دہشت گردانہ سازش کا حصہ تھا۔
تحقیقات کے مطابق سرلا بھٹ، جو اس وقت شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی سکمز میں بطور نرس خدمات انجام دے رہی تھیں، 18 اپریل 1990 کو مبینہ طور پر اسپتال سے اغوا کی گئیں۔ ایس آئی اے کے مطابق انہیں سری نگر کے مالباغ اور عمر کالونی کے علاقے میں لے جایا گیا، جہاں ان پر مبینہ طور پر شدید جسمانی تشدد کیا گیا اور بعد ازاں خودکار ہتھیاروں سے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش پانچ روز بعد برآمد ہوئی، جس کے ساتھ ایک پرچی بھی ملی تھی جس میں انہیں مبینہ طور پر “مخبر” قرار دیا گیا تھا۔
چارج شیٹ میں یاسین ملک کے علاوہ خورشید احمد چلو، عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تین افراد عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی اور غلام محمد ٹپلو کی وفات ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چلو مفرور ہے اور ایس آئی اے کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود ہے۔ ایجنسی نے اس کے خلاف قانونی کارروائی اور اشتہاری کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔
ایس آئی اے نے اس مقدمے میں اغوا، قتل، مجرمانہ سازش، شواہد مٹانے، ٹاڈا ایکٹ اور آرمز ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس چارج شیٹ میں زبانی، دستاویزی، فرانزک، بیلسٹک، طبی اور الیکٹرانک شواہد شامل کیے گئے ہیں، جنہیں کئی دہائیوں پر محیط تحقیقات کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے اس پیش رفت کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چارج شیٹ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی سے متعلق جرائم میں وقت گزر جانا کسی بھی ملزم کے لیے قانونی تحفظ نہیں بن سکتا۔ پولیس کے مطابق چاہے کئی دہائیاں ہی کیوں نہ گزر جائیں، ایسے جرائم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
سرلا بھٹ اس وقت صرف 27 برس کی تھیں اور ان چند کشمیری پنڈت خاندانوں میں شامل تھیں جنہوں نے 1990 میں عسکریت پسندی کے آغاز کے باوجود وادی کشمیر نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا قتل بعد میں کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی اور نمایاں واقعات میں شمار کیا گیا۔
یاسین ملک اس وقت بھی کئی دیگر اہم مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مئی 2022 میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت، حکومت ہند کے خلاف سازش اور دیگر الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے دو مرتبہ عمر قید اور متعدد دیگر سزائیں سنائی تھیں۔ وہ 2019 سے تہاڑ جیل میں بند ہیں، جبکہ این آئی اے دہلی ہائی کورٹ میں ان کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل بھی کر چکی ہے، جس پر کارروائی جاری ہے۔
اس کے علاوہ یاسین ملک 1989 میں اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی صاحبزادی روبیہ سعید کے اغوا کے مقدمے اور 1990 میں بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے کے مقدمے میں بھی بطور ملزم نامزد ہیں۔
سرلا بھٹ قتل کیس میں 36 برس بعد دائر ہونے والی یہ چارج شیٹ ایک ایسے مقدمے میں اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے جو طویل عرصے سے انصاف کا منتظر تھا۔ اب تمام نظریں عدالت پر ہیں، جہاں اس مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور دلائل کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔
تجزیہ
یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر: اسباب، تباہ کاریاں اور مستقبل کا لائحہ عمل
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
اکیسویں صدی میں کرہ ارض کو درپیش سب سے بڑا اور سنگین ترین چیلنج ‘موسمیاتی تبدیلی’ (کلائمیٹ چینج) اور ‘عالمی حدت’ (گلوبل وارمنگ) ہے حالیہ برسوں میں اس کے اثرات محض سائنسی رپورٹس اور کانفرنسوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اب یہ انسانی زندگیوں، معیشتوں اور ماحولیاتی نظاموں پر براہِ راست اثر انداز ہو رہے ہیں اس کی تازہ ترین اور ہولناک ترین مثال یورپ میں آنے والی حالیہ شدید ترین ہیٹ ویو ہے، جس نے ماضی کے تمام ریکارڈز کو توڑ دیے ہیں۔ جرمنی، اٹلی، فرانس، ڈنمارک اور سلوواکیہ جیسے ممالک، جو تاریخی طور پر معتدل یا سرد موسم کے لیے جانے جاتے تھے، اس وقت تپتے ہوئے صحراؤں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ درجہ حرارت چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جانا اور رات کے وقت بھی گرمی کی شدت برقرار رہنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ زمین کا موسمیاتی نظام مکمل طور پر بگڑ چکا ہے۔
مغربی یورپ سے شروع ہونے والا یہ شدید موسمی نظام اب مشرق کی طرف پھیل چکا ہے اور اس کی شدت میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ مختلف یورپی ممالک میں اس ہیٹ ویو نے جو تباہی مچائی ہے، اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں: جرمنی، جو اپنی صنعتی ترقی اور بہترین انفراسٹرکچر کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، اس وقت شدید موسمی حالات کا سامنا کر رہا ہے۔
جرمن قومی موسمیاتی سروس (ڈی ڈبلیو ڈی) کے مطابق ملک بھر میں اوسط درجہ حرارت 36ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے جبکہ کئی مقامات پر اس کے 42ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کے قوی امکانات ہیں۔
فرانس کی سرحد کے قریب واقع شہر ساربروکن میں درجہ حرارت 41.3 سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا، جو جرمنی کی تاریخ کے گرم ترین درجہ حرارت کے بالکل قریب ہے۔ جرمن حکام نے تقریباً پورے ملک کے لیے شدید گرمی کی ریڈ وارننگ جاری کی ہے۔ شہروں میں پانی کی کھپت میں بے پناہ اضافے کے باعث عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پانی بچائیں تاکہ پانی کی فراہمی کا نظام مفلوج نہ ہو۔
اٹلی بھی اس ہیٹ ویو کی زد میں بری طرح آچکا ہے۔ روم، میلان اور فلورنس جیسے تاریخی شہروں میں درجہ حرارت مسلسل 40ڈگری سینٹی گریڈسے اوپر برقرار ہے۔ سیاحوں اور مقامی آبادی کے لیے گھروں سے نکلنا محال ہو چکا ہے اور ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کا تانتا بندھ گیا ہے۔
اس ہیٹ ویو کی سب سے حیران کن اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اس نے اسکینڈینیوین ممالک (Scandinavia) کو بھی نہیں بخشا۔ ڈنمارک کے موسمیاتی ادارے کے مطابق اوڈینس (Odense) کے شمالی علاقے میں درجہ حرارت 36.6 سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا۔ 1874ء میں جب سے ڈنمارک میں موسم کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا شروع کیا گیا ہے، گزشتہ 150 سے زائد سالوں میں یہ وہاں کا گرم ترین دن ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ گرمی کی لہریں اب قطب شمالی کے قریبی علاقوں تک کا رخ کر رہی ہیں۔
فرانس اس ہیٹ ویو کا ابتدائی ہدف بنا جہاں درجہ حرارت 40ڈگری سینٹی گریڈسے تجاوز کرنے کے باعث درجنوں افراد، بالخصوص نوجوان اور بوڑھے، لقمہ اجل بن گئے۔ فرانسیسی حکومت کو ہنگامی اقدامات کے تحت اسکولوں کو معطل کرنا پڑا، بیرونی تقریبات ملتوی کرنی پڑیں اور پبلک مقامات پر الکحل کے استعمال پر پابندی عائد کرنی پڑی کیونکہ الکحل جسم میں پانی کی کمی (Dehydration) کو تیز کرتی ہے۔
موسمیاتی نظام جیسے ہی مشرق کی طرف منتقل ہوا، اس نے نئے ریکارڈ بنانا شروع کر دیے۔ سلوواکیہ میں جمعہ کی رات تاریخ کی گرم ترین رات ریکارڈ کی گئی، جہاں درجہ حرارت 26.3سے نیچے نہیں گرا۔ رات کے وقت اس قدر زیادہ درجہ حرارت انسانی جسم کو ٹھنڈا ہونے اور آرام کرنے کا موقع نہیں دیتا، جو صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ماہرین کے مطابق اب یہ لہر پولینڈ کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں مزید ریکارڈ ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔
سائنسدانوں اور ماہرینِ موسمیات کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ یورپ میں آنے والی یہ حالیہ گرمی کی لہر کوئی قدرتی واقعہ نہیں ہے۔ عالمی ماحولیاتی سائنسدانوں کے مطابق انسانوں کی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلی کے بغیر اس نوعیت کی شدید ہیٹ ویو کا آنا تقریباً ناممکن تھا۔’
صنعتی انقلاب کے بعد سے انسانوں نے فوسل فیول (کوئلہ، تیل، اور گیس) کے بے تحاشہ استعمال، جنگلات کی کٹائی اور زہریلی گیسوں کے اخراج کے ذریعے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ زمین نے سورج کی گرمی کو اپنے اندر قید کرنا شروع کر دیا ہے۔
سائنسی ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سرگرمیوں نے اس ہفتے رات کے وقت کے درجہ حرارت کو دو دہائیوں (20 سال) پہلے کے مقابلے میں 100گنا زیادہ شدید بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب راتیں بھی ٹھنڈی نہیں رہیں، جو کہ گلوبل وارمنگ کا ایک بھیانک رخ ہے۔
شدید گرمی کی یہ لہر محض تھرمامیٹر کے پارہ بڑھنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے اثرات انسانی زندگی اور ملکی نظام کے ہر شعبے پر مرتب ہو رہے ہیں۔
ہمارا جسم ایک خاص حد تک گرمی برداشت کرنے کے لیے بنا ہے۔ جب درجہ حرارت مسلسل چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہتا ہے تو انسانی جسم کا درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کا نظام فیل ہو جاتا ہے۔
فرانس سمیت دیگر ممالک میں درجنوں اموات ہو چکی ہیں۔ بوڑھے، بچے اور وہ لوگ جو دل یا سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں، اس کا سب سے پہلا شکار بنتے ہیں۔ شدید گرمی کی وجہ سے لوگ نیند کی کمی اور مسلسل شدید گرمی کے ماحول میں رہنے سے انسانی رویوں میں چڑچڑاپن اور ذہنی تناؤ بڑھ جاتا ہے۔
یورپی ممالک کا بنیادی ڈھانچہ تاریخی طور پر سرد موسم کے لحاظ سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ گھروں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ایئر کنڈیشننگ (اے سی)کا نظام اس سطح پر موجود نہیں ہے جیسا کہ ایشیا یا مشرقِ وسطیٰ میں ہوتا ہے۔
شدید گرمی کی وجہ سے لوہے کی پٹریوں کے پھیلنے اور مڑنے کا خطرہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یورپ بھر میں ٹرینوں کی رفتار کم کر دی گئی ہے یا سفر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ فرانس اور جرمنی میں نیوکلیئر پاور پلانٹس کو ٹھنڈا کرنے کے لیے دریاؤں کا پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ دریاؤں کا پانی پہلے ہی گرم ہونے کی وجہ سے ان پاور پلانٹس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے، جبکہ دوسری طرف ایئر کنڈیشنرز اور پنکھوں کے استعمال کی وجہ سے بجلی کی طلب ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔
کئی ممالک میں بیرونی کاموں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، تعمیراتی کام روک دیے گئے ہیں اور اسکولوں کو بند کرنا پڑا ہے۔ اس سے روزمرہ کی معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ سیاحت، جو کہ اٹلی اور فرانس کی معیشت کا ایک بڑا ستون ہے، اس ہیٹ ویو کے باعث بری طرح متاثر ہو رہی ہے کیونکہ سیاح شدید دھوپ میں باہر نکلنے سے قاصر ہیں۔
ڈونر ویٹر کے ماہرِ موسمیات کارسٹن برانڈٹ سمیت دیگر عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال عارضی نہیں ہے۔
اگر عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو فوری طور پر کم نہ کیا گیا توجو ہیٹ ویو پہلے صدی میں ایک بار آتی تھی، وہ اب ہر دو سے تین سال بعد آیا کرے گی۔یورپ کا موسم بتدریج نیم صحرائی (Semi-arid) شکل اختیار کر سکتا ہے، جہاں گرمیاں طویل اور خشک، جبکہ سردیاں انتہائی مختصر ہوں گی اورزراعت کا نظام تباہ ہو جائے گا، کیونکہ فصلوں کو اگنے کے لیے معتدل درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس عالمی تباہی سے نمٹنے کے لیے دنیا کو ہنگامی بنیادوں پر دوہرا لائحہ عمل اپنانا ہو گا۔فوسل فیول کا استعمال فوری طور پر ترک کر کے شمسی اور ہائیڈروجن توانائی کی طرف منتقلی۔ جنگلات کا تحفظ اور شجرکاری مہم۔ یورپی شہروں کے بنیادی ڈھانچے کو گرم موسم کے مطابق ڈھالنا۔ عمارتوں کو ‘گرین روفس’ (Green Roofs) اور انسولیشن کے ذریعے ٹھنڈا رکھنا۔
جرمنی، اٹلی اور ڈنمارک میں ریکارڈ توڑنے والی یہ ہیٹ ویو قدرت کی طرف سے ایک انتباہ ہے۔ یہ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ یہ ہمارے حال میں موجود ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے۔ اگر اب بھی دنیا کے امیر اور صنعتی ممالک نے پیرس ماحولیاتی معاہدے (Paris Agreement) پر عمل کرتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے اضافے کو محدود کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلوں کے لیے یہ زمین رہنے کے قابل نہیں رہے گی۔ اب وقت تقریروں کا نہیں بلکہ عملی اور انقلابی اقدامات کا ہے۔
(یواین آئی)
تجزیہ
ہیٹ ویوز اور اوزون: ہندوستان میں دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے بڑھتی ہوئی اموات کا سنگین بحران
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
موسمیاتی تبدیلی اکیسویں صدی کا سب سے بڑا عالمی چیلنج بن چکی ہے, دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، خشک سالی، سیلاب اور گرمی کی لہروں نے انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کیا ہے, ہندوستان جو دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ممالک میں شامل ہے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کرنے والے ممالک کی صفِ اول میں کھڑا ہے, حالیہ برسوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کی لہروں کی تعداد، شدت اور دورانیہ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی، خصوصاً سطحی اوزون ایک خاموش مگر مہلک خطرے کے طور پر ابھر رہی ہے۔
12 جون کو نیچر پورٹ فولیو کے جریدے ’این پی جے کلین ائر‘ میں شائع ہونے والی ایک جائزہ تحقیق نے ایک نہایت اہم اور تشویشناک حقیقت کو اجاگر کیا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق ہندوستان میں گرمی کی لہروں کے دوران سطحی اوزون کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے ہونے والی اموات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ مطالعے کے مطابق 2024 کے دوران ہیٹ ویو کے دنوں میں تقریباً 830 اضافی اموات ریکارڈ ہوئیں، جن کا تعلق گرمی اور اوزون کے مشترکہ اثرات سے تھا۔
یہ تحقیق اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی الگ الگ مسائل نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بحران ہیں جو انسانی صحت کے لیے دوہرا خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔
عام طور پر جب اوزون کا ذکر ہوتا ہے تو لوگوں کے ذہن میں فضا کی بالائی تہہ میں موجود اوزون کی حفاظتی پرت آتی ہے، جو سورج کی نقصان دہ بالائے بنفشی شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ تاہم سطحی اوزون اس سے بالکل مختلف ہے۔
سطحی اوزون ایک ثانوی فضائی آلودگی ہے جو براہ راست خارج نہیں ہوتی بلکہ مختلف آلودہ گیسوں کے باہمی کیمیائی تعامل سے بنتی ہے۔ گاڑیوں، صنعتی کارخانوں، بجلی گھروں اور دیگر ذرائع سے خارج ہونے والے نائٹروجن آکسائیڈز اور غیر مستحکم نامیاتی مرکبات سورج کی روشنی اور زیادہ درجہ حرارت کی موجودگی میں اوزون پیدا کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے گرم اور دھوپ والے دنوں میں اوزون کی سطح زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ جب گرمی کی لہریں آتی ہیں تو درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ اوزون کی تشکیل کے عمل کو مزید تیز کر دیتا ہے۔
تحقیق کے مطابق شمالی ہندوستان میں گرمی کی لہروں کے دوران اوزون کی سطح 85 سے 110 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی محفوظ حد 100 مائیکروگرام فی مکعب میٹر مقرر کی گئی ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہیٹ ویو کے دوران اوزون کی مقدار محفوظ سطح سے کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گرمی کی لہر ختم ہونے کے تقریباً تین سے چار دن بعد اوزون کی سطح دوبارہ کم ہونا شروع ہو جاتی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شدید گرمی اوزون کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
ہندوستان کے شمالی علاقوں خصوصاً دہلی، پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور راجستھان میں گرمی کی شدت زیادہ ہونے کے باعث اوزون کی سطح بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ تاہم مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ملک کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں اوزون کی سطح عالمی ادارہ صحت کی سفارش کردہ حد سے نیچے رہی ہو۔
سطحی اوزون کو دنیا کے خطرناک ترین فضائی آلودگی پھیلانے والے عناصر میں شمار کیا جاتا ہے۔ جب انسان آلودہ ہوا میں سانس لیتا ہے تو اوزون براہ راست پھیپھڑوں اور نظامِ تنفس کو متاثر کرتی ہے۔
اس کے فوری اثرات میں شامل ہیں: سانس لینے میں دشواری، کھانسی اور گلے میں جلن، سینے میں درد، دمہ کی شدت میں اضافہ اور پھیپھڑوں کی کارکردگی میں کمی
تاہم اس کے طویل مدتی اثرات کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ مسلسل اوزون کی نمائش دل کی بیماریوں، فالج، دائمی پھیپھڑوں کی بیماریوں اور قبل از وقت اموات کے خطرات کو بڑھا دیتی ہے۔تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ اوزون صرف پھیپھڑوں ہی نہیں بلکہ قلبی نظام کو بھی متاثر کرتی ہے۔ یہ خون کی نالیوں میں سوزش پیدا کرتی ہے، جس سے دل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور دل کے دورے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اسکیمک دل کی بیماری (Ischemic Heart Disease) دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دل کو خون فراہم کرنے والی شریانیں تنگ یا بند ہو جاتی ہیں۔
مطالعے کے مطابق 2024 میں ہیٹ ویو کے دوران اوزون کے بڑھنے سے تقریباً 26,500 اموات اسکیمک دل کی بیماری اور سی او پی ڈی سے منسلک پائی گئیں۔ ان میں سے تقریباً 490 اضافی اموات صرف دل کی بیماریوں کے سبب واقع ہوئیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرمی اور فضائی آلودگی کا امتزاج دل کے مریضوں کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بزرگ افراد، ہائی بلڈ پریشر کے مریض، ذیابیطس کے شکار افراد اور پہلے سے دل کے امراض میں مبتلا لوگ اس خطرے کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری (Chronic Obstructive Pulmonary Disease (COPD) ایک سنگین بیماری ہے جس میں پھیپھڑوں کی ہوا کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں اور مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔اوزون پھیپھڑوں میں سوزش پیدا کرتی ہے اور سی او پی ڈی کے مریضوں کی حالت مزید خراب کر دیتی ہے۔ تحقیق کے مطابق گرمی کی لہروں کے دوران سی او پی ڈی سے متعلق تقریباً 342 اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ فضائی آلودگی صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین صحت عامہ کا بحران ہے۔
گرمی کی لہروں میں اضافہ محض اتفاق نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے شدید گرمی کے واقعات زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں۔ہندوستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران گرمی کی لہروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایسے حالات اوزون کی تشکیل کے لیے مثالی ماحول فراہم کرتے ہیں۔یعنی ایک طرف موسمیاتی تبدیلی درجہ حرارت بڑھا رہی ہے اور دوسری طرف یہی درجہ حرارت فضائی آلودگی کو مزید مہلک بنا رہا ہے۔ اس طرح دونوں عوامل مل کر انسانی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
بڑے شہروں میں صورتحال نسبتاً زیادہ تشویشناک ہے۔ دہلی، ممبئی، کولکاتا، چنئی، بنگلورو اور حیدرآباد جیسے شہروں میں گاڑیوں کی بڑھتی تعداد، صنعتی سرگرمیاں اور شہری پھیلاؤ فضائی آلودگی کو بڑھا رہے ہیں۔شہری علاقوں میں ‘اربن ہیٹ آئی لینڈ’ کا اثر بھی پایا جاتا ہے، جس کے تحت کنکریٹ کی عمارتیں اور سڑکیں گرمی کو جذب کرکے درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ نتیجتاً اوزون کی تشکیل میں اضافہ ہوتا ہے۔
اسی لیے شہری آبادیوں کو دوہرے خطرے کا سامنا ہے: شدید گرمی اور بلند اوزون۔
ہیٹ ویوز اور اوزون کی بڑھتی ہوئی سطح صرف صحت ہی کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ ان کے وسیع معاشی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ ہسپتالوں پر دباؤ بڑھتا ہے، صحت کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، مزدوروں کی پیداواری صلاحیت کم ہو جاتی ہے، معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے اور کم آمدنی والے طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
غریب خاندان اکثر ایئر کنڈیشننگ، صاف رہائش اور معیاری طبی سہولیات سے محروم ہوتے ہیں، اس لیے وہ ان خطرات کا زیادہ شکار بنتے ہیں۔
اس بحران سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے فضائی آلودگی کے بنیادی ذرائع کو کم کرنا ہوگا۔اس مقصد کے لیے:گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں میں کمی لائی جائے، صاف توانائی کے ذرائع کو فروغ دیا جائے، صنعتی اخراج پر سخت نگرانی کی جائے، قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے اور شہری منصوبہ بندی میں سبز علاقوں کا اضافہ کیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہیٹ ایکشن پلانز کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ شدید گرمی کے دوران حساس آبادیوں کو بروقت تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
’این پی جے کلین ائر‘ میں شائع ہونے والی یہ تحقیق ہندوستان میں موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ مطالعہ واضح کرتا ہے کہ گرمی کی لہریں صرف براہِ راست گرمی سے متعلق بیماریوں کا باعث نہیں بنتیں بلکہ اوزون کی سطح میں اضافے کے ذریعے دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے اموات میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔
2024 کے دوران تقریباً 830 اضافی اموات کا تخمینہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہیٹ ویوز اور اوزون کا امتزاج ایک خاموش مگر سنگین عوامی صحت کا بحران بن چکا ہے۔ مزید برآں، اوزون سے منسلک تقریباً 26,500 اموات اس مسئلے کی وسعت کو ظاہر کرتی ہیں۔
اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی گرمی کی لہریں مستقبل میں مزید جانیں لے سکتی ہیں۔ لہٰذا حکومت، سائنسی اداروں، صحت ماہرین اور عوام کو مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو نہ صرف فضائی آلودگی کو کم کریں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے مقابلے کے لیے معاشرے کو زیادہ مضبوط اور محفوظ بنائیں۔ یہی راستہ انسانی صحت، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
(یواین آئی)
ہندوستان7 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
تازہ ترین1 week agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
دنیا1 week agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا1 week agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
جموں و کشمیر7 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
ہندوستان7 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا6 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا6 days agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
تازہ ترین1 week agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ






































































































