دنیا
نیپال کی سلامتی کونسل نے آئندہ انتخابات سے قبل فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا

کاٹھمنڈو، نیپال کی نگراں وزیر اعظم سشیلا کارکی کی سربراہی میں قومی سلامتی کونسل نے قومی سلامتی کو مضبوط بنانے اور 5 مارچ 2026 کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو آزادانہ، منصفانہ اور خوف سے پاک منعقد کرنے کو یقینی بنانے کے لیے قومی کابینہ میں نیپالی فوج کے اہلکاروں کی تعیناتی کی سفارش کی ہے۔
نیپالی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ایوان نمائندگان کے انتخابات سے قبل جمعرات کو کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔
ایک بیان میں، کونسل نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کی سفارش آئین کے آرٹیکل 266(1) کے تحت کی گئی ہے، جو باڈی کو نیپال آرمی کو متحرک کرنے اور کنٹرول کی تجاویز پیش کرنے نیز قومی سلامتی اور دفاعی معاملات پر مشورہ دینے کے لیےاختیار دیتا ہے۔
اجلاس میں کئی اندرونی ممکنہ سکیورٹی چیلنجز کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں ملک و بیرون ملک کی حالیہ پیش رفت پر توجہ مرکوز کی گئی اور کسی فریق ثالث کے اثر و رسوخ سے پاک آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدار انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے حکمت عملی وضع کی گئی۔
نیپال میں یہ اقدام جین-زی تحریک کے بعد ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں سیاسی جماعتوں میں بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
حال ہی میں معزول سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی قیادت والی سابقہ نیپال کمیونسٹ پارٹی (یونیفائیڈ مارکسسٹ-لیننسٹ) نے نگراں حکومت کی انتخابی معیاد کے تئیں وابستگی پر سوال اٹھایا ہے اور تحلیل شدہ ایوان نمائندگان کی بحالی کے اپنے مطالبے کو دہرایا ہے۔
بہار کی سرحد سے متصل نیپال کے ضلع بارا میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں بدھ کے روز جین -زی مظاہرین اور یوایم ایل کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد حکام نے سمارا اور پڑوسی علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا۔ تاہم، سماجی و سیاسی بدامنی میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آئے کیونکہ یہ جمعرات تک جاری رہی، جس سے قبل از انتخابات کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
تشدد پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، وزیر اعظم کارکی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے سکیورٹی فورسز سمیت تمام متعلقہ ایجنسیوں کو امن، سیاسی رہنماؤں کی محفوظ نقل و حرکت اور انتخابات کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بناتے ہوئے انتہائی تحمل سے کام لینے کی ہدایت کی ہے۔
توقع ہے کہ کابینہ آنے والے دنوں میں کونسل کی سفارشات پر غور کرے گی۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
ایران کا افزودہ یورینیئم کا ذخیرہ کیا محفوظ طریقے سے منتقل کیا جا سکتا ہے؟
تہران، ایران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیئم کا ذخیرہ ایک بار پھر عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کا مرکز بن گیا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں یہ معاملہ سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح اعلان کیا ہے کہ امریکہ ایران کو افزودہ یورینیئم اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔ وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم یہ یورینیئم حاصل کریں گے، ہمیں اس کی ضرورت نہیں لیکن ایران کو رکھنے نہیں دیں گے، ممکنہ طور پر اسے تباہ کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای نے حکم دیا ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیئم کسی صورت ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا، ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ یہ ذخیرہ قومی سلامتی اور دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔ تاہم ایک سینئر ایرانی اہلکار نے ان رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے الجزیرہ کو بتایا کہ رہبرِ اعلیٰ نے یورینیئم ملک میں رکھنے سے متعلق ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً 440 کلو گرام یورینیئم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد سطح سے کم ہے، تاہم اس مرحلے سے 90 فیصد تک پہنچنا نسبتاً تیز اور آسان ہو جاتا ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی کے مطابق نظریاتی طور پر یہ مقدار مزید افزودگی کے بعد 10 سے زائد جوہری وار ہیڈز بنانے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن اور سول مقاصد کے لیے ہے، تاہم امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک کا دعویٰ ہے کہ 60 فیصد افزودگی عام سول نیوکلیئر پروگرام کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ افزودہ یورینیئم زیادہ تر یورینیئم ہیکسا فلورائیڈ گیس کی شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے، جو انتہائی خطرناک اور زہریلا مادہ تصور کیا جاتا ہے، اگر یہ گیس خارج ہو جائے تو مہلک کیمیائی مرکبات پیدا کرسکتی ہے جو سانس اور جلد دونوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق اس مواد کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنا ممکن ہے، اس مقصد کے لیے خصوصی مضبوط اسٹیل سلنڈر استعمال کیے جاتے ہیں جو شدید دباؤ، حرارت اور حادثات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاریخ میں اس نوعیت کی منتقلی کی مثالیں بھی موجود ہیں، سرد جنگ کے بعد امریکہ نے 1994ء میں قازقستان سے تقریباً 600 کلو گرام ہتھیاروں کے درجے کا یورینیئم خفیہ آپریشن پروجیکٹ سیفائر کے تحت منتقل کیا تھا۔ ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیئم ختم یا ملک سے باہر منتقل کیے بغیر خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ممکن نہیں ہو گا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے مطابق یورینیئم کے ذخیرے کا معاملہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا کر چکا ہے، اسی لیے اس موضوع کو وقتی طور پر مؤخر کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے ماضی میں یہ تجویز بھی دی تھی کہ 60 فیصد افزودہ یورینیئم کو دوبارہ 3.67 فیصد سطح تک کم کر دیا جائے، تاہم اس معاملے پر اب تک کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عباس عراقچی نے انتونیو گوتریس کو امریکہ سے معاہدے کی تازہ صورتحال بتادی
نیویارک، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال، بالخصوص خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں جانب سے نیو یارک میں جاری جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے جائزہ اجلاس سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی۔
عباس عراقچی نے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی عمل کی تازہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی بداعتمادی پر مبنی پالیسی، خصوصاً سفارتی وعدوں کی بار بار خلاف ورزی، ایران کے خلاف فوجی جارحیت، متضاد مؤقف اور حد سے زیادہ مطالبات، پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کو مطالبات ماننے پڑیں گے ورنہ جنگ کی دلدل میں مزید پھنس جائیں گے: ایرانی وزارتِ دفاع
تہران، ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر رضا طلائی نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایرانی قوم کے مطالبات اور ہمارے ملک کے حقوق تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
ایرانی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے مؤقف کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تو اسے مزید نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کے قومی مفادات کو نظر انداز کرنا، اسرائیل کے ساتھ قریبی صف بندی اور غرور پر مبنی رویہ امریکہ کو مزید جنگی دلدل میں دھکیل دے گا۔
ترجمان ایرانی وزارتِ دفاع نے کہا کہ جنگ جاری رکھنے سے امریکہ اور دنیا کو مزید مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔
بریگیڈیئر رضا طلائی نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر کو چاہیے کہ وہ ایران کی پیشکش اور تجویز کو قبول کریں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر2 days agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
دنیا1 week agoایران نے آبنائے ہرمز سے مزید جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: پولیس افسر نے مبینہ طور پر بیوی کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی ماری
دنیا1 week agoچین نے آبنائے ہرمز فوری کھولنے اور مستقل جنگ بندی پر زور دے دیا
دنیا2 days agoصدارت کے بعد اسرائیل کا وزیراعظم بن سکتا ہوں: ٹرمپ کی گفتگو وائرل
ہندوستان5 days agoملک میں بڑا معاشی بحران آنے والا ہے، عام آدمی پر پڑے گا اثر: راہل گاندھی
دنیا1 week agoچین امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ایران کو فوجی سازوسامان فراہم نہیں کرے گا : ٹرمپ
ہندوستان1 week agoفوجی سربراہ کا پاکستان کو واضح پیغام ، دہشت گردی کی حمایت کرے گا تو مٹا دیا جائے گا نقشہ سے
دنیا1 week agoایران کی عسکری صلاحیت 90 فیصد کمزور ہو چکی، امریکی سینٹ کام سربراہ
ہندوستان1 week agoمودی نے اڈانی کے حق میں امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا: راہل گاندھی
ہندوستان5 days agoپٹرول اور ڈیژل کی قیمت چار دن میں دوسری بار بڑھانے پر جواب دیں مودی:کھرگے
ہندوستان1 week agoہندوستان نے سندھ طاس معاہدے پر نام نہاد ثالثی عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا






































































































