تجزیہ
دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

یہ سوال آج ناگزیر ہے کہ جن خاندانوں کو دہشت گردی نے سب سے پہلے نشانہ بنایا، انہیں انصاف سب سے آخر میں کیوں ملا۔ کشمیر میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد حکومتیں بدلتی رہیں، پالیسیاں بدلتی رہیں، مگر دہشت گردی کے متاثرہ خاندان خاموشی، خوف اور نظراندازی کے اندھیروں میں جیتے رہے۔ جن گھروں کے چراغ دہشت گردی نے بجھا دیے، ان کے لیے نہ فوری انصاف تھا، نہ روزگار، نہ بحالی، نہ عزت۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان خاندانوں کو وہ سہولتیں اور حقوق دہائیوں بعد ملے، جو ریاست کو ترجیحی بنیادوں پر فوراً فراہم کرنے چاہیے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں نہیں دیا گیا؟ کیوں دہشت گردی کے اصل متاثرین کو برسوں انتظار کرنا پڑا؟ باپ مارا گیا، ماں بیوہ ہوئی، بچے یتیم ہوئے، مگر نظام خاموش رہا۔ فائلیں دبتی رہیں، درخواستیں گرد میں دفن ہو گئیں، اور متاثرین کو یا تو خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا یا پھر شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
کئی خاندانوں نے اپنی کہانی سنانے کی ہمت بھی اس خوف سے نہ کی کہ کہیں انہیں ہی نشانہ نہ بنا دیا جائے۔ یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ ایک طویل عرصے تک دہشت گردی کے متاثرین کو وہ عزت نہیں دی گئی جس کے وہ حقدار تھے، جبکہ اسی دوران دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام سے جڑے عناصر کو مواقع، مراعات اور حتیٰ کہ سرکاری تحفظ بھی حاصل رہا۔ ایک طرف اصل متاثرین در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے، دوسری طرف نظام نے ان کے زخموں پر نمک چھڑکا۔ یہ سوال صرف انصاف میں تاخیر کا نہیں، بلکہ انصاف سے انکار کا ہے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے، تو کم از کم انہیں فوری انصاف، بازآبادکاری اور وقار تو دینا چاہیے۔ مگر یہاں دہائیوں تک ایسا نہیں ہوا۔
آج اگر کچھ خاندانوں کو روزگار، بحالی اور پہچان ملی ہے، تو یہ خوش آئند ضرور ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی کھڑا ہے کہ اتنی دیر کیوں؟ کیا ان خاندانوں کا درد کم تھا؟ کیا ان کی قربانیاں کم تھیں؟ یا نظام نے انہیں کبھی اپنی ترجیح سمجھا ہی نہیں؟ انصاف اگر دہائیوں بعد ملے، تو وہ انصاف نہیں، ایک تاخیری اعتراف ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے متاثرین خیرات نہیں مانگ رہے تھے، وہ اپنا حق مانگ رہے تھے—وہ حق جو ریاست کو بہت پہلے ادا کرنا چاہیے تھا۔ یہ وقت صرف اقدامات کا نہیں، بلکہ احتساب کا بھی ہے۔ یہ پوچھنے کا وقت ہے کہ ماضی میں کن فیصلوں، کن غفلتوں اور کن ترجیحات نے دہشت گردی کے متاثرین کو اتنے طویل عرصے تک انصاف سے محروم رکھا۔ اگر واقعی ایک منصفانہ اور انسانی نظام کی بات کی جاتی ہے، تو دہشت گردی کے متاثرین کو آخری نہیں، بلکہ پہلی ترجیح بنانا ہوگا—ورنہ تاریخ یہ سوال بار بار دہراتی رہے گی: انصاف اتنا دیر سے کیوں؟
تجزیہ
ہندوستان میں اے سی: گرمی سے تحفظ یا زمین کے لیے خطرہ
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
ہندوستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف شدید گرمی سے انسانی جانوں کو بچانے کی فوری ضرورت ہے اور دوسری طرف انہی حفاظتی اقدامات کے نتیجے میں ماحولیاتی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے ایئر کنڈیشنر (اے سی) اب صرف آسائش کی علامت نہیں رہا بلکہ ہندوستان جیسے گرم ملک میں لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی اور موت کے درمیان فرق بنتا جا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک ایسا تلخ تضاد جڑا ہوا ہے جو آج کے ہندوستان کے ماحولیاتی اور سماجی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ جو مشینیں لوگوں کو گرمی سے راحت دیتی ہیں، وہی کرہ ارض کو مزید گرم بھی کر رہی ہیں۔
2026 کی گرمی ابھی پوری طرح شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ ہندوستان کے کئی حصے بھٹی کی مانند تپنے لگے۔ اپریل کے وسط تک مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اڈیشہ اور چھتیس گڑھ میں درجہ حرارت 43 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا تھا۔
انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ نے خبردار کیا کہ آنے والے مہینوں میں مشرقی، وسطی اور شمال مغربی ہندوستان شدید ہیٹ ویوز کی لپیٹ میں رہیں گے۔ یہ محض موسمی تبدیلی نہیں بلکہ موسمیاتی بحران کی ایک سنگین علامت ہے۔
ہندوستان ہمیشہ سے گرم آب و ہوا والا ملک رہا ہے، لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں گرمی کی شدت اور دورانیے میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق 1901 سے 2024 تک ہندوستان کے اوسط سالانہ درجہ حرارت میں تقریباً 0.9 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہو چکا ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی لگ سکتا ہے، مگر موسمیاتی سائنس میں ایک ڈگری کا فرق پوری دنیا کے ماحولیاتی نظام کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
2024 کو عالمی اور ہندوستانی سطح پر ریکارڈ کا گرم ترین سال قرار دیا گیا۔ اس سال تقریباً ہر مہینہ معمول سے زیادہ گرم رہا۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اس کے اثرات براہِ راست انسانی زندگی، معیشت، زراعت، پانی کی فراہمی اور صحت پر پڑ رہے ہیں۔ ہندوستان میں گرمی کی شدت اب اس حد تک پہنچ رہی ہے کہ غریب مزدور، رکشہ چلانے والے، تعمیراتی کارکن، کسان اور فیکٹری مزدور دوپہر کے اوقات میں کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔
شہروں میں صورتِ حال مزید خراب ہے۔ کنکریٹ اور سیمنٹ سے بھرے بڑے شہر”اربن ہیٹ آئی لینڈ”بن چکے ہیں جہاں درجہ حرارت دیہی علاقوں سے کئی ڈگری زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ درختوں کی کمی، گاڑیوں کا دھواں، صنعتی سرگرمیاں اور مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی اس بحران کو اور سنگین بنا رہی ہیں۔
کبھی ہندوستان میں اے سی صرف امیر طبقے کی چیز سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ شدید گرمی نے متوسط طبقے کو بھی اے سی خریدنے پر مجبور کر دیا ہے۔ شہری علاقوں میں اے سی کی فروخت ہر سال تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اندازہ ہے کہ اگلے دو دہائیوں میں ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی کولنگ مارکیٹ بن سکتا ہے۔
اس تبدیلی کے پیچھے ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے، زندہ رہنا۔ جب درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا جائے تو انسانی جسم کے لیے خود کو ٹھنڈا رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، دل کی بیماریوں اور سانس کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ بوڑھے افراد، بچے اور بیمار لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ایسے حالات میں اے سی ایک سہولت نہیں بلکہ بقا کا ذریعہ محسوس ہوتا ہے۔ اسپتالوں، اسکولوں، دفاتر، میٹرو اسٹیشنوں اور گھروں میں ٹھنڈک کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔ لیکن یہی بڑھتی ہوئی مانگ ایک نئے بحران کو جنم دے رہی ہے۔
ایئر کنڈیشنر بنیادی طور پر دو طریقوں سے ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
(اول) بجلی کی بے پناہ کھپت: اے سی چلانے کے لیے بہت زیادہ بجلی درکار ہوتی ہے۔ ہندوستان میں بجلی کی بڑی مقدار اب بھی کوئلے سے پیدا کی جاتی ہے۔ جب لاکھوں اے سی ایک ساتھ چلتے ہیں تو بجلی گھروں پر دباؤ بڑھتا ہے، اور زیادہ کوئلہ جلایا جاتا ہے۔ کوئلہ جلنے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے جو گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
(دوم) ریفریجرینٹ گیسوں کا اخراج: اے سی میں استعمال ہونے والی بعض گیسیں ماحول کے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہیں۔ اگر یہ گیسیں فضا میں خارج ہوں تو ان کی گرین ہاؤس اثر پیدا کرنے کی صلاحیت کاربن ڈائی آکسائیڈ سے ہزاروں گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں پرانی نقصان دہ گیسوں کو مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے، لیکن اب بھی کئی اقسام کے ریفریجرینٹس ماحول کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ہندوستان میں کولنگ کا مسئلہ صرف ماحولیات کا نہیں بلکہ سماجی انصاف کا بھی ہے۔ امیر لوگ اے سی والے گھروں، دفاتر اور گاڑیوں میں رہ کر گرمی سے بچ جاتے ہیں، جبکہ غریب طبقہ شدید گرمی کا براہِ راست سامنا کرتا ہے۔
کچی بستیوں میں رہنے والے لاکھوں افراد کے پاس نہ مناسب مکان ہیں، نہ بجلی کی مستقل فراہمی، اور نہ ہی ٹھنڈک کے ذرائع۔ ٹین کی چھتوں والے گھروں میں درجہ حرارت ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ کئی خاندان رات بھر سو نہیں پاتے۔ شدید گرمی بچوں کی تعلیم، صحت اور ذہنی کیفیت پر بھی اثر ڈالتی ہے۔
ہندوستانی شہروں کی بے ہنگم ترقی نے گرمی کے مسئلے کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ شہروں میں سبزہ کم ہوتا جا رہا ہے، جھیلیں اور تالاب ختم ہو رہے ہیں، جبکہ بلند عمارتیں اور سڑکیں حرارت کو جذب کر کے رات بھر خارج کرتی رہتی ہیں۔
درخت قدرتی ایئر کنڈیشنر کا کردار ادا کرتے ہیں، لیکن شہری توسیع کے نام پر لاکھوں درخت کاٹے جا چکے ہیں۔ اگر شہروں کی منصوبہ بندی بہتر انداز میں کی جائے تو گرمی کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
گرمی کا بحران صرف شہروں تک محدود نہیں۔ دیہی علاقوں میں کسان شدید موسمی تبدیلیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بارش کے نظام میں تبدیلی، خشک سالی اور گرمی کی لہریں فصلوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ مزدور طبقہ کھلے آسمان تلے کام کرنے پر مجبور ہے جہاں درجہ حرارت جان لیوا ہو جاتا ہے۔
دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی اکثر غیر مستحکم رہتی ہے، اس لیے اے سی یا کولر ہر کسی کی پہنچ میں نہیں۔ نتیجتاً دیہی آبادی گرمی کے خطرات کے سامنے زیادہ بے بس دکھائی دیتی ہے۔
شدید گرمی اب ہندوستان میں ایک خاموش قاتل بنتی جا رہی ہے۔ ہر سال ہزاروں لوگ ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے متعلق بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ کئی اموات سرکاری ریکارڈ میں شامل بھی نہیں ہوتیں۔
ہندوستان تیزی سے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر اے سی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو صاف توانائی سے پورا کیا جائے تو ماحولیاتی نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔شمسی توانائی خاص طور پر امید افزا ہے کیونکہ گرمی کے دنوں میں سورج کی روشنی بھی زیادہ ہوتی ہے، یعنی جب اے سی کی ضرورت بڑھتی ہے تب ہی سولر پاور بھی زیادہ پیدا ہوتی ہے۔ اگر گھروں اور عمارتوں پر سولر پینل لگائے جائیں تو بجلی کے نظام پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔لیکن اس کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، جدید انفراسٹرکچر اور پالیسی اصلاحات درکار ہیں۔
روایتی ہندوستانی طرزِ تعمیر سے سببق لیتے ہوئے جدید کنکریٹ عمارتوں کے برعکس پرانے ہندوستانی گھروں میں قدرتی ٹھنڈک کے کئی طریقے موجود تھے۔ موٹی دیواریں، اونچی چھتیں، صحن، جالی دار کھڑکیاں اور ہوا کی نکاسی کے راستے گھروں کو نسبتاً ٹھنڈا رکھتے تھے۔
راجستھان کی حویلیاں، جنوبی ہندوستان کے روایتی گھر اور مغلیہ طرزِ تعمیر اس بات کی مثال ہیں کہ کس طرح مقامی آب و ہوا کو مدنظر رکھ کر عمارتیں تعمیر کی جاتی تھیں۔ جدید شہری منصوبہ بندی میں ان اصولوں کو دوبارہ اپنانا ضروری ہے۔
ہندوستان آنے والے برسوں میں دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک ہوگا۔ اس ترقی کے ساتھ کولنگ کی مانگ میں بے پناہ اضافہ متوقع ہے۔ اگر یہی راستہ جاری رہا تو بجلی کی کھپت اور کاربن اخراج خطرناک حد تک بڑھ سکتے ہیں۔
لیکن یہ بحران ایک موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ ہندوستان اگر پائیدار کولنگ، صاف توانائی اور ماحول دوست شہری منصوبہ بندی میں سرمایہ کاری کرے تو وہ دنیا کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔یہ فیصلہ آج کرنا ہوگا کہ مستقبل کا ہندوستان کیسا ہوگا۔ایک ایسا ملک جہاں ہر شخص شدید گرمی سے محفوظ ہو، یا ایسا معاشرہ جہاں ٹھنڈک بھی طبقاتی امتیاز کی علامت بن جائے۔
ہندوستان میں اے سی دراصل جدید دنیا کے بڑے سوالات میں سے ایک کی علامت ہے۔ ہم ترقی، آرام اور ماحولیات کے درمیان توازن کیسے قائم کریں؟ شدید گرمی نے کولنگ کو ناگزیر بنا دیا ہے، لیکن موجودہ طریقہ کار خود بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ٹیکنالوجی سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے اجتماعی شعور، بہتر پالیسیوں، سماجی انصاف اور ماحول دوست طرزِ زندگی کی ضرورت ہوگی۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں گرمی صرف ایک موسمی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی بقا کا سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
ہندوستان اس وقت ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ فیصلہ اب انسانوں کو کرنا ہے کہ وہ ایسی ٹھنڈک چاہتے ہیں جو وقتی سکون دے مگر زمین کو جلا دے، یا ایسا مستقبل جہاں انسان اور فطرت دونوں محفوظ رہ سکیں۔
(یواین آئی)
تجزیہ
گرم سمندری پانی اور انٹارکٹیکا: ایک خاموش بحران کی مکمل کہانی
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
دنیا کے سب سے سرد، ویران اور پُراسرار براعظم انٹارکٹیکا کے بارے میں طویل عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ یہاں کی برفانی چادریں صرف فضا کے درجہ حرارت میں اضافے سے متاثر ہوتی ہیں مگر جدید سائنسی تحقیق نے اس تصور کو یکسر بدل دیا ہے، اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ سمندر کی گہرائیوں میں موجود گرم پانی خاموشی سے انٹارکٹیکا کی برف کو نیچے سے پگھلا رہا ہے،ایک ایسا عمل جو بظاہر نظر نہیں آتا، مگر اس کے اثرات نہایت دور رس اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔
زمین کا برفانی قلعہ ارنٹارٹیکا (Antarctica) نہ صرف زمین کا سب سے سرد براعظم ہے بلکہ یہاں دنیا کی تقریباً 90 فیصد برف اور 70 فیصد تازہ پانی موجود ہے۔ یہ براعظم زمین کے موسمیاتی نظام میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی سفید برف سورج کی روشنی کو واپس خلا میں منعکس کرتی ہے، جس سے زمین کا درجہ حرارت متوازن رہتا ہے۔
انٹارکٹیکا کے گرد واقع Southern Ocean دنیا کے سمندری نظام کا ایک کلیدی جزو ہے۔ یہ سمندر نہ صرف حرارت کو جذب کرتا ہے بلکہ دنیا بھر میں سمندری دھاراؤں کے ذریعے اسے تقسیم بھی کرتا ہے۔ برف کی شیلفیں جو ایک خاموش محافظ کا کام کرتی ہیں انٹارکٹیکا کے ساحلوں کے ساتھ بڑی بڑی برفانی چادریں موجود ہیں جنہیں آئس شیلف (Ice Shelves) کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل زمینی برف کا وہ حصہ ہوتی ہیں جو سمندر پر تیر رہا ہوتا ہے۔ یہ شیلف ایک مضبوط دیوار کی طرح کام کرتی ہیں جو اندرونی برف کو سمندر میں بہنے سے روکتی ہیں۔ اگر یہ شیلف کمزور ہو جائیں یا ٹوٹ جائیں تو ان کے پیچھے موجود برف تیزی سے سمندر میں شامل ہو سکتی ہے، جس سے عالمی سطح پر سمندر کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
نیا خطرہ گرم سمندری پانی: ماضی میں سائنس دانوں کی توجہ زیادہ تر فضا کے درجہ حرارت پر مرکوز تھی۔ مگر اب تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اصل خطرہ سمندر کے نیچے چھپا ہوا ہے۔گہرے سمندر میں ایک خاص قسم کا پانی پایا جاتا ہے جسے“گرم گہرا پانی”(Warm Deep Water) کہا جاتا ہے۔ یہ پانی نسبتاً زیادہ گرم ہوتا ہے اور عام حالات میں سطح سے نیچے رہتا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں یہ پانی انٹارکٹیکا کے قریب آ رہا ہے اور برف کی شیلف کے نیچے داخل ہو رہا ہے۔ University of Cambridge کی قیادت میں ہونے والی تحقیق نے اس عمل کے واضح شواہد فراہم کیے ہیں۔ اس تحقیق میں Southern Ocean کے گزشتہ 20 سال کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ گرم گہرا پانی آہستہ آہستہ انٹارکٹیکا کے قریب منتقل ہو رہا ہے۔ یہ کوئی نظریاتی امکان نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جو اب ڈیٹا میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ پانی نیچے سے کیوں پگھلاتا ہے؟جب گرم پانی برف کی شیلف کے نیچے پہنچتا ہے تو وہ نیچے سے برف کو پگھلانا شروع کر دیتا ہے۔ اس عمل کو“basal melting”کہا جاتا ہے۔یہ عمل اس لیے خطرناک ہے کیونکہ یہ نظر نہیں آتا۔ یہ مسلسل جاری رہتا ہے اوریہ برف کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے۔نتیجتاً، برف کی شیلف اوپر سے ٹھیک دکھائی دے سکتی ہے مگر اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہے۔ 2002 میں Larsen B Ice Shelf کا اچانک ٹوٹ جانا اس بات کی واضح مثال ہے کہ برف کی شیلف کتنی جلدی ختم ہو سکتی ہے۔ چند ہفتوں میں ہزاروں سال پرانی برف ٹوٹ کر سمندر میں بہہ گئی۔اس واقعے نے سائنس دانوں کو خبردار کر دیا کہ برف کے نظام میں تبدیلیاں بہت تیزی سے ہو سکتی ہیں۔ گرم پانی کیوں بڑھ رہا ہے؟ یہ سوال نہایت اہم ہے۔ اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں: (اول)عالمی حدت (Global Warming)انسانی سرگرمیوں کے باعث فضا اور سمندر دونوں کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ (دوم) ہواؤں کے نظام میں تبدیلی: انٹارکٹیکا کے گرد چلنے والی ہوائیں سمندری پانی کو اوپر یا نیچے لے جا سکتی ہیں۔ اگر یہ ہوائیں بدل جائیں تو گرم پانی اوپر آ سکتا ہے۔ (سوم) سمندری دھارائیں: سمندری دھارائیں دنیا بھر میں حرارت کو منتقل کرتی ہیں۔ ان میں تبدیلی گرم پانی کو انٹارکٹیکا کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اگر برف پگھل گئی تو کیا ہوگا؟یہ سوال اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ (چہارم) سمندر کی سطح میں اضافہ: اگر انٹارکٹیکا کی برف پگھلتی ہے تو سمندر کی سطح کئی میٹر تک بڑھ سکتی ہے۔ (پنجم) ساحلی علاقوں کا ڈوب جانا: دنیا کے بڑے شہر جیسے ممبئی، کراچی، لندن، اور نیویارک خطرے میں آ سکتے ہیں۔ (ششم) ماحولیاتی نظام میں تبدیلی: سمندری حیات، موسم، اور بارشوں کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ (ہفتم) عالمی معیشت پر اثرات: یہ مسئلہ صرف ماحول تک محدود نہیں بلکہ معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے:زرعی زمینوں کا نقصان، پانی کی قلت، نقل مکانی (Migration) میں اضافہ اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان؎ (ہشتم) سائنس دانوں کی پریشانی: سائنس دان اس لیے پریشان ہیں کیونکہ: یہ عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔اس کی رفتار بڑھ سکتی ہے۔ اسے روکنا مشکل ہے۔
اس کے اثرات عالمی ہوں گے۔سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں آہستہ آہستہ ہو رہی ہیں، جس سے لوگوں کو فوری خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔ (نہم) مستقبل کی پیش گوئیاں:سائنس دان مختلف ماڈلز کے ذریعے مستقبل کا اندازہ لگا رہے ہیں۔ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو برف کے بڑے حصے ختم ہو سکتے ہیں، سمندر کی سطح تیزی سے بڑھے گی اور موسمیاتی نظام غیر مستحکم ہو جائے گا۔ اگرچہ صورتحال تشویشناک ہے، مگر مکمل طور پر ناامید ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر ہمیں اس ناگہانی آفت سے بچنا ہے تو کاربن اخراج میں کمی اورفوسل فیول کے استعمال کو کم کرنا ضروری ہے۔قابل تجدید توانائی، شمسی، ہوائی، اور دیگر صاف توانائی کے ذرائع اپنانے ہوں گے۔یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کا حل بھی عالمی سطح پر ہی ممکن ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اس مسئلے کو سمجھنے میں مدد دے رہی ہے:سیٹلائٹس زیرِ آب روبوٹس، ڈیٹا ماڈلنگ وغیرہ۔یہ سب ہمیں بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف سائنس دانوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ہے۔ ہر فرد، ہر ملک، اور ہر ادارے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔Antarctica میں گرم سمندری پانی کا داخل ہونا ایک خاموش مگر خطرناک تبدیلی ہے۔
University of Cambridge کی تحقیق نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ کوئی دور کا خطرہ نہیں بلکہ ایک جاری حقیقت ہے۔ اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو اس کے اثرات پوری دنیا کو متاثر کریں گے۔ مگر اگر ہم سنجیدگی سے کام کریں تو اس بحران کو کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ صرف انٹارکٹیکا کی کہانی نہیں،یہ پوری انسانیت کے مستقبل کی کہانی ہے۔
(یواین آئی)
تجزیہ
مشرق وسطی میں ایران کے ہاتھوں امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی اور موسمیاتی تبدیلی:ایک جائزہ
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جغرافیائی، عسکری اور ماحولیاتی تبدیلیاں ایک پیچیدہ مگر نہایت اہم بحث کو جنم دے رہی ہیں خاص طور پر امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی اور اس کے ساتھ موسمی حالات میں غیر معمولی تبدیلیوں کو بعض حلقوں میں آپس میں جوڑ کر دیکھ رہے ہیں یہ موضوع صرف سیکیورٹی یا سیاست تک محدود نہیں بلکہ ماحولیاتی، سائنسی، سماجی اور معاشی پہلوؤں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسا خطہ ہے جہاں موسمی حالات ہمیشہ سے سخت رہے ہیں۔ یہاں کی آب و ہوا عمومی طور پر خشک اور گرم ہے، بارشیں کم ہوتی ہیں اور کئی ممالک طویل عرصے سے قحط سالی جیسے حالات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران، عمان، یمن اور دیگر ممالک میں پانی کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک نے پانی کے متبادل ذرائع، جیسے ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو صاف کر کے قابلِ استعمال بنانا) پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے۔
تاہم حالیہ برسوں میں کچھ علاقوں میں بارشوں میں اضافہ اور موسم کے پیٹرن میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کا نتیجہ ہو سکتی ہے، جبکہ بعض دیگر افراد اسے مصنوعی عوامل سے جوڑتے ہیں، جن میں عسکری ٹیکنالوجی، ریڈار سسٹمز اور الیکٹرو میگنیٹک لہروں کا کردار شامل بتایا جاتا ہے۔
ریڈار سسٹمز کا بنیادی مقصد دفاعی نگرانی، دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور میزائل یا فضائی حملوں کا بروقت پتہ لگانا ہوتا ہے۔ یہ سسٹمز انتہائی جدید ہوتے ہیں اور ان میں طاقتور الیکٹرو میگنیٹک ویوز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض نظریات کے مطابق یہ لہریں ماحول پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں، خاص طور پر بادلوں کی تشکیل اور بارش کے نظام پر۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا واقعی ریڈار سسٹمز موسمی حالات کو متاثر کر سکتے ہیں؟ سائنسی اعتبار سے اس کا کوئی واضح اور مضبوط ثبوت موجود نہیں ہے کہ عام دفاعی ریڈار براہ راست موسمی نظام کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ موسمی نظام ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے جس میں درجہ حرارت، ہوا کا دباؤ، نمی، سمندری دھارائیں اور دیگر کئی عوامل شامل ہوتے ہیں۔ ان تمام عوامل کو کسی ایک ٹیکنالوجی کے ذریعے کنٹرول کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔
البتہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ایک اور پہلو بھی ہے، جسے ‘کلاؤڈ سیڈنگ’ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک سائنسی طریقہ ہے جس کے ذریعے بادلوں میں خاص کیمیکل شامل کر کے بارش کو بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات، اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے ذریعے بعض اوقات بارش میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے، لیکن یہ عمل محدود پیمانے پر ہوتا ہے اور اس کے اثرات بھی مکمل طور پر یقینی نہیں ہوتے۔
اگر ہم امریکی ریڈار کی تباہی اور موسمی تبدیلیوں کے درمیان تعلق کی بات کریں تو اس حوالے سے زیادہ تر دعوے قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کسی خاص علاقے میں ریڈار سسٹم کی موجودگی یا عدم موجودگی سے مقامی سطح پر پورے خطے کے موسم میں بڑی تبدیلی کو صرف اس ایک عنصر سے جوڑنا سائنسی طور پر درست نہیں ہوگا اور ہم ان عوامل سے انکار بھی نہیں کرسکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ بارشوں اور موسم کی تبدیلی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ عالمی موسمیاتی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ، برفانی تودوں کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور ہوا کے دباؤ کے نظام میں تبدیلی جیسے عوامل موسمی پیٹرن کو متاثر کر رہے ہیں۔ اسی کا اثر مشرقِ وسطیٰ پر بھی پڑ رہا ہے۔
قحط سالی کے خاتمے یا اس میں کمی کے حوالے سے بھی ہمیں حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ اگرچہ کچھ علاقوں میں بارشوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ کہنا کہ قحط سالی مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے، درست نہیں ہوگا۔ پانی کا بحران اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں زیرِ زمین پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اور آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اس کے علاوہ سیاسی اور عسکری حالات بھی اس خطے پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جب کسی علاقے میں جنگ یا کشیدگی ہوتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف معیشت بلکہ ماحول پر بھی پڑتا ہے۔ صنعتی سرگرمیاں، تیل کی پیداوار، اور دیگر عوامل فضائی آلودگی کو بڑھاتے ہیں، جو موسمی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ بعض اوقات میڈیا اور سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے ایسی معلومات پھیل جاتی ہیں جو حقیقت سے دور ہوتی ہیں۔ امریکی ریڈار کی تباہی اور موسمی تبدیلیوں کو جوڑنے والے نظریات بھی اسی زمرے میں آ سکتے ہیں لیکن فی الحال سوشل میڈیا پر پھیلنے والے مفروضے سے ہم انکار بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر دعوے کو سائنسی بنیادوں پر پرکھیں اور مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
مستقبل کے حوالے سے دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کو ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ پانی کی قلت، درجہ حرارت میں اضافہ، اور غیر متوقع موسمی حالات اس خطے کے لیے بڑے مسائل بن سکتے ہیں۔ اس کے حل کے لیے علاقائی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، اور ماحول دوست پالیسیوں کی ضرورت ہوگی۔
مشرقِ وسطیٰ میں موسمی تبدیلی ایک حقیقت ہے، لیکن اس کے اسباب پیچیدہ اور کثیر جہتی ہیں۔ امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی کو اس تبدیلی کی بنیادی وجہ قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں ہے لیکن اس کے مضر اثرات سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اصل عوامل میں عالمی موسمیاتی تبدیلی، انسانی سرگرمیاں، اور قدرتی نظام شامل ہیں۔ ہمیں ان عوامل کو سمجھ کر ہی مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ اس خطے کو ایک پائیدار اور محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
(یواین آئی)
دنیا4 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
ہندوستان1 week agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
دنیا4 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
ہندوستان1 week agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں منشیات فروش کی غیر قانونی عمارت مسمار کر دی
دنیا1 week agoایرانی فوج کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو وارننگ
ہندوستان5 days agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
ہندوستان1 week agoہندوستان نے فجیرہ حملے کی سخت مذمت کی، مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور دیا
دنیا3 days agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ









































































































