جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: نوشہرہ سیکٹر میں ایک شخص گرفتار، غیر ملکی ساختہ اسلحہ و گولہ بارود بر آمد
جموں، سیکورٹی فورسز نے جموں و کشمیر کے ضلع راجوری کے نوشہرہ سیکٹر میں ایک شخص کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے غیر ملکی ساختہ اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
حکام نے بتایا کہ پولیس اسٹیشن نوشہرہ اور فوج کی ایک مشترکہ گشتی پارٹی نے رات دیر گئے نوشہرہ سیکٹر کے رائے پور علاقے سے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا۔
گرفتار شدہ کی شناخت سچن کمار ولد سیجے کمار ساکن سائر، نوشہرہ کے طور پر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے دو غیر ملکی ساختہ پستول (ترکی/ چینی ساخت کے)، چار میگزین اور 15 گولیاں بر آمد کی گئیں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن نوشہرہ میں متعلقہ دفعات کے تحت ایک کیس درج کیا گیا اور مزید تحقیقات شروع کی گئیں۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
ریونیو ملازمتوں سے اردو کی لازمی اہلیت ختم کرنے کے خلاف پی ڈی پی کا زبردست احتجاج
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے منگل کے روز سری نگر میں جموں و کشمیر حکومت کےاس مسودہ قوانین کے خلاف احتجاج کیا، جس میں ریونیو محکمے کی ملازمتوں کے لیے اردو کی لازمی اہلیت کو ختم کردیا گیا ہے۔
یہ احتجاج جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے ان مسودہ قوانین کے نوٹیفکیشن کے بعد شروع ہوا ہے، جن میں عوامی اعتراضات طلب کیے گئے ہیں اور ان میں ریونیو کی آسامیوں کے لیے اردو کی لازمی شرط کو ختم کر دیا گیا ہے۔
پی ڈی پی کی رہنما التجا مفتی نے سری نگر میں پارٹی احتجاج کی قیادت کی، جسے بعد میں پولیس نے روک دیا۔ انہوں نے اردو کی شرط ختم کرنے کے اقدام کو جموں و کشمیر کے انتظامی اور لسانی ورثے پر کاری ضرب قرار دیا۔
محترمہ التجا مفتی نے اس تبدیلی کو ثقافتی شناخت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ریونیو کے بیشتر ریکارڈ اب بھی اردو میں ہیں اور اس تبدیلی سے انتظامی امور میں خلل پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے اس معاملے پر حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، “اردو کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جامعہ سراج العلوم جیسے تعلیمی اداروں پر پابندی لگائی جا رہی ہے اور سوپور میں طلبہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، لیکن نیشنل کانفرنس کی حکومت کچھ نہیں کر رہی۔” انہوں نے مزید کہا کہ اردو جموں و کشمیر کی مختلف برادریوں کے درمیان رابطے کی زبان کے طور پر کام کرتی ہے۔
اردو کے معاملے پر نیشنل کانفرنس کی ‘خاموشی’ پر سوال اٹھاتے ہوئے محترمہ التجا مفتی نے کہا، “نیشنل کانفرنس کے پاس 50 ایم ایل اے ہیں۔ وہ خاموش کیوں ہیں؟ میں وزیر اعلیٰ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ وہ یہاں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے دوسری ریاستوں میں میراتھن میں شرکت کرنے میں کیوں مصروف ہیں؟”
انہوں نے نیشنل کانفرنس پر اہم معاملات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کا الزام بھی لگایا۔ بعد ازاں احتجاج پرامن طور پر ختم ہوا۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز زراعت کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کھیتوں کو “تہذیب کی بنیاد، معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور مستقبل کی امید” قرار دیا، ساتھ ہی انہوں نے آب و ہوا میں تبدیلی سے بڑھتے ہوئے خطرات سے بھی خبردار کیا۔
شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (اس کے یو اے ایس ٹی) میں منعقدہ قومی سربراہی اجلاس “پائیدار اور موسمیاتی لچکدار زرعی نظام: اختراعات اور پالیسی فریم ورک” سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے زور دیا کہ تمام پالیسیاں اور مداخلتیں کسانوں کی تاریخی شراکت کا احترام کرنے والی ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا، “موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرہ اب کسان کے کھیت سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے اور یہ زراعت سے وابستہ ہر زندگی کے لیے خطرہ ہے۔ اس بحران کی سنگینی ہمیں تاخیر کی گنجائش نہیں دیتی۔”
انہوں نے سائنسدانوں اور ماہرین پر زور دیا کہ وہ معمولی تبدیلیوں کے بجائے سائنس پر مبنی اور کسان دوست تبدیلیوں کو اپنائیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ لیبارٹری اور کھیت کے درمیان فاصلے کو ختم کرنا ہوگا اور محققین کو ایسی فصلیں تیار کرنی چاہئیں جو بدلتے ہوئے موسموں کا مقابلہ کر سکیں۔
مسٹرسنہا نے کسانوں کے تحفظ کے لیے سائنسدانوں اور پالیسی سازوں کو 7 اہم نکات پر عمل کرنے کی دعوت دی، جن میں کسانوں کی شراکت داری سے تحقیق، انشورنس کی توسیع، گرین کریڈٹ، مقامی سطح پر موسم کی ایڈوائزری، روایتی بیجوں کا تحفظ، مربوط پالیسی اور شفاف جانچ شامل ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سائنس دانوں اور پالیسی سازوں کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ چھوٹے اور حاشیے پر موجود کسان موسمیاتی تبدیلی میں سب سے کم حصہ ڈالتے ہیں، مگر اس کے سب سے شدید اثرات انہی کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کسانوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسان صرف اناج پیدا کرنے والے نہیں بلکہ روایت، ثقافت، غذائی تحفظ اور ایک پائیدار مستقبل کے پاسبان بھی ہیں۔
اس موقع پر خوراک، شہری رسد و امور صارفین اور سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر ستیش شرما، ایس کے یو اے ایس ٹی-جموں کے وائس چانسلر پروفیسر بی این ترپاٹھی، محکمہ موسمیات ہند کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مرتیونجے مہاپاترا، انڈین ایکولوجیکل سوسائٹی کے صدر پروفیسر اے کے دھون، ایس کے یو اے ایس ٹی-جموں کے ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر ایس کے گپتا، آرگنائزنگ سیکریٹری ڈاکٹر سید شراز مہدی سمیت بڑی تعداد میں سائنس دانوں، ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں، ماہرین اور طلبہ نے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔
یواین آئی۔ م س
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
سرینگر، مرکزی وزیر برائے دیہی ترقی و زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے منگل کے روز یہاں ‘پردھان منتری گرام سڑک یوجنا’ کے تحت 3566 کروڑ روپے کی لاگت والے منصوبوں کا منظوری نامہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے حوالے کیا۔
اس موقع پر مرکزی وزیر نے ‘دین دیال انتودیہ یوجنا – قومی دیہی معاش مشن’ کے تحت 24 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کے لیے 4568.23 کروڑ روپے سے زائد کی رقم بھی جاری کی۔ اس تقریب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔
مسٹر چوہان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت صرف سڑکیں بنانے کے لیے نہیں، بلکہ دلوں کو جوڑنے کے عزم کے ساتھ آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی ترقی کے لیے “دل کے دروازے بھی کھلے ہیں اور دہلی کے دروازے بھی۔” انہوں نے مزید بتایا کہ ایک ہی سال میں ریاست کے لیے تقریباً 8,000 کروڑ روپے کی سڑکوں کی منظوری ایک تاریخی کامیابی ہے، جس کی مدد سے دور دراز کے گاؤوں کو ترقی کے مرکزی دھارے سے جوڑا جائے گا۔
خواتین کو بااختیار بنانے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ہدف صرف ‘لکھ پتی دیدی’ بنانا نہیں بلکہ انہیں کامیاب کاروباری بنانا ہے۔ زراعت کے حوالے سے انہوں نے اعلان کیا کہ انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم جلد جموں و کشمیر کا دورہ کرے گی تاکہ یہاں کی مٹی اور آب و ہوا کا مطالعہ کر کے کاشتکاری کو منافع بخش بنانے کا روڈ میپ تیار کیا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی وزیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں جموں و کشمیر کا “سچا دوست اور ہمدرد” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی مرحلے میں 8,000 کروڑ روپے کے منصوبوں کی منظوری کوئی معمولی بات نہیں ہے اور ریاستی حکومت ان کاموں کو تیزی سے مکمل کرے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سڑکوں کے اس جال سے اسکولوں، اسپتالوں اور منڈیوں تک رسائی آسان ہوگی، جس سے دیہی معیشت اور باغبانی کے شعبے میں بڑی تبدیلی آئے گی۔
یواین آئی۔ م س
جموں و کشمیر4 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں
ہندوستان3 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ زیادہ دور نہیں











































































































