تجزیہ
ممبئی میں دعوتِ افطار اور سحری کا پُرتکلف سلسلہ، حاجی علی درگاہ پر دیسی سحری میں بھائی چارے کا دلکش منظر
ممبئی،ماہِ رمضان المبارک اپنی روحانی برکتوں، عبادتوں اور اجتماعی ہمدردی کے جذبات کے ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مہینہ ہے اس مہینے میں جہاں ایک طرف عبادت، تلاوتِ قرآن، صدقہ و خیرات اور شب بیداریوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، وہیں دوسری طرف افطار اور سحری کی محفلیں بھی سماجی اور روحانی زندگی کا اہم حصہ بن جاتی ہیں۔ عروس البلاد ممبئی میں بھی رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کے ساتھ ہی دعوتِ افطار اور سحری کی پُرتکلف محفلوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں اہلِ خیر، سماجی کارکنان، کاروباری شخصیات اور مذہبی و سماجی تنظیموں کی جانب سے روزہ داروں کے لیے افطار اور سحری کے اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں، جہاں نہ صرف کھانے پینے کا اہتمام ہوتا ہے بلکہ روحانی فضا بھی قائم رہتی ہے۔
رمضان المبارک کے ان مبارک لمحات میں افطار کی گھڑی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ روزہ دار پورا دن بھوک اور پیاس برداشت کرنے کے بعد جب مغرب کی اذان پر افطار کرتے ہیں تو یہ لمحہ شکرگزاری، دعا اور روحانی سکون کا ہوتا ہے۔ اسی طرح سحری کا وقت بھی نہایت بابرکت سمجھا جاتا ہے۔ احادیث میں سحری کو باعثِ برکت قرار دیا گیا ہے اور اس وقت میں کی جانے والی عبادت کو بڑی فضیلت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ممبئی میں بھی افطار کے ساتھ ساتھ سحری کی اجتماعی محفلوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس سال رمضان المبارک کے تیسرے عشرے کی آمد کے باوجود سیاسی افطار پارٹیوں کی وہ گہماگہمی نظر نہیں آ رہی جو ماضی میں دیکھنے کو ملتی تھی۔ پہلے مختلف سیاسی جماعتیں بڑے پیمانے پر افطار پارٹیاں منعقد کرتی تھیں جن میں سیاسی سرگرمیوں اور میڈیا کی توجہ کا عنصر نمایاں ہوتا تھا۔ بعض مواقع پر ان تقریبات میں اصل روحانیت کے بجائے نمائشی پہلو زیادہ غالب ہو جاتا تھا۔ اس سال چونکہ کوئی بڑا انتخابی مرحلہ درپیش نہیں ہے، اس لیے سیاسی جماعتوں کی جانب سے افطار پارٹیوں کا سلسلہ بہت محدود نظر آ رہا ہے۔
کچھ سماجی حلقوں کے نزدیک یہ صورتحال ایک مثبت تبدیلی بھی سمجھی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افطار پارٹیوں کو محض سیاسی یا سماجی تشہیر کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے عبادت اور اخلاص کے جذبے کے ساتھ منایا جانا چاہیے۔ روزہ دراصل بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک ایسا مقدس تعلق ہے جس میں ریاکاری یا دکھاوے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ افطار کا مقصد اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا اور سادگی کے ساتھ روزہ کھولنا ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ افطار کی تقریبات میں سادگی اور روحانیت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
ممبئی میں اس سال بڑی افطار تقریبات کا آغاز سب سے پہلے حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے منعقد کی گئی دعوتِ افطار سے ہوا۔ اس تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور رمضان کی برکتوں سے مستفید ہونے کی کوشش کی۔ اس کے بعد دوسرے عشرے سے شہر کے مختلف علاقوں میں سماجی و مذہبی تنظیموں اور کاروباری شخصیات کی جانب سے افطار اور سحری کے اجتماعات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے باعث اس سال بعض روایتی تقریبات میں تبدیلی بھی دیکھنے کو ملی۔ سعودی ایئرلائنز کے معروف ایجنٹ اور معروف کاروباری شخصیت ذکاء اللہ صدیقی نے 5 مارچ کو ہونے والی اپنی روایتی افطار دعوت کو منسوخ کر دیا۔ تاہم رمضان کے آخری عشرے میں مزید افطار تقریبات کا انعقاد متوقع ہے۔ سماج وادی پارٹی کے مہاراشٹر صدر ابو عاصم اعظمی کی جانب سے صحافیوں اور پارٹی کارکنوں کے لیے افطار کی دعوت رکھی جا رہی ہے، جبکہ مختلف سماجی اور مذہبی ادارے بھی افطار کے اجتماعات کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں جماعتِ اسلامی ممبئی میٹرو نے بھی صحافیوں کے اعزاز میں ایک پُرتکلف دعوتِ افطار اور عشائیہ کا اہتمام کیا جس میں شہر کے متعدد صحافیوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔
اس سال ایک دلچسپ رجحان یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کئی مقامات پر افطار کی جگہ سحری کی دعوتوں کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ سحری کی یہ محفلیں نہ صرف عبادت کے لیے قوت اور تازگی فراہم کرتی ہیں بلکہ ان میں سادگی اور روحانیت کا ایک خاص رنگ بھی نمایاں ہوتا ہے۔ رات کے آخری پہر میں منعقد ہونے والی یہ محفلیں لوگوں کو عبادت اور دعا کی طرف زیادہ متوجہ کرتی ہیں۔
اسی رجحان کی ایک نمایاں مثال ممبئی کے ساحلِ ورلی کے قریب بحیرۂ عرب میں واقع تاریخی اور روحانی مرکز حاجی علی درگاہ میں دیکھنے کو ملی۔ اس سال درگاہ میں ایک خصوصی بین المذاہب سحری کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف مذاہب اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس اجتماع نے ممبئی کی اس خوبصورت روایت کو اجاگر کیا جس میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور احترام کے ساتھ رہتے ہیں۔
درگاہ کے چیئرمین سہیل کھنڈوانی نے اس موقع پر اعلان کیا کہ درگاہ کے قریب واقع جزیرے پر ملک کا سب سے بلند قومی پرچم نصب کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ حب الوطنی، قومی یکجہتی اور مشترکہ شناخت کی علامت ہوگا۔ چونکہ یہ مقام سمندر کے درمیان واقع ہے، اس لیے پرچم کے لیے خصوصی دھاتی ڈھانچہ اور مضبوط بنیاد تیار کی جائے گی تاکہ موسمی حالات کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
تاریخی حاجی علی درگاہ ممبئی کی روحانی اور ثقافتی شناخت کا ایک اہم ستون ہے۔ پندرہویں صدی میں تعمیر ہونے والا یہ مزار عظیم صوفی بزرگ حضرت پیر حاجی علی شاہ بخاری سے منسوب ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق ان کا تعلق قدیم فارسی سلطنت کے شہر بخارا سے تھا جو آج کل ازبکستان کا حصہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے دنیاوی دولت اور آسائشوں کو ترک کر کے روحانیت کی راہ اختیار کی اور بعد میں ممبئی میں قیام کیا۔
بحیرۂ عرب کے درمیان واقع یہ سفید گنبد والی درگاہ ہند اسلامی طرزِ تعمیر کی ایک دلکش مثال پیش کرتی ہے۔ مدوجزر کے دوران یہ مزار کبھی خشکی سے جڑا ہوا نظر آتا ہے اور کبھی ایک الگ جزیرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقام کی قدرتی خوبصورتی اور روحانی فضا زائرین کو خاص طور پر اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔
ہر سال لاکھوں عقیدت مند نہ صرف ہندوستان کے مختلف حصوں سے بلکہ بیرونِ ملک سے بھی اس درگاہ کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ جمعرات اور جمعہ کے دن یہاں خاص طور پر زائرین کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔ لوگ یہاں دعا کرتے ہیں، صوفی بزرگ کی تعلیمات سے روحانی سکون حاصل کرتے ہیں اور انسانیت، محبت اور رواداری کے پیغام کو یاد کرتے ہیں۔
رمضان المبارک کے مہینے میں اس درگاہ کی رونقیں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ افطار اور سحری کے اوقات میں یہاں عبادت، دعا اور انسانی ہمدردی کا ایک روح پرور منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ مختلف مذاہب کے افراد کی مشترکہ شرکت ممبئی کی اس قدیم روایت کی یاد دلاتی ہے جس میں تنوع کے باوجود باہمی احترام اور ہم آہنگی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
یوں حاجی علی درگاہ میں منعقد ہونے والی سحری کی یہ محفل نہ صرف رمضان المبارک کی روحانیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ عبادت کے یہ مقدس لمحات انسانوں کے درمیان محبت، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینے کا بہترین ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ممبئی جیسے کثیر الثقافتی شہر میں ایسے اجتماعات نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ رمضان کا اصل پیغام انسانیت، ہمدردی اور اتحاد ہے۔
یواین آئی۔ اے اے اے۔ م الف
تجزیہ
مشرق وسطی میں ایران کے ہاتھوں امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی اور موسمیاتی تبدیلی:ایک جائزہ
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جغرافیائی، عسکری اور ماحولیاتی تبدیلیاں ایک پیچیدہ مگر نہایت اہم بحث کو جنم دے رہی ہیں خاص طور پر امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی اور اس کے ساتھ موسمی حالات میں غیر معمولی تبدیلیوں کو بعض حلقوں میں آپس میں جوڑ کر دیکھ رہے ہیں یہ موضوع صرف سیکیورٹی یا سیاست تک محدود نہیں بلکہ ماحولیاتی، سائنسی، سماجی اور معاشی پہلوؤں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسا خطہ ہے جہاں موسمی حالات ہمیشہ سے سخت رہے ہیں۔ یہاں کی آب و ہوا عمومی طور پر خشک اور گرم ہے، بارشیں کم ہوتی ہیں اور کئی ممالک طویل عرصے سے قحط سالی جیسے حالات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران، عمان، یمن اور دیگر ممالک میں پانی کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک نے پانی کے متبادل ذرائع، جیسے ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو صاف کر کے قابلِ استعمال بنانا) پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے۔
تاہم حالیہ برسوں میں کچھ علاقوں میں بارشوں میں اضافہ اور موسم کے پیٹرن میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کا نتیجہ ہو سکتی ہے، جبکہ بعض دیگر افراد اسے مصنوعی عوامل سے جوڑتے ہیں، جن میں عسکری ٹیکنالوجی، ریڈار سسٹمز اور الیکٹرو میگنیٹک لہروں کا کردار شامل بتایا جاتا ہے۔
ریڈار سسٹمز کا بنیادی مقصد دفاعی نگرانی، دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور میزائل یا فضائی حملوں کا بروقت پتہ لگانا ہوتا ہے۔ یہ سسٹمز انتہائی جدید ہوتے ہیں اور ان میں طاقتور الیکٹرو میگنیٹک ویوز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض نظریات کے مطابق یہ لہریں ماحول پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں، خاص طور پر بادلوں کی تشکیل اور بارش کے نظام پر۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا واقعی ریڈار سسٹمز موسمی حالات کو متاثر کر سکتے ہیں؟ سائنسی اعتبار سے اس کا کوئی واضح اور مضبوط ثبوت موجود نہیں ہے کہ عام دفاعی ریڈار براہ راست موسمی نظام کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ موسمی نظام ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے جس میں درجہ حرارت، ہوا کا دباؤ، نمی، سمندری دھارائیں اور دیگر کئی عوامل شامل ہوتے ہیں۔ ان تمام عوامل کو کسی ایک ٹیکنالوجی کے ذریعے کنٹرول کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔
البتہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ایک اور پہلو بھی ہے، جسے ‘کلاؤڈ سیڈنگ’ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک سائنسی طریقہ ہے جس کے ذریعے بادلوں میں خاص کیمیکل شامل کر کے بارش کو بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات، اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے ذریعے بعض اوقات بارش میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے، لیکن یہ عمل محدود پیمانے پر ہوتا ہے اور اس کے اثرات بھی مکمل طور پر یقینی نہیں ہوتے۔
اگر ہم امریکی ریڈار کی تباہی اور موسمی تبدیلیوں کے درمیان تعلق کی بات کریں تو اس حوالے سے زیادہ تر دعوے قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کسی خاص علاقے میں ریڈار سسٹم کی موجودگی یا عدم موجودگی سے مقامی سطح پر پورے خطے کے موسم میں بڑی تبدیلی کو صرف اس ایک عنصر سے جوڑنا سائنسی طور پر درست نہیں ہوگا اور ہم ان عوامل سے انکار بھی نہیں کرسکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ بارشوں اور موسم کی تبدیلی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ عالمی موسمیاتی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ، برفانی تودوں کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور ہوا کے دباؤ کے نظام میں تبدیلی جیسے عوامل موسمی پیٹرن کو متاثر کر رہے ہیں۔ اسی کا اثر مشرقِ وسطیٰ پر بھی پڑ رہا ہے۔
قحط سالی کے خاتمے یا اس میں کمی کے حوالے سے بھی ہمیں حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ اگرچہ کچھ علاقوں میں بارشوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ کہنا کہ قحط سالی مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے، درست نہیں ہوگا۔ پانی کا بحران اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں زیرِ زمین پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اور آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اس کے علاوہ سیاسی اور عسکری حالات بھی اس خطے پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جب کسی علاقے میں جنگ یا کشیدگی ہوتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف معیشت بلکہ ماحول پر بھی پڑتا ہے۔ صنعتی سرگرمیاں، تیل کی پیداوار، اور دیگر عوامل فضائی آلودگی کو بڑھاتے ہیں، جو موسمی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ بعض اوقات میڈیا اور سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے ایسی معلومات پھیل جاتی ہیں جو حقیقت سے دور ہوتی ہیں۔ امریکی ریڈار کی تباہی اور موسمی تبدیلیوں کو جوڑنے والے نظریات بھی اسی زمرے میں آ سکتے ہیں لیکن فی الحال سوشل میڈیا پر پھیلنے والے مفروضے سے ہم انکار بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر دعوے کو سائنسی بنیادوں پر پرکھیں اور مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
مستقبل کے حوالے سے دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کو ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ پانی کی قلت، درجہ حرارت میں اضافہ، اور غیر متوقع موسمی حالات اس خطے کے لیے بڑے مسائل بن سکتے ہیں۔ اس کے حل کے لیے علاقائی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، اور ماحول دوست پالیسیوں کی ضرورت ہوگی۔
مشرقِ وسطیٰ میں موسمی تبدیلی ایک حقیقت ہے، لیکن اس کے اسباب پیچیدہ اور کثیر جہتی ہیں۔ امریکی ریڈار سسٹمز کی تباہی کو اس تبدیلی کی بنیادی وجہ قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں ہے لیکن اس کے مضر اثرات سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اصل عوامل میں عالمی موسمیاتی تبدیلی، انسانی سرگرمیاں، اور قدرتی نظام شامل ہیں۔ ہمیں ان عوامل کو سمجھ کر ہی مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ اس خطے کو ایک پائیدار اور محفوظ مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
(یواین آئی)
جموں و کشمیر
پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
گوہر پیرزادہ
اپریل 2025 کے بائیسرن حملے کے بعد سیاحت میں نمایاں کمی
پہلگام، 23 اپریل — وادی کشمیر کا خوبصورت سیاحتی مقام پہلگام، جو عام طور پر موسمِ بہار میں سیاحوں سے بھرا رہتاΩ تھا، اس سال ایک غیر معمولی خاموشی کا شکار ہے۔ 22 اپریل 2025 کو یہاں کے مشہور سیاحتی مقام بائیسرن میں ہونے والے حملے کے بعد سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث سڑکیں سنسان، ہوٹل آدھے خالی، اور سیاحت پر انحصار کرنے والے سیکڑوں افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
واضح رہے کہ 22 اپریل 2025 کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد جان بحق ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر غیر مقامی سیاح شامل تھے۔
پہلگام کے دورے کے دوران مقامی سیاحتی شعبے کی ایک تشویشناک تصویر سامنے آئی۔ وہ پرکشش سڑکیں، جو عام طور پر سیاحوں کی گاڑیوں اور ہلچل سے بھرے بازاروں سے جانی جاتی تھیں، اب بڑی حد تک ویران اور مایوس کن نظر آ رہی تھیں۔ ہوٹل مالکان نے نہ ہونے کے برابر بکنگ کی اطلاع دی، ٹیکسی اڈوں پر زیادہ تر گاڑیاں خالی کھڑی تھیں، جبکہ گھوڑوں کے مالکان اور چلانے والے بے چینی سے گاہکوں کا انتظار کر رہے تھے۔
بہت سے مقامی افراد کے لیے سیاحت محض ایک موسمی کاروبار نہیں بلکہ ان کی زندگی کا سہارا ہے۔
انہی میں گھوڑا بان عبداللہ بھی شامل ہے، جو گھوڑا اڈے کے قریب خاموشی سے بیٹھا گاہکوں کا منتظر تھا، مگر کوئی آتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بڑے خاندان کی کفالت اور شادی کی عمر کو پہنچتی بیٹیوں کے باعث وہ شدید فکرمند دکھائی دیا۔
“اس موسم میں سیاح بہت کم ہیں۔ ہم انہی چند مہینوں میں کام کر کے سال بھر کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ اگر سیاح نہیں آئیں گے تو ہم شادیوں، تعلیم اور گھریلو اخراجات کیسے چلائیں گے؟” اس نے سوال اٹھایا۔

اس کی پریشانی وادی میں پیدا ہونے والے وسیع تر بحران کی عکاسی کرتی ہے۔
گاڑی چلانے والے محمد شفیع اور غلام محمد بھی دیگر ڈرائیوروں کی طرح اڈے پر بے بسی سے انتظار کرتے نظر آئے۔ ان کی گاڑیاں کئی دنوں سے بغیر کسی بکنگ کے کھڑی ہیں۔
محمد شفیع نے کہا، “ہمارے ذمے قرضے اور ماہانہ قسطیں ہیں۔ سیاحوں کے بغیر ہر گزرتا دن ہمارے لیے مزید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ باہر کے لوگ سمجھتے ہیں کہ حالات معمول پر ہیں، مگر زمینی حقیقت مختلف ہے۔”
غلام محمد نے بھی اسی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے ڈرائیور اب ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔
مایوس کن ماحول کے باوجود چند سیاح بھی نظر آئے۔ ایک چھوٹے گروپ کو گھوڑوں کی سواری سے لطف اندوز ہوتے دیکھا گیا، جو امید کی ایک جھلک پیش کر رہا تھا۔
کیرالہ سے آئے ایک سیاح نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ کشمیر میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں اور سیکورٹی اہلکاروں کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
“ہم یہاں محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ حفاظتی انتظامات اچھے ہیں اور مقامی لوگ خوش آمدید کہتے ہیں۔ تاہم اس بار موسم کافی سخت رہا ہے۔ اپریل میں غیر معمولی بارش اور سردی ہماری توقع سے کہیں زیادہ ہے،” انہوں نے کہا۔
ان کی اہلیہ نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ اگرچہ حفاظتی خدشات قابو میں ہیں، لیکن غیر موسمی بارش نے ان کے سفری منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔
سیاحت سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ صرف حفاظتی خدشات ہی نہیں بلکہ دیگر عوامل بھی سیاحوں کی کم آمد کا سبب بنے ہیں۔
ایک مقامی ہوٹل مالک گورپریہ کور نے بتایا کہ حکومت نے سیاحت کو بحال کرنے کے لیے سرمائی اور بیساکھی تہواروں کا انعقاد کیا، تاہم ان کا اثر محدود رہا۔
انہوں نے کہا، “تہوار توجہ ضرور حاصل کرتے ہیں، مگر ایسے واقعات کے بعد لوگ سفر کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اعتماد بحال ہونے میں وقت لگتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں طبی سیاحت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں، جو ابھی تک پوری طرح استعمال نہیں کیے گئے۔
“ہماری آب و ہوا اور قدرتی خوبصورتی کے ساتھ، اگر صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے تو کشمیر صحت مند سیاحت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔ ہمیں سیاحت کے شعبے کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے،” انہوں نے کہا۔

ہوٹل مالک گورپریہ کور
مقامی دکاندار عبدالمجید نے بائیسرن اور چندن واری جیسے اہم مقامات کی بندش کو سیاحوں کی کمی کی بڑی وجہ قرار دیا۔
“جب اہم سیاحتی مقامات بند ہوں تو لوگ کم ہی آتے ہیں۔ دکانوں میں گاہک نہیں ہوتے، رہنماؤں کے پاس کام نہیں ہوتا، اور گھوڑا مالکان بیکار بیٹھے رہتے ہیں—یعنی ہر کوئی متاثر ہوتا ہے،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حفاظتی جائزے کے بعد ان مقامات کو دوبارہ کھولا جائے۔
“ہم حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، مگر مکمل بندش سے سب سے زیادہ نقصان غریب لوگوں کو ہوتا ہے۔ حکومت کو متوازن حل تلاش کرنا چاہیے۔”

ادھر حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر اور قابو میں ہیں۔ حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور سیاحوں کا اعتماد بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
تاہم، پہلگام کی زمینی حقیقت ایک مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔
کشمیر میں سیاحت، خاص طور پر پہلگام جیسے علاقوں میں، نہایت حساس شعبہ ہے۔ ایک واقعہ بھی ہزاروں خاندانوں کے لیے طویل معاشی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
یہاں کے لوگوں کے لیے سیاحت صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اسکول فیس، شادی کے اخراجات، قرض کی ادائیگی اور روزمرہ ضروریات سے جڑی ہوئی ہے۔
جیسے جیسے سیاحتی موسم آگے بڑھ رہا ہے، مقامی لوگ امید کر رہے ہیں کہ سیاح دوبارہ واپس آئیں گے۔
لیکن فی الحال پہلگام میں خاموشی کسی بھی سرکاری یقین دہانی سے زیادہ بلند آواز میں سنائی دے رہی ہے۔
جب تک اعتماد مکمل طور پر بحال نہیں ہوتا، خالی سڑکیں اور پریشان چہرے اس جنتِ بے نظیر میں بگڑتے ہوئے حالات کی اصل قیمت بیان کرتے رہیں گے۔
تجزیہ
اگر حکومت کو پہلے ہی معلوم تھا تو بل کیوں پیش کیا گیا؟

اگر وزیرِاعظم Narendra Modi کی حکومت کو، جیسا کہ قائدِ حزبِ اختلاف Rahul Gandhi نے دعویٰ کیا، یہ علم تھا کہ آئین (131ویں ترمیم) بل لوک سبھا میں مطلوبہ خصوصی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث ناکام ہو جائے گا، تو پھر اسے پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
حقیقت یہ ہے کہ ایک “ناکام ہونے والا” بل بھی قانون بننے سے آگے کئی مقاصد پورے کر سکتا ہے—جیسے ایجنڈا طے کرنا، عوامی بحث کا رخ موڑنا، اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا، اور وقت کے ساتھ پالیسی خیالات کو معمول کا حصہ بنانا۔ مبصرین کے مطابق، ایسے بل کو متعارف کرانے کے کئی عملی اور سیاسی محرکات ہوتے ہیں، چاہے اس کی کامیابی کے امکانات کم ہی کیوں نہ ہوں۔
سب سے پہلے نیت کا پہلو سامنے آتا ہے۔ بل پیش کرکے حکومت نے اپنے حامیوں—خصوصاً خواتین، جو وزیرِاعظم مودی کا ایک مضبوط ووٹ بینک سمجھی جاتی ہیں—کو یہ پیغام دیا کہ بی جے پی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔ حتیٰ کہ مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود، یہ قدم انتخابی مہمات میں عوامی رائے ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسرا پہلو اپوزیشن پر دباؤ ڈالنا ہے۔ پارلیمان میں باضابطہ بحث نے تمام جماعتوں کو اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے پر مجبور کیا، جس سے حکمران جماعت کو یہ بیانیہ بنانے کا موقع ملا کہ اس نے اصلاحات کی کوشش کی مگر مخالفین نے اسے ناکام بنایا۔ بل کی ناکامی کے بعد بی جے پی رہنماؤں نے اپوزیشن کو “خواتین مخالف” قرار دیتے ہوئے اسی بیانیے کو مزید تقویت دی۔
آئین (131ویں ترمیم) بل کی ناکامی کے بعد، جس کا مقصد 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر 2029 کے انتخابات تک خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنا تھا، پارلیمانی امور کے وزیر Kiren Rijiju نے دو متعلقہ بل—یونین ٹیریٹوریز لاز (ترمیمی) بل 2026 اور ڈیلیمیٹیشن بل 2026—بھی واپس لے لیے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ اس نے خواتین کے حقوق کی حمایت کا ایک اہم موقع ضائع کر دیا۔ این ڈی اے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج بھی کیا اور اپوزیشن کے خلاف بیانات دیے۔
بی جے پی نے اس شکست کو محض عددی ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بنا کر پیش کیا، اور خود کو وزیرِاعظم مودی کی قیادت میں خواتین کو بااختیار بنانے والی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اس کے برعکس، کانگریس، راہل گاندھی اور دیگر جماعتوں جیسے سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے کو صنفی مساوات کی اصلاحات کی مخالفت کرنے والا دکھایا گیا۔ بحث کے دوران وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ Amit Shah نے کہا کہ “ملک کی خواتین انہیں معاف نہیں کریں گی” — ایک ایسا پیغام جو آئندہ سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس عمل نے مستقبل میں مذاکرات اور ترامیم کی گنجائش پیدا کی ہو۔ اس سے حکومت کو پارلیمانی اعداد و شمار اور مختلف جماعتوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کے مؤقف کا اندازہ لگانے کا موقع ملا ہوگا، جس کی بنیاد پر آئندہ قانون سازی کی حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکتی ہے—اگرچہ بعض مبصرین کے نزدیک بی جے پی قیادت کی حکمتِ عملی کو دیکھتے ہوئے یہ امکان کمزور دکھائی دیتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، این ڈی اے کو بل کے حق میں 298 ووٹ ملے جبکہ انڈیا اتحاد نے 230 ووٹ حاصل کیے، جبکہ بل کی منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے۔ کیا حکومت کو اس کا علم نہیں تھا؟ یہ بعید از قیاس لگتا ہے۔ راہل گاندھی نے بھی یہی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے سے زیادہ ایک سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا—خاص طور پر حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشے میں تبدیلی لانا اور جنوبی و چھوٹی ریاستوں کے حقوق کو متاثر کرنا، جبکہ ہندی بیلٹ کو فائدہ پہنچانا، جو بی جے پی کا اہم ووٹ بینک ہے۔
راہل گاندھی کے مطابق، اس اقدام کے دو بنیادی مقاصد تھے: “پہلا، بھارت کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنا، اور دوسرا، وزیرِاعظم کو خواتین دوست رہنما کے طور پر پیش کرنا۔”
جموں و کشمیر6 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 day agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
ہندوستان5 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
ہندوستان4 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
دنیا1 week agoدھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کسی صورت قبول نہیں: اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
جموں و کشمیر1 day agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں
دنیا1 week agoایران کی تجارتی ومالی مدد ہماری پابندیوں کا سامنا کرے گی:امریکہ
دنیا6 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر












































































































