تجزیہ
ممبئی میں دعوتِ افطار اور سحری کا پُرتکلف سلسلہ، حاجی علی درگاہ پر دیسی سحری میں بھائی چارے کا دلکش منظر
ممبئی،ماہِ رمضان المبارک اپنی روحانی برکتوں، عبادتوں اور اجتماعی ہمدردی کے جذبات کے ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مہینہ ہے اس مہینے میں جہاں ایک طرف عبادت، تلاوتِ قرآن، صدقہ و خیرات اور شب بیداریوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، وہیں دوسری طرف افطار اور سحری کی محفلیں بھی سماجی اور روحانی زندگی کا اہم حصہ بن جاتی ہیں۔ عروس البلاد ممبئی میں بھی رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کے ساتھ ہی دعوتِ افطار اور سحری کی پُرتکلف محفلوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں اہلِ خیر، سماجی کارکنان، کاروباری شخصیات اور مذہبی و سماجی تنظیموں کی جانب سے روزہ داروں کے لیے افطار اور سحری کے اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں، جہاں نہ صرف کھانے پینے کا اہتمام ہوتا ہے بلکہ روحانی فضا بھی قائم رہتی ہے۔
رمضان المبارک کے ان مبارک لمحات میں افطار کی گھڑی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ روزہ دار پورا دن بھوک اور پیاس برداشت کرنے کے بعد جب مغرب کی اذان پر افطار کرتے ہیں تو یہ لمحہ شکرگزاری، دعا اور روحانی سکون کا ہوتا ہے۔ اسی طرح سحری کا وقت بھی نہایت بابرکت سمجھا جاتا ہے۔ احادیث میں سحری کو باعثِ برکت قرار دیا گیا ہے اور اس وقت میں کی جانے والی عبادت کو بڑی فضیلت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ممبئی میں بھی افطار کے ساتھ ساتھ سحری کی اجتماعی محفلوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس سال رمضان المبارک کے تیسرے عشرے کی آمد کے باوجود سیاسی افطار پارٹیوں کی وہ گہماگہمی نظر نہیں آ رہی جو ماضی میں دیکھنے کو ملتی تھی۔ پہلے مختلف سیاسی جماعتیں بڑے پیمانے پر افطار پارٹیاں منعقد کرتی تھیں جن میں سیاسی سرگرمیوں اور میڈیا کی توجہ کا عنصر نمایاں ہوتا تھا۔ بعض مواقع پر ان تقریبات میں اصل روحانیت کے بجائے نمائشی پہلو زیادہ غالب ہو جاتا تھا۔ اس سال چونکہ کوئی بڑا انتخابی مرحلہ درپیش نہیں ہے، اس لیے سیاسی جماعتوں کی جانب سے افطار پارٹیوں کا سلسلہ بہت محدود نظر آ رہا ہے۔
کچھ سماجی حلقوں کے نزدیک یہ صورتحال ایک مثبت تبدیلی بھی سمجھی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افطار پارٹیوں کو محض سیاسی یا سماجی تشہیر کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے عبادت اور اخلاص کے جذبے کے ساتھ منایا جانا چاہیے۔ روزہ دراصل بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک ایسا مقدس تعلق ہے جس میں ریاکاری یا دکھاوے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ افطار کا مقصد اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا اور سادگی کے ساتھ روزہ کھولنا ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ افطار کی تقریبات میں سادگی اور روحانیت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
ممبئی میں اس سال بڑی افطار تقریبات کا آغاز سب سے پہلے حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے منعقد کی گئی دعوتِ افطار سے ہوا۔ اس تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور رمضان کی برکتوں سے مستفید ہونے کی کوشش کی۔ اس کے بعد دوسرے عشرے سے شہر کے مختلف علاقوں میں سماجی و مذہبی تنظیموں اور کاروباری شخصیات کی جانب سے افطار اور سحری کے اجتماعات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے باعث اس سال بعض روایتی تقریبات میں تبدیلی بھی دیکھنے کو ملی۔ سعودی ایئرلائنز کے معروف ایجنٹ اور معروف کاروباری شخصیت ذکاء اللہ صدیقی نے 5 مارچ کو ہونے والی اپنی روایتی افطار دعوت کو منسوخ کر دیا۔ تاہم رمضان کے آخری عشرے میں مزید افطار تقریبات کا انعقاد متوقع ہے۔ سماج وادی پارٹی کے مہاراشٹر صدر ابو عاصم اعظمی کی جانب سے صحافیوں اور پارٹی کارکنوں کے لیے افطار کی دعوت رکھی جا رہی ہے، جبکہ مختلف سماجی اور مذہبی ادارے بھی افطار کے اجتماعات کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں جماعتِ اسلامی ممبئی میٹرو نے بھی صحافیوں کے اعزاز میں ایک پُرتکلف دعوتِ افطار اور عشائیہ کا اہتمام کیا جس میں شہر کے متعدد صحافیوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔
اس سال ایک دلچسپ رجحان یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کئی مقامات پر افطار کی جگہ سحری کی دعوتوں کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ سحری کی یہ محفلیں نہ صرف عبادت کے لیے قوت اور تازگی فراہم کرتی ہیں بلکہ ان میں سادگی اور روحانیت کا ایک خاص رنگ بھی نمایاں ہوتا ہے۔ رات کے آخری پہر میں منعقد ہونے والی یہ محفلیں لوگوں کو عبادت اور دعا کی طرف زیادہ متوجہ کرتی ہیں۔
اسی رجحان کی ایک نمایاں مثال ممبئی کے ساحلِ ورلی کے قریب بحیرۂ عرب میں واقع تاریخی اور روحانی مرکز حاجی علی درگاہ میں دیکھنے کو ملی۔ اس سال درگاہ میں ایک خصوصی بین المذاہب سحری کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف مذاہب اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس اجتماع نے ممبئی کی اس خوبصورت روایت کو اجاگر کیا جس میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور احترام کے ساتھ رہتے ہیں۔
درگاہ کے چیئرمین سہیل کھنڈوانی نے اس موقع پر اعلان کیا کہ درگاہ کے قریب واقع جزیرے پر ملک کا سب سے بلند قومی پرچم نصب کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ حب الوطنی، قومی یکجہتی اور مشترکہ شناخت کی علامت ہوگا۔ چونکہ یہ مقام سمندر کے درمیان واقع ہے، اس لیے پرچم کے لیے خصوصی دھاتی ڈھانچہ اور مضبوط بنیاد تیار کی جائے گی تاکہ موسمی حالات کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
تاریخی حاجی علی درگاہ ممبئی کی روحانی اور ثقافتی شناخت کا ایک اہم ستون ہے۔ پندرہویں صدی میں تعمیر ہونے والا یہ مزار عظیم صوفی بزرگ حضرت پیر حاجی علی شاہ بخاری سے منسوب ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق ان کا تعلق قدیم فارسی سلطنت کے شہر بخارا سے تھا جو آج کل ازبکستان کا حصہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے دنیاوی دولت اور آسائشوں کو ترک کر کے روحانیت کی راہ اختیار کی اور بعد میں ممبئی میں قیام کیا۔
بحیرۂ عرب کے درمیان واقع یہ سفید گنبد والی درگاہ ہند اسلامی طرزِ تعمیر کی ایک دلکش مثال پیش کرتی ہے۔ مدوجزر کے دوران یہ مزار کبھی خشکی سے جڑا ہوا نظر آتا ہے اور کبھی ایک الگ جزیرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقام کی قدرتی خوبصورتی اور روحانی فضا زائرین کو خاص طور پر اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔
ہر سال لاکھوں عقیدت مند نہ صرف ہندوستان کے مختلف حصوں سے بلکہ بیرونِ ملک سے بھی اس درگاہ کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ جمعرات اور جمعہ کے دن یہاں خاص طور پر زائرین کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔ لوگ یہاں دعا کرتے ہیں، صوفی بزرگ کی تعلیمات سے روحانی سکون حاصل کرتے ہیں اور انسانیت، محبت اور رواداری کے پیغام کو یاد کرتے ہیں۔
رمضان المبارک کے مہینے میں اس درگاہ کی رونقیں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ افطار اور سحری کے اوقات میں یہاں عبادت، دعا اور انسانی ہمدردی کا ایک روح پرور منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ مختلف مذاہب کے افراد کی مشترکہ شرکت ممبئی کی اس قدیم روایت کی یاد دلاتی ہے جس میں تنوع کے باوجود باہمی احترام اور ہم آہنگی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
یوں حاجی علی درگاہ میں منعقد ہونے والی سحری کی یہ محفل نہ صرف رمضان المبارک کی روحانیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ عبادت کے یہ مقدس لمحات انسانوں کے درمیان محبت، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینے کا بہترین ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ممبئی جیسے کثیر الثقافتی شہر میں ایسے اجتماعات نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ رمضان کا اصل پیغام انسانیت، ہمدردی اور اتحاد ہے۔
یواین آئی۔ اے اے اے۔ م الف
تجزیہ
اگر حکومت کو پہلے ہی معلوم تھا تو بل کیوں پیش کیا گیا؟

اگر وزیرِاعظم Narendra Modi کی حکومت کو، جیسا کہ قائدِ حزبِ اختلاف Rahul Gandhi نے دعویٰ کیا، یہ علم تھا کہ آئین (131ویں ترمیم) بل لوک سبھا میں مطلوبہ خصوصی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث ناکام ہو جائے گا، تو پھر اسے پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
حقیقت یہ ہے کہ ایک “ناکام ہونے والا” بل بھی قانون بننے سے آگے کئی مقاصد پورے کر سکتا ہے—جیسے ایجنڈا طے کرنا، عوامی بحث کا رخ موڑنا، اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا، اور وقت کے ساتھ پالیسی خیالات کو معمول کا حصہ بنانا۔ مبصرین کے مطابق، ایسے بل کو متعارف کرانے کے کئی عملی اور سیاسی محرکات ہوتے ہیں، چاہے اس کی کامیابی کے امکانات کم ہی کیوں نہ ہوں۔
سب سے پہلے نیت کا پہلو سامنے آتا ہے۔ بل پیش کرکے حکومت نے اپنے حامیوں—خصوصاً خواتین، جو وزیرِاعظم مودی کا ایک مضبوط ووٹ بینک سمجھی جاتی ہیں—کو یہ پیغام دیا کہ بی جے پی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔ حتیٰ کہ مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود، یہ قدم انتخابی مہمات میں عوامی رائے ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسرا پہلو اپوزیشن پر دباؤ ڈالنا ہے۔ پارلیمان میں باضابطہ بحث نے تمام جماعتوں کو اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے پر مجبور کیا، جس سے حکمران جماعت کو یہ بیانیہ بنانے کا موقع ملا کہ اس نے اصلاحات کی کوشش کی مگر مخالفین نے اسے ناکام بنایا۔ بل کی ناکامی کے بعد بی جے پی رہنماؤں نے اپوزیشن کو “خواتین مخالف” قرار دیتے ہوئے اسی بیانیے کو مزید تقویت دی۔
آئین (131ویں ترمیم) بل کی ناکامی کے بعد، جس کا مقصد 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر 2029 کے انتخابات تک خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنا تھا، پارلیمانی امور کے وزیر Kiren Rijiju نے دو متعلقہ بل—یونین ٹیریٹوریز لاز (ترمیمی) بل 2026 اور ڈیلیمیٹیشن بل 2026—بھی واپس لے لیے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ اس نے خواتین کے حقوق کی حمایت کا ایک اہم موقع ضائع کر دیا۔ این ڈی اے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج بھی کیا اور اپوزیشن کے خلاف بیانات دیے۔
بی جے پی نے اس شکست کو محض عددی ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بنا کر پیش کیا، اور خود کو وزیرِاعظم مودی کی قیادت میں خواتین کو بااختیار بنانے والی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اس کے برعکس، کانگریس، راہل گاندھی اور دیگر جماعتوں جیسے سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے کو صنفی مساوات کی اصلاحات کی مخالفت کرنے والا دکھایا گیا۔ بحث کے دوران وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ Amit Shah نے کہا کہ “ملک کی خواتین انہیں معاف نہیں کریں گی” — ایک ایسا پیغام جو آئندہ سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس عمل نے مستقبل میں مذاکرات اور ترامیم کی گنجائش پیدا کی ہو۔ اس سے حکومت کو پارلیمانی اعداد و شمار اور مختلف جماعتوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کے مؤقف کا اندازہ لگانے کا موقع ملا ہوگا، جس کی بنیاد پر آئندہ قانون سازی کی حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکتی ہے—اگرچہ بعض مبصرین کے نزدیک بی جے پی قیادت کی حکمتِ عملی کو دیکھتے ہوئے یہ امکان کمزور دکھائی دیتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، این ڈی اے کو بل کے حق میں 298 ووٹ ملے جبکہ انڈیا اتحاد نے 230 ووٹ حاصل کیے، جبکہ بل کی منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے۔ کیا حکومت کو اس کا علم نہیں تھا؟ یہ بعید از قیاس لگتا ہے۔ راہل گاندھی نے بھی یہی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے سے زیادہ ایک سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا—خاص طور پر حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشے میں تبدیلی لانا اور جنوبی و چھوٹی ریاستوں کے حقوق کو متاثر کرنا، جبکہ ہندی بیلٹ کو فائدہ پہنچانا، جو بی جے پی کا اہم ووٹ بینک ہے۔
راہل گاندھی کے مطابق، اس اقدام کے دو بنیادی مقاصد تھے: “پہلا، بھارت کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنا، اور دوسرا، وزیرِاعظم کو خواتین دوست رہنما کے طور پر پیش کرنا۔”
تجزیہ
کاربن کے اخراج، درخت کاری اور حیاتیاتی تنوع: موسمیاتی حکمتِ عملی کے درمیان توازن کی تلاش
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نہ صرف واضح ہو چکے ہیں بلکہ تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں، بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور حیاتیاتی تنوع کا زوال یہ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ انسان کو اپنی ترقی کے ماڈل پر نظرثانی کرنا ہوگی، کاربن کے اخراج کو کم کرنا اس جدوجہد کا بنیادی جزو ہے، لیکن موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف اخراج میں کمی کافی نہیں ہوگی۔ ہمیں فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو نکالنے کے مؤثر طریقے بھی اپنانے ہوں گے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کاربن کو ہٹانے کے لیے درخت لگانا ہمیشہ فائدہ مند ہوتا ہے؟ یا یہ بعض حالات میں ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے؟ حالیہ سائنسی تحقیق اس پیچیدہ سوال کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے، خاص طور پر جب بات حیاتیاتی تنوع (biodiversity) کی ہو۔
دنیا بھر میں انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہر سال تقریباً 42 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہو رہی ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ جیواشم ایندھن (fossil fuels) جیسے کوئلہ، تیل اور گیس کے استعمال سے آتا ہے، جبکہ زمین کے استعمال میں تبدیلی—جیسے جنگلات کی کٹائی—بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اگرچہ مختلف ممالک نے اخراج کم کرنے کے وعدے کیے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر اخراج میں اب بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف اخراج کو کم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ہمیں ‘نیٹ زیرو’ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کاربن کو فضا سے نکالنا بھی ہوگا۔
پیرس معاہدہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کو نہ صرف اخراج میں بڑی حد تک کمی لانی ہوگی بلکہ کاربن ہٹانے کی ٹیکنالوجیز اور حکمت عملیوں کو بھی بڑے پیمانے پر اپنانا ہوگا۔
لیکن یہاں ایک چیلنج ہے۔کاربن کو ہٹانے کے لیے استعمال ہونے والے طریقے خود ماحول پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر اگر انہیں بغیر منصوبہ بندی کے اپنایا جائے۔
کاربن کو ہٹانے کے کئی طریقے زیرِ غور ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
(اول) درخت لگانا: درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور اسے اپنے اندر ذخیرہ کرتے ہیں۔ اس لیے درخت کاری کو سب سے قدرتی اور سستا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
(دوم) توانائی کی فصلیں (Bioenergy Crops): ایسی فصلیں اگائی جاتی ہیں جنہیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے، اور پھر ان کے جلنے سے پیدا ہونے والے کاربن کو پکڑ کر ذخیرہ کیا جائے۔
(سوم) کاربن کیپچر اور اسٹوریج (CCS): صنعتی ذرائع سے نکلنے والے کاربن کو پکڑ کر زمین کے اندر محفوظ کرنا۔
(چہارم) ڈائریکٹ ایئر کیپچر (DAC): جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فضا سے براہِ راست کاربن کو نکالنا۔
ان میں سے سب سے زیادہ زیرِ بحث طریقہ درخت لگانا ہے، کیونکہ یہ فطری اور نسبتاً آسان ہے۔ لیکن اس کے بھی کئی پیچیدہ پہلو ہیں۔
بظاہر درخت لگانا ایک بہترین حل معلوم ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف کاربن کو جذب کرتا ہے بلکہ مٹی کو محفوظ رکھتا ہے، پانی کے چکر کو بہتر بناتا ہے اور ماحولیاتی نظام کو مستحکم کرتا ہے۔ لیکن جب اسے بڑے پیمانے پر نافذ کیا جاتا ہے، تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
بڑے پیمانے پر درخت لگانے کے لیے لاکھوں مربع کلومیٹر زمین درکار ہوتی ہے۔ یہ زمین کہاں سے آئے گی؟ اکثر یہ زرعی زمین یا قدرتی گھاس کے میدان (grasslands) ہوتی ہے، جو خود بھی اہم ماحولیاتی نظام ہیں۔
اگر ایک ہی قسم کے درخت بڑے پیمانے پر لگائے جائیں (monoculture plantations)، تو یہ مقامی پودوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس سے حیاتیاتی تنوع کم ہو جاتا ہے۔
کچھ درخت بہت زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں، جس سے مقامی آبی وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ زمین کے استعمال میں تبدیلی سے مقامی لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر کسانوں اور چرواہوں کی۔
حالیہ مطالعات میں سائنسدانوں نے مختلف موسمیاتی منظرناموں کا تجزیہ کیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کاربن ہٹانے کی حکمت عملیوں کا حیاتیاتی تنوع پر کیا اثر پڑتا ہے۔
انہوں نے عالمی نقشوں کو استعمال کرتے ہوئے یہ دیکھا کہ مستقبل میں کہاں درخت لگائے جائیں گے یا توانائی کی فصلیں اگائی جائیں گی، اور یہ علاقے حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے کتنے حساس ہیں۔
بہت سے ایسے علاقے جہاں درخت لگانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے نہایت اہم ہیں۔ اگر ان علاقوں میں غیر مقامی درخت لگائے جائیں، تو مقامی ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔کچھ علاقوں میں درخت لگانا فائدہ مند ہو سکتا ہے، خاص طور پر جہاں پہلے جنگلات موجود تھے اور انہیں بحال کیا جا سکتا ہے۔
کاربن ہٹانے اور حیاتیاتی تنوع کے درمیان تعلق کو دو طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔درخت لگانے سے کاربن تو کم ہو سکتا ہے، لیکن حیاتیاتی تنوع متاثر ہو سکتا ہے۔ زرعی زمین کو جنگل میں تبدیل کرنے سے خوراک کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
مقامی انواع کے درخت لگانے سے دونوں اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جنگلات کی بحالی (restoration) سے کاربن ذخیرہ بھی ہوتا ہے اور حیاتیاتی تنوع بھی بڑھتا ہے۔
ان چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے، ماہرین درج ذیل حکمت عملی تجویزکرتے ہیں۔
درخت لگاتے وقت مقامی پودوں کو ترجیح دی جائے۔حساس ماحولیاتی علاقوں کو محفوظ رکھا جائے۔مقامی لوگوں کو منصوبوں میں شامل کیا جائے تاکہ ان کے مفادات کا تحفظ ہو۔ صرف درخت لگانے پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مختلف طریقوں کو یکجا کیا جائے۔
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی مسئلہ ہے۔ کاربن کو ہٹانا اس کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن اسے اکیلے حل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
ہمیں ایک متوازن نقطہ نظر اپنانا ہوگا جس میں: کاربن کا اخراج (removal)، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، سماجی و اقتصادی انصاف سب کو یکجا کیا جائے۔
درخت لگانا ایک بہتر حل ہو سکتا ہے، لیکن یہ کوئی جادوئی حل نہیں ہے۔ اگر اسے بغیر سوچے سمجھے اپنایا جائے تو یہ ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سائنسی شواہد کی بنیاد پر فیصلے کریں اور ایسے اقدامات کریں جو نہ صرف کاربن کو کم کریں بلکہ زمین کے حیاتیاتی نظام کو بھی محفوظ رکھیں۔مستقبل کی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کریں —ایسا توازن جو انسان اور فطرت دونوں کے لیے فائدہ مند ہو۔
(یواین آئی)
تجزیہ
فلم گیت گایا پتھروں کے بعد جیتندر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے

ممبئی، 7 اپریل (یواین آئی) بالی ووڈ کے مشہور اداکار جتیندرآج 84 سال کے ہوگئے 7 اپریل 1942 کو ایک جوہری خاندان میں پیدا ہونے والے جتیندرکا بچپن سے ہی فلموں کی جانب رجحان تھا اور وہ اداکار بننا چاہتے تھے۔ وہ اکثر گھر سے بھاگ کر فلم دیکھنے جایا کرتے تھے۔ جتیندرنے اپنے سنیما کیریئر کی شروعات 1959 میں ریلیز ہونے والی فلم نورنگ سے کی جس میں انہیں ایک چھوٹا سا کردار ادا کرنے کا موقع ملا تقریباً پانچ سال تک جتیندرفلم انڈسٹری میں اداکار کے طور پر کام حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ 1964 میں انہیں شانتارام کی فلم گیت گایا پتھروں نے میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم کے بعد جیتندر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔
1967 میں جتیندرکی ایک اور سپرہٹ فلم فرض ریلیز ہوئی۔ روی کانت ناگائچ کی ہدایتکاری میں بنی اس فلم میں جتیندرنے ڈانسنگ اسٹار کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں ان پر فلمایا گیا گانا مست بہاروں کا میں عاشق شائقین اور سامعین کے درمیان بہت مقبول ہوا۔ اس فلم کے بعد جتیندرکو “جمپنگ جیک” کہنا شروع کر دیا گیا۔
فرض کی کامیابی کے بعد ڈانسنگ اسٹار کے طور پر جتیندرکی شبیہ بن گئی۔ اس فلم کے بعد پروڈیوسرز اور ہدایتکاروں نے بیشتر فلموں میں ان کی ڈانسنگ شبیہ کو اجاگر کیا۔ پروڈیوسروں نے جتیندرکو ایک ایسے ہیرو کے طور پر پیش کیا جو رقص کرنے میں ماہر ہو۔ ان فلموں میں ہمجولی اور کارواں جیسی سپرہٹ فلمیں شامل ہیں۔ اس دوران جتیندرنے جینے کی راہ، دو بھائی اور دھرتی کہے پکار کے جیسی فلموں میں ہلکے پھلکے کردار ادا کر کے اپنی ہمہ جہت صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا۔
سال 1973 میں ریلیز ہونے والی فلم جیسے کو تیسا کے ہٹ ہونے کے بعد فلم انڈسٹری میں ان کے نام کے ڈنکے بجنے لگے اور وہ ایک کے بعد ایک مشکل کردار ادا کرتے ہوئے فلم انڈسٹری میں اپنا مقام بناتے گئے۔ 70 کی دہائی میں جتیندرپر یہ الزام لگنے لگا کہ وہ صرف ناچ گانے سے بھرپور رومانوی کردار ہی ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں اس شبیہ سے نکالنے میں پروڈیوسر اور ہدایتکار گلزار نے مدد کی اور ان کے ساتھ پریچے، خوشبو اور کنارا جیسی فیملی فلمیں بنائیں ۔ ان فلموں میں جتیندرکی سنجیدہ اداکاری دیکھ کر ناظرین حیران رہ گئے۔
جتیندرکے سنیما کیریئر پر نظر ڈالنے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ ملٹی اسٹارر فلموں کا اہم حصہ رہے ہیں۔ فلم انڈسٹری کے رنگین پردے پر جیتندر اور ریکھا کی جوڑی کو خوب پسند کیا گیا۔ 80 کی دہائی میں ان کی جوڑی سری دیوی اور جیا پردا کے ساتھ بھی کافی مقبول ہوئی۔ اپنے منفرد ڈانس اسٹائل کی وجہ سے اس جوڑی کو ناظرین نے بے حد پسند کیا۔
سال1982 سے 1987 کے درمیان جتیندر نے جنوبی ہندوستان کے فلم ساز ٹی راماراو، کے باپّیا کے راگھووندرا راؤ وغیرہ کی فلموں میں بھی کام کیا۔ 2000 کی دہائی میں فلموں میں اچھا رول نہ ملنے پر انہوں نے فلموں میں کام کرنا کم کر دیا۔ اس دوران وہ اپنی بیٹی ایکتا کپور کو چھوٹے پردے پر پروڈیوسر کے طور پر قائم کرنے میں ان کے رہنما بنے رہے۔ان دنوں وہ اپنی بیٹی ایکتا کپور کو فلم پروڈکشن میں مددکر رہے ہیں۔
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا5 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
جموں و کشمیر5 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
جموں و کشمیر5 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
ہندوستان1 week agoوزیراعظم مودی کا ‘ناری شکتی’ کے نام خط، خواتین کے ریزرویشن کے عزم کا اعادہ
دنیا5 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ












































































































