ہندوستان
حکومت کی یقین دہانی کے باوجود ملک میں ایل پی جی سلنڈرکے تعلق سے افراتفری کا ماحول
نئی دہلی ، امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ سے مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خام تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے سے نہ صرف اس خطے بلکہ دنیا بھر کے دیگر ممالک میں بھی توانائی کا بحران پیداہوگیاہے ۔
پٹرول ،ڈیزل سے لیکر رسوئی گیس تک لوگوں کو دشواریوں کا سامنا کرناپڑرہاہے اور سیاسی سطح پر بھی اسکی بازگشت سنائی دے رہی ہے ہندوستان میں توانائی کے بحران پر بحث کے لیے آج اپوزیشن کے اصرار پر ہنگامے کے سبب لوک سبھا کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی ۔ کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے کہا کہ قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ایل پی جی کے بحران پر بحث کے لیے نوٹس دیا تھا، جو بہت اہم مسئلہ ہے، اور اس پر بحث ہونی چاہیے۔
اسپیکر نے کہا کہ انہیں قائد حزب اختلاف کا نوٹس موصول ہوا ہے اور متعلقہ وزیر کو معاملے سے آگاہ کر دیا ہے۔ جب متعلقہ وزیر موجود ہوں گے تو اس پر بات ہوگی۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ اسپیکر نے کہا کہ یہ مسئلہ اہم ہے، اس لیے حکومت اس کا جواب دینا چاہے گی۔
کانگریس صدر ملک ارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سفارتی ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ملک رسوئی گیس کی قلت سے دوچار ہے، لیکن مسٹر مودی اپنی حکومت کی ناکامی پر توجہ دینے کے بجائے انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔
مسٹر ملک ارجن کھڑگے نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، “ایسے وقت میں جب ملک بڑے بحران سے دوچار ہے، وزیر اعظم مودی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ایل پی جی کی شدید قلت ہے، لوگ قطاروں میں کھڑے ہیں۔ بی جے پی کی ناکامی کا خمیازہ متعدد چھوٹی اور بڑی صنعتوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ لیکن حکومت کے پاس جھوٹے دعوؤں کے سوا کوئی جواب نہیں ہے۔
کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ملک میں ایل پی جی اور تیل کی کمی کا یہ ابتدائی مرحلہ ہے اور بدلتے ہوئے حالات میں حکومت کو توانائی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے جمعرات کو پارلیمنٹ کمپلیکس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “ملک میں ایل پی جی اور تیل کی جو صورتحال ہے وہ ابھی آغاز ہے۔ اس بارے میں میں ایوان میں بات کرنا چاہتا تھا لیکن کوئی نئی کارروائی شروع ہوئی ہے۔ اس میں پہلے وزیر فیصلہ کریں گے پھر میں بولوں گا اور پھر وزیر اس کا جواب دیں گے۔ ابھی تیاری کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے پاس وقت ہے۔ وزیراعظم اور حکومت کو فوراً اس مسئلے سے نکلنے کے لیے تیاری شروع کر دینی چاہیے۔ اگر تیاری نہیں کی گئی تو کروڑوں لوگوں کو نقصان ہوگا۔”
ادھرملک کی ریاستوں میں بھی رسوئی گیس کی قلت کی خبریں آرہی ہیں ،جبکہ حکومت نے پہلے ہی واضح کردیاہے کہ رسوئی گیس کی کوئی قلت نہیں ہے اور ملک میں اسکے وافر ذخائرہیں ۔ اتر پردیش کے کئی شہروں میں گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی ممکنہ کمی سے متعلق افواہوں کی وجہ سے خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے ایک ساتھ گیس سلنڈروں کی بکنگ کر دی، جس سے کمپنیوں کے سرور سست پڑ گئے اور کئی جگہوں پر گیس ایجنسیوں کے باہر لمبی قطاریں لگ گئیں۔
۔ کچھ ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ تجارتی سلنڈروں کی فراہمی سست ہونے کی وجہ سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ پریاگ راج ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر ہر جندر سنگھ نے کہا کہ اس بحران نے ابھی تک کاروبار پر بہت برا اثر نہیں ڈالا ہے، لیکن جلد ہی مشکلات سامنے آ سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمرشل سپلائی روک دی گئی ہے۔ پیر کے روز خبر پھیلنے کے بعد کچھ لوگوں نے 2500 سے 2600 روپے میں سلنڈر بیچنا شروع کر دیا۔ کچھ کاروباریوں نے ذخیرہ کر لیا ہے، لیکن یہ صرف دو یا تین دن ہی چل سکے گا۔
مہاراشٹر میں ایل پی جی کی فراہمی متاثر ہونے لگی ہے جس سے ریاست بھر میں عام زندگی اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ گیس کی قلت کے باعث ریسٹورنٹس اپنے مینو محدود کرنے پر مجبور ہیں، کیٹرنگ کاروبار کو تقریبات کے انتظام میں مشکلات پیش آ رہی ہیں جبکہ گھریلو صارفین کو سلنڈر ریفل کے لیے پہلے کے مقابلے زیادہ انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
ممبئی کے مصروف علاقے بھنڈی بازار سے لے کر ریاست کے مختلف شہروں تک ایل پی جی کی کم ہوتی دستیابی نے صارفین اور کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ گھریلو صارفین کے لیے سپلائی کو ترجیح دی جا رہی ہے اور ملک میں مکمل بحران کی صورتحال نہیں ہے، تاہم ہوٹل صنعت کے نمائندوں اور اپوزیشن جماعتوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی سپلائی میں رکاوٹ جاری رہی تو کئی ہوٹلوں کو عارضی طور پر بند کرنا پڑ سکتا ہے۔
ممبئی میں کئی ریسٹورنٹس اور کیٹررز پہلے ہی اپنی سرگرمیوں میں تبدیلیاں کرنے لگے ہیں کیونکہ کمرشل ایل پی جی سلنڈر حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کئی ہوٹلوں نے روزانہ تیار ہونے والے کھانوں کی تعداد کم کر دی ہے جبکہ بعض متبادل ایندھن استعمال کرنے لگے ہیں۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ملک میں بڑھتے ہوئے توانائی بحران کے لیے مرکزی حکومت کی پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے آئندہ ہفتے کولکاتا میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
شہرحیدرآبادمیں ایل پی جی گیس سلنڈرس کی قلت کے سبب اب خواتین دوبارہ لکڑی کا استعمال کر رہی ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ سلنڈر بھروانے کی قیمت ان کی ماہانہ آمدنی سے باہر ہو چکی ہے۔
مانگ میں اچانک اضافہ کی وجہ سے لکڑی کے ٹالوں پر اسٹاک ختم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ سپلائرس اب دور دراز کے جنگلاتی علاقوں سے لکڑی منگوا رہے ہیں جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی قیمتوں میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔
پٹنہ کے ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر تیاگ راجن ایس ایم کی ہدایت پر گھریلو ایل پی جی گیس کی باقاعدہ سپلائی اور تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے ضلع سطح پر ہیلپ لائن نمبر 0612-2219810 جاری کیا گیا ہے۔ جس پر صارفین صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک اطلاع، شکایت یا معلومات دے سکتے ہیں۔ جس پر ضلع انتظامیہ فوری کارروائی کرے گی۔
اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر تیاگ راجن نے بتایا کہ بلاک سطح پر شکایات کے ازالے اور گیس کی ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے 28 چھاپے ماری کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ گیس ایجنسیوں پر نگرانی کے لیے فورس اور مجسٹریٹ کی بھی تعیناتی کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایل پی جی ایجنسی علاقوں کو سیکٹر، زونل اور سپر زونل میں تقسیم کرکے متعلقہ مجسٹریٹوں کی تعیناتی کی گئی ہے۔
اتراکھنڈ حکومت نے عالمی منظرنامے میں پیدا شدہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے خوراک اور رسد کی فراہمی کی مسلسل نگرانی کے لیے افسران کی خصوصی تعیناتی کے احکامات دیے ہیں۔
وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی ہدایت پر اتراکھنڈ ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر دہرادون میں مختلف افسران اور ماہرین کی تعیناتی فوری طور پر آئندہ احکامات تک کی گئی ہے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ کسی بھی حالت میں اناج، ایل پی جی اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی متاثر نہیں ہونی چاہیے اور صورتحال پر مسلسل نگرانی رکھی جائے۔
یو این آئی۔ اے ایم۔ایف اے
ہندوستان
فضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
نئی دہلی، فضایئہ کا ایک مال بردار طیارہ اے این 32 ہفتہ کو آسام کے جورهاٹ فضائیہ اسٹیشن پر حادثے کا شکار ہو گیا جس میں سوارفضائیہ کے پانچ اہلکار شہید ہو گئے۔ حادثے میں شہید ہوئے فضائیہ کے اہلکاروں میں دو اگنی ویر بھی شامل ہیں۔
فضائیہ کے ترجمان نے بتایا کہ اس حادثے میں اسکواڈرن لیڈر پرشانت سنگھ، فلائٹ لیفٹیننٹ شبھم کمار، سارجنٹ جتیندر شرما، اگنی ویر وایو کھیمارام کماوت اور اگنی ویر وایو دانش عالم نے فرض کی ادائیگی میں عظیم قربانی دی۔
انہوں نے کہا کہ فضائیہ کو اس حادثے میں پانچ بہادر جوانوں کو کھونے کا گہرا دکھ ہے۔ ہندوستانی فضائیہ سوگوار خاندانوں کے تئیں گہری تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں مضبوطی سے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ حادثے کی جانچ کے لیے کورٹ آف انکوائری تشکیل دے دی گئی ہے۔ یہ مال بردار طیارہ صبح دس بجے کے قریب فضائیہ کے جورهاٹ اسٹیشن پر اترنے کے دوران حادثے کا شکار ہوا۔ طیارے کے اترتے وقت اس میں آگ لگ گئی، جس سے یہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ طیارے کے حادثے کی وجوہات کا ابھی پتہ نہیں چلا ہے۔ یہ طیارہ باقاعدہ پرواز پر تھا۔
طیارے میں آگ لگنے کے بعد یہ دو حصوں میں ٹوٹ گیا۔ فضائیہ کے شہید اہلکاروں میں طیارے کا پائلٹ بھی شامل ہے جبکہ کو-پائلٹ زخمی ہوا ہے۔ اے این-32 دو انجن والا مال بردار طیارہ ہے جو دہائیوں سے فضائیہ کے لیے لاجسٹکس کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ اس نے ملک بھر میں، خاص طور پر اونچے علاقوں اور دور دراز کے حصوں میں مختلف مہمات میں اہم کردار نبھایا ہے۔ اس حادثے نے اے این-32 بیڑے کے ساتھ گزشتہ کچھ برسوں میں ہوئے کئی بڑے حادثوں کی یادیں تازہ کر دی ہیں۔
سب سے تکلیف دہ واقعات میں سے ایک جون 2019 میں ہوا تھا، جب 13 لوگوں کو لے جا رہا ایک اے این-32 طیارہ آسام کے جورهاٹ سے اروناچل پردیش کے میچوکا کے لیے پرواز بھرنے کے بعد لاپتہ ہو گیا تھا۔ ایک ہفتے سے زیادہ دن چلے تلاشی اور بچاؤ مہم کے بعد طیارے کا ملبہ اروناچل پردیش کے پہاڑی علاقے میں ملا۔ طیارے میں سوار سبھی 13 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس سے پہلے جولائی 2016 میں 29 لوگوں کو لے جا رہا ایک اور اے این-32 طیارہ چنئی کے تامبرم اسٹیشن سے پورٹ بلیئر جاتے وقت خلیج بنگال کے اوپر لاپتہ ہو گیا تھا۔ فضائیہ کی طرف سے چلائی گئی سب سے بڑی تلاشی اور بچاؤ مہموں میں سے ایک کے باوجود یہ طیارہ کئی برسوں تک لاپتہ رہا۔ آخر کار 2024 میں سمندر کی تہہ میں طیارے کا ملبہ ملا جس سے سبھی 29 لوگوں کی موت کی تصدیق ہوئی تھی۔
اے این-32 طیارہ 1980 کی دہائی سے ہی فضائیہ کے مال بردار بیڑے کی ریڑھ رہا ہے۔ اس طیارے نے فوجیوں کی آمد و رفت، لاجسٹکس سپلائی مشن، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد اور آفات سے راحت کے کاموں میں اہم کردار نبھایا ہے۔ طیارے نے خاص طور پر دشوار گزار علاقوں اور سرحدی علاقوں میں مہمات کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا ہے۔ وقت کے ساتھ، اس طیارے میں ایوی اونکس، نیویگیشن سسٹم اور آپریشنل اپ گریڈیشن کیا گیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی فرانس، سلوواکیہ کے چھ روزہ دورے پر روانہ، عالمی رہنماؤں سے کریں گے ملاقات
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کو فرانس اور سلوواکیہ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہو گئے۔
اس دوران وہ 15 جون سے فرانس میں منعقد ہونے والے تین روزہ جی-7 سربراہی اجلاس میں حصہ لینے کے علاوہ کئی عالمی رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کریں گے۔ ہندوستان پارٹنر ملک کے طور پر اس گروپ کی میٹنگ میں تیرھویں بار حصہ لے رہا ہے۔ سرکاری پروگرام کے مطابق مسٹر مودی اپنے دورے کے دوران فرانس اور سلوواکیہ کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔
وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم کی فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور سلوواکیہ کے وزیر اعظم رابرٹ فیکو کے ساتھ تفصیلی دو طرفہ بات چیت ہوگی، جس میں اسٹریٹجک، اقتصادی، دفاع، ٹیکنالوجی اور اختراع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ مسٹر مودی فرانس کے شہر نیس، ایویان اور پیرس کا دورہ کریں گے۔ جی-7 اجلاس کے دوران ان کی گروپ کے رکن ممالک کے رہنماؤں، پارٹنر ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کا امکان ہے۔ اجلاس میں جنوبی کوریا، کینیا، برازیل اور مصر جیسے ممالک کو بھی پارٹنر ملک کے طور پر مدعو کیا گیا ہے۔
دورے کے دوران مغربی ایشیا کی صورتحال سمیت مختلف عالمی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ میں اصلاحات اور سکیورٹی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت کا معاملہ بھی ایجنڈے میں سر فہرست رہنے کا امکان ہے۔
فرانس کے ساتھ ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبے میں تعاون دورے کا مرکزی نقطہ رہے گا۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان اسٹارٹ اپ، یونیورسٹیوں اور انوویشن اداروں کے تعاون سے جڑے کئی معاہدوں پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔
سلوواکیہ کے دورے کے دوران دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی بات چیت ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان کچھ معاہدوں پر دستخط کیے جانے کا بھی امکان ہے۔ وزیر اعظم 13 سے 14 جون تک فرانس کے نیس میں رہیں گے۔
اس کے بعد وہ 14 سے 16 جون تک سلوواکیہ کا دورہ کریں گے اور پھر پیرس واپس آئیں گے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
بچوں کا پھر مزدوری میں لوٹنا تشویشناک: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بچہ مزدوری کے انسداد کے عالمی دن کے موقع پر کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں یہ تشویشناک صورتحال دیکھنے میں آئی ہے کہ بچوں کو دوبارہ استحصالی مزدوری کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور اس برائی کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششوں کی سخت ضرورت ہے کانگریس صدر نے کہا کہ بچوں کو استحصال سے بچانے کی ذمہ داری سب کی ہے۔ انہوں نے اس کے لیے اجتماعی اقدامات کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ ہر بچے کے سیکھنے، بڑھنے اور بہتر مستقبل کے حق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ ہر بچے کو صحت، تعلیم، تحفظ اور استحصال سے پاک بچپن کا حق ہے۔ بچہ مزدوری صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی ناانصافی ہے جو بچوں سے ان کا مستقبل چھین لیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1986 میں بنائے گئے بچہ مزدوری سےمتعلق ایکٹ نے ملک میں چائلڈ لیبر کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں کچھ قانونی ترامیم، بچوں کے تحفظ کے بجٹ میں کٹوتی اور کووڈ-19 وبا کے طویل مدتی سماجی و اقتصادی اثرات کی وجہ سے بچوں کے دوبارہ استحصالی مزدوری کی طرف دھکیلے جانے کے تشویشناک واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ بچوں کی غذائی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس-6) کے مطابق 29.3 فیصد بچے اسٹنٹنگ (کم نشوونما) اور 31.8 فیصد کم وزن سے متاثر ہیں، جو ملک میں غذائیت سے متعلق چیلنجوں کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے تعلیم کے معیار پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ نیتی آیوگ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دیہی ہندوستان میں چھٹی جماعت کے 42 فیصد، ساتویں جماعت کے 36 فیصد اور آٹھویں جماعت کے 29 فیصد طلبہ دوسری جماعت کے معیار کا سبق پڑھنے کے اہل نہیں ہیں۔ اسی طرح چھٹی جماعت کے 64 فیصد، ساتویں جماعت کے 59 فیصد اور آٹھویں جماعت کے 54 فیصد طلبہ عام ضرب اور تقسیم کا سوال حل نہیں کر پاتے ہیں، جو سیکھنے کے نتائج میں سنگین کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ صرف معاشی ترقی ہی کروڑوں خاندانوں کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے کافی اور ہمہ گیر ثابت نہیں ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے خاندانوں کے بچے اسکول جانے کے بجائے کام کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
انہوں نے ہم وطنوں سے اپیل کی کہ چائلڈ لیبر کو جڑ سے ختم کرنے اور ہر بچے کے حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی عزم اور مسلسل کوششیں کی جانی چاہئیں۔
یو این آئی۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
ہندوستان6 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
دنیا1 week agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی
دنیا6 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
دنیا3 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
ہندوستان1 week agoکاکروچ جنتا پارٹی پریشان لوگوں کی آواز ہے : ابھجیت دیپکے
دنیا6 days agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی







































































































