دنیا
اگر ہرمز میں تعطل جون کے وسط تک جاری رہا تو عالمی تیل بازار میں بحران 2027 تک برقرار رہ سکتا ہے: آرامکو سی ای او
دوحہ، سعودی عرب کی کمپنی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) امین ناصر نے کہا ہے کہ اگر ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع نہیں ہوتی تو اگلے سال تک عالمی تیل بازار معمول کی حالت میں واپس نہیں آ سکے گا ارامکو کی پہلی سہ ماہی کے نتائج پر گفتگو کے لیے منعقدہ ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران مسٹر ناصر نے کہا کہ سپلائی میں رکاوٹ جتنی دیر تک جاری رہے گی، تیل بازار کو مستحکم ہونے میں اتنا ہی زیادہ وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز میں تعطل جون کے وسط تک برقرار رہتا ہے تو یہ بحران 2027 تک جاری رہ سکتا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی توانائی کمپنی کے سربراہ کے مطابق پیداوار یا نقل و حمل میں کمی کے باعث بازار پہلے ہی ایک ارب بیرل تیل کھو چکا ہے اور جب تک یہ راستہ بند رہے گا، ہر ہفتے تقریباً 10 کروڑ بیرل تیل کا نقصان ہوتا رہے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پہلے ہرمز سے روزانہ تقریباً 70 جہاز گزرتے تھے۔
خلیج فارس میں تیل پیدا کرنے والے ممالک پر حملوں اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کرنے کے باعث پیداوار اور برآمدات پر منفی اثر پڑا ہے۔ 28 فروری کو تنازع شروع ہونے سے پہلے اس آبی گزرگاہ کے ذریعے روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل عالمی بازار میں پہنچتا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ 7 اپریل کو امریکہ اور ایران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت بے نتیجہ رہی، لیکن بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک ’متحدہ تجویز‘ کے ساتھ آنے کا وقت دینے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کر دی تھی۔
3 مئی کو مسٹر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کی مدد کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا اعلان کیا تھا۔ پھر مسٹر ٹرمپ نے 5 مئی کو کہا کہ انہوں نے یہ دیکھنے کے لیے عارضی طور پر آپریشن روک دیا ہے کہ آیا ایران کے ساتھ امن معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے یا نہیں۔ تاہم پیر کے روز انہوں نے امریکی امن تجاویز پر ایران کے ردعمل کو مکمل طور پر ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔
یواین آئی۔الف الف
تازہ ترین
ایران کی توجہ اب بھی پائیدار امن پر مرکوز لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار : فاطمہ مہاجرانی
تہران، ایران کی حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم تہران کی توجہ اب بھی پائیدار امن پر مرکوز ہے۔
منگل کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاطمہ مہاجرانی نے کہا ”ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں” لیکن ایرانی حکام اب بھی سفارتی راستے اور ملکی مفادات پر مبنی حل کے لیے پرعزم ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ایسنا کے مطابق انہوں نے اشارہ دیا کہ 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی معاہدہ ”انتہائی نازک صورتحال” میں داخل ہو چکا ہے، جس سے دوبارہ جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ اب فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر زیادہ سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رکھنے پر برہم ہیں جبکہ ایرانی قیادت کے اندرونی اختلافات بھی مذاکرات میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
ادھر پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق سب سے بڑا اختلاف ایران کے جوہری پروگرام پر ہے، جہاں امریکہ مطالبہ کر رہا ہے کہ ایران افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرے اور اندرون ملک افزودگی مکمل طور پر روک دے۔
دوسری جانب تہران کا مؤقف ہے کہ ان حساس معاملات پر بات چیت بعد کے مرحلے میں ہونی چاہیے۔
اس دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ”غلط حکمت عملی اور غلط فیصلے ہمیشہ غلط نتائج تک لے جاتے ہیں”۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران تمام آپشنز کے لیے تیار ہے اور مخالفین حیران رہ جائیں گے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ٹرمپ نے موجودہ ایرانی ردعمل کو انتہائی کمزور اور کچرا قرار دیا ،ایران نے امریکہ کو مزید کشیدگی سے خبردار کیا
واشنگٹن، امریکہ اور ایران کے درمیان 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی معاہدہ تعطل کا شکار دکھائی دے رہا ہے جبکہ امریکی صدر مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی ردعمل کو انتہائی کمزور قرار دیتے ہوئے اسے کچرا قرار دیا۔
مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اب ’’وینٹی لیٹر پر‘‘ ہے اور آخری سانسیں لے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تہران یہ سمجھ رہا ہے کہ امریکہ بڑھتی توانائی قیمتوں کے دباؤ کے باعث پیچھے ہٹ جائے گا، تاہم واشنگٹن مکمل فتح کے اپنے ہدف سے دستبردار نہیں ہوگا۔
امریکی صدر نے ایران کے حالیہ ردعمل کو ’’انتہائی کمزور‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور سینیئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں امریکہ کو کشیدگی بڑھانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکی تجویز کے جواب میں تمام محاذوں، بالخصوص لبنان میں جنگ کے خاتمے پر زور دیا ہے جہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔
تہران نے اپنے جواب میں جنگی نقصانات کے معاوضے، آبنائے ہرمز پر ایرانی خود مختاری کے اعتراف، بحری ناکہ بندی کے خاتمے، مزید حملے نہ کرنے کی ضمانت اور اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ادھر مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع دورۂ چین سے قبل صورتحال مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ توقع ہے کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں ایران بحران اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر بات کریں گے۔
دریں اثنا امریکی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ اوہائیو کلاس کی ایک ایٹمی آبدوز جبرالٹر کی بندرگاہ پہنچ گئی ہے۔
امریکی بحریہ کے چھٹے بیڑے کے مطابق یہ دورہ امریکہ کی دفاعی صلاحیت اور نیٹو اتحادیوں کے ساتھ وابستگی کا مظہر ہے، تاہم محکمہ دفاع نے آبدوز کا نام ظاہر نہیں کیا۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ایران اپنی ایٹمی سرگرمیوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا
تہران، ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نے کہا ہے کہ یورینیم کی افزودگی ناقابلِ مذاکرات ہے جبکہ ایٹمی معاملہ مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے بتایا کہ یہ مؤقف پارلیمانی اجلاس کے دوران ایٹمی توانائی تنظیم کے سربراہ محمد سلامی نے پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں محمد سلامی نے واضح کیا کہ دشمن اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں ایٹمی صنعت بھی شامل ہے۔
ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم کے سربراہ نے زور دے کر کہا کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیاں مکمل طور پر پُرامن ہیں اور پُرامن ہی رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایٹمی ٹیکنالوجی مذاکرات کا حصہ نہیں ہے اور یورینیم کی افزودگی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔
ابراہیم رضائی کے مطابق اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایٹمی مراکز اور اثاثوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ ان پر مسلسل عمل درآمد جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی ایٹمی صنعت پوری قوت کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے گی اور ملک کی ایٹمی کامیابیوں کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کو ’’لائف سپورٹ‘‘ پر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تہران کی تازہ تجاویز میں ایٹمی معاملے پر کوئی رعایت شامل نہیں تھی۔
یواین آئی۔ م س
دنیا4 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
ہندوستان1 week agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
دنیا4 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
ہندوستان1 week agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں منشیات فروش کی غیر قانونی عمارت مسمار کر دی
دنیا1 week agoایرانی فوج کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو وارننگ
ہندوستان5 days agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
ہندوستان1 week agoہندوستان نے فجیرہ حملے کی سخت مذمت کی، مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور دیا
دنیا3 days agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ











































































































