دنیا
فریقین کی تکنیکی ٹیمیں سوئٹزرلینڈ میں ہی رہیں گی اور اپنا کام جاری رکھیں گی
برن، امریکہ اور ایران کی تکنیکی ٹیمیں سوئٹزرلینڈ میں ہی رہیں گی اور مذاکراتی سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کام جاری رکھیں گی۔
امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے سوئٹزرلینڈ میں اتوار کی رات تک طویل اور مسلسل مذاکرات کیے، تاکہ وہ ایک نئے جوہری معاہدے کی جانب بڑھ سکیں اور اگلے 60 روز میں ایک حتمی معاہدے کی تشکیل کی طرف پیش رفت کر سکیں۔
جھیل لوسرن سمٹ میں تقریباً بغیر وقفے جاری رہنے والے مذاکرات اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ دونوں فریق نمایاں اختلافات کے باوجود رابطے میں ہیں اور علاقائی سلامتی سے متعلق وسیع تر بات چیت کی بنیاد رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک امریکی سفارت کار نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تکنیکی ٹیمیں ہفتے کے باقی دنوں میں مذاکرات جاری رکھنے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں ہی موجود رہیں گی۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی خبر دی کہ ایرانی وفد سوئٹزرلینڈ سے واپس روانہ ہو گیا ہے تاہم تکنیکی ٹیمیں مذاکرات جاری رکھیں گی۔ امریکہ ایران نے 60 روز میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا سوئٹزر لینڈ میں 4 فریقی مذاکرات مکمل ہونے کے بعد ایرانی وفد واپس روانہ ہو گیا ہے، ایرانی وفد کے رکن مہدی قربان زادہ نے مذاکرات کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ لبنان کے مسئلے کے حل تک دیگر معاملات پر مزید پیش رفت یا تفصیلی بات چیت نہیں ہوگی، ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار استحکام کے لیے لبنان سے متعلق مسائل کا حل ناگزیر ہے۔
دوسری طرف امریکی سفارت کار نے بتایا کہ ایران سے مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر مفید بات چیت ہوئی، آبنائے ہرمز سمیت ایران کے ساتھ تمام نکات پر بغیر کسی رکاوٹ کے بات چیت ہوئی اور جوہری معاہدے کے تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال ہوا، جب کہ مذاکرات کا اہم محور لبنان میں جنگ بندی کو نافذ کرنے کا طریقہ کار تھا۔
یہ مذاکرات نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ہوئے، جن میں وائٹ ہاؤس کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل تھے۔ جب ہفتے کے روز جھیل لوسرن میں مذاکرات کا آغاز ہوا تو صدر ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ اور فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران کے خلاف کئی دھمکیاں دیں۔ تیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم مذاکرات کے دوران نجی طور پر بھی یہ معاملہ اٹھایا اور کہا کہ یہ امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت کے آرٹیکل 1 کی خلاف ورزی ہے، جس کے مطابق مذاکرات کے دوران دونوں فریق طاقت کے استعمال کی دھمکیوں سے گریز کریں گے۔
ثالثی کرنے والے ممالک میں سے ایک ذریعے اور ایک امریکی سفارت کار نے بتایا کہ اگرچہ ایرانی حکام نے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں کو کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کی عوامی دھمکیوں کے خلاف احتجاجاً مذاکرات سے نکل گئے ہیں، لیکن عملی طور پر مذاکرات پورا دن جاری رہے تھے۔ ایکسیوس نے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا کہ لبنان کے بارے میں ہونے والی گفتگو ’’کشیدہ‘‘ تھی۔ حکام نے سیاسی رہنماؤں اور تکنیکی ٹیموں کے درمیان آئندہ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے ایک فریم ورک پر بھی گفتگو کی۔
امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے نمائندے مذاکرات کی پیش رفت سے مطمئن دکھائی دیے۔ ان مذاکرات میں ایک ابتدائی خاکہ تیار کرنے میں کامیابی ملی ہے جو آئندہ ہفتوں میں ہونے والی تکنیکی بات چیت کی رہنمائی کرے گا۔
واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے یہ مذاکرات 18 گھنٹے جاری رہے اور امریکہ اور ایران نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یورپ کے بیشتر علاقے سخت گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں 18 افراد ہلاک
بروسیلز، یورپ کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی زد میں ہیں، فرانس میں سخت گرمی کے باعث 5 افراد ہلاک ہوگئے جن میں دو کم عمر بچے بھی شامل ہیں جب کہ نہاتے ہوئے 13 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وسطی فرانس کے شہر پواتیے میں گرمی کا 78 سالہ ریکاڈ ٹوٹ گیا جہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 41.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ مغربی فرانس کے علاقے بوردو میں درجہ حرارت 41.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جس نےگزشتہ سال اگست میں قائم ہونے والا ریکارڈ توڑ دیا۔
فرانس میں شدید گرمی کے باعث کئی اسکول بندکر دیےگئے یا ان کے اوقات کار میں تبدیلی کر دی گئی، متعدد ٹرین سروسز بھی بند کردی گئیں۔ فرانس کے جنوب مشرقی شہر کارپانترا میں سخت گرمی میں گھر کے باہر کھڑی گاڑی میں دو بچے بے ہوش گئے، بچوں کی عمریں 2 اور 4 سال تھیں، امدادی کارکنوں نے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ حکام کا کہنا ہےکہ بچوں کی موت کی اصل وجہ کا تعین ابھی ہونا باقی ہے، تاہم شدید گرمی کو سب سے بڑا سبب سمجھا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ فرانس کے مختلف علاقوں میں تین بزرگ افراد بھی گرمی کی شدت سے جان کی بازی ہار گئے، جب کہ سوئمنگ پول اور دیگر پانی والی جگہوں پر نہاتے ہوئے 13 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ حکام نے لوگوں کو ہدایت دی ہےکہ صرف نگرانی والے مقامات پر ہی تیراکی کریں۔ دوسری جانب برطانیہ کے محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہےکہ اس ہفتے جون کے مہینے کے درجۂ حرارت کے ریکارڈ بھی ٹوٹ سکتے ہیں۔انگلینڈ اور ویلز میں شدید گرمی کی ریڈ وارننگ جاری کی گئی ہے اور درجہ حرارت 38 درجےکو چھونےکا خدشہ ہے۔
ریڈ وارننگ کا مطلب ہے کہ یہ گرمی جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔ بجلی، روڈ اور ریلوے نظام متاثر ہوسکتا ہے۔ اسپین، اٹلی اور بیلجیئم میں بھی شدید گرمی کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سوئٹزر لینڈ مذاکرات میں 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا کیلئے دستخط کو حتمی شکل دے دی گئی
تہران، سوئٹزر لینڈ مذاکرات میں 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا کیلئے دستخط کو حتمی شکل دے دی گئی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے تصدیق کی ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا کے لیے دستخط کو حتمی شکل دے دی گئی۔
ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی آبنائے ہرمز کے معاملے پر بات چیت کے لیے عمان پہنچ گئے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت پر رابطے کا نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔اقدام کا مقصدکسی بھی قسم کے تصادم یا کشیدگی سے بچناہے۔ انہوں نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا کے لیے دستخط کو حتمی شکل دے دی گئی۔
اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ مذاکرات کی بنیاد پر لبنان کی علاقائی سالمیت و خودمختاری کی ضمانت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندی اٹھالی ہے جس کے بعد2 ماہ تک ایران امریکا سمیت دنیا بھر میں اپنی پیٹرولیم مصنوعات فروخت کر سکے گا۔
ایران نے پابندیاں اٹھنے اور کچھ ایرانی اثاثے بحال ہونے کی تصدیق کر دی۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا ، کیوبا اور یوکرین پر ایرانی تیل خریداری پر پابندی تاحال برقرار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی مذاکرات مکمل
تہران، سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تکنیکی مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تکنیکی مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں اور اب دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی امور اور پابندیوں پر ورکنگ گروپس بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے رپورٹ کے مطابق مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 4 ورکنگ گروپس قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ایران پر پابندیوں کے خاتمے اور جوہری امور پر الگ ورکنگ گروپس کام کریں گے۔ ان کے علاوہ تعمیر نو، اقتصادی ترقی اور مانیٹرنگ کیلیے خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے۔
اس حوالے سے ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے مابین ورکنگ گروپس قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سربراہ ایران تکنیکی ٹیم کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ اعلیٰ سطح کمیٹی کی نگرانی میں ہوگا۔ اس اعلیٰ سطح کمیٹی میں ایران، امریکا، پاکستان اور قطر شامل ہوں گے۔
یو این آئی۔ع ا۔
ہندوستان5 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا1 week agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جموں و کشمیر7 days agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا6 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
دنیا6 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان6 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ٹرمپ وینس نے کئے
ہندوستان6 days ago‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“





































































































