جموں و کشمیر
مذہبی فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ میرواعظ نے نظربندی کا سنگین الزام لگا دیا
سرینگر، حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے سرینگر کے بيمينہ علاقے میں واقع امام بارگاہ میں ایک مذہبی اجتماع میں شرکت کے لیے جانے سے پہلے نظربند کیے جانے کا الزام لگایا ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ شیعہ سنی اتحاد اورحضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور شہدائے کربلا کے ساتھ مشترکہ عقیدت و احترام کے طور پر، آغا سید ہادی کی دعوت پر میرواعظ کو امام بارگاہ بيمينہ میں خطاب کرنا تھا۔ اس سفر کا مقصد ان کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اور کربلا سے ملنے والے اتحاد، امن اور بھائی چارے کے پیغام کو عام کرنا تھا۔ میرواعظ نے کہا کہ انہیں نظربند کر دیا گیا ہے اور اس اجتماع میں شامل ہونے سے روکا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، “کشمیر ہمیشہ سے باہمی احترام، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کی ایک مثال رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے وقت میں جب معاشرہ کئی محاذوں پر چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، اتحاد، تحمل، باہمی احترام اور یکجہتی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی تفرقہ انگیز قوت کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور صدیوں پرانے باہمی تعلقات کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، جو طویل عرصے سے کشمیر کے لوگوں کی پہچان رہے ہیں۔میرواعظ نے معاشرے کے تمام طبقات کے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے سب سے وقار، صبر اور باہمی احترام برقرار رکھنے اور سچائی، ہمدردی، انصاف اور اتحاد پر قائم رہ کر پیغامِ کربلا کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا۔
میرواعظ کے نظربند کیے جانے کے دعوے پر پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
یواین آئی ۔م ا ع
جموں و کشمیر
کانگریس کا بڑا اعلان: 5 جولائی سے جموں و کشمیر میں عوامی مہم کا آغاز
جموں، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والی 5 جولائی سے پورے مرکز زیرِ انتظام علاقے میں ایک وسیع عوامی مہم شروع کرنے جا رہی ہے۔ یہ مہم طلبا، نوجوانوں، کسانوں اور جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق کے لیے ملک بھر میں چلائے جانے والے احتجاجی پروگرام کا حصہ ہے۔
یہ فیصلہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی سکریٹری دیویا مدیرنا اور جے کے پی سی سی کے ورکنگ پریسیڈنٹ رمن بھلا کی صدارت میں منعقدہ شہری اور دیہی کانگریس کمیٹیوں کے ایک مشترکہ اجلاس میں لیا گیا۔ اس اہم بیٹھک میں ضلع کانگریس کمیٹی (دیہی جموں) کے صدر نیرج کندن، پی سی سی ہیڈکوارٹر انچارج وید مہاجن سمیت بلاک صدور اور سینئر لیڈروں نے شرکت کی۔
اس عوامی مہم کی سب سے اہم خصوصیت ‘طلبا کی گونج’ پروگرام ہے، جو نوجوانوں اور طلبا کے مسائل کو اٹھانے کے لیے کانگریس کی ملک گیر کوششوں کا حصہ ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اکھل بھارتیہ کانگریس کی سکریٹری دیویا مدیرنا نے کہا”کانگریس ان لاکھوں طلبا اور نوجوانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے جن کا مستقبل امتحانی تنازعات کی وجہ سے داؤ پر لگ گیا ہے۔ نیٹ پیپر لیک ملک کے نوجوانوں کی امیدوں کے ساتھ ایک بڑا کھلواڑ ہے اور ہماری یہ مہم بی جے پی حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کرے گی۔”
اس موقع پر جے کے پی سی سی کے ورکنگ پریسیڈنٹ رمن بھلا نے جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاست کا درجہ دینے کی مانگ کو دہرایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایل جی (لیفٹیننٹ گورنر) انتظامیہ اور منتخب حکومت کے درمیان اختیارات کی جنگ (دوہری حکمرانی) نے جوابدہی کو ختم کر دیا ہے اور عوامی فیصلوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام اس وقت بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں، کسانوں کی بدحالی اور بے روزگاری جیسے سنگین چیلنجز سے نبردآزما ہیں، اور 5 جولائی کی مہم حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے ایک مضبوط جمہوری پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر نیرج کندن نے کہا کہ بی جے پی کی پالیسیوں نے نوجوان نسل کا بھروسہ توڑا ہے اور کانگریس انصاف کے حصول تک پرامن اور جمہوری طریقے سے آواز اٹھاتی رہے گی۔ پارٹی قیادت نے تمام سطحوں کے کارکنوں اور عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ زمینی سطح پر عوام کو متحرک کریں اور 5 جولائی کے احتجاجی پروگرام میں زیادہ سے زیادہ عوامی شمولیت کو یقینی بنائیں۔
یواین آئی۔م اع
جموں و کشمیر
امرناتھ یاترا: جموں ایس او جی اور این ایس جی کی مشترکہ ‘موک ڈرل’
جموں، امرناتھ کی سالانہ یاترا کے لیے کیے گئے وسیع حفاظتی انتظامات کے تحت، جموں کے ‘اسپیشل آپریشنز گروپ’ نے ‘نیشنل سیکیورٹی گارڈز’ کے ساتھ مل کر یہاں کے تاریخی رگھوناتھ مندر میں دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ ‘موک ڈرل’ (مستعدی کی مشق) کا انعقاد کیا۔ امرناتھ جی کی سالانہ یاترا تین جولائی سے شروع ہونے جا رہی ہے، جہاں عقیدت مندوں کے پہلے قافلے کو بھگوتی نگر میں واقع یاتری نواس سے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا جائے گا۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ اس مشترکہ موک ڈرل کے دوران ایک انتہائی حساس اور فرضی دہشت گردانہ حملے کا منظرنامہ تیار کیا گیا تھا۔
ترجمان کے مطابق، اس مشق کا اہم مقصد ‘اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز’ کی جانچ کرنا اور کسی بھی ناگہانی سیکیورٹی ایمرجنسی کی صورت میں ایجنسیوں کے درمیان فوری اور مربوط کارروائی کو یقینی بنانا تھا۔یہ ڈرل ان مشترکہ حفاظتی تیاریوں کا حصہ ہے جو جموں بھر کے تمام اہم سرکاری اداروں، تنصیبات اور دیگر حساس مقامات پر منعقد کی جائیں گی۔ اس کا مقصد سیکیورٹی فورسز کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینا اور ممکنہ خطرات کے خلاف حفاظتی نظام کو مزید فول پروف بنانا ہے۔
یواین آئی ۔م ا ع
جموں و کشمیر
بارہمولہ حملے اور امرناتھ یاترا منسوخ ہونے کی جعلی خبر پر ایف آئی آر درج، تحقیقات شروع
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے بارہمولہ میں پولیس تھانے پر دہشت گردانہ حملے، سرکاری دفاتر پر فائرنگ اور وزیر اعلیٰ کی جانب سے شری امرناتھ جی یاترا منسوخ کرنے کی تجویز دیے جانے سے متعلق جعلی خبریں پھیلانے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس نے کہا کہ اس طرح کا من گھڑت اور گمراہ کن مواد جان بوجھ کر پھیلاکر خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنے، امن و امان کو متاثر کرنے اور یاترا کے دوران عوام کے اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
بارہمولہ پولیس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دہشت گردوں نے بارہمولہ کے ایک پولیس تھانے پر حملہ کیا، شہر کے مختلف سرکاری دفاتر پر فائرنگ کی اور وزیر اعلیٰ نے شری امرناتھ جی یاترا منسوخ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
پولیس نے کہا، “یہ تمام دعوے مکمل طور پر جھوٹے، بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔ بارہمولہ میں اس نوعیت کا کوئی دہشت گردانہ حملہ یا فائرنگ کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ اسی طرح شری امرناتھ جی یاترا منسوخ کیے جانے کی خبر بھی سراسر گمراہ کن اور بے بنیاد ہے۔”
پولیس کے مطابق اس قسم کی جھوٹی معلومات کا دانستہ پھیلاؤ خوف و ہراس پیدا کرنے، امن و امان کو خراب کرنے اور شری امرناتھ جی یاترا کے دوران عوام کے اعتماد کو متزلزل کرنے کی ایک منظم کوشش معلوم ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ اس سال شری امرناتھ جی کی سالانہ یاترا 3 جولائی سے شروع ہوگی اور 57 دن جاری رہنے کے بعد 28 اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔
پولیس نے کہا کہ جعلی اور گمراہ کن مواد تیار کرنے، شائع کرنے اور پھیلانے والوں کی شناخت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ افراد بھی کارروائی کی دائرے میں آئیں گے جو جان بوجھ کر ایسی جھوٹی معلومات کو شیئر یا فارورڈ کرکے اس کے پھیلاؤ میں مدد کرتے ہیں۔
بارہمولہ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی غیر مصدقہ یا ناقابلِ اعتماد مواد کو شیئر نہ کریں۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان5 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
تازہ ترین1 week agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
دنیا1 week agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا1 week agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تازہ ترین1 week agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا1 week agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا6 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر5 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
ہندوستان5 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا4 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ






































































































