تازہ ترین
رمضان المبارک کی برکات

سعدیہ شمیم نانپوری
ماہ صیام کے رعنائیوں میں افطار ،سحری ،تراویح ،شامل ہے ۔اس ماہ میں لوگ خشوع اور خضوع کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ۔چنانچہ یہ ایک پاکیزہ ماحول پیدا کرتا ہے ،دوکانیں سجنے لگتی ہیں عبادت گاہ اور مذہبی عمارتوں کو برقی روشنی سے سجایا جانے لگتا ہے ۔عبادت گاہ سے آذانیں بلند ہونے لگتی ہے ۔لوگ اپنی اپنی ٹوپی سمبھالتے ہوئے مسجد کی طرف ڈوڑتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔لوگ نماذی اور پرہیزگار بن جاتے ہیں ۔اپنے اخلاق کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔اس ماہ میں لوگ پرہیزگاری اور تقویٰ اختیار کر لےتے ہیں ۔اور جو لوگ روزے نہیں رکھتے وہ اپنے آپ کو بہتر انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔لوگوں کا ایک مائنڈ سیٹ ہیں کہ ایک دوسرے کو معاف کرنا ،فحش کلامی نہیں کرنا ،دھوکا نہیں دینا جھوٹ نہیں بولنا ،اور تقویٰ اختیار کرنا صرف اسی ماہ میں کیا جاتا ہیں ،جیسے ہی رمضان ختم ہوتا ہے لوگ سب بھول جاتے ہیں ،اور اپنی مادی زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں اور اپنی پہلی روٹین کی طرف بڑھ چلتے ہیں ۔
یہ بات سچ ہے کہ رمضان آتے ہی وہ لوگ بھی نمازی اور پرہیزگار بن جاتے ہیں جو شاید سالوں سے کوسوں دور رہتے ہیں ۔رمضان ایک پاکیزہ مہینہ ہے ۔اس ماہ اللہ رب العزت اپنی رحمتیں وسیع کر دیتے ہے لیکن بدقسمتی سے کم لوگ ہی ہے جو اس رحمت کو سمیٹ پاتے ہیں ۔رمضان کا مہینہ کی برکت ہی ہے جو لوگ اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔لوگ اپنی بساط کے بطابق زکواة اور خیرات کی ادائیگی کرتے ہے۔ رمضان کی شب و روز کی ایک الگ ہی خوبصورتی ہیں ۔یہ ماہ ایک الگ ہی قسم کا سکون بخشتی ہے ۔ہر مسلمان خواہ مرد ہو یا عورت اس ماہ روزے رکھتے ہیں زکواةاور خیرات کے ساتھ ساتھ اپنی سماجی زندگی میں بھی کافی تبدیلیاں لاتے ہیں ۔رمضان کا سما ہی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ لو گوں کے دل کو چھو جاتا ہیں ،اور لوگ اپنے آپ کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اپنے ارد گرد لوگوں کو روزہ رکھتے دیکھتے ہیں تو انکا دل بھی اس طرف مائل ہو تا ہے ۔نماز روزوں کی پابندی دیکھ کر بچے بھی خوش دلی سے روزے رکھتے ہیں ۔ا ب تو سائنسدانوں نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ روزے رکھنا ہمارے ہر طرح سے مفید ہے ۔جو لوگ روزے سے ہوتے ہیں ،ہارٹ اٹیک ،کینسر ،اور دماغی بیماری ہونے کے خطرے کم ہو جاتے ہیں ۔حال ہی میں یوشینوری جاپانی سائنسداں نے دعوی کیا ہے کہ اس نے کینسر کا علاج ڈھونڈ لیا ہے ۔اس نے کہا ہے کہ جو لوگ روزے رکھتے ہیں اس میں کینسر کے کم پائے جاتے ہیں ۔جب ہم بھوکے ہوتے ہیں تو ہمارے جسم کے کوشیکا کمزور ہونے لگتے ہیں اور کی بھوک کی شدت کی وجہ سے ہمارا جسم کمزور کوشیکا کو کھانے لگتا ہے اور ہم میں موجود کینسرکی بیماری ختم ہونے لگتی ہے ۔انہونے کہا ہے کہ کینسر کو ختم کرنے کے لئے بیس سے پچیس دن تک بھوکے رہنا چاہئے ۔لیکن ہمارے اسلام نے ہم پہ پہلے سے ہی روزے فرض کر رکھے ہیں ۔یہ اللہ کا کرم ہی ہے جو اپنی عبادت میں بھی بیماریوںکا علاج رکھا ہے ۔مسلمان پہلے سے ہی اللہ کو راضی رکھنے کے لئے روزے رکھتے ہیں ۔
مگر فکرکرنے کی بات یہ ہے کہ یہ سب صرف چاند رات تک محدود رہتا ہے چاند رات کے بعد سب ختم ہو جاتا ہے ۔ماہ صیام کے بعد وہ اپنی ساری پرہیزگاری بھول جاتے ہے ۔یہ بات سچ ہیں کہ رمضان میں وہ لوگ بھی نمازی اور پرہیزگار بن جاتے جو سالوں قرآن اور مصلی کو ہاتھ تک نہیں لگاتے ۔لوگ اس مہینہ اپنے اخلاق بہتر بنانے کی سونچتے ہیں او راپنی عبادت پر زور دیتے ہیں ۔جو لوگ روزے کی حالت میں ہوتے ہے تبھی اسے غریب اور مفلوک الحال کی بھوک اور تکلیف کو سمجھ پاتے ہے ۔ہمارے یہاں رمضان المبارک میں دینی اور دنیاوی معاملات کو الگ الگ انداز سے دیکھا جاتا ہے۔ماحول ہی کچھ ایسا بن جاتا ہے کہ دل چاہتا ہے کہ روزے رکھوں نمازیں پڑھوں پرہیزگاری کروں جونہی رمضان ختم ہوجاتا ہے دنیاوی زندگی ہم پہ ہاوی ہونے لگتی ہیں ۔ہر جگہ تقریر، اور دینی مسائل ،روزے کے حوالے سے گفتگوں اور دینی باتیں صرف اسی ماہ میں زور و شور سے ہوتی ۔دن گزرتے گزرتے لوگوں کے ذہن سے ساری پرہیز گاری اور اخلاقی اصول نکلتے چلے جاتے ہیں ۔اور اپنی دنیاوی زندگی میں اس قدر مشروف ہوتے ہیں کہ انہیں ایک وقت کے نما ز کے لئے بھی وقت نہیں رہتا ۔ایک بار ثواب کا ذخیرا جمع کر آرام سے بیٹھ جاتے ہیں کی میں نے اپنا کوٹا مکمل کر لیا، اب اگلے سال رمضان تک ، نماز اور باقی عبادتو ں کی پابندی ہوگی ۔دراصل ہم روزے سے ہوتے ہیں تو ہم دماغ میں یہ بات بیٹھا لیتے ہیں کہ جھوٹ نہیں بولنا ،چوری نہیں کرنا ،فحش کلامی نہیں کرنا ہے۔یہ ساری باتیں صرف رمضان تک محدود رہتی ہے بد قسمتی سے عید کے بعد جاری نہیں رکھ پاتے ۔شروع سے ہی ہم دماغ میں بیٹھا لیتے ہیں کہ باقی مہینہ نہ سہی کم از کم رمضان میں خوب نیکیاں اکٹھی کر لی جائے ،اور اپنی گناہوں کا کفارہ دیا جائے ۔اسی سونچ کے وجہ سے ہمارا فوکس رمضان پر ہوتا ہے۔
اللہ رب العزت نے رمضان کو تربیت کا مہینہ قرار دیا ہے ۔اس ماہ اللہ اپنی رحمتیں وسیع کر دیتے ہے ۔اسلام نے اپنے ماننے والو ں کو جن راستوں پر چلنے کا حکم دیا ہے ان میں چند رسومات کی ادائیگی نہیں بلکہ ان سب میں روح اور انسانی جسم کی اصلاح اور بالیدگی کا ایک تصور کار فرما ہے ۔اسلام اس تسلسل کا تقاضا کرتا ہے ۔رمضان کا یہ خوبصورت مہینہ تقویٰ پرہیزگاری اور تزکیہ نفس حاصل کرتا ہیں ۔رمضان کا مقصد ہے اپنے جسم اور روح کا تربیت کرنا ہے ۔اس ماہ اللہ اپنے نیک بندوں پر خاص رحمتیں نازل فر ماتا ہے ۔اور عبادت کے لئے اجر کے معمول سے زیادہ درجات ملتے ہیں ۔اس ماہ مسلمان جھوٹ اور فحش کلامی سے اجتناب کرتے ہیں اور اپنے نفس کو قابو میں کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس ماہ میں اپنی ذاتی او رسماجی زندگی میں کافی تبدیلیاں لے کر آتے ہیں ۔اصل بات یہ ہے کہ ماہ صیام مسلمانو ںکے لئے اخلاقی اور روحانی تربیت کا مہینہ ہے ۔اس لئے مسلمان کو چا ہئے کہ وہ باقی کی زندگی بھی ایسے ہی گزارے جس طرح وہ رمضان کا مہینہ گزارتے ہیں اپنی عبادت کو اپنی پرہیز گاری کو رمضان بعد بھی جاری رکھے ۔
جموں و کشمیر
تازہ بارش کے بعد کشمیر میں بہار جیسا موسم
سری نگر، کشمیر کے کئی علاقوں میں ہفتہ کے روز تازہ بارش ہوئی جس کے باعث پورے خطے میں درجۂ حرارت میں کمی آئی اور جون کے مہینے میں بھی موسم بہار جیسا خوشگوار محسوس ہونے لگا۔
محکمۂ موسمیات، سری نگر کے مطابق کشمیر ڈویژن کے بیشتر مراکز پر زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت معمول سے کم ریکارڈ کیا گیا۔ سری نگر میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 23.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 4.2 ڈگری سیلسیس کم ہے۔
جنوبی کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں درجۂ حرارت 17 ڈگری سیلسیس رہا، جو معمول سے 6.7 ڈگری سیلسیس کم ہے، جبکہ معروف سیاحتی مقام گلمرگ میں درجۂ حرارت 16.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو اوسط سے 2.2 ڈگری سیلسیس کم ہے۔
بارش کے باوجود کشمیر کے کئی علاقوں میں رات کا درجۂ حرارت معمول سے 1 سے 2 ڈگری سیلسیس زیادہ رہا۔ وادی میں سب سے کم درجۂ حرارت گلمرگ میں 9 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف مقامات پر بارش ہوئی، جن میں پہلگام میں 13 ملی میٹر، قاضی گنڈ میں 1.3 ملی میٹر اور گلمرگ میں 1.6 ملی میٹر بارش درج کی گئی۔
محکمۂ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے بعض علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک کے ساتھ آندھی کی پیش گوئی کی ہے۔ اگلے دو روز تک بھی موسم کی یہی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے دوران وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کے ساتھ آندھی چل سکتی ہے۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ سری نگر کا موسم جون کے وسط جیسا نہیں بلکہ اپریل کے آغاز جیسا محسوس ہو رہا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’آج سری نگر کا موسم جون کے وسط کے بجائے اپریل کے ابتدائی دنوں جیسا لگ رہا ہے۔ اگر یہاں یہ حال ہے تو گلمرگ اور پہلگام جیسے مقامات پر یقیناً کافی سردی ہوگی۔‘‘
یو این آئی۔ اے ایم۔
دنیا
ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی، معاہدے پر دستخط چند روز میں ڈیجیٹل طریقے سے ہوں گے، عباس عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اب پہلے کی طرح نہیں ہوگا، ہماری تلوار ہمیشہ اس پر لٹکتی رہے گی اور جب بھی ضروری ہوا ہماری مسلح افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہو جائیں گی۔ انھوں نے کہا معاہدے پر دستخط ڈیجیٹل طریقے سے آئندہ چند روز میں ممکن ہے۔
عباس عراقچی نے کہا آبنائے ہرمز پر عالمی قوانین کے مطابق قانونی نظام نافذ ہوگا، کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا لیکن جہازوں کو دی جانے والی سہولیات کے اخراجات وصول کیے جائیں گے، آبنائے پر نئے قواعد و ضوابط کا نفاذ اگلے 60 دنوں میں کیا جائے گا، تمام جہازوں کو نئے قواعد کے مطابق گزرنا ہوگا، تجارتی اور عسکری بحری جہازوں کے لیے علیحدہ علیحدہ قوانین ہوں گے۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا معاہدے میں 14 نکات ہیں، حتمی شکل دینے کے بعد ایک ایک نکتہ بیان کروں گا، معاہدے کے بعض دشمن بھی ہیں جن میں سرفہرست اسرائیل ہے، اس وجہ سے میڈیا پر اس معاہدے کے نکات ابھی بیان نہیں کروں گا، معاہدے کا وہ متن جو میڈیا پر گردش کر رہا ہے اس کی تصدیق نہیں کرتا، فی الحال امریکی حکام اور ہم نے بھی میڈیا پر زیر گردش نکات کی تصدیق نہیں کی، معاہدے میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک طرف 100 فی صد رضا مند ہو اور دوسرے کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔
عباس عراقچی نے کہا پہلے مرحلے کے وعدوں پر عمل نہ ہوا تو دوسرے مرحلے کی طرف نہیں جائیں گے، ہمیں امریکہ ا میں ایسی مخلوق کا سامنا ہے جو اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتی، امریکی وعدہ خلافیوں کا ہمیں پہلے بھی تجربہ ہے، ان کا راستہ بند کرنا ہوگا، وعدہ خلافی امریکی ذات کا حصہ ہے، یہ عمل درآمد میں ہزاروں مشکلات لاتے ہیں، امریکی وعدوں پر عمل کے دوران ہمیں مختلف تحفظات کی توقع رکھنی چاہیے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا بہت جلد ایران اور عمان مل کر آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے، معاہدے کے مطابق سمندری محاصرے کا مکمل خاتمہ اور ہمارے منجمد اثاثے بحال ہوں گے۔ معاہدے میں آبنائے ہرمز اور محاصرے کا ذکر کیا گیا ہے، ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی مسائل کا ذکر بھی معاہدے میں شامل ہے، مختلف نکات مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں بیان ہوں گے، ایران کے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کا طریقہ کار معاہدے میں شامل ہے۔
انھوں نے کہا ایران کی سیکیورٹی کونسل مذاکراتی عمل سے بخوبی آگاہ ہے، میٹنگز میں یہ موضوعات کئی دفعہ زیر بحث لائے جا چکے ہیں، سیکیورٹی کونسل کی طرف سے مختلف کمیٹیاں مذاکراتی عمل کو دیکھ رہی ہیں، جہاں بھی ضروری ہو وہ سیکیورٹی کونسل کو رپورٹ پیش کرتی ہیں، کونسل میں معاہدے کے متن کے حامی و مخالف افراد موجود ہیں، فیصلہ اجتماعی رائے سے ہوگا اور اس کے بعد اعلان کر دیا جائے گا۔
وزیر خارجہ نے کہا دشمن جب جنگ سے ناامید ہو گیا تو اس نے مذاکرات کی درخواست کی، جنگ شروع کرنے سے پہلے وہ چاہتا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچ سکے، دشمن ہماری استقامت سے ناامید ہو گیا تو اس نے جنگ شروع کر دی، جب جنگ میں بھی دیکھ لیا کہ وہ کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے گا تو پھر ناامید ہو کر اس نے مذاکرات کی درخواست کر دی۔
انھوں نے ایرانی عوام کے عزم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا دشمن سمجھ رہا تھا کہ ایران کو جھکنے پر مجبور کر دے گا لیکن اسے ایرانی افواج اور عوام کا سامنا کرنا پڑا، ہم مسلح افواج، ایرانی عوام کے مرہون منت ہیں جو روز اسکوائر پر آتے رہے، ہمیں تنہا نہیں چھوڑا، کسی قسم کا خلا سفارت کاری اور میدان جنگ میں موجود نہیں، سفارت کاری اور میدان جنگ دونوں ایک ہی ہدف کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں، سفارتکاری اور میدان جنگ کے کمانڈروں کے ساتھ میڈیا اور عوام کا اضافہ ہوا۔
عباس عراقچی نے کہا سفارت کاری کا فریضہ میدان جنگ کی کامیابیوں کو نافذ کرنا ہے، مذاکراتی ٹیم بھی میدان جنگ پر بھروسہ رکھتی ہے اور ہم نے یہی کام انجام دیا ہے، ہم میدان جنگ کے فاتح ہیں، بعض ممالک کے حکام نے مجھے کہا ہم ایران کو اس طرح نہیں پہچانتے تھے، بعض ممالک کے حکام نے کہا ایران نے سب کو حیرت میں ڈال دیا اور زیادہ طاقت کے ساتھ جنگ سے باہر نکلا، میں ان حکام کے نام بھی لے سکتا ہوں جنھوں نے میرے ساتھ یہ باتیں کی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شہید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کی تاریخ کا اعلان
تہران، ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق 4 اور 5 جولائی کو الوداعی مراسم تہران میں مصلیٰ امام خمینی کمپلیکس میں ہوں گے جبکہ شہید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ 6 جولائی کو تہران اور 7 جولائی کو قم میں ادا کی جائے گی اور
جولائی کو شہید سید علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین کی جائے گی۔9
ایرانی میڈیا کے مطابق خامنہ ای 28 فروری 2026 کو تہران میں ان کے کمپاؤنڈ پر ہونے والی شدید بمباری میں شہید ہوئے تھے۔ حملے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا گیا تھا، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے اگلے روز ان کی شہادت کی تصدیق کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق اس حملے کے بعد ایران میں سیاسی اور مذہبی سطح پر اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں اور خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا رہبرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔
چند روز قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ حملے کے روز وہ بھی خامنہ ای کے دفتر میں موجود تھے، تاہم وہ محفوظ رہے۔
واضح رہے کہ خامنہ ای کئی دہائیوں تک ایران کے سب سے بااثر سیاسی اور مذہبی رہنما رہے اور ملکی و علاقائی پالیسیوں میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان5 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی
دنیا5 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
دنیا2 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا5 days agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
جموں و کشمیر6 days agoکریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار





































































































