تازہ ترین
جنگجو تشدد کا راستہ ترک کرکے بہتر مستقبل کیلئے فکر مند رہیں : جنرل بپن راوت

خبراردو: فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے جنگجوؤں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ تشدد اور بندوق کا راستہ ترک کرکے اپنے اہل و عیال کے بہتر اور پرامن مستقبل کیلئے فکر مند رہیں۔
فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے جمعہ کے روز دراس کرگل میں آپریشن وجے کی 20ویں برسی کے موقعے ہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کشمیری جنگجوؤں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ تشدد اور بندوق کا راستہ ترک کرکے اپنے اہل و عیال کے بہتر اور پرامن مستقبل کیلئے تگ و دوکریں۔انہوں نے کہا کہ جنگجوؤں کو چاہیے کہ وہ تشدد اور بندوق کا راستہ چھوڑ کر اپنے اہل خانہ کے بہتر دیکھ بال کیلئے فکر مند رہیں۔کرگل جنگ کے 20سال مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل بپن راوت کا کہنا تھا کہ ”کوئی بھی نوجوان جو اپنے ہاتھوں میں بنددق اُٹھاتا ہے، کسی بھی زاویے سے معصوم نہیں کہلاتا“۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی نوجوان بندوق کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ کسی بھی طور معصوم نہیں کہلائیگا۔
انہوں نے کہا کہ فوج ہر ممکن طریقے سے یہ کوشش کررہی ہے کہ وہ جنگجونوجوانوں کے اہل خانہ کو اعتماد میں لے کر انہیں گمراہ ہوئے نوجوانوں کو واپس مین اسٹریم میں لانے کیلئے مائل کریں۔ہماری یہی کوشش ہے کہ جن نوجوانوں نے بندوق کا راستہ اختیار کیا ہو اہے، ہماری اولین ترجیح انہیں مین اسٹریم میں واپس لانے کی ہے۔ ہم انہیں مارنا نہیں چاہتے۔ہم انسانی زندگیوں کے اتلاف پر خوش نہیں ہوتے بلکہ ہم اس بات کیلئے فکر مند رہتے ہیں کہ کس طرح جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہوئے نوجوانوں کو واپس لایا جائے۔ اس حوالے سے فوج سیول سوسائٹی، مذہبی مبلغین، والدین اور جنگجوؤں کے بچوں کے ساتھ رابط رکھے ہوئے ہیں تاکہ ان کے ذریعے سے تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے نوجوانوں کو واپس قومی دائرے میں لایا جائے۔جنگجوؤں کی صفوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بھرتی سے متعلق فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کا کہنا تھا کوئی ماں باپ یہ نہیں چاہے گا کہ اُن کا بیٹا پی ایچ ڈی مکمل کرکے جنگجو بن جائے۔ والدین نوجوانوں نے اس غرض کیلئے تعلیم فراہم کرتے ہیں تاکہ بڑھاپے کی عمر میں بچے اُن کا سہارا بن سکیں تاہم یہاں حالات قدرے مختلف ہے۔ یہاں پر نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بندوق اور تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں جو کہ ایک تشوشناک معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ فوج عوام کیساتھ رابطہ بڑھانے کیلئے مختلف سطحوں پر کام کررہی ہے جن میں سوشل میڈیاایک اہم ذریعہ ہے۔
فوج سوشل میڈیا پر مختلف مہمات چلاکر عوام کیساتھ رابطہ بڑھانے میں لگی ہوئی ہے۔ ہم نے مقامی نوجوانوں کو تشددکے راستے سے دور رکھنے کی خاطر مختلف مسابقتی امتحانات کیلئے تربیتی کلاسز شروع کئے جن میں این ای ای ٹی امتحانات شامل ہیں۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر میں ثالثی کی پیش کش پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر معاملے کا بین الاقوامی برادری کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر اور بین الاقوامی برادری دو الگ الگ چیزیں ہیں جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے کیوں کہ بین الاقوامی برادری نے پڑوسی ملک پاکستان کو مکمل طور پر الگ تھلک کرکے رکھ دیا ہے۔
انہوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ پاکستان اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ وہ دراندازوں کو کشمیر بھیج کر معاملے کو گرم رکھے۔ لائن آف کنٹرول پر ہر وقت دراندازی ہوتی رہتی ہے تاہم یہاں تعینات فورسز اہلکاروں کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں درانداز یا تو واپس پاکستان کی جاجب دھکیل دئے جاتے ہیں یا پھر کارروائی کے دوران مارے جاتے ہیں۔پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی بحالی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی معاملہ ہے اور اس پر سیاسی سطح کا ہی فیصلہ لیا جانا مقصود ہے۔ اس معاملے میں ہمیں حکومت کے فیصلے کا ہی انتظار کرنا ہوگا کہ کس طرح سے پاکستان زیر انتظام کشمیر کو اس والے کشمیر کیساتھ ضم کیا جائیگا۔
انہوں نے بتایا کہ 1947میں جب پاکستانی دراندازوں نے یہاں کے کشمیر پر قابض ہونا چاہا تاہم انہیں یہاں سے واپس دھکیلا گیا جس کے نتیجے میں کشمیر کا کچھ حصہ اُن کے پاس رہ گیا جسے ”پاکستانی مقبوضہ کشمیر“ کہا جاتا ہے۔
دنیا
ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، ضرورت پڑی تو پھر حملہ کریں گے: نیتن یاہو
تل ابیب، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل ایران پر دوبارہ حملہ کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔ گزشتہ روز اسرائیلی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ہم نے خود کو ایرانی ایٹمی بموں کے خطرے سے محفوظ بنایا ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان، پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) 18 جون سے نافذ العمل ہو چکی ہے۔
اس دستاویز پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکٹرانک دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تنازع کے خاتمے اور باقی ماندہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس میں جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کی بحالی اور وسیع تر علاقائی سلامتی سے متعلق امور شامل ہیں۔ اسرائیل متعدد مواقع پر تہران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی مخالفت کا اظہار کر چکا ہے اور ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک ایران مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا: قالیباف
تہران، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک ایران مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے جاری موجودہ ملاقاتوں کا مقصد ایم او یو کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ لبنان،ایران،امریکہ، لبنان میں جنگ کے خاتمے کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کریں گے۔
اسپیکر باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز سے بغیر کسی لاگت کے گزرنے کی اجازت صرف 60 دن کے لیے ہوگی، ایران آبنائے ہرمز میں اپنے حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر خودمختاری ایران اور عمان کی ہے، آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت انہی انتظامات کے مطابق ہوگی جو ایران مقرر کرے گا۔
باقر قالیباف نے کہا کہ بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد سے ایران 40 ملین سے زائد بیرل تیل برآمد کر چکا ہے، اگر امریکہ ایران کو تیل فروخت کرنے سے روکنے کا ارادہ رکھتا ہے تو پھر کوئی بھی تیل سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اب اپنا تیل پہلے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایرانی سپریم لیڈر کی اپنے والد آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں شرکت پر تذبذب برقرار
تہران، شہید رہبر اعظم آیت اللہ خامنہ کے جنازے میں ان کے بیٹے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی شرکت سے متعلق بڑی خبر سامنے آئی ہے۔
امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین 9 جولائی کو ہوگی۔
اس سے قبل ایران کے تین شہروں میں ان کی نماز جنازہ ہوگی، جس میں دنیا بھر سے سربراہان مملکت اور حکام شرکت کریں گے۔
تاہم ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ میں ان کے بیٹے اور ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شرکت کریں گے یا نہیں، یہ بات اب تک معمہ بنی ہوئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔
تہران میں موجود اے آر وائی نیوز کے نمائندے سید حسن رضا نقوی کے مطابق 28 فروری کو جس طرح رہبر اعظم آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا واقعہ ہوا، اس کے بعد سپریم لیڈر کے سیکیورٹی پروٹوکول بالکل بدل گئے ہیں۔
نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق اب تک جتنے بھی حکومتی آفیشلز صدر پزشکیان و دیگر جنہوں نے مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے یہی بتایا ہے کہ اب تک سپریم لیڈر نے واضح نہیں کیا جب کہ ان کے پروٹوکولز افسران انہیں ابھی عوام کے سامنے نہیں لانا چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک حکومت کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا ہے، اس لیے بہت کم امکان ہے کہ اس موقع پر وہ عوام کے سامنے آئیں۔
دوسری جانب شہید رہبر اعظم آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ اور سوگ کی تقریبات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ ایران کے تین شہروں تہران، قم اور مشہد میں شہید رہبر، ان کی بیٹی، بہو، داماد اور نواسی کی نماز جنازہ ہو گی۔
4 جولائی سے شروع ہونے والی سوگ تقریبات کا اختتام 9 جولائی کو مشہد میں رہبر شہید کی امام رضا کے مزار کے احاطے میں تدفین کے ساتھ ہو جائے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان2 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا6 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا6 days agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
ہندوستان4 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
دنیا6 days agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر






































































































