تازہ ترین
جولائی1931:یوم شہدائے کشمیر، مزارشہداء سیل ،گلباری تقریب پرقدغن

خبراردو:-
جموں وکشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر کوئی تقریب منعقد نہیں ہوئی ،کسی کو بھی مزار پر حاضری دینے اجازت نہیں ملی
سرینگر:13جولائی1931کوفائر نگ کے ایک واقعے میں جاں بحق کئے گئے22کشمیریوں سے منسوب ’’یوم شہداء کشمیر ‘‘ کے موقع پر جموں وکشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سر کاری سطح پرکسی طرح کی تقریب منعقد نہیں ہوئی ،جس دوران مزار شہداء کو چہار سو سیل کیا گیا جبکہ ورثاں کے علاوہ مین اسٹریم لیڈرا ن کو بھی مزار شہدا واقع خواجہ بازار سرینگر پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق 13جولائی1931 کو سرینگرکی مرکزی جیل کے باہر فائرنگ کے ایک واقعے میں جاں بحق ہونے والے 22 کشمیریوں کی یاد میں ہر سال کشمیر میں ’یوم شہدا‘ منایا جاتا ہے ۔ دلچسپ بات ہے کہ یہ دن علیحدگی پسند اور مین اسٹریم دونوں خیمے بڑے اہتمام سے مناتے ہیں ۔
تاہم جموں وکشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ’یوم شہدائے کشمیر ‘ کے حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی تقریب منعقد نہیں ہوئی ۔ اس سلسلے میں آخری بار 13جولائی2019کو سرکاری سطح پر تقریب منعقد ہوئی تھی اور اُس وقت سابق ریاست جموں وکشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک کی سربراہی والی انتظامیہ میں یہ تقریب منعقد ہوئی تھی ،جس دوران متعدد مشیروں نے مزار شہداء پر جاکر شہداء کے کتبوں پر گلباری کرکے خراج پیش کیا تھا ۔ جموں و کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار13جولائی یعنی’یوم شہدا‘کے موقع پر کسی بھی طرح کی سرکاری تقریب کا انعقاد نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس دن تعطیل کا ہی اعلان کیا گیا ۔
1948کے بعد پہلی مرتبہ اس طرح کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ 13جولائی کے موقع پر جموں و کشمیر میں سرکاری تعطیل ہوا کرتی تھی ۔ تاہم اس بار یہ چھٹی بھی منسوخ کردی گئی ۔ جموں و کشمیر انتظامیہ کے ایک افسر کے مطابق گزشتہ برس دسمبر کے مہینے میں رواں سال کے لیے چھٹیوں کا کیلنڈر شاءع کیا گیا تھا ۔ اس کیلنڈر میں یوم شہدا،13جولائی اور جموں کشمیر کے سابق وزیر اعظم،شیخ محمد عبداللہ کے یوم پیدائش5دسمبرکی اہم ترین چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں ۔ اب ایسے میں 13جولائی کے دن چھٹی یا کسی بھی قسم کی تقاریب کا انعقاد کیسے ممکن ہے;238; ۔ گزشتہ برس جب سرکاری چھٹیوں کا اعلان کیا گیا تھا، تب13جولائی اور5دسمبر کی چھٹی منسوخ کیے جانے کی وجہ سے وادی کے متعدد سیاستدانوں نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔
انہوں نے انتظامیہ کے اس فیصلے کی شدید مذمت بھی کی تھی ۔ سرکاری تعطیلات کی فہرست میں 26اکتوبر کو شامل کیا گیا ہے، یہ وہ دن ہے جس دن مہاراجہ ہری سنگھ نے1947 میں بھارت کے ساتھ’انسٹورمنٹ ;200;ف ایکسیشن‘یعنی مشروط الحاق پر دستخط کیے تھے ۔ یوم شہداء کشمیر کے موقع پر شہر خاص میں پابندیاں وبندشیں سخت کردی گئی تھیں جبکہ مزار شہداء کی طرف جانے والے راستوں کو خاردار تاروں سے سیل کیا گیا اور مزار شہداء کے باہر پولیس وفورسز کی باہر نفری تعینات کی گئی تھی ۔ نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکرٹک پارٹی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ نے13جولائی کے دن کو یوم شہدا قرار دیا تھا ۔ انہوں نے ڈوگرہ حکومت کے مظالم کے خلاف ;200;واز اٹھانے والے22شہدا کی یاد میں اس دن کو منانے کا فیصلہ کیا تھا ۔
اس کے بعد1948سے گزشتہ برس تک13جولائی کو سنہ1931کے سانحہ میں شہید ہونے والے شہدا کو یاد کیا جاتا ہے اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے ۔ نےشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ و موجودہ ممبر پارلیمنٹ ،ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ےوم شہدائے جموں و کشمےر کے اہم اور تارےخی موقعہ پراپنے پےغام مےں کہا ہے کہ شہدائے کشمےر کی دی ہوئی قربانےوں کی روشنی مےں ہمےں اپنے مستقبل کیلئے عزم اےثار اور بے لوث خدمت کا اعلیٰ معےار قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا’ آزادی سے قبل شخصی راج کے خلاف جدجہد مےں عوام نے بے پناہ ہمت اور جوانمردی کا مظاہرہ کےا تھا اور ےہ قربانےاں اُسی جذبے کی علامت ہےں اور ےہ تارےخ حرےت کشمیر کا اےک عظےم ورثہ ہےں ۔ اُن کے خون کا اےک اےک قطرہ ہماری خودداری ، آزادی اور آبرو کا ضامن ہے ۔ ےہ خون ہم پر اےک قرض ہے ۔
شہیدوں نے ہماری راہوں کو آسان بنادےا تھا اور ہماری تنظےم نےشنل کانفرنس اِن ہی قربانےوں کی پےداوار ہے اور اِس تنظےم کے جھنڈے تلے ےہاں کے عوام قربانےوں کے اِس مسلسل عمل کو جاری رکھے ہوئے ہےں ۔ ‘پارٹی کے نائب صدر صدر اور جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے پےغام مےں کہا ہے کہ شہےدوں کی قربانےوں کی وجہ سے ہی رےاست جموں وکشمےر کے عوام کو جمہوری حقوق نصےب ہوئے ہےں ۔ اُن کی ترقی کیلئے نئی راہےں کھل گئی ہےں ۔ 13جولائی 1931کے شہداء کو خراج ِ عقیدت پیش کرتے ہوئے جموں وکشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ اِس دن کو جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک سنگ میل کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جس سے خطہ میں جمہوریت اور سماجی انصاف کےلئے جدوجہد کا آغاز ہوا ۔ ایک بیان میں بخاری نے کہاکہ13 جولائی کو جانیں نچھاور کرنے والے ہیروز اپنی بہادری اور انسانی اقدار کی بالادستی کے لئے ہمارے لوگوں کی یادوں پر قائم ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے کا بنیادی حصہ ہے ۔
پی ڈی پی ،پیپلز کانفرنس ،پیپلز مءومنٹ سمیت دیگر سبھی مین اسٹریم جماعتوں نے 13جولائی1931کے شہدائے کشمیر کو خراج پیش کرتے ہوئے کہا ’ان کی شہادت نے لوگوں کے ساتھ نا انصافیوں اور ظلم و ستم کے خلاف طویل جدوجہد کا آغاز کیا تھا، جو استبدادی حکمرانوں کے ہاتھوں ہوا تھا‘ ۔ کل جماعتی حریت کا نفرنس (ع) نے بھی اپنے ایک بیان میں شہدائے کشمیر کو یاد کرتے ہوئے اُنہیں شاندار خراج عقیدت پیش کیا ۔ یاد رہے کہ 13 جولائی 1931ء کو ڈوگرہ فوج نے سرینگر کی مرکزی جیل کے باہر نہتے کشمیریوں پر گولی چلائی تھی، جس کے نتیجے میں 22 شہری جاں بحق ہوئے تھے ۔
یہ لوگ ایک غیر مقامی شخص عبدالقدیر خان پر بغاوت کے الزام میں چلائے جانے والے’ان کیمرہ‘ مقدمے کے سلسلے میں جیل کے باہر جمع ہوئے تھے ۔ عبدالقدیر نے جو کشمیر کی سیاحت پر آئے ہوئے ایک برطانوی شہری کے ساتھ خانساماں کے طور پر سرینگر آیا ہوا تھا، شہر کی خانقاہِ معلیٰ میں منعقدہ جمعے کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کو مہاراجہ کی حکومت کے ’ظلم و جبر‘ کے خلاف اْٹھ کھڑے ہونے کے لیے کہا تھا ۔ سرینگر کی مرکزی جیل کے باہر پیش آنے والے خونریزی کے واقعے کے پس منظر میں 13 جولائی کو یومِ شہدائے کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے ۔
دنیا
ایران کا امریکہ کو دوبارہ انتباہ، آبنائے ہرمز میں مداخلت پر فوری جواب کی دھمکی
تہران، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی امریکی مداخلت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، یہ بیان دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ تکنیکی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ ایران اپنے دشمنوں، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غلطی نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جبکہ تمام بحری جہاز تہران کی جانب سے مقرر کردہ سمندری راستے استعمال کرنے کے پابند ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق علی عبداللہی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں امریکی موجودگی خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی سرزمین کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کارروائی یا خطرے کی صورت میں ایرانی مسلح افواج بھرپور جواب دیں گی۔
ایرانی کمانڈر نے سابق رہبرِ انقلاب علی خامنہ ای کی دفاعی حکمت عملی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں نمایاں پیش رفت کے ساتھ اپنی قومی سلامتی کو مضبوط بنایا ہے۔
یہ انتباہ دوحہ میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو روزہ تکنیکی بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے، جسے دونوں جانب سے مثبت قرار دیا گیا تھا۔
قطر اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور جلد متوقع ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ جب تک ناگزیر نہ ہو، امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی نہیں کرے گا، جبکہ واشنگٹن کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو بغیر کسی رکاوٹ یا فیس کے یقینی بنانا ہے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر سال بھر پروگرام منعقد کریں گے ہندوستان اور جاپان
نئی دہلی، ہندوستان اور جاپان اگلے سال سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر ‘انڈیا-جاپان ایئر آف شیئرڈ ہورائزنز’ منائیں گے۔
وزارت خارجہ نے جمعرات کو بتایا کہ دونوں ممالک نے اسٹریٹجک، ثقافتی، اقتصادی، سائنسی اور عوامی تعلقات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے سال بھر مختلف پروگرام منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان پروگراموں میں انڈیا-جاپان ویک (28 اپریل 2027 سے)، نوجوانوں پر مبنی ثقافتی تبادلہ، منگا-اینیمی-گیمنگ شراکت داری، پالیسی مذاکرات (شیئرڈ فیوچر-75)، آرٹ اینڈ کلچر پروگرام، بدھ مت یاترا پہل، کھیلوں میں تعاون، تجارت اور علاقائی شراکت داری نیز لوپیکس قمری مشن سمیت سائنس اور ٹیکنالوجی کے تعاون کو فروغ دینے والے اقدامات شامل ہیں۔
دونوں ممالک نے کہا ہے کہ یہ تقریبات دونوں ممالک میں بڑے پیمانے پر ہوں گی اور ان میں نوجوانوں کی سرگرم شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
جاپان کی ‘موگامی’ پیشکش: اسٹریٹجک موقع یا مقامی بحری منصوبوں سے توجہ ہٹانے کی کوششَ
نئی دہلی، جاپان نے ایشیا میں اپنے اہم ترین اسٹریٹجک شراکت دار ہندوستان کو جدید ‘موگامی کلاس’ اسٹیلتھ فریگیٹ کی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی پیشکش کی ہے اس پیشکش کے تحت جنگی جہاز کے ڈیزائن اور پروڈکشن کے مکمل حقوق بھی ہندوستان کو دیے جائیں گے یہ تجویز، جس پر دونوں ممالک کے حکام گزشتہ کچھ عرصے سے غور و خوض کر رہے ہیں، ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپانی وزیر اعظم تاکائیچی نے جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔
تاہم، ہندوستانی دفاعی منصوبہ سازوں کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ یہ تجویز ہندوستان کے نیول ماڈرنائزیشن کے ایک نازک موڑ پر آئی ہے۔ ہندوستانی بحریہ پہلے ہی ‘پروجیکٹ 17اے’ کے ذریعے مقامی جنگی جہازوں کے ڈیزائن میں خطیر سرمایہ کاری کر چکی ہے، جس کے تحت کئی ‘نیلگیری کلاس’ اسٹینتھ فریگیٹس زیر تعمیر ہیں۔ بحری انٹیلی جنس کے سابق ڈائرکٹر کموڈور رنجیت رائے (ریٹائرڈ) نے یو این آئی کو بتایا کہ ہندوستان مستقل طور پر اپنے مقامی پروجیکٹ 17اے فریگیٹس کی صلاحیتوں کو بڑھا رہا ہے اور اسے بیرون ملک سے جنگی جہاز درآمد کرنے کی بہت کم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ان کی صلاحیتیں کچھ بھی ہوں، اس مرحلے پر فریگیٹس درآمد کرنا ہمارے پروڈکشن پلانز کو متاثر کرے گا اور ملک کی مقامی جہاز سازی کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچائے گا۔”
تاہم، سفارتی اور تزویراتی نقطۂ نظر سے جاپان کی یہ پیشکش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹوکیو اب اپنے جدید بحری جنگی پلیٹ فارم برآمد کرنے کے لیے تیار ہے اور ہندوستان کو طویل مدتی تزویراتی مینوفیکچرنگ شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اگر اسے قبول کر لیا جاتا ہے تو ہندوستان کے جہاز ساز ادارے جیسے کولکاتہ میں قائم ‘گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز’ یا ممبئی کا ‘مزاگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ’ مقامی طور پر جاپانی ڈیزائن کردہ فریگیٹس تیار کر سکتے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق، اس معاہدے میں بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کی منتقلی، ڈیزائن کی ملکیت اور ہندوستان کے ‘برہموس’ سپرسونک کروز میزائل جیسے ہتھیاروں کا سسٹم شامل کرنا ممکن ہو سکے گا۔
انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز کے سابق سینئر فیلو راجارام پانڈا کے مطابق “جاپان کی یہ پیشکش اس لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے کہ یہ ٹوکیو کی دفاعی برآمدی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کئی دہائیوں تک جاپان نے فوجی سازوسامان کی برآمد پر تقریباً مکمل پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔”
اسٹرے ٹیجک اعتبار سے یہ پیشکش ہند۔ بحرالکاہل خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے بحری اثر و رسوخ کے تناظر میں نئی دہلی اور ٹوکیو کے امن و استحکام برقرار رکھنے کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔ دونوں ممالک علاقائی سلامتی میں بحری تعاون کو کلیدی اہمیت دیتے ہیں، جب کہ جدید ‘اسٹیلتھ فریگیٹس’ کی مشترکہ تیاری سے نہ صرف دفاعی تعاون کو نئی جہت ملے گی بلکہ دفاعی صنعت میں باہمی انضمام بھی مضبوط ہوگا، جو مشترکہ فوجی مشقوں اور سفارتی ہم آہنگی سے کہیں آگے کی پیش رفت ہوگی۔
تاہم، دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ہی جدید اسٹینتھ فریگیٹس ہیں، لیکن موگامی اور نیلگیری کلاسیز کو مختلف آپریشنل حکمت عملیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
پروجیکٹ 17اے کے تحت تیار کردہ ہندوستانی نیلگیری کلاس اسٹینتھ فریگیٹ، جیسے کہ ‘آئی این ایس تاراگیری’ جسے دو ماہ قبل بحریہ میں شامل کیا گیا تھا، بنیادی طور پر بھاری بھرکم ہتھیاروں سے لیس ایک کثیر المقاصد جنگی جہاز ہے، جسے بحری تجزیہ کار “پاکٹ ڈسٹرائر” کہتے ہیں۔
تقریباً 6,670 ٹن وزنی یہ اسٹیلتھ جنگی جہاز 32 باراک-8 فضائی دفاعی میزائلوں اور آٹھ برہموس سپرسونک کروز میزائلوں سے لیس ہے۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ جدید ایم ایف-اسٹار راڈار اور اینٹی سب میرین وارفیئر نظام سے آراستہ یہ مقامی جنگی جہاز طویل المدت اور شدید بحری جنگی کارروائیوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس کے برعکس جاپانی موگامی کلاس فریگیٹ وزن میں کم (تقریباً 5,500 ٹن) اور زیادہ آٹومیٹڈ ہے، جس کے لیے نیلگیری کلاس کے 226 عملے کے مقابلے میں صرف 90 اہلکاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکام نے بتایا کہ ” جاپان یا دیگر مغربی ممالک کے برعکس ہماری بحریہ میں تربیت یافتہ افرادی قوت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس لیے صرف آٹومیشن ہمارے لیے بہت بڑا پلس پوائنٹ نہیں ہے، حالاں کہ ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جہاں جاپانی جہاز ہمارے مقابلے میں آگے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کے موگامی کلاس فریگیٹس کا راڈار سگنیچر (راڈار کی نظروں سے بچنے کی صلاحیت) ہمارے جہاز سے زیادہ بہتر ہے، لیکن اسے مستقبل کے ماڈلز میں ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔” ہندوستان نے ہمیشہ ایسے بھاری ہتھیاروں سے لیس جہازوں کو ترجیح دی ہے، جو دشمن کے پانیوں میں آزادانہ طور پر کام کر سکیں، جبکہ “جاپان نے ایسے انتہائی خودکار اور لچکدار پلیٹ فارمز پر توجہ مرکوز کی ہے جو افرادی قوت کی ضرورت کو کم کرتے ہوئے کارکردگی کو بڑھاتے ہیں”۔
حکام کا کہنا ہے کہ جاپان کی یہ پیشکش ہندوستان کے مقامی بحری جہاز سازی پروگرام کے حوالے سے بھی اہم سوالات پیدا کرتی ہے۔ ان کے مطابق، “پروجیکٹ 17اے جدید جنگی جہازوں کے ڈیزائن اور تیاری میں ملک کی کئی دہائیوں کی مہارت کا مظہر ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان اب غیر ملکی ڈیزائن پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی سطح پر جدید جنگی جہاز تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، جن میں ملکی اور بین الاقوامی ٹیکنالوجیز کا امتزاج موجود ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کسی نئی غیر ملکی فریگیٹ کلاس کو شامل کرنے سے نہ صرف الگ لاجسٹک اور دیکھ بھال کا نظام قائم کرنا پڑے گا بلکہ عملے کی تربیت اور سپلائی چین کا نیا ڈھانچہ بھی تشکیل دینا ہوگا۔ اگرچہ ان جنگی جہازوں کی تیاری ہندوستان میں ہوگی، تاہم، جاپانی ساختہ پرزوں اور مخصوص ٹیکنالوجی پر طویل المدت انحصار برقرار رہے گا۔ حکام کے مطابق ہندوستانی شپ یارڈز اس وقت ڈسٹرائرز، فریگیٹس، آبدوزوں اور طیارہ بردار جہازوں سمیت کئی اہم منصوبوں پر بیک وقت کام کر رہے ہیں، اس لیے غیر ملکی ڈیزائن کے لیے پیداواری صلاحیت مختص کرنے سے مقامی بحری پروگراموں کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، الا یہ کہ اس عمل کی انتہائی محتاط منصوبہ بندی کی جائے۔
یو این آئی۔ م ع
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان4 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر6 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا4 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت






































































































