پاکستان
مندر کے رکھوالے مسلمان

تین ہزار سال پرانا ایک مندر صوبہ خیبر پختونخواہ کے مانسہرہ شہرسے تقریباﹰ 15 کلومیٹر کے فاصلے پر چٹی گیٹی گاؤں میں واقع ہے۔ گاؤں میں کوئی ہندو آباد نہیں مگر مقامی مسلمان اس مندر کی رکھوالی کرتے ہیں۔
خبراردو:-
مسلمانوں کو کوئی مسئلہ نہیں
مندر کے قریب رہائش پذیر علی احمد خان اور ان کی اہلیہ نورین خان نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے بتایا کہ مقامی افراد کو مندر یا ہندوؤں کی عبادات سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہاں پاکستان کے دیگر شہروں سمیت دنیا بھر سے پوجا کے لیے آنے والے ہندوؤں کی مہمان نوازی کی جاتی ہے،”ہمیں فخر ہے کہ ہمارے علاقے کے لوگ مذہبی انتشار، ذات پات سے بالاتر ہوکر ہندوؤں کی مذہبی عبادت گاہ کے تحفظ میں کردار ادا کر رہے ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ مقامی لوگوں کا حکومت سے مطالبہ رہا ہے کہ علاقے میں گیس کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ سردی کے موسم میں آنے والی ہندو مہمانوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے،” خوش آئند بات یہ ہے کہ مندر کی دیکھ بھال کے لیے مسلمان بھی چندہ جمع کرتے ہیں اور دیگر طریقوں سے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔‘‘
عمارت
مندر کی عمارت دو منزلہ ہے۔ گراؤنڈ فلور بنیادی طور پر بند ہے جبکہ بالائی منزل پر ایک ہال ہے اور اس میں تراشا ہوا سفید شیو پتھر موجود ہے، جسے ہندوشیو لنگم کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہندوؤں کے دیگر دیوتا جن میں گنیش دیوتا، شیو دیوتا، نندی جی اور مختلف مورتیوں کے پوسٹر دیوار پر آویزاں ہیں تاہم شیو لنگم ہال کے بیچ میں شیشے کے کمرے میں موجود ہے۔
آثار قدیمہ کی تحقیق کے مطابق مندر کے اندر شیو پتھر بہت قدیم ہے۔ مندر کو سن 1830 کی دہائی میں جموں کے راجہ نے عقیدت کے طور پر بحال کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد کچھ لوگوں نے مندر پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد مندر کو سیل کر دیا گیا تھا۔ سن 1998 تک ہندوؤں کو اس مندر تک رسائی حاصل نہیں تھی۔ اسی برس ہندوؤں نے اس مندر کو دوبارہ حاصل کر لیا تھا۔
نگران درشن لال
شیو مندر کے انتظامی امور کے نگران درشن لال نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندو ہونے کی وجہ سے کبھی کسی مسلمان بھائی سے کوئی تکلیف نہیں ملی،”مندر کی بحالی میں مقامی لوگوں کا کردار بہت مثبت رہا ہے۔‘‘ مندر میں ایک پنڈت جے پرکاش بھی ہیں مگر تہواروں کے موقع پر دس سے پندرہ پنڈت یہاں موجود ہوتے ہیں۔ مندر کی تاریخ کے بارے میں بتاتے ہوئے درشن لال نے کہا مندر میں موجود شیو لنگم ہزاروں سال پرانا ہے اور ابھی بھی اسی حالت میں موجود ہے، ”کئی سال پہلے جب بھارت میں بابری مسجد کو منہدم کیا گیا تو لوگوں نے شیو لنگم پر حملہ کیا تھا جس کے نشانات لنگم کے اوپر اب بھی موجودہ ہیں مگر اس کے بعد کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ ‘‘
وزیر اعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے اقلیتوں کو حقوق فراہم کرنے میں خاصی توجہ دی ہے۔ ان کے بقول، دوسرے کے مذہب کا احترام کرنے اور جان ومال کو تحفظ دینےسے ہی اچھا معاشرہ قائم رہ سکتا ہے۔ مذہبی انتشار پھیلانے سے نفرت پروان چڑھتی ہے۔‘‘
کئی سالوں تک یہ مندر بوسیدہ حالت میں توجہ کا طلب گار رہا۔ اطلاعات کے مطابق 2016 ء میں ہزارہ یونیورسٹی کے طلباء نے شیو مندر کی بحالی کے لیے ایک منصوبہ شروع کیا۔ اس دوران پاکستان یوتھ چینج ایڈووکیٹس، ڈائریکٹوریٹ آف آثار قدیمہ، عجائب گھر اور وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے تعاون سے بحالی کا کام کیا گیا۔ اس موقع پر عمارت کی تزئین و آرائش و صفائی ستھرائی کی گئی اور پینٹنگ، کوڑے دان اور لائٹیں وغیرہ لگائی گئیں۔ حکومتی سرپرستی میں شروع کیے جانے والے اس پروجیکٹ کا مقصد یہ تھا کہ ملک کے اندر اور بیرون ملک سے آنے والے یاتریوں کو رسومات ادا کرنے میں مشکلات کاسامنا نہ کرنا پڑے، خطے میں امن اور رواداری کے جذبات کو فروغ ملے اور بین الااقومی سطح پر بھی ملک کی بارے میں مثبت تاثر اجاگر ہو۔
پانی کے چشمے کی گفا
درشن لال نے مندر سے جڑی پانی کی گفا (غار) کے بارے میں بتایا کہ جب لنگم پر حملہ کیا گیا تو گفا سے ناگ دیوتا لنگم کی حفاظت کے لیے نمودار ہوئے اور آج تک ناگ دیوتا رات کے اوقات میں مندر کی حفاظت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مندر سے تقریبا تین سو میٹر کے فاصلے پر موجودہ اس گفا سے قدرتی پانی زمین سے آتا ہے جس میں ناگ دیوتا رہتے ہیں۔
ایک مقامی شہری محمد نواز نے بتایا کہ بزرگوں سے انسانی شکل کے سانپ کے بارے میں سنا تو ہے مگر کبھی دیکھا نہیں ہے۔ گفا کے چشمہ کا پانی شفاف ہے، جسے جلد کی بیماریوں اور ہاضمے کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ہندو یہاں پوجا کے لیے آتے ہیں، ناگ دیوتا کے لیے دودھ رکھنے کی رسم کرتے ہیں اور گفا کے پانی کو بہت مقدس مانتے ہیں جبکہ مسلمان یہ پانی پینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔(قومی آواز)
پاکستان
پاکستان کے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے، 29 دہشت گرد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان نے افغانستان کے مشرقی علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنا کر فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں کی ہیں۔
حکام کے مطابق یہ کارروائیاں پاکستان کی سرحد کے اندر ہونے والے مہلک حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔ کاروائیوں کے نتیجے میں 29 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ “پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں تین اہداف کو انتہائی درست فضائی حملوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا ہے”۔ تارڑ کے مطابق یہ فضائی حملے ایک وسیع آپریشن کا حصہ تھے جس میں پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔
انہوں نے کہا ہےکہ اس آپریشن کا ہدف جماعت الاحرار تھا جسے عموماً تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا ہےکہ رات کے وقت کی جانے والی یہ کارروائی کراچی میں ہفتے کے روز ہونے والے اور تین نیم فوجی اہلکار وں کی ہلاکت کا سبب بننے والےحملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سرحدی صوبوں میں حالیہ پُرتشدد واقعات بھی اس کارروائی کا سبب بنے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے حکام کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اتوار کے روز پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی آپریشن کیا جس کے بعد دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر “انتہائی درست حملے” کیے گئے، جن میں 29 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ پاکستان نے رواں مہینے کے آغاز میں کئے گئے حملے سمیت حالیہ مہینوں میں افغانستان کے اندر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحد اکتوبر میں تشدد میں اضافے کے بعد سے بڑی حد تک بند ہےاور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بھی معطل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا
اسلام آباد،جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں اور تیسری عالمی جنگ کے بادل چھٹ گئے، پاکستان جمعہ 19 جون 2026، کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب کی میزبانی کرے گا وزیر اعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ تقریب میں شرکت کریں گے، وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا، عظیم کامیابی پر مؤرخ پاکستان کا نام سنہرے حروف سے لکھے گا۔
شہباز شریف نے پیر کے روز کہا ہم بالآخر آنے والے جمعہ کو جنیوا میں امن معاہدے پر دستخط ہوتے دیکھنے جا رہے ہیں۔
انھوں نے پیر کی صبح اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور گہری مذاکراتی کوششوں کے بعد ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان 8 اپریل کو جنگ بندی کرانے میں کامیابی کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اور اب فریقین کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت الیکٹرانک طور پر دستخط بھی ہو گئے ہیں، اور امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی بھی ختم کر دی ہے جس کے سبب ایرانی تیل بردار بحری جہاز گزرنا شروع ہو گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
آئندہ 24 گھنٹے میں امریکہ ایران معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کی توقع : وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد ، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران امن معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں، حتمی شکل آئندہ 24 گھنٹے میں متوقع ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے کے حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا کہ فریقین امن معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں اور اگلے 24 گھنٹوں میں اسے حتمی شکل دیے جانے کا قوی امکان ہے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ جیسے ہی اس امن معاہدے کو حتمی شکل ملے گی، پاکستان فوری طور پر اس پر دستخط کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
وزیراعظم نے اپنی پوسٹ میں مستقبل کے لائحہ عمل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اس تاریخی امن معاہدے کے فوراً بعد، اگلے ہی ہفتے سے تکنیکی سطح کے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا تاکہ معاہدے کی تمام تر تفصیلات اور طریقہ کار کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
انھوں نے مذاکرات کے دوران مسلسل تعاون فراہم کرنے پر امریکہ اور ایران کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے خطے کے ان تمام برادر ممالک کو بھی دل سے سراہا جنہوں نے اس امن عمل کو کامیاب بنانے میں اپنی بھرپور حمایت اور مخلصانہ تعاون پیش کیا۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ تاریخی امن معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ مجموعی طور پر پورے خطے میں طویل المیعاد اور پائیدار امن و استحکام کے قیام کے لیے ایک انتہائی مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان4 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر7 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا4 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
ہندوستان6 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت






































































































