اہم خبریں
انتخابی اصلاحات بل پر الیکشن کمیشن کے اعتراضات کیا ہیں؟

اسلام آباد —
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2020 پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن اس ایکٹ میں بعض ترامیم کو آئینِ پاکستان سے متصادم سمجھتا ہے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں کے حوالے سے اسے آئین کے آرٹیکل 219 کے مطابق اختیارات حاصل ہیں اور آرٹیکل 222 کے تحت ان اختیارات کو نہ ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان میں کمی کی جا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پارلیمنٹ کا ایکٹ پاس ہو بھی جائے تو الیکشن کمیشن کو اپنے قوانین کے مطابق ہی چلنا ہے اور ایسے میں تنازع بڑھ جانے پر الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کو ریفرنس بھجوا سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومت نے آئندہ ہونے والے ضمنی انتخاب میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کمیشن کو کن دفعات پر اعتراض ہے؟ْ
الیکشن کمیشن کا اجلاس منگل کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیرِ صدارت ہوا جس میں ممبران سمیت سینئر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ الیکشن ترامیم پر کمیشن اپنا مؤقف پہلے ہی وزارتِ پارلیمانی امور کو بھجوا چکا ہے۔
الیکشن کمیشن نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ان ترامیم پر کمیشن کے مؤقف کو قائمہ کمیٹی میں زیرِ بحث نہیں لایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ الیکشن ترمیمی بل 2020 میں بعض ترامیم کو الیکشن کمیشن آئینِ پاکستان سے متصادم سمجھتا ہے۔
انتخابی فہرستیں نادرا کے حوالے
کمیشن کا کہنا تھا کہ انتخابی فہرستوں کی تیاری اور ان پر نظرِثانی کے اختیارات آرٹیکل 219 کے تحت الیکشن کمیشن کے بنیادی فرائض میں شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 222 کے تحت ان اختیارات کو نہ ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کمی کی جاسکتی ہے۔ لیکن ترامیمی بل کے ذریعے اس بارے میں متعلقہ دفعات کو حذف کر دیا ہے۔ ان دفعات کو حذف کرنے سے انتخابی فہرستوں کی نظرِثانی کا عمل الیکشن کمیشن کے لیے ناممکن ہو جائے گا اور تمام اختیارات نادرا کے پاس چلے جائیں گے۔
ووٹرز کی بنیاد پر حلقہ بندیاں
مجوزہ ترمیمی بل میں ایک اور تبدیلی کے ذریعے حلقہ بندیوں کا عمل بھی تبدیل کیا گیا ہے اور اب حلقہ بندی آبادی کے بجائے رجسٹرڈ ووٹرز کی بنیاد پر کی جائے گی۔ اس سے قبل آرٹیکل 51 کے تحت قومی اسمبلی میں نشستوں کو آبادی کی بنیاد پر مختص کیا جاتا تھا۔
سینیٹ انتخاب میں خفیہ ووٹنگ
الیکشن کمیشن نے سینیٹ کے الیکشن میں ووٹنگ خفیہ کروانے کے بجائے اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے کے عمل پر بھی اعتراض کیا ہے اور کہا کہ یہ ایکٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کی رائے جو صدارتی ریفرنس کی صورت میں آئی تھی اس سے مطابقت نہیں رکھتا۔
آئی ووٹنگ کے بارے میں کمیشن نے اپنے اعتراض میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخاب 2018 کے پائلٹ پروجیکٹ کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کر دی تھی لیکن اب تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
کمیشن کے مطابق وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے نادرا کے تیار کردہ آئی ووٹنگ سسٹم کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا۔ اس کی رپورٹ الیکشن کمیشن کو بھی دی گئی ہے۔ اس آڈٹ رپورٹ کے مطابق آئی ووٹنگ سسٹم میں مختلف خامیوں کی نشان دہی کی گئی ہے جنہیں بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں اس آئی ووٹنگ سسٹم کو استعمال نہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
الیکٹرونک ووٹنگ مشین پر اعتراض برقرار
الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے میں کمیشن کا کہنا تھا کہ سات جون کو الیکٹرونک ووٹنگ مشین اور آئی ووٹنگ کے حوالے سے وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی نے بتایا کہ جولائی کے آخر میں مشین کا ماڈل الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان دو بین الاقوامی کمپنیوں کی تیار کردہ الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کا ڈیمو لے چکا ہے۔
حکومت نے ایکٹ کے سیکشن 231 میں بھی ترمیم کی جو انتخابی امیدواروں کی اہلیت کے متعلق ہے۔ البتہ الیکشن کمیشن نے اس پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
حکومت کیا کہتی ہے؟
کمیشن کے اعتراضات اپنی جگہ لیکن حکومت الیکٹرونک ووٹنگ مشین سمیت الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کا دفاع کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو اس بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے اور 35 نکات پر مبنی الیکشن کمیشن کے اعتراضات دور کیے گئے ہیں۔
بدھ کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی خواہشات کے مطابق ماہرین نے مشین بنائی اور ہمیں امید ہے کہ آئندہ ضمنی انتخاب الیکٹرونک ووٹنگ مشین سے ہوں گے۔
حکومت اور کمیشن میں اختلاف، مسئلہ حل کیسے ہو گا؟
اس معاملے پر اب حکومت اور الیکشن کمیشن کے بیانات واضح طور پر ایک دوسرے کے خلاف ہیں اور کمیشن نے آئینی اختیارات پر سوال اٹھا دیا ہے۔
ایسے میں بعض ماہرین آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے اپنے تحفظات واضح انداز میں بتا دیے ہیں، اگر یہ معاملہ ایسے ہی چلتا رہا تو کمیشن کو اختیار حاصل ہے کہ وہ سپریم کورٹ کو اس بارے میں ریفرنس بھجوائے۔
کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اس حوالے سے حتمی اتھارٹی ہے اور اگر یہ معاملہ تصادم کی طرف گیا تو سپریم کورٹ کے فیصلے کو فوقیت حاصل ہو گی اور الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل کرنے کا پابند ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال میں بے شک الیکشن ایکٹ ترمیمی بل پاس بھی ہو جائے لیکن الیکشن کمیشن نے آئین میں درج اپنے اختیارات کے مطابق چلنا ہے۔ اگر ایک شق دوسری سے متصادم ہو گی تو کمیشن اپنا فیصلہ کر سکتا ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

ہندوستان7 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
تازہ ترین1 week agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر7 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
ہندوستان7 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
ہندوستان2 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
دنیا6 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا6 days agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
تازہ ترین1 week agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ





































































































