تازہ ترین
خطرناک وائرس ماضی میں کب اور کیسے لیبارٹریوں سے لیک ہوئے؟

واشنگٹن ڈی سی —
امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے ایک امریکی لیبارٹری کے حوالے سے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ چین کی ووہان لیب سے کرونا وائرس کے لیک ہونے کا نظریہ قابل یقین ہے اور اس پر مزید تحقیق ہونی چاہیے۔
امریکی ریاست کیلی فورنیا میں واقع لارنس لیورمور نیشنل لیبارٹری میں مئی 2020 میں تیار ہونے والی ایک خفیہ رپورٹ اس وقت امریکی محکمہ خارجہ کے استعمال میں تھی، جب ٹرمپ انتظامیہ کی میعاد کے آخری مہینوں میں محکمہ عالمی وبا کی شروعات کی وجوہات پر تفتیش کر رہا تھا۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق لارنس لیورمور لیبارٹری کے پاس حیاتیاتی معاملات پر گہرا تجربہ ہے اور رپورٹ میں سارز وائرس کی اس قسم کے جینوم پر تجزیہ کر کے، جس سے کووڈ 19 کی بیماری لاحق ہوتی ہے، یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے۔
کسی لیبارٹری سے وائرس کے لیک ہونے کے بعد عوام میں پھیلنے اور وبا کا باعث بننے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی دنیا بھر میں ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں جن میں جان لیوا وائرس لیبارٹری سے لیک ہونے کے بعد بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا سبب بنے۔
برطانیہ میں سن 1966، 1972 اور 1978 میں چیچک کی بیماری کا لیب سے لیک ہونا
جہاں عالمی ادارہ صحت کی کامیاب کوششوں کی وجہ سے پچھلی صدی میں چیچک کے مرض کا مکمل طور پر ختم کر دیا گیا تھا، وہیں برطانیہ میں متعدد بار یہ بیماری لیبارٹری میں وائرس پر تحقیق کے دوران بے احتیاطی کی وجہ سے پھیلی۔
ورکنگ گروپ آن کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل ویپنز سینٹر فار آرمز کنٹرول اینڈ نان پرولیفریشن کے لیے ایک سائنسدان ڈاکٹر مارٹن فرمانسکی نے اپنے مقالے ’’لیبارٹری اسکیپس اینڈ سیلف فلفلنگ پرافیسی ایپی ڈیمکس‘‘ میں کہا ہے کہ جہاں 1963 سے 1978 تک اس بیماری کے چند ہی واقعات رونما ہوئے، وہیں ان واقعات پر تحقیق کے بعد جو لیبارٹری میں مہلک جراثیموں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے جو حفاظتی قواعد و ضوابط اختیار کئے گئے وہ آج تک رائج ہیں۔
1977 کی H1N1 وائرس کی وبا
1918 کے سپینش فلو کو کون نہیں جانتا۔ اس فلو میں کروڑوں لوگ ہلاک ہوئے۔ لیکن خبروں کی ایک ویب سائٹ ‘بزنس ان سائٹر’ کی ایک رپورٹ کے مطابق H1N1 کی ایک قسم کے 1977 میں ایک چینی لیبارٹری سے لیک ہونے کے نتیجے میں دنیا بھر میں وبا پھیلنے سے لاکھوں انسان ہلاک ہو گئے تھے۔
ڈاکٹر مارٹن فرمانسکی کے مطابق ابتدا میں اس پرانے وائرس کے دوبارہ نمودار ہونے پر ماہرین کو انتہائی تشویش کے ساتھ شدید حیرانگی بھی ہوئی۔ ان کے بقول مغربی سائنس دانوں نے شروع میں لیبارٹری سے اس وائرس کے لیک ہونے کے سوال پر خاموشی اختیار کی۔ اس کی وجہ ابتدا میں سائنسی شواہد کا نہ ہونا اور روسی اور چینی سائنس دانوں کا اس سلسلے میں باقی دنیا کے ساتھ تعاون بھی شامل تھا جس سے وبا پر قابو پانے میں مدد ملی۔
ان کے بقول 30 برسوں کی سائنسی تحقیق کے بعد اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ وائرس قدرتی طور پر نہیں پھیلا اور اس کے جینوم پر تحقیق سے یہ پتا چلتا ہے کہ 1950 کے عشرے میں لیبارٹری میں فریز کیے ہوئے وائرس کے لیک ہو جانے سے یہ وبا دنیا بھر میں پھیلی۔
1995 میں وینزویلا کا ایقوائن انسیپھیلائٹس )وی ای ای) کی وبا
وی ای ای مچھروں سے پھیلنے والی ایک بیماری ہے جو گھوڑوں کو لاحق ہوتی ہے۔ اس بیماری سے گھوڑے شدید بخار میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ان کے اعصاب بھی متاثر ہوتے ہیں جس سے 83 فیصد تک گھوڑے ہلاک ہو جاتے ہیں۔
بزنس ان سائڈر کے مطابق 1995 میں وینزویلا کی ایک لیبارٹری سے لیک ہونے والے وی ای ای کی ایک قسم سے وینزویلا اور کولمبیا میں ہزاروں لوگ اس بیماری کا شکار ہوئے اور تین سو کے لگ بھگ ہلاکتیں ہوئیں۔ جب کہ تین ہزار سے زائد افراد اعصابی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے۔
2003 کی سارز کی وبا
2003 میں سارز کی وبا سے 29 ممالک میں 774 افراد ہلاک ہوئے۔ اخبار نیشنل پوسٹ کے مطابق ان میں سے 21 فیصد کا تعلق اسپتال کے عملے سے تھا۔ جن اسپتالوں میں یہ وبا پھیلی تھی, انہیں بند کرنا پڑا کیونکہ یہ وہا سانس کے ذریعے پھیلتی ہے اور اس کی ویکسین بھی نہیں ہے۔
ڈاکٹر مارٹن نے اپنے مقالے میں لکھا کہ سارز کے 5 فیصد مریض ’’سپر سپریڈر‘‘ یعنی تیزی سے مرض دوسرے افراد کو منتقل کرنے کا سبب بنتے ہیں اور ایک مریض مزید 8 افراد کو یہ بیماری منتقل کر سکتا ہے۔
انہوں نے اپنے مقالے میں ایسے کئی واقعات کا ذکر کیا ہے جن میں یہ وائرس لیبارٹری میں متاثر ہونے والے ریسرچرز کی وجہ سے پھیلا۔
بزنس ان سائڈر کے مطابق ابتدائی واقعہ کے بعد سے یہ وائرس چھ بار لیب سے لیک ہو چکا ہے۔ ان میں سے چار مرتبہ یہ بیجنگ میں لیک ہوا جب کہ ایک بار سنگاپور اور ایک بار تائیوان میں اس کے لیک ہونے کے واقعات پیش آئے۔
2007 میں برطانیہ میں پھیلنے والی فٹ اینڈ ماؤتھ (ایف ایم ڈی) بیماری کی وبا
ایف ایم ڈی کی بیماری جانوروں کو متاثر کرتی ہے اور یہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نیشنل پوسٹ کے مطابق 2001 میں برطانیہ میں اس بیماری سے ایک کروڑ جانوروں کو تلف کرنا پڑا جس سے ملک کو 16 ارب پاؤنڈ کا نقصان ہوا۔
2007 میں اعلیٰ ترین سیکیورٹی کی حامل ایک لیبارٹری سے محض 4 کلومیٹر فاصلے پر مویشیوں کے ایک فارم میں کئی جانوروں میں یہ بیماری پھیل گئی۔ جس کے نتیجے میں فوری طور پر ہزاروں جانوروں کو تلف کرنا پڑا اور برطانیہ کو برآمدات میں 20 کروڑ پاؤنڈ کا نقصان اٹھانا پڑا۔
لیبارٹری سے لیک کے باعث وبا پھیلنے کے علاوہ اور بھی ایسے بہت سے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جو وائرس کی منتقلی کا سبب بنتے ہیں۔ ان میں لیبارٹری میں انجینئیرنگ کے شعبے کی ناکامی یا حفاظتی مشینوں میں خرابی کا پیدا ہونا شامل ہے۔
خبروں کی ویب سائٹ ووکس کے مطابق امریکہ میں اس وقت 66 جراثیموں اور مہلک نامیاتی زہروں پر 300 کے قریب لیبارٹریوں میں تحقیقی کام کیا جا رہا ہے۔ جن میں پلیگ اور اینتھیرکس پر تحقیق شامل ہے۔
مہلک جراثیموں پر تحقیق کا مقصد جہاں ان کا علاج اور ویکسین تیار کرنا ہے، وہیں نئے طریقوں سے زیادہ ہلاکت خیز جراثیم تیار کرنا بھی اس کا حصہ ہوتا ہے، تاکہ یہ دیکھا جائے کہ جنگلوں اور بیابانوں میں یہ جراثیم کس طرح ارتقا کا عمل جاری رکھتے ہیں اور ان کا علاج پہلے سے ڈھونڈ لیا جائے۔
امریکہ کے وبائی امراض کے کنٹرول اور اس کی روک تھام کے ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کا ’’سیلیکٹ ایجنٹ اینڈ ٹاکسن پروگرام‘‘ یعنی منتخب جراثیموں اور زہروں کے پروگرام میں یہ لازمی ہے کہ چوری، ضیاع یا روزمرہ کے کام کے دوران محققین کا جراثیموں سے اگر براہ راست واسطہ پڑ جائے، یا حفاظتی جگہوں سے باہر کسی جراثیم کے پھیلنے کا کوئی واقعہ رونما ہو تو اس کی فوری طور پر رپورٹ کی جائے۔ ویب سائٹ ووکس کے مطابق 2005 سے 2012 کے دوران سی ڈی سی کو ایسی 1059 رپورٹس ملی جن میں ایسے واقعات رونما ہوئے۔
ان میں سے ایک واقعہ کچھ یوں تھا کہ جولائی 2014 کو ریاست میری لینڈ میں امریکی ادارہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی نئے آفس میں منتقلی کے بعد پرانے آفس کی صفائی کی جا رہی تھی کہ کارڈ بورڈ کے ایک پرانے ڈبے میں 327 وائلز یعنی وائرس کے نمونوں کی بوتلیں ملیں۔ ان میں سے 321 پر کسی قسم کا لیبل نہیں تھا اور چھ بوتلیں اینتھریکس کی تھیں۔
ان کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ یہاں موجود ہیں اور بقول ووکس، خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 1960 کی دہائی سے عمارت میں پڑی ہوئی تھیں۔
ووکس کے بقول انہیں دیکھ کر گھبرائے ہوئے سائنس دانوں نے فوری طور پر انہیں سیل کر کے سپروائرزر کے آفس بھیج دیا۔ لیکن ایسے خطرناک وائرس کو سنبھالنے کے لیے یہ پروٹوکول نہیں ہے۔ اس دوران ایک بوتل سے جراثیم لیک ہو گئے لیکن خوش قسمتی سے وہ زیادہ خطرناک نہیں تھے۔
دنیا
لبنان میں اسرائیلی حملے جاری، مرنے والوں کی تعداد 4,278 تک پہنچ گئی
بیروت، لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ضلع بنت جبیل کے قصبوں عیتا الجبل اور بیت یاحون میں متعدد گھروں کو نذرِ آتش کر دیا۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 2 مارچ سے 30 جون 2026 تک اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 4 ہزار 278 ہو گئی ہے، جبکہ 12 ہزار 196 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں اس وقت تیز کیں جب حزب اللہ نے 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ردعمل میں اسرائیلی علاقوں پر راکٹ فائر کیے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ مزید شدت اختیار کر گئی۔
اسرائیلی فوج نے اسرائیل-لبنان سرحد کے ساتھ لبنانی حدود کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ایک بفر زون قائم کر رکھا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ شمالی اسرائیل کی آبادی کو حزب اللہ کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے متعدد دیہاتوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے مقامی آبادی کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا، جبکہ چھاپوں کے دوران متعدد عمارتیں بھی تباہ ہو گئیں۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ کے زیرِ استعمال سرنگوں اور دیگر عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مارچ 2026 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث لبنان میں دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ حزب اللہ کے حملوں میں اب تک کم از کم 32 اسرائیلی فوجی اور چار شہری ہلاک ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر ہلاکتیں جنوبی لبنان میں ہوئیں۔
امریکہ کی ثالثی میں 19 جون کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود دونوں جانب سے پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔
حزب اللہ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری مذاکرات پر بارہا اعتراض کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ ان مذاکرات کا فریق نہیں ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیدائشی شہریت برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو “بڑی غلطی” قرار دیا
واشنگٹن، امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز کے ایک پروگرام میں امریکی سپریم کورٹ کے پیدائشی شہریت (برتھرائٹ سٹیزن شپ) کو برقرار رکھنے کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے “بہت بڑی غلطی” قرار دیا۔
انہوں نے اس فیصلے کو “انتہائی مایوس کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس معاملے میں اپنے تمام قانونی متبادل پر کام جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس امریکی امیگریشن پالیسی میں تبدیلی کی اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی کوششوں کے لیے ایک بڑا قانونی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے منگل کو صدر ٹرمپ کے اس صدارتی حکم کو مسترد کر دیا، جس کا مقصد پیدائشی شہریت کے حق کو محدود کرنا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ اقتدار کے پہلے ہی دن اس سلسلے میں ایک اہم حکم نامہ جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر یا عارضی طور پر مقیم والدین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار طور پر امریکی شہریت حاصل نہیں ہوگی۔
ٹرمپ کے اس حکم نامے پر ابتدا میں نچلی عدالتوں نے روک لگا دی تھی، جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ غیر قانونی طور پر مقیم یا عارضی ویزے پر موجود افراد کے امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار امریکی شہریت دینے کا نظام ختم کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں پیدائشی شہریت کے حق کو برقرار رکھتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد کر دی۔
یواین آئی۔ م س
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو کی بڑی کارروائی، دو ریونیو ملازمین رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار
جموں، جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو نے منگل کے روز رشوت ستانی کے ایک معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے دو ریونیو حکام (محکمہ مال کے ملازمین) کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ اے سی بی کی خصوصی ٹیم نے پٹوار حلقہ ‘گولے’ کے پٹواری ششی کمار اور ان کے اسسٹنٹ (معاون) ہرکیرت سنگھ کو 70,000 روپے کی رشوت مانگنے اور وصول کرنے کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔
اے سی بی کو ایک شہری کی جانب سے تحریری شکایت موصول ہوئی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مذکورہ پٹواری اور ان کے معاون نے دو ریونیو ریکارڈز (زمین کے کاغذات) کی کاپیاں جاری کرنے کے عوض غیر قانونی طور پر 70,000 روپے رشوت کا مطالبہ کیا ہے۔ شکایت کنندہ رشوت نہیں دینا چاہتا تھا، اس لیے اس نے اے سی بی سے رابطہ کر کے کرپٹ ملازمین کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی مانگ کی۔ترجمان کے مطابق، شکایت ملنے پر اے سی بی نے معاملے کی خفیہ تحقیقات کروائیں، جس میں رشوت مانگے جانے کی تصدیق ہو گئی۔
معاملہ سچ ثابت ہونے پر اینٹی کرپشن بیورو کے تھانہ سینٹرل (جموں) میں ’پریوینشن آف کرپشن ایکٹ، 1988‘ کی دفعہ 7 اور ’بھارتیہ نیائے سنہیتا ‘ کی دفعہ 61(2) کے تحت باقاعدہ ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کی گئی۔گرفتاری کے فوری بعد، ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی موجودگی میں دونوں ملزمان کے گھروں کی تفصیلی تلاشی بھی لی گئی۔ اے سی بی حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تحقیقات سرگرمی سے جاری ہیں۔
یواین آئی ۔م ا ع
ہندوستان7 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
تازہ ترین1 week agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر7 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
ہندوستان7 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا6 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
ہندوستان2 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر5 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
تازہ ترین1 week agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا6 days agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف






































































































