تجزیہ
بچوں کی تعلیم اور والدین کی ذمہ داریاں، یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی
خصوصی مضمون: ڈاکٹراسرار احمد
نئی دہلی، تعلیم انسان کو شعور وآگہی، کامیابی اور ترقی کی راہ دکھاتی ہے، تعلیم انسان کو مثبت سوچ، واضح سمت و مقصد اور اخلاق و کردار عطاکرتی ہے، یہ فیصلہ سازی کی صلاحیت، پیشہ ورانہ مہارت، اخلاقی تربیت اور روشن مستقبل کی ضامن ہے، غرض تعلیم انسان کو وہ سب کچھ سکھاتی ہے، جو وہ سیکھنا اور بننا چاہتا ہے، یوں تو تعلیم گھر پر رہتے ہوئے والدین، یا کسی بھی پڑھے لکھے شخص سے دینی اور روایتی تعلیم حاصل کی جاسکتی ہے لیکن موجودہ زمانے میں حصول علم کے لیے مدارس اور اسکول کے نام سے ادارے قائم ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ابتدائی اور دینی تعلیم کا ذریعہ ٖصرف مدارس ہی ہوا کرتے تھے، لیکن آج دیگر ذرائع تعلیم موجود ہیں، جس کے سبب والدین کی اکثریت انگلش میڈیم اسکول کو ہی ترجیح دے رہے ہیں اور اسے کامیابی کی ضمانت بھی تصور کیا جارہا ہے۔ چونکہ یہ موجودہ زمانے کا چلن ہے اور انگلش میڈیم اسکول میں بچوں کا پڑھانا باعث فخر بھی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ محض انگلش میڈیم اسکول میں داخلہ کرادینے سے بچہ کامیاب نہیں ہوجاتا، بچے کی تعلیم و تربیت میں گھر، معاشرہ اور اسکول سب کا اہم کردار ہوتا ہے۔
اسکول بڑا ہو یا چھوٹا، مدرسہ یو یا سرکاری، مہنگا ہو یا سستا، بہتر اور معیاری تعلیم کہیں سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔
مکمل طور پر صرف اسکولوں پر ہی کامیابی منحصر نہیں بلکہ گھریلو ماحول بھی تعلیم و تربیت کے لیے سازگار ہونا چاہیے۔
موجودہ دور میں بچوں کی کامیابی کے لیے مہنگے اور انگلش میڈیم اسکول کو ترجیح دینا عام رجحان بن گیا ہے، جو درست نہیں ہے۔ نظم وضبط اوروالدین کی شفقت بھری رہنمائی بچوں کی کامیابی میں کلیدی رول اداکرتی ہے۔ بہتر رہنمائی اور گھرکا ماحول تعلیم و تربیت کے لیے سازگار ہو تو مکتب و مدارس کے بچے بھی کامیابی کی منزلیں طے کرسکتے ہیں۔ مدرسے کے بچے بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ان مدارس کا تعلیمی میدان میں ایسا اہم رول رہا ہے کہ انہوں نے لاکھوں کروڑوں ایسے افراد کو زیور علم سے آراستہ کیا ہے جن کے والدین و سرپرست نہ تو انہیں اسکول و کالج میں بھیجنے کی استطاعت رکھتے تھے اور نہ یہ کچھ بننے کی فکر کرسکتے تھے۔
مدارس کے جو احسانات امت مسلمہ پر ہیں، ان سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دینی مدارس جہاں دینی ضرورتوں کی تکمیل میں کارہائے نمایاں انجام دیتے ہیں، وہیں اپنے فرزندان کو عصری تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے تیار بھی کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مدارس کے فارغین نے ملک کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں کا رخ کیا اوراپنی جہد مسلسل سے امتیازی مقام حاصل کیا۔ آج وہ ملک کے اعلیٰ عہدوں پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ایک چیز اور دیکھی گئی ہے کہ والدین اپنے بچوں کے داخلے کے لیے اسی اسکول کا انتخاب کرتے ہیں، جس کی فیس وہ مشکل سے ادا کرپاتے ہیں اور پھر پورے سال مہنگی فیس کا ہی رونا روتے رہتے ہیں اور ان کی پوری توجہ بچے کی تعلیم و تربیت کے بجائے فیس کا انتظام کرنے میں ہی رہتی ہے۔ ایسی صورت حال میں وہ بچے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے پاتے اور اگر اتفاق سے بچے کا رزلٹ خراب آیا تو اس کا ذمہ دار اسکول کو سمجھتے ہیں۔ اس لیے مہنگے اسکول کا انتخاب کرنے کی بجائے ایسے اسکول یا مدارس کا انتخاب کیا جائے، جو آپ کے قریب ہوں، جس سے آپ اور بچے کو آسانی ہوگی۔ اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ٹرانسپورٹ کا اضافی خرچ اور وقت کی بھی بچت ہوگی۔ کیونکہ تعلیم کوئی سامان نہیں، جو آپ مہنگے داموں خریدنا چاہتے ہیں۔ ایک اور چیز، جو بہت عام ہے، وہ یہ کہ انگلش میڈیم اسکول میں داخلہ دلانے کے بعد والدین کی توقعات بڑھ جاتی ہیں اور وہ پہلی کلاس سے ہی اسے ٹاپر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ کم نمبر یا دوسرے یا تیسرے نمبر کو اپنے لیے باعث عار سمجھنے لگتے ہیں اور بچوں پر بے جا سختیاں بھی شروع کردیتے ہیں۔ اسے دوسروں کی مثال دے کر لعنت ملامت اور بے جا ڈانٹ ڈپٹ سے بھی گریز نہیں کرتے۔ جب کہ انہیں اپنے بچے کی ذہنی صلاحیت سے بھی آگاہ ہونا چاہیے۔ والدین کو سمجھنا چاہیے کہ ابتدائی ناکامی مستقل ناکامی نہیں ہوتی، ناکامی کی صورت میں والدین کو نرمی اور شفقت سے پیش آنا چاہیے۔ بے جا سختی اور ڈانٹ ڈپٹ انہیں مستقل طور پر احساس کمتری میں مبتلا کرسکتی ہے۔
بعض والدین بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں جنونی ہو جاتے ہیں اور بالخصوص ماں کا رویہ بچوں کے ساتھ تکلیف دہ ہو جاتا ہے، ان کی شدت پسندی کے پیچھے مختلف عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ مشترکہ خاندانی نظام کی صورت میں گھر میں رہنے والی دیگر خواتین کے بچوں کے ساتھ اپنے بچے کی پڑھائی میں مقابلہ یا پڑوس کے بچوں کے ساتھ پوزیشنز میں مقابلے کی فضا قائم ہو جاتی ہے اور اگر بچے ایک ہی کلاس میں ہوں اور قریب رہنے کی وجہ سے ایک ہی اسکول میں جاتے ہوں تو مقابلے کی فضا مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ مقابلہ جب تک مثبت عوامل پر مشتمل رہے، اچھے طریقے سے چلتا ہے۔ لیکن جب حد سے تجاوز کر جائے تو بچے کی شخصیت پر منفی اثرات ڈالتا ہے۔ کیوں کہ کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنا بچے سے زیادہ ماں کے لیے باعث فخر ہوتا ہے۔ جب بچے کے امتحانات شروع ہوتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ماں کے بھی امتحانات شروع ہو چکے ہیں اس دوران ماں بچے کا جینا دوبھر کر دیتی ہے اور اسے مختلف دھمکیاں دیتی ہے کہ تمہیں کلاس میں اول (پہلی پوزیشن کے نیچے وہ سوچتی ہی نہیں) آنا ہے یا اگر کلاس میں پہلی پوزیشن نہ لی تو تمہیں فلاں چیز نہیں ملے گی، کھیلنے کودنے پر پابندی عائد کردی جائے گی یا تمہاری پٹائی بھی ہوسکتی ہے۔ ماں بچے پر ہر طرح سے دباؤ ڈالتی ہے، جس کی وجہ سے بچہ پڑھائی سے گھبرا جاتا ہے۔ وہ سنجیدہ اور خوفزدہ نظر آنے لگتا ہے۔
ہمیں سمجھنا چاہئیے کہ بچوں کی ذہنی استعداد، قابلیت اور میلانات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ چناں چہ ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ معاملہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی فطری صلاحیتوں کو سنوارنے اور نکھارنے کے لیے اساتذہ سے مل کر کوشش کرنی چاہئے۔ ان کا موازنہ ہرگز کسی دوسرے بچے سے نہ کریں۔
تعلیم کا سب سے اہم مرحلہ ابتدائی اور بنیادی تعلیم ہوتا ہے۔ بچوں کی شخصیت سازی اور اس کی ذہنی نشو و نما میں ابتدائی تعلیم کی بڑی اہمیت ہے۔ اس مرحلہ میں والدین کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے کیوں کہ بچہ سب سے پہلے اپنے گھر ہی سے سیکھتا ہے۔ تعلیم ہر انسان کی زندگی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے، لیکن بچوں کی تعلیم سب سے زیادہ توجہ کی مستحق ہوتی ہے کیوں کہ یہی دور ان کی شخصیت سازی کا زمانہ ہوتا ہے۔ بچہ معصوم ذہن کے ساتھ دنیا میں آتا ہے اور جو کچھ سیکھتا ہے وہ زیادہ تر اپنے گھر اور والدین سے سیکھتا ہے۔ اسی لیے والدین کی ذمہ داریاں نہایت اہم اور حساس ہوجاتی ہیں۔
سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ والدین بچوں کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ اگر گھر میں تعلیم کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا تو بچہ بھی اسے سنجیدگی سے لے گا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو اسکول بھیجنے کے ساتھ ساتھ گھر میں بھی ان کی پڑھائی پر نظر رکھیں اور ان کی رہنمائی کریں۔ دوسری اہم ذمہ داری مثبت اور پرسکون ماحول فراہم کرنا ہے۔ گھر کا ماحول بچے کی ذہنی نشوونما پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اگر گھر میں لڑائی جھگڑا، سختی یا بے توجہی ہو تو بچہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے، جس سے اس کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں۔ ایمانداری، سچائی، نظم و ضبط اور بڑوں کا احترام جیسی خوبیاں گھر سے ہی سکھائی جاسکتی ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ مگر بد اخلاق فرد معاشرے کے لیے اچھی علامت تصور نہیں کیا جاتا، اس لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت بھی ضروری ہے۔
علاوہ ازیں، والدین کو اساتذہ سے رابطہ رکھنا چاہیے تاکہ بچے کی کمزوریوں اور صلاحیتوں کا بروقت اندازہ ہو سکے۔ اگر بچہ کسی مضمون میں کمزور ہو تو اس پر بروقت توجہ دی جائے اور اس کی سرزنش کی بجائے اسے سمجھایا جائے۔ حوصلہ افزائی اور رہنمائی بچے کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اگر والدین اپنی ذمہ داری دیانت داری اور محبت کے ساتھ ادا کریں تو بچے نہ صرف تعلیم میں کامیاب ہوں گے بلکہ ایک اچھے اور باکردار انسان بن کر ملک و ملت کا نام روشن کریں گے ۔
یواین آئی
تجزیہ
اگر حکومت کو پہلے ہی معلوم تھا تو بل کیوں پیش کیا گیا؟

اگر وزیرِاعظم Narendra Modi کی حکومت کو، جیسا کہ قائدِ حزبِ اختلاف Rahul Gandhi نے دعویٰ کیا، یہ علم تھا کہ آئین (131ویں ترمیم) بل لوک سبھا میں مطلوبہ خصوصی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث ناکام ہو جائے گا، تو پھر اسے پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
حقیقت یہ ہے کہ ایک “ناکام ہونے والا” بل بھی قانون بننے سے آگے کئی مقاصد پورے کر سکتا ہے—جیسے ایجنڈا طے کرنا، عوامی بحث کا رخ موڑنا، اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا، اور وقت کے ساتھ پالیسی خیالات کو معمول کا حصہ بنانا۔ مبصرین کے مطابق، ایسے بل کو متعارف کرانے کے کئی عملی اور سیاسی محرکات ہوتے ہیں، چاہے اس کی کامیابی کے امکانات کم ہی کیوں نہ ہوں۔
سب سے پہلے نیت کا پہلو سامنے آتا ہے۔ بل پیش کرکے حکومت نے اپنے حامیوں—خصوصاً خواتین، جو وزیرِاعظم مودی کا ایک مضبوط ووٹ بینک سمجھی جاتی ہیں—کو یہ پیغام دیا کہ بی جے پی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔ حتیٰ کہ مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود، یہ قدم انتخابی مہمات میں عوامی رائے ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسرا پہلو اپوزیشن پر دباؤ ڈالنا ہے۔ پارلیمان میں باضابطہ بحث نے تمام جماعتوں کو اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے پر مجبور کیا، جس سے حکمران جماعت کو یہ بیانیہ بنانے کا موقع ملا کہ اس نے اصلاحات کی کوشش کی مگر مخالفین نے اسے ناکام بنایا۔ بل کی ناکامی کے بعد بی جے پی رہنماؤں نے اپوزیشن کو “خواتین مخالف” قرار دیتے ہوئے اسی بیانیے کو مزید تقویت دی۔
آئین (131ویں ترمیم) بل کی ناکامی کے بعد، جس کا مقصد 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر 2029 کے انتخابات تک خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنا تھا، پارلیمانی امور کے وزیر Kiren Rijiju نے دو متعلقہ بل—یونین ٹیریٹوریز لاز (ترمیمی) بل 2026 اور ڈیلیمیٹیشن بل 2026—بھی واپس لے لیے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ اس نے خواتین کے حقوق کی حمایت کا ایک اہم موقع ضائع کر دیا۔ این ڈی اے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج بھی کیا اور اپوزیشن کے خلاف بیانات دیے۔
بی جے پی نے اس شکست کو محض عددی ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بنا کر پیش کیا، اور خود کو وزیرِاعظم مودی کی قیادت میں خواتین کو بااختیار بنانے والی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اس کے برعکس، کانگریس، راہل گاندھی اور دیگر جماعتوں جیسے سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے کو صنفی مساوات کی اصلاحات کی مخالفت کرنے والا دکھایا گیا۔ بحث کے دوران وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ Amit Shah نے کہا کہ “ملک کی خواتین انہیں معاف نہیں کریں گی” — ایک ایسا پیغام جو آئندہ سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس عمل نے مستقبل میں مذاکرات اور ترامیم کی گنجائش پیدا کی ہو۔ اس سے حکومت کو پارلیمانی اعداد و شمار اور مختلف جماعتوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کے مؤقف کا اندازہ لگانے کا موقع ملا ہوگا، جس کی بنیاد پر آئندہ قانون سازی کی حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکتی ہے—اگرچہ بعض مبصرین کے نزدیک بی جے پی قیادت کی حکمتِ عملی کو دیکھتے ہوئے یہ امکان کمزور دکھائی دیتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، این ڈی اے کو بل کے حق میں 298 ووٹ ملے جبکہ انڈیا اتحاد نے 230 ووٹ حاصل کیے، جبکہ بل کی منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے۔ کیا حکومت کو اس کا علم نہیں تھا؟ یہ بعید از قیاس لگتا ہے۔ راہل گاندھی نے بھی یہی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے سے زیادہ ایک سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا—خاص طور پر حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشے میں تبدیلی لانا اور جنوبی و چھوٹی ریاستوں کے حقوق کو متاثر کرنا، جبکہ ہندی بیلٹ کو فائدہ پہنچانا، جو بی جے پی کا اہم ووٹ بینک ہے۔
راہل گاندھی کے مطابق، اس اقدام کے دو بنیادی مقاصد تھے: “پہلا، بھارت کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنا، اور دوسرا، وزیرِاعظم کو خواتین دوست رہنما کے طور پر پیش کرنا۔”
تجزیہ
کاربن کے اخراج، درخت کاری اور حیاتیاتی تنوع: موسمیاتی حکمتِ عملی کے درمیان توازن کی تلاش
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نہ صرف واضح ہو چکے ہیں بلکہ تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں، بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور حیاتیاتی تنوع کا زوال یہ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ انسان کو اپنی ترقی کے ماڈل پر نظرثانی کرنا ہوگی، کاربن کے اخراج کو کم کرنا اس جدوجہد کا بنیادی جزو ہے، لیکن موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف اخراج میں کمی کافی نہیں ہوگی۔ ہمیں فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو نکالنے کے مؤثر طریقے بھی اپنانے ہوں گے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کاربن کو ہٹانے کے لیے درخت لگانا ہمیشہ فائدہ مند ہوتا ہے؟ یا یہ بعض حالات میں ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے؟ حالیہ سائنسی تحقیق اس پیچیدہ سوال کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے، خاص طور پر جب بات حیاتیاتی تنوع (biodiversity) کی ہو۔
دنیا بھر میں انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہر سال تقریباً 42 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہو رہی ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ جیواشم ایندھن (fossil fuels) جیسے کوئلہ، تیل اور گیس کے استعمال سے آتا ہے، جبکہ زمین کے استعمال میں تبدیلی—جیسے جنگلات کی کٹائی—بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اگرچہ مختلف ممالک نے اخراج کم کرنے کے وعدے کیے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر اخراج میں اب بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف اخراج کو کم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ہمیں ‘نیٹ زیرو’ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کاربن کو فضا سے نکالنا بھی ہوگا۔
پیرس معاہدہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کو نہ صرف اخراج میں بڑی حد تک کمی لانی ہوگی بلکہ کاربن ہٹانے کی ٹیکنالوجیز اور حکمت عملیوں کو بھی بڑے پیمانے پر اپنانا ہوگا۔
لیکن یہاں ایک چیلنج ہے۔کاربن کو ہٹانے کے لیے استعمال ہونے والے طریقے خود ماحول پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر اگر انہیں بغیر منصوبہ بندی کے اپنایا جائے۔
کاربن کو ہٹانے کے کئی طریقے زیرِ غور ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
(اول) درخت لگانا: درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور اسے اپنے اندر ذخیرہ کرتے ہیں۔ اس لیے درخت کاری کو سب سے قدرتی اور سستا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
(دوم) توانائی کی فصلیں (Bioenergy Crops): ایسی فصلیں اگائی جاتی ہیں جنہیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے، اور پھر ان کے جلنے سے پیدا ہونے والے کاربن کو پکڑ کر ذخیرہ کیا جائے۔
(سوم) کاربن کیپچر اور اسٹوریج (CCS): صنعتی ذرائع سے نکلنے والے کاربن کو پکڑ کر زمین کے اندر محفوظ کرنا۔
(چہارم) ڈائریکٹ ایئر کیپچر (DAC): جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فضا سے براہِ راست کاربن کو نکالنا۔
ان میں سے سب سے زیادہ زیرِ بحث طریقہ درخت لگانا ہے، کیونکہ یہ فطری اور نسبتاً آسان ہے۔ لیکن اس کے بھی کئی پیچیدہ پہلو ہیں۔
بظاہر درخت لگانا ایک بہترین حل معلوم ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف کاربن کو جذب کرتا ہے بلکہ مٹی کو محفوظ رکھتا ہے، پانی کے چکر کو بہتر بناتا ہے اور ماحولیاتی نظام کو مستحکم کرتا ہے۔ لیکن جب اسے بڑے پیمانے پر نافذ کیا جاتا ہے، تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
بڑے پیمانے پر درخت لگانے کے لیے لاکھوں مربع کلومیٹر زمین درکار ہوتی ہے۔ یہ زمین کہاں سے آئے گی؟ اکثر یہ زرعی زمین یا قدرتی گھاس کے میدان (grasslands) ہوتی ہے، جو خود بھی اہم ماحولیاتی نظام ہیں۔
اگر ایک ہی قسم کے درخت بڑے پیمانے پر لگائے جائیں (monoculture plantations)، تو یہ مقامی پودوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس سے حیاتیاتی تنوع کم ہو جاتا ہے۔
کچھ درخت بہت زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں، جس سے مقامی آبی وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ زمین کے استعمال میں تبدیلی سے مقامی لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر کسانوں اور چرواہوں کی۔
حالیہ مطالعات میں سائنسدانوں نے مختلف موسمیاتی منظرناموں کا تجزیہ کیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کاربن ہٹانے کی حکمت عملیوں کا حیاتیاتی تنوع پر کیا اثر پڑتا ہے۔
انہوں نے عالمی نقشوں کو استعمال کرتے ہوئے یہ دیکھا کہ مستقبل میں کہاں درخت لگائے جائیں گے یا توانائی کی فصلیں اگائی جائیں گی، اور یہ علاقے حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے کتنے حساس ہیں۔
بہت سے ایسے علاقے جہاں درخت لگانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے نہایت اہم ہیں۔ اگر ان علاقوں میں غیر مقامی درخت لگائے جائیں، تو مقامی ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔کچھ علاقوں میں درخت لگانا فائدہ مند ہو سکتا ہے، خاص طور پر جہاں پہلے جنگلات موجود تھے اور انہیں بحال کیا جا سکتا ہے۔
کاربن ہٹانے اور حیاتیاتی تنوع کے درمیان تعلق کو دو طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔درخت لگانے سے کاربن تو کم ہو سکتا ہے، لیکن حیاتیاتی تنوع متاثر ہو سکتا ہے۔ زرعی زمین کو جنگل میں تبدیل کرنے سے خوراک کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
مقامی انواع کے درخت لگانے سے دونوں اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جنگلات کی بحالی (restoration) سے کاربن ذخیرہ بھی ہوتا ہے اور حیاتیاتی تنوع بھی بڑھتا ہے۔
ان چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے، ماہرین درج ذیل حکمت عملی تجویزکرتے ہیں۔
درخت لگاتے وقت مقامی پودوں کو ترجیح دی جائے۔حساس ماحولیاتی علاقوں کو محفوظ رکھا جائے۔مقامی لوگوں کو منصوبوں میں شامل کیا جائے تاکہ ان کے مفادات کا تحفظ ہو۔ صرف درخت لگانے پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مختلف طریقوں کو یکجا کیا جائے۔
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی مسئلہ ہے۔ کاربن کو ہٹانا اس کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن اسے اکیلے حل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
ہمیں ایک متوازن نقطہ نظر اپنانا ہوگا جس میں: کاربن کا اخراج (removal)، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، سماجی و اقتصادی انصاف سب کو یکجا کیا جائے۔
درخت لگانا ایک بہتر حل ہو سکتا ہے، لیکن یہ کوئی جادوئی حل نہیں ہے۔ اگر اسے بغیر سوچے سمجھے اپنایا جائے تو یہ ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سائنسی شواہد کی بنیاد پر فیصلے کریں اور ایسے اقدامات کریں جو نہ صرف کاربن کو کم کریں بلکہ زمین کے حیاتیاتی نظام کو بھی محفوظ رکھیں۔مستقبل کی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کریں —ایسا توازن جو انسان اور فطرت دونوں کے لیے فائدہ مند ہو۔
(یواین آئی)
تجزیہ
فلم گیت گایا پتھروں کے بعد جیتندر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے

ممبئی، 7 اپریل (یواین آئی) بالی ووڈ کے مشہور اداکار جتیندرآج 84 سال کے ہوگئے 7 اپریل 1942 کو ایک جوہری خاندان میں پیدا ہونے والے جتیندرکا بچپن سے ہی فلموں کی جانب رجحان تھا اور وہ اداکار بننا چاہتے تھے۔ وہ اکثر گھر سے بھاگ کر فلم دیکھنے جایا کرتے تھے۔ جتیندرنے اپنے سنیما کیریئر کی شروعات 1959 میں ریلیز ہونے والی فلم نورنگ سے کی جس میں انہیں ایک چھوٹا سا کردار ادا کرنے کا موقع ملا تقریباً پانچ سال تک جتیندرفلم انڈسٹری میں اداکار کے طور پر کام حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ 1964 میں انہیں شانتارام کی فلم گیت گایا پتھروں نے میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم کے بعد جیتندر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔
1967 میں جتیندرکی ایک اور سپرہٹ فلم فرض ریلیز ہوئی۔ روی کانت ناگائچ کی ہدایتکاری میں بنی اس فلم میں جتیندرنے ڈانسنگ اسٹار کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں ان پر فلمایا گیا گانا مست بہاروں کا میں عاشق شائقین اور سامعین کے درمیان بہت مقبول ہوا۔ اس فلم کے بعد جتیندرکو “جمپنگ جیک” کہنا شروع کر دیا گیا۔
فرض کی کامیابی کے بعد ڈانسنگ اسٹار کے طور پر جتیندرکی شبیہ بن گئی۔ اس فلم کے بعد پروڈیوسرز اور ہدایتکاروں نے بیشتر فلموں میں ان کی ڈانسنگ شبیہ کو اجاگر کیا۔ پروڈیوسروں نے جتیندرکو ایک ایسے ہیرو کے طور پر پیش کیا جو رقص کرنے میں ماہر ہو۔ ان فلموں میں ہمجولی اور کارواں جیسی سپرہٹ فلمیں شامل ہیں۔ اس دوران جتیندرنے جینے کی راہ، دو بھائی اور دھرتی کہے پکار کے جیسی فلموں میں ہلکے پھلکے کردار ادا کر کے اپنی ہمہ جہت صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا۔
سال 1973 میں ریلیز ہونے والی فلم جیسے کو تیسا کے ہٹ ہونے کے بعد فلم انڈسٹری میں ان کے نام کے ڈنکے بجنے لگے اور وہ ایک کے بعد ایک مشکل کردار ادا کرتے ہوئے فلم انڈسٹری میں اپنا مقام بناتے گئے۔ 70 کی دہائی میں جتیندرپر یہ الزام لگنے لگا کہ وہ صرف ناچ گانے سے بھرپور رومانوی کردار ہی ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں اس شبیہ سے نکالنے میں پروڈیوسر اور ہدایتکار گلزار نے مدد کی اور ان کے ساتھ پریچے، خوشبو اور کنارا جیسی فیملی فلمیں بنائیں ۔ ان فلموں میں جتیندرکی سنجیدہ اداکاری دیکھ کر ناظرین حیران رہ گئے۔
جتیندرکے سنیما کیریئر پر نظر ڈالنے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ ملٹی اسٹارر فلموں کا اہم حصہ رہے ہیں۔ فلم انڈسٹری کے رنگین پردے پر جیتندر اور ریکھا کی جوڑی کو خوب پسند کیا گیا۔ 80 کی دہائی میں ان کی جوڑی سری دیوی اور جیا پردا کے ساتھ بھی کافی مقبول ہوئی۔ اپنے منفرد ڈانس اسٹائل کی وجہ سے اس جوڑی کو ناظرین نے بے حد پسند کیا۔
سال1982 سے 1987 کے درمیان جتیندر نے جنوبی ہندوستان کے فلم ساز ٹی راماراو، کے باپّیا کے راگھووندرا راؤ وغیرہ کی فلموں میں بھی کام کیا۔ 2000 کی دہائی میں فلموں میں اچھا رول نہ ملنے پر انہوں نے فلموں میں کام کرنا کم کر دیا۔ اس دوران وہ اپنی بیٹی ایکتا کپور کو چھوٹے پردے پر پروڈیوسر کے طور پر قائم کرنے میں ان کے رہنما بنے رہے۔ان دنوں وہ اپنی بیٹی ایکتا کپور کو فلم پروڈکشن میں مددکر رہے ہیں۔
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا5 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
جموں و کشمیر5 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
ہندوستان1 week agoوزیراعظم مودی کا ‘ناری شکتی’ کے نام خط، خواتین کے ریزرویشن کے عزم کا اعادہ
دنیا5 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
جموں و کشمیر5 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک











































































































