تازہ ترین
بنگلہ دیش میں یونس دور کا خاتمہ

نعیم نظام
بنگلہ دیش کے سابق عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس اقتدار چھوڑنے کے بعد بھی تنازعات سے باہر نہیں آ سکے۔ صدر محمد شہاب الدین نے ان پر نہ صرف ہجوم کی حکمرانی قائم کرنے بلکہ آئین کی خلاف ورزی کے سنگین الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ ان کے بعض مشیروں پر بھی سنگین بے ضابطگیوں، تضادات اور ہجوم سازی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ایک قومی اخبار میں صدر کے انٹرویو کی اشاعت کے بعد ملک میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے اور یونس اور ان کے قریبی مشیروں کے خلاف آئینی خلاف ورزی کے مقدمات درج کرنے کے مطالبات اٹھنے لگے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بنگلہ دیش میں ڈاکٹر یونس کے کردار پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
حالیہ دو انٹرویوز میں صدر محمد شہاب الدین نے متعدد الزامات عائد کیے۔ تاہم حکمران جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) نے ان معاملات پر ابھی تک کھل کر کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا۔ اس دوران وزیر اعظم طارق رحمان کو صدر سے ملاقات کرتے دیکھا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے بیانات صرف انتظامی اختلاف نہیں بلکہ عبوری حکومت کی آئینی حیثیت اور اس کے طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت نے نہ صرف آئینی حدود سے تجاوز کیا بلکہ عملی طور پر صدر کے آئینی کردار کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش بھی کی۔ صدر کے مطابق انہیں تقریباً 18 ماہ تک عملی طور پر محدود رکھا گیا۔ انہیں بیرون ملک دوروں کی اجازت نہیں دی گئی، سرکاری مقامات سے ان کی تصاویر ہٹا دی گئیں اور انہیں سیاسی طور پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ ایوانِ صدر کے کنٹرول کی کوششیں بھی کی گئیں۔ صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ سب صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کیا اور یونس کے اقتدار چھوڑنے کے بعد ہی ان معاملات پر بات کی۔
صدر نے الزام لگایا کہ یونس کے دور میں آئین کی مکمل پاسداری نہیں کی گئی۔ پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار صدر کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے، مگر ان کے مطابق کئی آرڈیننس ان کی مکمل مشاورت یا طے شدہ آئینی طریقہ کار کے بغیر جاری کیے گئے، جو ایک غیر معمولی اور منفی مثال ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے ساتھ خریداری سے متعلق بعض معاہدوں کے بارے میں بھی انہیں آگاہ نہیں کیا گیا۔
صدر کے مطابق انہیں ریاستی امور سے تقریباً مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا۔ انہیں قومی دنوں پر تقاریب منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، حتیٰ کہ انہیں قومی عیدگاہ میں عید کی نماز ادا کرنے سے بھی روکا گیا۔ ان کا ذاتی پریس ونگ بھی واپس لے لیا گیا۔
آئینی روایت کے مطابق ریاست کے سربراہ کو خارجہ پالیسی، اعلیٰ سطحی تقرریوں، انتظامی اصلاحات اور سلامتی سے متعلق فیصلوں سے آگاہ رکھنا ضروری ہوتا ہے، مگر صدر کا کہنا ہے کہ انہیں اہم پالیسی فیصلوں سے بھی بے خبر رکھا گیا۔ ان کے مطابق یہ صرف ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمی نہیں بلکہ صدر کے کردار کو محدود کرنے کی دانستہ کوشش تھی، جو کسی چیف ایڈوائزر کے اختیار میں نہیں۔
سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ صدر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ بعض حلقے ان کے عہدے کے متبادل انتظامات کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ صدر کا عہدہ آئین میں واضح طور پر متعین ہے اور اس کے خاتمے کا طریقہ بھی طے شدہ ہے۔ اگر سیاسی یا انتظامی دباؤ کے ذریعے اس عمل کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ آئینی نظام کی کھلی خلاف ورزی ہوگی۔ اسی لیے بعض حلقے ڈاکٹر یونس اور ان کے قانونی مشیر کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایک اور الزام یہ بھی ہے کہ صدر پر ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ صدر کے مطابق شدید سیاسی بے چینی کے دوران ان سے ایمرجنسی نافذ کرنے کو کہا گیا۔ جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ میں ہنگامی اختیارات کو اکثر طاقت کے ارتکاز کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اگر عبوری حکومت کے اندر سے واقعی ایسا دباؤ ڈالا گیا تو یہ غیر معمولی طاقت کے ارتکاز کی علامت ہے۔ صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا قدم اٹھانے سے انکار کر دیا۔
ان الزامات کی سیاسی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر معروف شخصیت ہونے کے باوجود ڈاکٹر یونس اقتدار میں آنے کے بعد بدل گئے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بنگلہ دیش میں انتہا پسندی کو فروغ دیا اور آمرانہ انداز اپنایا۔ ان کی قیادت میں بننے والی عبوری حکومت نے اختیارات کے استعمال میں آئینی حدود کو عبور کیا، اسی لیے اب ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔
معروف مصنفہ تسلیمہ نسرین نے بھی سوشل میڈیا پر لکھا کہ سابق چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس اور ان جیسے افراد کو جیل میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان پر بغاوت، آزادی کی جنگ کی تاریخ مٹانے، 1971 کے دشمن پاکستان کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ اور “سیون سسٹرز” علاقوں پر قبضے کی دھمکیوں جیسے الزامات کے تحت مقدمات کیوں درج نہیں کیے جا رہے۔
یوں ڈاکٹر محمد یونس اب بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک متنازع باب بن چکے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ان کے 18 ماہ کے دورِ اقتدار نے ریاستی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی “ری سیٹ بٹن” دبانے کی بات کی اور بنگلہ دیش کو دوبارہ مشرقی پاکستان کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ ان کے دور میں ہجوم کی سیاست کو فروغ ملا اور قانون کی حکمرانی کمزور پڑ گئی۔
ایک ڈھاکا کے اخبار کے مطابق یونس کے تین مشیروں نے اقتدار کو طول دینے کے لیے ہجوم سازی کی حکمت عملی اختیار کی، مگر آخرکار یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا اور انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا۔
سنہ 2024 میں یونس نے جان بوجھ کر اقتدار سنبھالنے میں تاخیر کی۔ 5 اگست کو ذمہ داری کا اعلان ہونے اور 8 اگست کو حلف لینے کے درمیان تین دن تک ملک میں عملی طور پر حکومت موجود نہیں تھی۔ اس دوران امن و امان کی صورتحال خراب ہو گئی اور لوٹ مار، قتل، آتش زنی اور مخالفین پر حملوں کے واقعات پیش آئے۔ بعض مبصرین کے مطابق عبوری قیادت کی تاخیر نے اس صورتحال کو مزید خراب کیا۔
ڈاکٹر یونس کو طلبہ کی تجویز پر چیف ایڈوائزر بنایا گیا تھا۔ ناقدین کے مطابق اسی وجہ سے انہوں نے طلبہ کی غلطیوں کو برداشت کیا اور تعلیمی اداروں میں معمول کی صورتحال بحال کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس دوران ہجوم کے ہاتھوں قتل اور منظم تشدد کے واقعات سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے 2024 سے 2026 کے درمیان ہجوم کے تشدد میں تشویشناک اضافہ رپورٹ کیا۔
ان کے اقتصادی فیصلوں پر بھی شدید تنقید ہوئی۔ ان کی طویل عرصے سے وابستہ تنظیم گرامین بینک کے لیے ٹیکس چھوٹ، ٹیکس ہالیڈے اور ملکیتی ڈھانچے میں تبدیلی جیسے اقدامات کو مفادات کے ٹکراؤ کے طور پر دیکھا گیا۔ اقتدار سنبھالتے ہی اپنی تنظیم کو مالی فائدہ پہنچانے کے الزامات نے عوام میں شکوک و شبہات پیدا کیے۔
الزام ہے کہ یونس نے اپنی ملکیت والی کمپنیوں کے نام پر افرادی قوت برآمد کرنے اور یونیورسٹیوں سمیت 20 تجارتی لائسنس حاصل کیے، جو ایک غیر معمولی اقدام تھا۔
ناقدین کے مطابق وہ قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے 18 ماہ کے دور میں سیکیورٹی صورتحال مسلسل تشویشناک رہی۔ پولیس اہلکاروں پر حملے، تھانوں کو جلانا، اسلحہ لوٹنا اور سیاسی کارکنوں پر تشدد جیسے واقعات خبروں کی زینت بنتے رہے۔ اقلیتوں کے گھروں اور عبادت گاہوں پر حملوں کے الزامات نے عالمی سطح پر بھی بحث چھیڑ دی۔
صحافیوں، ادیبوں، فنکاروں اور اساتذہ کو بھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض حلقوں کے مطابق صحافی سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور اظہارِ رائے کی آزادی پر بھی سوالات اٹھے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر یونس نے کئی معاملات میں من مانی کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ ان کا دور ختم ہو چکا ہے، مگر تنازعات ختم نہیں ہوئے۔ ایک نوبل انعام یافتہ شخصیت کے اقتدار میں آنے کے بعد قانون کی حکمرانی، اقتصادی اخلاقیات، سیاسی برداشت اور ریاستی تسلسل جیسے معاملات مزید پیچیدہ ہو گئے۔ انہوں نے ایک انتظامی حکم کے ذریعے ملک کی بڑی سیاسی جماعت کو سیاست سے باہر کر دیا، جس کے باعث بنگلہ دیش طویل سیاسی بحران کا شکار ہو گیا۔
(مصنف: نعیم نظام، سابق مدیر بنگلہ دیش پرتیدن ۔ یہ ذاتی آراء ہیں۔)
جموں و کشمیر
تازہ بارش کے بعد کشمیر میں بہار جیسا موسم
سری نگر، کشمیر کے کئی علاقوں میں ہفتہ کے روز تازہ بارش ہوئی جس کے باعث پورے خطے میں درجۂ حرارت میں کمی آئی اور جون کے مہینے میں بھی موسم بہار جیسا خوشگوار محسوس ہونے لگا۔
محکمۂ موسمیات، سری نگر کے مطابق کشمیر ڈویژن کے بیشتر مراکز پر زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت معمول سے کم ریکارڈ کیا گیا۔ سری نگر میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 23.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 4.2 ڈگری سیلسیس کم ہے۔
جنوبی کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں درجۂ حرارت 17 ڈگری سیلسیس رہا، جو معمول سے 6.7 ڈگری سیلسیس کم ہے، جبکہ معروف سیاحتی مقام گلمرگ میں درجۂ حرارت 16.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو اوسط سے 2.2 ڈگری سیلسیس کم ہے۔
بارش کے باوجود کشمیر کے کئی علاقوں میں رات کا درجۂ حرارت معمول سے 1 سے 2 ڈگری سیلسیس زیادہ رہا۔ وادی میں سب سے کم درجۂ حرارت گلمرگ میں 9 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف مقامات پر بارش ہوئی، جن میں پہلگام میں 13 ملی میٹر، قاضی گنڈ میں 1.3 ملی میٹر اور گلمرگ میں 1.6 ملی میٹر بارش درج کی گئی۔
محکمۂ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے بعض علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک کے ساتھ آندھی کی پیش گوئی کی ہے۔ اگلے دو روز تک بھی موسم کی یہی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے دوران وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کے ساتھ آندھی چل سکتی ہے۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ سری نگر کا موسم جون کے وسط جیسا نہیں بلکہ اپریل کے آغاز جیسا محسوس ہو رہا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’آج سری نگر کا موسم جون کے وسط کے بجائے اپریل کے ابتدائی دنوں جیسا لگ رہا ہے۔ اگر یہاں یہ حال ہے تو گلمرگ اور پہلگام جیسے مقامات پر یقیناً کافی سردی ہوگی۔‘‘
یو این آئی۔ اے ایم۔
دنیا
ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی، معاہدے پر دستخط چند روز میں ڈیجیٹل طریقے سے ہوں گے، عباس عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اب پہلے کی طرح نہیں ہوگا، ہماری تلوار ہمیشہ اس پر لٹکتی رہے گی اور جب بھی ضروری ہوا ہماری مسلح افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہو جائیں گی۔ انھوں نے کہا معاہدے پر دستخط ڈیجیٹل طریقے سے آئندہ چند روز میں ممکن ہے۔
عباس عراقچی نے کہا آبنائے ہرمز پر عالمی قوانین کے مطابق قانونی نظام نافذ ہوگا، کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا لیکن جہازوں کو دی جانے والی سہولیات کے اخراجات وصول کیے جائیں گے، آبنائے پر نئے قواعد و ضوابط کا نفاذ اگلے 60 دنوں میں کیا جائے گا، تمام جہازوں کو نئے قواعد کے مطابق گزرنا ہوگا، تجارتی اور عسکری بحری جہازوں کے لیے علیحدہ علیحدہ قوانین ہوں گے۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا معاہدے میں 14 نکات ہیں، حتمی شکل دینے کے بعد ایک ایک نکتہ بیان کروں گا، معاہدے کے بعض دشمن بھی ہیں جن میں سرفہرست اسرائیل ہے، اس وجہ سے میڈیا پر اس معاہدے کے نکات ابھی بیان نہیں کروں گا، معاہدے کا وہ متن جو میڈیا پر گردش کر رہا ہے اس کی تصدیق نہیں کرتا، فی الحال امریکی حکام اور ہم نے بھی میڈیا پر زیر گردش نکات کی تصدیق نہیں کی، معاہدے میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک طرف 100 فی صد رضا مند ہو اور دوسرے کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔
عباس عراقچی نے کہا پہلے مرحلے کے وعدوں پر عمل نہ ہوا تو دوسرے مرحلے کی طرف نہیں جائیں گے، ہمیں امریکہ ا میں ایسی مخلوق کا سامنا ہے جو اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتی، امریکی وعدہ خلافیوں کا ہمیں پہلے بھی تجربہ ہے، ان کا راستہ بند کرنا ہوگا، وعدہ خلافی امریکی ذات کا حصہ ہے، یہ عمل درآمد میں ہزاروں مشکلات لاتے ہیں، امریکی وعدوں پر عمل کے دوران ہمیں مختلف تحفظات کی توقع رکھنی چاہیے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا بہت جلد ایران اور عمان مل کر آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے، معاہدے کے مطابق سمندری محاصرے کا مکمل خاتمہ اور ہمارے منجمد اثاثے بحال ہوں گے۔ معاہدے میں آبنائے ہرمز اور محاصرے کا ذکر کیا گیا ہے، ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی مسائل کا ذکر بھی معاہدے میں شامل ہے، مختلف نکات مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں بیان ہوں گے، ایران کے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کا طریقہ کار معاہدے میں شامل ہے۔
انھوں نے کہا ایران کی سیکیورٹی کونسل مذاکراتی عمل سے بخوبی آگاہ ہے، میٹنگز میں یہ موضوعات کئی دفعہ زیر بحث لائے جا چکے ہیں، سیکیورٹی کونسل کی طرف سے مختلف کمیٹیاں مذاکراتی عمل کو دیکھ رہی ہیں، جہاں بھی ضروری ہو وہ سیکیورٹی کونسل کو رپورٹ پیش کرتی ہیں، کونسل میں معاہدے کے متن کے حامی و مخالف افراد موجود ہیں، فیصلہ اجتماعی رائے سے ہوگا اور اس کے بعد اعلان کر دیا جائے گا۔
وزیر خارجہ نے کہا دشمن جب جنگ سے ناامید ہو گیا تو اس نے مذاکرات کی درخواست کی، جنگ شروع کرنے سے پہلے وہ چاہتا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچ سکے، دشمن ہماری استقامت سے ناامید ہو گیا تو اس نے جنگ شروع کر دی، جب جنگ میں بھی دیکھ لیا کہ وہ کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے گا تو پھر ناامید ہو کر اس نے مذاکرات کی درخواست کر دی۔
انھوں نے ایرانی عوام کے عزم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا دشمن سمجھ رہا تھا کہ ایران کو جھکنے پر مجبور کر دے گا لیکن اسے ایرانی افواج اور عوام کا سامنا کرنا پڑا، ہم مسلح افواج، ایرانی عوام کے مرہون منت ہیں جو روز اسکوائر پر آتے رہے، ہمیں تنہا نہیں چھوڑا، کسی قسم کا خلا سفارت کاری اور میدان جنگ میں موجود نہیں، سفارت کاری اور میدان جنگ دونوں ایک ہی ہدف کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں، سفارتکاری اور میدان جنگ کے کمانڈروں کے ساتھ میڈیا اور عوام کا اضافہ ہوا۔
عباس عراقچی نے کہا سفارت کاری کا فریضہ میدان جنگ کی کامیابیوں کو نافذ کرنا ہے، مذاکراتی ٹیم بھی میدان جنگ پر بھروسہ رکھتی ہے اور ہم نے یہی کام انجام دیا ہے، ہم میدان جنگ کے فاتح ہیں، بعض ممالک کے حکام نے مجھے کہا ہم ایران کو اس طرح نہیں پہچانتے تھے، بعض ممالک کے حکام نے کہا ایران نے سب کو حیرت میں ڈال دیا اور زیادہ طاقت کے ساتھ جنگ سے باہر نکلا، میں ان حکام کے نام بھی لے سکتا ہوں جنھوں نے میرے ساتھ یہ باتیں کی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شہید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کی تاریخ کا اعلان
تہران، ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق 4 اور 5 جولائی کو الوداعی مراسم تہران میں مصلیٰ امام خمینی کمپلیکس میں ہوں گے جبکہ شہید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ 6 جولائی کو تہران اور 7 جولائی کو قم میں ادا کی جائے گی اور
جولائی کو شہید سید علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین کی جائے گی۔9
ایرانی میڈیا کے مطابق خامنہ ای 28 فروری 2026 کو تہران میں ان کے کمپاؤنڈ پر ہونے والی شدید بمباری میں شہید ہوئے تھے۔ حملے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا گیا تھا، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے اگلے روز ان کی شہادت کی تصدیق کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق اس حملے کے بعد ایران میں سیاسی اور مذہبی سطح پر اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں اور خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا رہبرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔
چند روز قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ حملے کے روز وہ بھی خامنہ ای کے دفتر میں موجود تھے، تاہم وہ محفوظ رہے۔
واضح رہے کہ خامنہ ای کئی دہائیوں تک ایران کے سب سے بااثر سیاسی اور مذہبی رہنما رہے اور ملکی و علاقائی پالیسیوں میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان6 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی
دنیا6 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
دنیا3 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا6 days agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
جموں و کشمیر1 week agoکریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار
ہندوستان1 week agoکاکروچ جنتا پارٹی پریشان لوگوں کی آواز ہے : ابھجیت دیپکے





































































































