تازہ ترین
بنگلہ دیش میں یونس دور کا خاتمہ

نعیم نظام
بنگلہ دیش کے سابق عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس اقتدار چھوڑنے کے بعد بھی تنازعات سے باہر نہیں آ سکے۔ صدر محمد شہاب الدین نے ان پر نہ صرف ہجوم کی حکمرانی قائم کرنے بلکہ آئین کی خلاف ورزی کے سنگین الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ ان کے بعض مشیروں پر بھی سنگین بے ضابطگیوں، تضادات اور ہجوم سازی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ایک قومی اخبار میں صدر کے انٹرویو کی اشاعت کے بعد ملک میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے اور یونس اور ان کے قریبی مشیروں کے خلاف آئینی خلاف ورزی کے مقدمات درج کرنے کے مطالبات اٹھنے لگے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بنگلہ دیش میں ڈاکٹر یونس کے کردار پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
حالیہ دو انٹرویوز میں صدر محمد شہاب الدین نے متعدد الزامات عائد کیے۔ تاہم حکمران جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) نے ان معاملات پر ابھی تک کھل کر کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا۔ اس دوران وزیر اعظم طارق رحمان کو صدر سے ملاقات کرتے دیکھا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے بیانات صرف انتظامی اختلاف نہیں بلکہ عبوری حکومت کی آئینی حیثیت اور اس کے طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت نے نہ صرف آئینی حدود سے تجاوز کیا بلکہ عملی طور پر صدر کے آئینی کردار کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش بھی کی۔ صدر کے مطابق انہیں تقریباً 18 ماہ تک عملی طور پر محدود رکھا گیا۔ انہیں بیرون ملک دوروں کی اجازت نہیں دی گئی، سرکاری مقامات سے ان کی تصاویر ہٹا دی گئیں اور انہیں سیاسی طور پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ ایوانِ صدر کے کنٹرول کی کوششیں بھی کی گئیں۔ صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ سب صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کیا اور یونس کے اقتدار چھوڑنے کے بعد ہی ان معاملات پر بات کی۔
صدر نے الزام لگایا کہ یونس کے دور میں آئین کی مکمل پاسداری نہیں کی گئی۔ پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار صدر کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے، مگر ان کے مطابق کئی آرڈیننس ان کی مکمل مشاورت یا طے شدہ آئینی طریقہ کار کے بغیر جاری کیے گئے، جو ایک غیر معمولی اور منفی مثال ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے ساتھ خریداری سے متعلق بعض معاہدوں کے بارے میں بھی انہیں آگاہ نہیں کیا گیا۔
صدر کے مطابق انہیں ریاستی امور سے تقریباً مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا۔ انہیں قومی دنوں پر تقاریب منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، حتیٰ کہ انہیں قومی عیدگاہ میں عید کی نماز ادا کرنے سے بھی روکا گیا۔ ان کا ذاتی پریس ونگ بھی واپس لے لیا گیا۔
آئینی روایت کے مطابق ریاست کے سربراہ کو خارجہ پالیسی، اعلیٰ سطحی تقرریوں، انتظامی اصلاحات اور سلامتی سے متعلق فیصلوں سے آگاہ رکھنا ضروری ہوتا ہے، مگر صدر کا کہنا ہے کہ انہیں اہم پالیسی فیصلوں سے بھی بے خبر رکھا گیا۔ ان کے مطابق یہ صرف ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمی نہیں بلکہ صدر کے کردار کو محدود کرنے کی دانستہ کوشش تھی، جو کسی چیف ایڈوائزر کے اختیار میں نہیں۔
سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ صدر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ بعض حلقے ان کے عہدے کے متبادل انتظامات کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ صدر کا عہدہ آئین میں واضح طور پر متعین ہے اور اس کے خاتمے کا طریقہ بھی طے شدہ ہے۔ اگر سیاسی یا انتظامی دباؤ کے ذریعے اس عمل کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ آئینی نظام کی کھلی خلاف ورزی ہوگی۔ اسی لیے بعض حلقے ڈاکٹر یونس اور ان کے قانونی مشیر کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایک اور الزام یہ بھی ہے کہ صدر پر ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ صدر کے مطابق شدید سیاسی بے چینی کے دوران ان سے ایمرجنسی نافذ کرنے کو کہا گیا۔ جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ میں ہنگامی اختیارات کو اکثر طاقت کے ارتکاز کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اگر عبوری حکومت کے اندر سے واقعی ایسا دباؤ ڈالا گیا تو یہ غیر معمولی طاقت کے ارتکاز کی علامت ہے۔ صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا قدم اٹھانے سے انکار کر دیا۔
ان الزامات کی سیاسی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر معروف شخصیت ہونے کے باوجود ڈاکٹر یونس اقتدار میں آنے کے بعد بدل گئے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بنگلہ دیش میں انتہا پسندی کو فروغ دیا اور آمرانہ انداز اپنایا۔ ان کی قیادت میں بننے والی عبوری حکومت نے اختیارات کے استعمال میں آئینی حدود کو عبور کیا، اسی لیے اب ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔
معروف مصنفہ تسلیمہ نسرین نے بھی سوشل میڈیا پر لکھا کہ سابق چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس اور ان جیسے افراد کو جیل میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان پر بغاوت، آزادی کی جنگ کی تاریخ مٹانے، 1971 کے دشمن پاکستان کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ اور “سیون سسٹرز” علاقوں پر قبضے کی دھمکیوں جیسے الزامات کے تحت مقدمات کیوں درج نہیں کیے جا رہے۔
یوں ڈاکٹر محمد یونس اب بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک متنازع باب بن چکے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ان کے 18 ماہ کے دورِ اقتدار نے ریاستی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی “ری سیٹ بٹن” دبانے کی بات کی اور بنگلہ دیش کو دوبارہ مشرقی پاکستان کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ ان کے دور میں ہجوم کی سیاست کو فروغ ملا اور قانون کی حکمرانی کمزور پڑ گئی۔
ایک ڈھاکا کے اخبار کے مطابق یونس کے تین مشیروں نے اقتدار کو طول دینے کے لیے ہجوم سازی کی حکمت عملی اختیار کی، مگر آخرکار یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا اور انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا۔
سنہ 2024 میں یونس نے جان بوجھ کر اقتدار سنبھالنے میں تاخیر کی۔ 5 اگست کو ذمہ داری کا اعلان ہونے اور 8 اگست کو حلف لینے کے درمیان تین دن تک ملک میں عملی طور پر حکومت موجود نہیں تھی۔ اس دوران امن و امان کی صورتحال خراب ہو گئی اور لوٹ مار، قتل، آتش زنی اور مخالفین پر حملوں کے واقعات پیش آئے۔ بعض مبصرین کے مطابق عبوری قیادت کی تاخیر نے اس صورتحال کو مزید خراب کیا۔
ڈاکٹر یونس کو طلبہ کی تجویز پر چیف ایڈوائزر بنایا گیا تھا۔ ناقدین کے مطابق اسی وجہ سے انہوں نے طلبہ کی غلطیوں کو برداشت کیا اور تعلیمی اداروں میں معمول کی صورتحال بحال کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس دوران ہجوم کے ہاتھوں قتل اور منظم تشدد کے واقعات سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے 2024 سے 2026 کے درمیان ہجوم کے تشدد میں تشویشناک اضافہ رپورٹ کیا۔
ان کے اقتصادی فیصلوں پر بھی شدید تنقید ہوئی۔ ان کی طویل عرصے سے وابستہ تنظیم گرامین بینک کے لیے ٹیکس چھوٹ، ٹیکس ہالیڈے اور ملکیتی ڈھانچے میں تبدیلی جیسے اقدامات کو مفادات کے ٹکراؤ کے طور پر دیکھا گیا۔ اقتدار سنبھالتے ہی اپنی تنظیم کو مالی فائدہ پہنچانے کے الزامات نے عوام میں شکوک و شبہات پیدا کیے۔
الزام ہے کہ یونس نے اپنی ملکیت والی کمپنیوں کے نام پر افرادی قوت برآمد کرنے اور یونیورسٹیوں سمیت 20 تجارتی لائسنس حاصل کیے، جو ایک غیر معمولی اقدام تھا۔
ناقدین کے مطابق وہ قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے 18 ماہ کے دور میں سیکیورٹی صورتحال مسلسل تشویشناک رہی۔ پولیس اہلکاروں پر حملے، تھانوں کو جلانا، اسلحہ لوٹنا اور سیاسی کارکنوں پر تشدد جیسے واقعات خبروں کی زینت بنتے رہے۔ اقلیتوں کے گھروں اور عبادت گاہوں پر حملوں کے الزامات نے عالمی سطح پر بھی بحث چھیڑ دی۔
صحافیوں، ادیبوں، فنکاروں اور اساتذہ کو بھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض حلقوں کے مطابق صحافی سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور اظہارِ رائے کی آزادی پر بھی سوالات اٹھے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر یونس نے کئی معاملات میں من مانی کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ ان کا دور ختم ہو چکا ہے، مگر تنازعات ختم نہیں ہوئے۔ ایک نوبل انعام یافتہ شخصیت کے اقتدار میں آنے کے بعد قانون کی حکمرانی، اقتصادی اخلاقیات، سیاسی برداشت اور ریاستی تسلسل جیسے معاملات مزید پیچیدہ ہو گئے۔ انہوں نے ایک انتظامی حکم کے ذریعے ملک کی بڑی سیاسی جماعت کو سیاست سے باہر کر دیا، جس کے باعث بنگلہ دیش طویل سیاسی بحران کا شکار ہو گیا۔
(مصنف: نعیم نظام، سابق مدیر بنگلہ دیش پرتیدن ۔ یہ ذاتی آراء ہیں۔)
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
انقرہ، ترکیے نے امریکہ ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا6 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ





































































































