جموں و کشمیر
‘جس کی لاٹھی اس کی بھینس”کی سیاست دنیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے: میر واعظ
سری نگر، کشمیر کے سرکردہ عالم دین اور حریت چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے پیر کو کہا کہ عالمی سطح پر چل رہی ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس”کی سیاست دنیا کو عدم استحکام اور خطرے کی طرف دھکیل رہی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کا اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی اداروں سے مسلسل اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔
رواں سال فروری میں امریکی اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بمینہ میں آغا سید ہادی الموسوی کی جانب سے نکالی گئی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے انہیں عالمی مسلم برادری کی عظیم شخصیت قرار دیا جو مظلوموں بالخصوص مظلوموں اور بے آواز لوگوں کے لیے مسلسل کھڑے رہے۔
میرواعظ نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی خلاف ورزی کر کے کبھی بھی حقیقی معنوں میں کوئی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ “افسوس کی بات ہے کہ ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس”کی بین الاقوامی سیاست پوری دنیا کو عدم استحکام اور خطرے کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کا اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی اداروں سے تیزی سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی خلاف ورزی کر کے کوئی بھی جنگ حقیقی معنوں میں نہیں جیتی جا سکتی۔”
کشمیری عوام کے لیے آیت اللہ خامنہ ای کی محبت کو یاد کرتے ہوئے میرواعظ نے کشمیر کے اپنے تاریخی دورے اور مرحوم میرواعظ مولوی محمد فاروق کے ساتھ تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کو یاد کیا۔ انہوں نے مسلم اتحاد کو فروغ دینے میں مرحوم رہنما کے کردار کی تعریف کی۔
کشمیر کی شناخت اور ثقافت پر بات کرتے ہوئے میرواعظ نے خطے کی منفرد زبان اور روایات کو محفوظ رکھنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس وقت سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
اردو کے حوالے سے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس زبان کو صرف اس لیے مذہبی نظر سے دیکھا جا رہا ہے کہ یہ بنیادی طور پر مسلمان بولتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “تمام زبانیں احترام اور پہچان کی مستحق ہیں اور زبانوں کو سیاسی بنانا یا فرقہ وارانہ بنانا انتہائی بدقسمتی اور معاشرے کی جامع ثقافتی اقدار کے لیے نقصان دہ ہے۔”
میرواعظ نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل (ایم ایم یو) کے بینر تلے مسلم دنیا کے تمام مکاتب فکر کے درمیان فرقہ وارانہ اتحاد، باہمی احترام اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی کوششیں جاری رکھیں گی۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ان لوگوں کے خلاف ہوشیار رہیں، جو کمیونٹی کے اندر تفرقہ اور فرقہ وارانہ تفریق کو فروغ دیتے ہیں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
مذاکرات ہی واحد راستہ: جموں کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی ہند۔پاک امن عمل کی پرزور حمایت
سرینگر، جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایس اے) نے جمعرات کو ہند۔پاک کے درمیان تعمیری مذاکرات کی بحالی کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، علاقائی استحکام اور مشترکہ خوشحالی صرف مسلسل سفارتی روابط، باہمی احترام اور پرامن گفتگو کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ہندوستان کے سیکورٹی سے متعلق جائز خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے اور ہر قسم کی دہشت گردی کی واضح الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے، جے کے ایس اے نے کہا کہ کشیدگی کو کم کرنے، ٹکراؤ کو روکنے اور پائیدار امن کے لیے سازگار ماحول تیار کرنے کے لیے بامقصد بات چیت ایک ناگزیر ذریعہ ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان بہتر علاقائی تعاون سے تجارت، تعلیم، جدت (انوویشن)، سیاحت اور اقتصادی ترقی کو فروغ مل سکتا ہے۔ تنازع کی وجہ سے جان گنوانے والے فوجیوں، سیکورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو سب سے بڑا خراجِ عقیدت یہ ہوگا کہ ذمہ دارانہ سفارت کاری کے ذریعے مستقبل میں انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جائے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف پر قائم رہا جائے۔ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لیے امن محض ایک خواہش نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔
جموں کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر کھوہامی نے ایک بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں نے دہائیوں سے جاری تنازع کے انسانی، سماجی اور معاشی نتائج کو بھگتا ہے۔
“جب کبھی ہند۔پاک کے تعلقات خراب ہوئے ہیں، تو اس کی سب سے بڑی قیمت طلبہ، خاندانوں، تاجروں، سرحدی علاقوں کے رہائشیوں اور عام شہریوں کو ہی چکانی پڑی ہے۔ کشیدگی بڑھنے کی صورت میں تعلیم، روزگار، سیاحت، تجارت اور ترقیاتی کام متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ امن کو فروغ دینے، دشمنی کو کم کرنے اور ایسا ماحول بنانے کے لیے مخلصانہ کوششیں کی جائیں جہاں ترقی، تعلیم اور انسانی فلاح و بہبود کو فروغ مل سکے۔”
یواین آئی۔م ا ع
جموں و کشمیر
ریاست کا درجہ بحال ہونے تک عمر کابینہ میں شامل نہیں ہوگی کانگریس: طارق کرّا
سرینگر، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کے صدر طارق حمید کرّا نے جمعرات کو کہا ہے کہ جب تک جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاست کا درجہ بحال نہیں کر دیا جاتا، تب تک کانگریس عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی کابینہ (وزراء کی کونسل) میں شامل نہیں ہوگی۔
طارق کرّا نے آج یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی اولین ترجیح جموں و کشمیر کی ریاست کا درجہ بحال کرانا ہے، نہ کہ کوئی وزیر کا عہدہ حاصل کرنا۔ انہوں نے واضح کیا، “کابینہ میں شامل ہونا ہمارا مسئلہ نہیں ہے، ہمارا اصل مسئلہ ریاست کا درجہ بحال کرانا ہے۔ اگر ہم حکومت سے باہر ہیں، تو یہ ایک اصول کی وجہ سے ہیں۔ ہم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جب تک مکمل ریاست کا درجہ واپس نہیں ملتا، ہم کابینہ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ پارٹی کا یہ فیصلہ ‘اصولوں پر مبنی’ ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “اس کے باوجود ہم عمر عبداللہ حکومت کی مکمل حمایت کر رہے ہیں۔ جب بھی ہمیں لگے گا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت پر حملہ کر رہی ہے یا حکومت کو بی جے پی سے کوئی خطرہ ہے، تو اس وقت آپ کانگریس پارٹی کو نیشنل کانفرنس کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا پائیں گے۔”
کانگریس رہنما کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی کابینہ میں توسیع اور ردو بدل کی قیاس آرائیاں تیز ہو رہی ہیں۔ نیشنل کانفرنس کی حکومت کو باہر سے حمایت دے رہی کانگریس مسلسل یہ کہہ رہی ہے کہ ریاست کا درجہ بحال کرنا اس کا سب سے بڑا سیاسی مطالبہ ہے اور اس نے حکومت میں شمولیت کو اسی شرط سے جوڑ رکھا ہے۔ حال ہی میں عمر عبداللہ نے بھی اشارہ دیا تھا کہ کابینہ میں جلد توسیع کی جا سکتی ہے۔
طارق کرّا نے ریاست کے درجے کی بحالی کے لیے دہلی کے جنتر منتر پر دھرنے میں شامل ہونے کی نیشنل کانفرنس کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ کانگریس ایک سال سے زیادہ عرصے سے اس مہم کی قیادت کر رہی ہے۔ جب ان سے نیشنل کانفرنس کے اس اعلان کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے دن احتجاج کے لیے ‘انڈیا الائنس’ کے اراکین اور دیگر جماعتوں کو مدعو کرے گی، تو انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت نے کانگریس کے دیرینہ مؤقف کو درست ثابت کر دیا ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا، “ہم پہلے بھی جنتر منتر جا چکے ہیں۔ اگر آپ دیکھیں تو ہم نے ایک سال پہلے ‘سرینگر چلو’، ‘جموں چلو’ اور پھر ‘دہلی چلو’ کا نعرہ دیا تھا۔ اصل میں یہ ہمارے لیے خوشی کی بات ہے اور میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ جو بات ہم نے ایک سال پہلے کہی تھی اور جو کام ہم نے شروع کیا تھا، آج وہ لوگ بھی اس میں شامل ہو رہے ہیں جنہیں اس وقت تھوڑی ہچکچاہٹ تھی یا کوئی مجبوری تھی۔ آج تمام لوگ اسی نکتے پر پہنچ گئے ہیں جہاں سے کانگریس پارٹی نے شروعات کی تھی۔
یواین آئی۔م اع
جموں و کشمیر
سِنہا نے 4,822 یاتریوں کے پہلے قافلے کو بابا برفانی کی مقدس گپھا کے لیے روانہ کیا
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے جمعرات کے روز بھگوتی نگر بیس کیمپ سے شری امرناتھ یاترا کے عقیدت مندوں کے پہلے قافلے کو مقدس گپھا کی جانب روانہ کیا۔
پہلے قافلے میں 4,822 یاتری 259 ہلکی اور بھاری گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ شری امرناتھ یاترا کے لیے روانہ ہوئے۔ اس موقع پر بالتال اور پہلگام کے دونوں بیس کیمپوں پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، مجموعی طور پر 2,510 یاتری روایتی پہلگام راستے سے سفر کر رہے ہیں، جبکہ 2,312 یاتریوں نے مختصر بالتال راستہ اختیار کیا ہے۔ پہلے قافلے میں 3,707 مرد یاتری، 816 خواتین، 16 بچے، 246 سادھو اور 37 سادھویاں شامل ہیں۔ قافلے میں 106 بسیں، 39 درمیانی موٹر گاڑیاں (ایم ایم وی)، 111 ہلکی موٹر گاڑیاں (ایل ایم وی) اور تین دو پہیہ گاڑیاں شامل ہیں۔
منوج سِنہا نے مقدس یاترا پر روانہ ہونے والے تمام یاتریوں کو نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ “شری امرناتھ جی یاترا ایک ایسا مقدس ذریعہ ہے جہاں عقیدت اور روحانی بیداری کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔ میں تمام یاتریوں کے لیے محفوظ، آرام دہ، خوشگوار اور روحانی طور پر اطمینان بخش سفر کی دعا کرتا ہوں۔ یہ مقدس یاترا سب کے لیے بے پناہ خوشی اور الٰہی سکون کا باعث بنے۔”
انہوں نے کہا کہ یاتریوں کے لیے مناسب سیکیورٹی، طبی سہولیات، صفائی، رہائش اور دیگر تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔ جموں و کشمیر انتظامیہ، شری امرناتھ جی شرائن بورڈ، جموں و کشمیر پولیس، فوج، سیکورٹی فورسز، مقامی برادری اور دیگر متعلقہ اداروں نے ملک اور بیرونِ ملک سے آنے والے عقیدت مندوں کے لیے جامع انتظامات کیے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان4 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر7 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
ہندوستان6 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا4 days agoمجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی قانونی کارروائی کا حکم
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت
دنیا1 week agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر







































































































