ہندوستان
ملک وسماج کی ترقی میں مسلمانوں کا سرگرم رول اشد ضروری
خصوصی مضمون: فہیم احمد
نئی دہلی ،ہندوستانی سماج کی ترقی میں مسلمانوں کا کردار ایک ایسا موضوع ہے جو نہ صرف تاریخی اہمیت کاحامل ہے بلکہ مستقبل کے حوالے سے بھی انتہائی کلیدی ہے۔ ہندوستان ایک کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک ہے، جہاں ہر کمیونٹی کی ترقی مجموعی قومی ترقی سے وابستہ ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا پہلا زینہ تعلیم ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جدید علوم، سائنس، ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ میں مہارت حاصل کریں۔ جب نوجوان نسل اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوگی، تو وہ ملک کی معیشت میں بہتر تعاون کر سکے گی۔ صرف ڈگریاں حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ ہنر مندی پر توجہ دینا ضروری ہے تاکہ مسلمان نوجوان صنعت و حرفت کے شعبوں میں قیادت کر سکیں۔
سماج کی تعمیر اور ترقی میں مختلف مذاہب اور اقوام کا اہم کردار رہا ہے۔ اسلام، جو ایک عالمگیر مذہب ہے، اپنے پیروکاروں کو سماجی بہتری کی طرف راغب کرتا ہے۔ مسلمانوں کا کردار سماج کو بہتر بنانے میں تاریخی طور پر نمایاں رہا ہے، جہاں وہ علم، انصاف، رحم اور اتحاد کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات میں فرد کی ذاتی تربیت کے ساتھ ساتھ سماجی ذمہ داریوں پر زور دیا گیا ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ مسلمان کس طرح سماج کو بہتر بنانے میں تعاون کرسکتے ہیں، چاہے وہ تعلیم، معاشی انصاف، ماحولیاتی تحفظ یا اخلاقی اقدار کی ترویج کے ذریعے ہو۔
تاریخی پس منظرمیں مسلمانوں کا سماجی بہتری کا سفر آنحضورکی آمد سے شروع ہوتا ہے۔ آں حضرت نے مدینہ میں ایک ایسا سماج قائم کیا جہاں غلام اور آقا، امیر اور غریب سب برابر تھے۔ خلافت راشدہ کے دور میں مسلمانوں نے یورپ، افریقہ اور ایشیا میں علوم و فنون کی ترقی کی، جس سے انسانی تہذیب کو نئی جہت ملی۔ مثال کے طور پر، بیت الحکمہ بغداد میں مسلمان سائنس دانوں نے یونانی اور ہندوستانی علوم کا ترجمہ کیا اور طب، ریاضی اور فلکیات میں انقلاب برپا کیا۔ یہ کردار آج بھی جاری ہے، جہاں مسلمان کمیونٹیز دنیا بھر میں سماجی مسائل کے حل میں سرگرم ہیں۔تعلیم اور علم کی ترویج اسلام میں علم کی اہمیت کو ’’اقرأ‘‘ (پڑھو) کے پہلے حکم سے واضح کیا گیا ہے۔
مسلمان سماج کو بہتر بنانے کے لیے تعلیم کو ایک اہم وسیلہ سمجھتے ہیں۔ دنیا بھر میں مسلم ادارے خاص طورسے برصغیرمیں مذہبی اور عصری تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ یہ ادارے مسلم خواتین کی تعلیم پر بھی زور دیتے ہوئے، سماج میں جہالت اور پسماندگی کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور تعلیم کے ذریعے مسلم سماج میں برابری اور ترقی کو فروغ دیتے ہیں، جس سے جرائم اور غربت کم ہوتی ہے۔ صدقہ، زکوٰۃ اور فلاحی کام اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہیں ، جو معاشی عدم مساوات کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔
مسلمان سالانہ اپنی دولت کا 2.5 فیصد غریبوں کو دیتے ہیں، جو سماجی بہتری کا ایک منظم نظام ہے۔ انصاف اور اخلاقی اقدار کی حفاظت مسلم سماج میں انصاف کو قائم رکھنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات ’’عدل” (انصاف) پر مبنی ہیں، جو سماجی ہم آہنگی کی بنیاد ہے۔ اخلاقی اقدار جیسے ایمانداری، احترام اور خاندانی نظام کی حفاظت کے ذریعے مسلمان سماج کو جرائم اور اخلاقی زوال سے بچاتے ہیں۔ یہ کردار سماج کو ایک محفوظ اور اخلاقی طور پر مضبوط بناتا ہے۔ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی جدید دور میں مسلم ماحولیاتی مسائل کے حل میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسلام میں زمین کو ’’امانت‘‘ سمجھا جاتا ہے، جس کی حفاظت ضروری ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اسلام کی اصل تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے سماجی بہتری میں مزید فعال ہوں۔ تعلیم، ٹیکنالوجی،ملکی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے وہ اپنا کردار مزید موثر بنا سکتے ہیں۔
مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد تجارت اور دستکاری سے وابستہ ہے۔ اگر ان روایتی کاروباروں کو جدید ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپ کلچر سے جوڑ دیا جائے تو یہ ملکی جی ڈی پی میں بڑا اضافہ کر سکتے ہیں۔ چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروبارکو فروغ دے کر نہ صرف اپنی کمیونٹی بلکہ دیگر ہم وطنوں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھنا سماجی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ مسلمان اپنے اخلاق اور کردار کے ذریعے بین المذاہب مکالمےکو فروغ دے سکتے ہیں۔ سماج کے محروم طبقات کی مدد، انسانی حقوق کی پاسداری اور پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کے ذریعے ایک پرامن اور متحد سماج کی تشکیل میں مسلمان ہراول دستہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
جمہوریت میں فعال شرکت محض ووٹ دینے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ہندوستان میں مسلمان اپنے محلوں کی صفائی و ستھرائی میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں ۔ اسلام میں صفائی کو نہ صرف جسمانی اور روحانی پاکزیگی حتی کہ نصف ایمان قرار دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ شہری مسائل، صفائی ستھرائی کی مہم، ماحولیاتی تحفظ اور قانون کی پاسداری جیسے معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ مسلم محلوں میں رہنے والے لوگ اگر منظم اور اجتماعی طور پر کام کریں تو نہ صرف اپنے محلے کو صاف ستھرا بنا سکتے ہیں بلکہ پورے شہر اور ملک کے لیے ایک بہترین مثال بھی قائم کر سکتے ہیں ۔ مسجد کو مرکز بنائیں ہر جمعہ کے خطبے میں امام یا خطیب صفائی کی اہمیت بتائیں۔
محلہ کمیٹی یا ’’محلہ صفائی گروپ‘‘ کے نام سے 10-15 نوجوانوں، خواتین اور بزرگ افراد کی ایک چھوٹی ٹیم بناکر ہفتہ میں ایک دن (مثلاً اتوار کی صبح) سب مل کر گلیوں، نالیوں، کھیل کے میدان اور خالی پلاٹس کی صفائی کرسکتے ہیں ۔ گھروں میں بھی کوڑے کا مناسب انتظام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ محلے میں 4-5 بڑے کمیونٹی کوڑے دان لگوائیں اور میونسپل کارپوریشن سے باقاعدہ اٹھانے کا انتظام کروائیں ۔ پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنے کی مہم چلائیں (جس میں کپڑے کے تھیلےاستعمال کرنا)۔ سوچھ بھارت مشن سے منسلک ہوں اور اگر محلے میں اب بھی کھلی جگہوں پر گندگی ہو تو میونسپل افسران سے رابطہ کریں اور مطالبہ کریں کہ گندگی اٹھائی جائے اور نالیاں صاف کی جائیں۔ سال میں 2-3 باربچوں کے ساتھ صفائی ریلی نکالی جاسکتی ہے جس میں پلے کارڈز، نعرے اور موسیقی کے ساتھ صفائی کا پیغام دیا جائے۔ پانی اور نکاسی آب کا خیال رکھیں اور نالیوں میں کوڑا پھنکنے سے سختی سے روکیں۔ اگر مسلم کمیونٹی نے یہ چند اقدامات سنجید گی سے کرلیے تو چند ہی برسوں مں بہت سے مسلم محلے ہندوستان کے ’’ماڈل سوچھ محلے‘‘ بن سکتے ہیں ۔ یہ نہ صرف صحت اور خوبصورتی بڑھائے گا بلکہ محلے والوں میں اتحاد، ذمہ داری اور باہمی محبت بھی پیدا کرے گا۔
ہندوستانی مسلمان اس ملک کا اٹوٹ حصہ ہیں، ان کی ترقی ہندوستان کی ترقی ہے۔ اگر وہ تعلیم، معیشت اور اخلاقیات کے میدان میں خود کو مضبوط کر لیں، تو وہ ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے میں سب سے اہم ستون ثابت ہو سکتے ہیں۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
وزیرِ اعظم مودی کے بیان پر راہل کا سخت ردِعمل، بولے ’’نصیحت نہیں، حکومت کی ناکامی کے ثبوت ہیں”
نئی دہلی، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے حالیہ خطاب پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو قربانی اور بچت کا مشورہ دیناحکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’’مودی جی نے کل عوام سے قربانی مانگی—سونا مت خریدو، بیرونِ ملک مت جاؤ، پٹرول کم استعمال کرو، کھاد اور کھانے کا تیل کم استعمال کرو، میٹرو میں سفر کرو اور گھر سے کام کرو۔ یہ نصیحت نہیں بلکہ حکومت کی ناکامی کے ثبوت ہیں۔”
انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ 12 برسوں میں ملک کی معیشت اور عام لوگوں کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ اب حکومت عوام کو یہ بتانے لگی ہے کہ کیا خریدنا ہے اور کیا نہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہر بار ذمہ داری عوام پر ڈال دی جاتی ہے تاکہ حکومت خود جوابدہی سے بچ سکے۔
کانگریس رہنما نے وزیرِ اعظم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’ملک چلانا اب وزیرِ اعظم کے بس کی بات نہیں ہے۔”
دراصل، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ملک کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے توانائی کی بچت، خود انحصاری اور ذمہ دار شہری رویے پر زور دیا تھا۔ وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ ’’ملک کے لیے لڑنا ہی حب الوطنی نہیں ہے، بلکہ ملک کے لیے جینا اور اپنے فرائض کی ادائیگی بھی حب الوطنی ہے۔” انہوں نے لوگوں سے پٹرول اور ڈیزل کا کم استعمال کرنے، میٹرو جیسے عوامی نقل و حمل کے ذرائع کا زیادہ استعمال کرنے، الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے اور ورک فرام ہوم، آن لائن کانفرنسنگ اور ورچوئل میٹنگز کو دوبارہ اپنانے کی اپیل کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی وزیرِ اعظم نے لوگوں سے سونا خریدنے سے گریز کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔
وزیرِ اعظم کے اسی بیان کو لے کر اب کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سیاسی ٹکراؤ تیز ہو گیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
ڈی آر ڈی او نے مقامی گلائیڈ ہتھیاروں کے نظام ‘ٹارا’ کا کامیاب تجربہ کیا
نئی دہلی، دفاعی تحقیقی اور ترقیاتی تنظیم (ڈی آر ڈی او) اور ہندوستانی فضائیہ نے پہلے مقامی گلائیڈ ہتھیاروں کے نظام ‘ٹیکٹیکل ایڈوانسڈ رینج آگمنٹیشن’ (ٹارا) کا کامیاب تجربہ کیا ہے ٹی اے آر اے ایک ماڈیولر رینج توسیعی کِٹ ہے، جو ہندوستان کا پہلا دیسی ساختہ گلائیڈ ویپن سسٹم ہے۔ یہ بغیر رہنمائی والے وارہیڈز کو ہدف پر درست نشانہ لگانے والے گائیڈڈ ہتھیاروں میں تبدیل کرتا ہے۔
ٹی اے آر اے کو ریسرچ سینٹر امرات (آر سی آئی) حیدرآباد نے ڈی آر ڈی او کی دیگر تجربہ گاہوں کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے، تاکہ کم لاگت والے ہتھیار کی تباہ کن صلاحیت اور درستگی میں اضافہ کرکے زمینی اہداف کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جا سکے۔ یہ جدید کم لاگت والے نظاموں سے لیس بھارت کا پہلا گلائیڈ ہتھیار ہے۔اس کِٹ کی تیاری ڈیولپمنٹ کم پروڈکشن پارٹنرز (ڈی سی پی پی) اور دیگر ہندوستانی صنعتوں کے اشتراک سے کی گئی، جنہوں نے اس کی پیداوار کا عمل بھی پہلے ہی شروع کر دیا ہے۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس سے پہلے، فضائی تجربے پر ڈی آر ڈی او، ہندوستانی فضائیہ، ڈی سی پی پی اور صنعت سے وابستہ اداروں کو مبارکباد دی اور اسے بھارت کی مقامی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
دفاعی تحقیق و ترقی کے محکمے کے سکریٹری اور ڈی آر ڈی او کے چیئرمین سمیر وی کامت نے بھی کامیاب فضائی تجربے سے وابستہ ٹیموں کو مبارکباد پیش کی۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
بی جے پی دورِ حکومت میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ، دھامی حکومت عصمت دری کے ملزمان کو بچا رہی ہے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ ملک میں خواتین کے خلاف جرائم بڑھ رہے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے مطابق ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت ان جرائم پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔
مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے جمعہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی خواتین کو تحفظ دینے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن سب سے زیادہ جرائم بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں ہی ہو رہے ہیں۔ بی جے پی کی حکومت والی ریاستیں جیسے اتر پردیش، راجستھان اور مہاراشٹر خواتین کے خلاف جرائم کے اعداد و شمار میں ملک میں سرفہرست ہیں۔ اتراکھنڈ میں انکیتا بھنڈاری کے ساتھ بی جے پی لیڈروں نے عصمت دری کی اور اسے قتل کر دیا، لیکن اس کی کہیں کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔
مہیلا کانگریس کی صدر نے اتراکھنڈ حکومت پر عصمت دری کے ملزمان کو بچانے کا الزام لگایا اور کہا کہ وہاں دسویں جماعت میں پڑھنے والی ایک بچی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اور حکومت جرم کرنے والے اپنے لیڈروں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اتراکھنڈ پولیس خود متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ متاثرہ خاندان کے ارکان پر سمجھوتہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ پولیس انہیں کیس ختم کرنے کے لیے کہہ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کو 50 لاکھ روپے دے کر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ پیشکش کرنے والے بی جے پی کے بڑے لیڈر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے آنے کے بعد نیشنل کرائم بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں عصمت دری کے واقعات میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور بی جے پی کی ریاستوں میں یہ اضافہ سب سے زیادہ ہے، اس لیے بی جے پی حکومت کو اس کا جواب دینا چاہیے۔ مہیلا کانگریس کی صدر نے دعویٰ کیا کہ ملک میں ہر 70 منٹ میں ایک خاتون عصمت دری کا شکار ہو رہی ہے اور یہ سب اس بی جے پی حکومت میں ہو رہا ہے جو خود کو خواتین کی محافظ حکومت قرار دیتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی کو بتانا چاہیے کہ مجرموں کے خلاف کس سطح پر کارروائی ہوئی ہے اور قصورواروں کو سزا کیوں نہیں دی گئی؟ انہوں نے مزید کہا کہ اتر پردیش، راجستھان، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، بہار، ہریانہ اور دہلی جیسی ریاستوں میں خواتین کے خلاف واقعات ہوتے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی حکومت میں دلت خواتین کے ساتھ سب سے زیادہ جرائم ہو رہے ہیں اور ایک اعداد و شمار کے مطابق ہر روز تقریباً 10 دلت خواتین کے ساتھ عصمت دری کے واقعات پیش آ رہے ہیں، لیکن ان جرائم کے حوالے سے کہیں کوئی انصاف نہیں مل رہا۔
یواین آئی۔ایف اے
جموں و کشمیر7 days agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا3 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
ہندوستان6 days agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا3 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
دنیا1 week agoایران کے ساتھ جنگ ختم ہو گئی: وائٹ ہاؤس
دنیا7 days agoایرانی فوج کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو وارننگ
ہندوستان6 days agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں منشیات فروش کی غیر قانونی عمارت مسمار کر دی
ہندوستان4 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
دنیا1 week agoامریکی نیوی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کیلئے ’بحری قزاقوں‘ جیسا کردار ادا کر رہی ہے: ٹرمپ
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا










































































































