ہندوستان
دہلی ہائی کورٹ نے غیر قانونی میٹنگ کی بنیاد پر کونسل کی نشست خالی قرار دینے کے آئی سی اے آئی اقدام کو کالعدم قرار دیا
نئی دہلی، ایک اہم فیصلے میں، دہلی ہائی کورٹ نے ‘انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف انڈیا’ (آئی سی اے آئی) کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس میں ریجنل کونسل کی ایک نشست کو خالی قرار دیا گیا تھا عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ میٹنگ بلانے میں طریقہ کار کی کوتاہیوں کو خودکار نااہلی کے لیے بنیاد نہیں بنایا جا سکتا یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب 2025-2029 کی مدت کے لیے ناردرن انڈیا ریجنل کونسل کے منتخب رکن گورو اگروال کو 6 نومبر 2025 کو مطلع کیا گیا کہ وہ اپنی نشست کھو چکے ہیں۔ آئی سی اے آئی نے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس ریگولیشنز 1988 کے ریگولیشن 135(3) کا حوالہ دیا، جس کے تحت اگر کوئی رکن اجازت لیے بغیر لگاتار تین میٹنگوں میں غیر حاضر رہتا ہے، تو یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اس نے اپنی نشست خالی کر دی ہے۔
اگروال نے اس اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے دلیل دی کہ اپریل اور مئی 2025 کے دوران جن میٹنگوں کو ان کی غیر حاضری کی بنیاد بنایا گیا، وہ خود طریقہ کار کے لحاظ سے ناقص تھے۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ کیا وہ میٹنگیں نوٹس کے قواعد و ضوابط کے مطابق طلب کی گئی تھیں یا نہیں۔
جسٹس پروشیندر کمار کورو کی سربراہی میں بنچ نے ایک اہم نکتہ واضح کیا کہ خودکار نتائج (جیسے نشست کا خالی ہونا) صرف قانونی طور پر طلب کی گئی میٹنگوں کی بنیاد پر ہی مرتب ہو سکتے ہیں۔ ریگولیشن 142 کا جائزہ لیتے ہوئے عدالت نے دہرایا کہ کونسل کی میٹنگوں کے لیے کم از کم 14 دن کا نوٹس دینا لازمی ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے مخصوص حفاظتی اقدامات (جیسے کلیدی عہدیداروں کی منظوری یا اراکین کی رضامندی) پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔
اس کیس میں عدالت نے پایا کہ ان حفاظتی اقدامات پر عمل نہیں کیا گیا تھا۔ 15 اپریل 2025 کو ہونے والی 70 ویں میٹنگ مختصر نوٹس پر مناسب منظوری کے بغیرطلب گئی تھی ۔ 18 میں سے صرف 8 ارکان نے رضامندی ظاہر کی تھی، جو کہ مطلوبہ تعداد سے کم تھی۔ اس کے نتیجے میں، عدالت نے اس اجلاس کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
فضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
نئی دہلی، فضایئہ کا ایک مال بردار طیارہ اے این 32 ہفتہ کو آسام کے جورهاٹ فضائیہ اسٹیشن پر حادثے کا شکار ہو گیا جس میں سوارفضائیہ کے پانچ اہلکار شہید ہو گئے۔ حادثے میں شہید ہوئے فضائیہ کے اہلکاروں میں دو اگنی ویر بھی شامل ہیں۔
فضائیہ کے ترجمان نے بتایا کہ اس حادثے میں اسکواڈرن لیڈر پرشانت سنگھ، فلائٹ لیفٹیننٹ شبھم کمار، سارجنٹ جتیندر شرما، اگنی ویر وایو کھیمارام کماوت اور اگنی ویر وایو دانش عالم نے فرض کی ادائیگی میں عظیم قربانی دی۔
انہوں نے کہا کہ فضائیہ کو اس حادثے میں پانچ بہادر جوانوں کو کھونے کا گہرا دکھ ہے۔ ہندوستانی فضائیہ سوگوار خاندانوں کے تئیں گہری تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں مضبوطی سے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ حادثے کی جانچ کے لیے کورٹ آف انکوائری تشکیل دے دی گئی ہے۔ یہ مال بردار طیارہ صبح دس بجے کے قریب فضائیہ کے جورهاٹ اسٹیشن پر اترنے کے دوران حادثے کا شکار ہوا۔ طیارے کے اترتے وقت اس میں آگ لگ گئی، جس سے یہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ طیارے کے حادثے کی وجوہات کا ابھی پتہ نہیں چلا ہے۔ یہ طیارہ باقاعدہ پرواز پر تھا۔
طیارے میں آگ لگنے کے بعد یہ دو حصوں میں ٹوٹ گیا۔ فضائیہ کے شہید اہلکاروں میں طیارے کا پائلٹ بھی شامل ہے جبکہ کو-پائلٹ زخمی ہوا ہے۔ اے این-32 دو انجن والا مال بردار طیارہ ہے جو دہائیوں سے فضائیہ کے لیے لاجسٹکس کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ اس نے ملک بھر میں، خاص طور پر اونچے علاقوں اور دور دراز کے حصوں میں مختلف مہمات میں اہم کردار نبھایا ہے۔ اس حادثے نے اے این-32 بیڑے کے ساتھ گزشتہ کچھ برسوں میں ہوئے کئی بڑے حادثوں کی یادیں تازہ کر دی ہیں۔
سب سے تکلیف دہ واقعات میں سے ایک جون 2019 میں ہوا تھا، جب 13 لوگوں کو لے جا رہا ایک اے این-32 طیارہ آسام کے جورهاٹ سے اروناچل پردیش کے میچوکا کے لیے پرواز بھرنے کے بعد لاپتہ ہو گیا تھا۔ ایک ہفتے سے زیادہ دن چلے تلاشی اور بچاؤ مہم کے بعد طیارے کا ملبہ اروناچل پردیش کے پہاڑی علاقے میں ملا۔ طیارے میں سوار سبھی 13 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس سے پہلے جولائی 2016 میں 29 لوگوں کو لے جا رہا ایک اور اے این-32 طیارہ چنئی کے تامبرم اسٹیشن سے پورٹ بلیئر جاتے وقت خلیج بنگال کے اوپر لاپتہ ہو گیا تھا۔ فضائیہ کی طرف سے چلائی گئی سب سے بڑی تلاشی اور بچاؤ مہموں میں سے ایک کے باوجود یہ طیارہ کئی برسوں تک لاپتہ رہا۔ آخر کار 2024 میں سمندر کی تہہ میں طیارے کا ملبہ ملا جس سے سبھی 29 لوگوں کی موت کی تصدیق ہوئی تھی۔
اے این-32 طیارہ 1980 کی دہائی سے ہی فضائیہ کے مال بردار بیڑے کی ریڑھ رہا ہے۔ اس طیارے نے فوجیوں کی آمد و رفت، لاجسٹکس سپلائی مشن، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد اور آفات سے راحت کے کاموں میں اہم کردار نبھایا ہے۔ طیارے نے خاص طور پر دشوار گزار علاقوں اور سرحدی علاقوں میں مہمات کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا ہے۔ وقت کے ساتھ، اس طیارے میں ایوی اونکس، نیویگیشن سسٹم اور آپریشنل اپ گریڈیشن کیا گیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی فرانس، سلوواکیہ کے چھ روزہ دورے پر روانہ، عالمی رہنماؤں سے کریں گے ملاقات
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کو فرانس اور سلوواکیہ کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہو گئے۔
اس دوران وہ 15 جون سے فرانس میں منعقد ہونے والے تین روزہ جی-7 سربراہی اجلاس میں حصہ لینے کے علاوہ کئی عالمی رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کریں گے۔ ہندوستان پارٹنر ملک کے طور پر اس گروپ کی میٹنگ میں تیرھویں بار حصہ لے رہا ہے۔ سرکاری پروگرام کے مطابق مسٹر مودی اپنے دورے کے دوران فرانس اور سلوواکیہ کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔
وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم کی فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور سلوواکیہ کے وزیر اعظم رابرٹ فیکو کے ساتھ تفصیلی دو طرفہ بات چیت ہوگی، جس میں اسٹریٹجک، اقتصادی، دفاع، ٹیکنالوجی اور اختراع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ مسٹر مودی فرانس کے شہر نیس، ایویان اور پیرس کا دورہ کریں گے۔ جی-7 اجلاس کے دوران ان کی گروپ کے رکن ممالک کے رہنماؤں، پارٹنر ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کا امکان ہے۔ اجلاس میں جنوبی کوریا، کینیا، برازیل اور مصر جیسے ممالک کو بھی پارٹنر ملک کے طور پر مدعو کیا گیا ہے۔
دورے کے دوران مغربی ایشیا کی صورتحال سمیت مختلف عالمی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ میں اصلاحات اور سکیورٹی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت کا معاملہ بھی ایجنڈے میں سر فہرست رہنے کا امکان ہے۔
فرانس کے ساتھ ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبے میں تعاون دورے کا مرکزی نقطہ رہے گا۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان اسٹارٹ اپ، یونیورسٹیوں اور انوویشن اداروں کے تعاون سے جڑے کئی معاہدوں پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔
سلوواکیہ کے دورے کے دوران دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی بات چیت ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان کچھ معاہدوں پر دستخط کیے جانے کا بھی امکان ہے۔ وزیر اعظم 13 سے 14 جون تک فرانس کے نیس میں رہیں گے۔
اس کے بعد وہ 14 سے 16 جون تک سلوواکیہ کا دورہ کریں گے اور پھر پیرس واپس آئیں گے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
بچوں کا پھر مزدوری میں لوٹنا تشویشناک: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بچہ مزدوری کے انسداد کے عالمی دن کے موقع پر کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں یہ تشویشناک صورتحال دیکھنے میں آئی ہے کہ بچوں کو دوبارہ استحصالی مزدوری کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور اس برائی کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششوں کی سخت ضرورت ہے کانگریس صدر نے کہا کہ بچوں کو استحصال سے بچانے کی ذمہ داری سب کی ہے۔ انہوں نے اس کے لیے اجتماعی اقدامات کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ ہر بچے کے سیکھنے، بڑھنے اور بہتر مستقبل کے حق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ ہر بچے کو صحت، تعلیم، تحفظ اور استحصال سے پاک بچپن کا حق ہے۔ بچہ مزدوری صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی ناانصافی ہے جو بچوں سے ان کا مستقبل چھین لیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1986 میں بنائے گئے بچہ مزدوری سےمتعلق ایکٹ نے ملک میں چائلڈ لیبر کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں کچھ قانونی ترامیم، بچوں کے تحفظ کے بجٹ میں کٹوتی اور کووڈ-19 وبا کے طویل مدتی سماجی و اقتصادی اثرات کی وجہ سے بچوں کے دوبارہ استحصالی مزدوری کی طرف دھکیلے جانے کے تشویشناک واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ بچوں کی غذائی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس-6) کے مطابق 29.3 فیصد بچے اسٹنٹنگ (کم نشوونما) اور 31.8 فیصد کم وزن سے متاثر ہیں، جو ملک میں غذائیت سے متعلق چیلنجوں کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے تعلیم کے معیار پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ نیتی آیوگ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دیہی ہندوستان میں چھٹی جماعت کے 42 فیصد، ساتویں جماعت کے 36 فیصد اور آٹھویں جماعت کے 29 فیصد طلبہ دوسری جماعت کے معیار کا سبق پڑھنے کے اہل نہیں ہیں۔ اسی طرح چھٹی جماعت کے 64 فیصد، ساتویں جماعت کے 59 فیصد اور آٹھویں جماعت کے 54 فیصد طلبہ عام ضرب اور تقسیم کا سوال حل نہیں کر پاتے ہیں، جو سیکھنے کے نتائج میں سنگین کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ صرف معاشی ترقی ہی کروڑوں خاندانوں کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے کافی اور ہمہ گیر ثابت نہیں ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے خاندانوں کے بچے اسکول جانے کے بجائے کام کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
انہوں نے ہم وطنوں سے اپیل کی کہ چائلڈ لیبر کو جڑ سے ختم کرنے اور ہر بچے کے حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی عزم اور مسلسل کوششیں کی جانی چاہئیں۔
یو این آئی۔ایف اے
ہندوستان5 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی
دنیا5 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا3 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
دنیا6 days agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
ہندوستان1 week agoکاکروچ جنتا پارٹی پریشان لوگوں کی آواز ہے : ابھجیت دیپکے







































































































