دنیا
آج بنگلہ دیش کے وزیرِاعظم کی حیثیت سے طارق رحمان حلف اٹھائیں گے
ڈھاکہ، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے صدر طارق رحمان منگل کے روز ملک کے نئے وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھائیں گے حالیہ عام انتخابات میں بی این پی کی فیصلہ کن کامیابی کے بعد تقریباً دو دہائیوں بعد پارٹی دوبارہ اقتدار میں آ رہی ہے نئے کابینہ کا حلف برداری کا پروگرام ڈھاکہ میں واقع قومی پارلیمان (جاتیو سنگسد) کے ساؤتھ پلازا میں سہ پہر چار بجے منعقد ہوگا۔ بعد میں صدر محمد شہاب الدین طارق رحمان اور ان کی کابینہ کو عہدے اور راز داری کا حلف دلائیں گے۔
بی این پی نے اگست 2024 میں سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات میں کل 297 نشستوں میں سے 209 پر کامیابی حاصل کی۔ طارق رحمان کئی دہائیوں میں اس منصب پر فائز ہونے والے پہلے مرد رہنما ہوں گے۔
طارق رحمان (60) سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا اور بنگلہ دیش کے سابق صدر و بی این پی کے بانی ضیاء الرحمان کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ ضیاء الرحمان 1981 میں ایک فوجی بغاوت کے دوران قتل کر دیے گئے تھے، جس کے بعد خالدہ ضیا نے سیاست میں قدم رکھا اور 1991 میں پہلی بار وزیرِاعظم بنیں۔ رحمان 2018 میں اپنی والدہ کی گرفتاری کے بعد سے پارٹی کے قائم مقام صدر کے طور پر کام کر رہے تھے۔
اس دوران 297 نو منتخب ارکانِ پارلیمان کو چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین پارلیمان کے حلف کمرے میں حلف دلائیں گے۔ تاہم مجوزہ “آئینی اصلاحی کونسل” کے بارے میں صورتحال واضح نہیں ہے۔ بی این پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ آئین میں صرف ارکانِ پارلیمان کے حلف کا ذکر ہے، کسی آئینی اصلاحی کونسل کا نہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ایک “آئین اصلاحی کمیشن” کے قیام کا عمل بھی جاری ہے۔ 12 فروری 2026 کو ہونے والے ریفرنڈم میں اکثریت نے “ہاں” میں ووٹ دیا، جس کے بعد امکان ہے کہ پارلیمان کے 180 دن تک یہ کمیشن کے طور پر کام کرے گا۔ بی این پی نے کمیشن کے رکن کی حیثیت سے دوسرا حلف لینے سے انکار کرتے ہوئے ریفرنڈم کی باضابطہ حمایت نہیں کی، جبکہ جماعت اسلامی پارٹی نے اسے قبول کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ریفرنڈم میں 60 فیصد سے زیادہ ووٹروں نے حمایت کی۔
حلف برداری کے پروگرام میں تقریباً 1,200 ملکی و غیر ملکی معزز مہمانوں کی شرکت متوقع ہے۔ ان میں بھوٹان کے وزیرِاعظم شیرنگ ٹوبگے، ہندوستان کی طرف سے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا، پاکستان کے منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال، نیپال کے بالا نند شرما اور سری لنکا کے نلندا جیاتیسّا شامل ہیں۔
یہ تقریب چیف مشیر محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت کے دور کے اختتام کی علامت ہوگی۔ اپنے الوداعی خطاب میں یونس نے ادارہ جاتی اصلاحات اور “جولائی چارٹر” کے مسودے پر حکومت کی توجہ کو اجاگر کیا، جسے مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہوئی اور حالیہ ریفرنڈم میں منظور کیا گیا۔ اس چارٹر کا مقصد بنگلہ دیش میں آمریت کی دوبارہ واپسی کو روکنا اور جمہوری اداروں کے استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
وائٹ ہاؤس عشائیہ: شاہ چارلس کا ٹرمپ کے پرانے بیان پر دلچسپ جوابی وار
واشنگٹن، شاہ چارلس سوم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں شاہی خاندان کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے دوران شاہ چارلس سوم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس میں برطانوی بادشاہ نے صدر ٹرمپ کے ایک پرانے بیان کا جواب بھرپور طنز و مزاح کے ساتھ دیا۔
صدر ٹرمپ نے ماضی میں ڈیووس سربراہی اجلاس کے دوران کہا تھا کہ اگر امریکہ دوسری عالمی جنگ میں مداخلت نہ کرتا تو آج یورپی ممالک کے لوگ جرمن یا جاپانی زبان بول رہے ہوتے۔
شاہ چارلس نے اسی تبصرے کو بنیاد بناتے ہوئے صدر ٹرمپ کو مخاطب کیا اور کہا کہ صدر صاحب! میں یہ کہنے کی ہمت کروں گا کہ اگر برطانیہ نہ ہوتا تو امریکہ میں لوگ آج فرانسیسی بول رہے ہوتے۔ شاہ چارلس کا یہ جملہ سن کر پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔
شاہ چارلس اس وقت شمالی امریکہ میں برطانوی اور فرانسیسی نوآبادیاتی دور کی تاریخ کا ذکر کر رہے تھے جب دونوں طاقتیں براعظم پر قبضے کے لیے برسرِ پیکار تھیں۔ اس موقع پر شاہ چارلس نے صدر ٹرمپ کو برطانوی رائل نیوی کی اس آبدوز کی اصل گھنٹی بھی تحفے میں دی جس نے دوسری عالمی جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے دونوں ممالک کی دوستی کا حوالہ دیتے ہوئے خوشگوار موڈ میں کہا کہ جب بھی ہماری ضرورت پڑے، بس یہ گھنٹی بجا دیں۔ اس ظرافت بھرے انداز کو تقریب کے شرکاء نے بہت سراہا اور اسے سفارتی آداب میں ایک یادگار لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
’’میں مزید اچھا آدمی بن کر نہیں رہ سکتا‘‘ ٹرمپ کی بندوق اٹھا کر ایران کو پھر دھمکی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پھر جلد ڈیل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں مزید اچھا آدمی بن کر نہیں رہ سکتا۔
ایران جنگ اور مذاکرات کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روز متعدد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ایک بار پھر نیا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایران کو دھمکانے کے لیے بندوق اٹھائے ہوئے اپنی اے آئی تصویر بھی جاری کی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر جلد ڈیل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو جلد سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ میں مزید اچھا آدمی بن کر نہیں رہ سکتا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اپنے معاملات کو درست انداز میں سنبھالنے میں ناکام ہے اور لگتا ہے کہ اس کو غیر جوہری معاہدہ کرنا نہیں آتا۔ اس کے ساتھ ہی امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپنی ایک اے آئی تصویر بھی شیئر کی ہے، جس میں وہ بندوق تھامے دکھائی دے رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ ایران معاہدہ کیوں تعطل کا شکار؟ بڑی رکاوٹیں کونسی ہیں
واشنگٹن، امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ تاحال کئی اہم نکات پر اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہے، جبکہ عالمی نظریں دونوں ممالک کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے ایران کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ تجاویز سے متفق ہونے کے امکانات کم ہیں، کیونکہ ان میں جنگ بندی کے بدلے جوہری پروگرام پر کوئی بڑی رعایت شامل نہیں۔ ایران کا نیوکلیئر پروگرام اہم تنازعات میں سرِفہرست ایران کا جوہری پروگرام ہے، جہاں امریکہ چاہتا ہے کہ تہران مکمل طور پر اپنا نیوکلیئرپروگرام ختم کر دے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندیاں محدود مدت کے لیے ہونی چاہئیں۔
یورینیئم ذخائر یورینیئم کے ذخائر بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں، امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے تقریباً 400 کلو گرام افزودہ یورینیئم کا مکمل کنٹرول اسے دیا جائے، تاہم تہران نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز بھی کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں ایران نے پابندیاں برقرار رکھی ہوئی ہیں اور ان کا خاتمہ امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کیا ہے، جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ معاہدے تک ناکہ بندی جاری رہے گی۔
ایرانی حکام نے معاہدے کے لیے معاشی پابندیوں کے خاتمے اور تقریباً 20 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ نقصانات کا ازالہ مزید برآں ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے تقریباً 279 ارب ڈالرز ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے، جو مذاکرات میں ایک اور بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
ایران کا علاقائی اثر و رسوخ علاقائی اثر و رسوخ بھی ایک حساس معاملہ ہے، جہاں امریکہ چاہتا ہے کہ ایران لبنان میں حزب اللّٰہ اور غزہ میں حماس سمیت اپنے اتحادیوں کی حمایت محدود کرے، جبکہ ایران اس مؤقف سے متفق نہیں۔ ماہرین کے مطابق ان بنیادی اختلافات کے حل کے بغیر کسی جامع معاہدے تک پہنچنا فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر6 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر2 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
ہندوستان5 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
ہندوستان5 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
دنیا1 week agoدھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کسی صورت قبول نہیں: اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
دنیا6 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
جموں و کشمیر1 day agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں
دنیا1 week agoایران کی تجارتی ومالی مدد ہماری پابندیوں کا سامنا کرے گی:امریکہ












































































































