ہندوستان
مغربی ایشیا بحران: ایئر انڈیا، ایئر انڈیا ایکسپریس نے پروازیں بڑھا کر 80 کر دیں
نئی دہلی، ایئر انڈیا اور اس کی ذیلی کمپنی ایئر انڈیا ایکسپریس نے ہفتہ کو مزید دو پروازیں شامل کر کے مغربی ایشیا خطے کے لیے اور وہاں سے آنے والی مجموعی طور پر 80 شیڈول اور غیر شیڈول پروازیں چلائیں تاکہ مغربی ایشیا میں بدلتی صورتحال کے درمیان رابطہ برقرار رکھا جا سکے۔
جمعہ کو دونوں کمپنیوں نے اسی سیکٹر پر مجموعی طور پر 78 شیڈول اور غیر شیڈول پروازیں چلائی تھیں۔
یہ خدمات مختلف راستوں پر چلائی جا رہی ہیں جو ہندوستانی شہروں کو مغربی ایشیا کے اہم مراکز سے جوڑتی ہیں تاکہ مسافروں کی مانگ کو پورا کیا جا سکے اور سفر کا تسلسل برقرار رہے، اگرچہ ایئر لائنز محتاط ہیں اور خطے کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ایئر انڈیا نے ہفتہ کو جاری بیان میں کہا کہ دونوں کمپنیاں اپنے شیڈول سروسز کو جدہ اور مسقط کے لیے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
14 مارچ کو ایئر انڈیا نے جدہ کے لیے کل 10 پروازیں چلائیں، جبکہ ایئر انڈیا ایکسپریس نے مسقط کے لیے 8 شیڈول پروازیں چلائیں۔
مزید یہ کہ ایئر انڈیا دہلی سے ایک اور ممبئی سے دو راؤنڈ ٹرپ جدہ کے لیے چلائے گی، جبکہ ایئر انڈیا ایکسپریس کوزی کوڈ اور منگلور سے ایک ایک پرواز جدہ کے لیے اور واپسی پر چلائے گی۔ ایئر انڈیا ایکسپریس اپنی شیڈول سروسز مسقط کے لیے بھی جاری رکھے گی، جن میں دہلی، کوچی، کوزی کوڈ اور ممبئی سے ایک ایک راؤنڈ ٹرپ شامل ہے۔
شیڈول سروسز کے علاوہ ایئر انڈیا اور ایئر انڈیا ایکسپریس متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور سعودی عرب کے لیے اور وہاں سے کل 62 غیر شیڈول پروازیں چلائیں گی، جو روانگی کے وقت دستیاب سلاٹس اور دیگر حالات پر منحصر ہوں گی۔
یہ پروازیں متعلقہ ہندوستانی اور مقامی ریگولیٹری حکام کی اجازت سے چلائی جا رہی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
سلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو سلوواکیہ کے دورے پر پہنچنے پر کہا کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی اور بڑھتی ہوئی شراکت داری مزید گہری ہوگی مسٹر مودی نے سلوواکیہ کے دارالحکومت پہنچنے کے فوراً بعد کہا کہ یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے کا ایک اہم موقع ہے۔ انہوں نے سلوواکیہ کے صدر پیٹر پیلیگرینی اور وزیر اعظم رابرٹ فیکو کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں بھی اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا، “براتیسلاوا پہنچ گیا ہوں۔ یہ دورہ ہند-سلوواکیہ تعلقات کو گہرا کرنے اور تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ صدر پیلیگرینی اور وزیر اعظم فیکو کے ساتھ نتیجہ خیز ملاقاتوں کی امید ہے۔”
وہاں پہنچنے پر وزیر اعظم کا رسمی استقبال کیا گیا، جس میں سلوواکیہ کی صدیوں پرانی روایت کے مطابق انہیں بریڈ اور نمک پیش کیا گیا۔ یہ منفرد روایت مہمان نوازی، خیر سگالی اور دوستی کی علامت مانی جاتی ہے۔ مسٹر مودی نے اس استقبال کے لیے شکریہ ادا کیا اور کہا، “براتیسلاوا میں استقبال کے دوران بریڈ اور نمک پیش کرنے کی روایتی رسم دیکھنے کو ملی۔
یہ سلوواکیہ کے بھرپور ثقافتی ورثے اور وہاں کے لوگوں کی خیر سگالی و دوستی کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔”
اس دورے کے دوران سلوواکیہ کی لوک روایات کو ظاہر کرنے والا ایک ثقافتی پروگرام بھی منعقد کیا گیا۔ وزیر اعظم نے میاوا علاقے کے لوک گروپ ‘کوپانیسیارک’ کی ایک دلکش پیشکش دیکھی۔ انہوں نے کسی ملک کی تاریخ اور شناخت کو برقرار رکھنے میں روایتی فنون کے کردار کی ستائش کی۔ وزیر اعظم نے کہا، “سلوواکیہ کے میاوا علاقے کے کوپانیسیارک گروپ کی ایک بہترین پیشکش دیکھی۔ اس طرح کی لوک روایات اپنی ثقافت اور تاریخ کو سنبھال کر رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔”
براتیسلاوا میں مسٹر مودی کا استقبال کرنے کے لیے ہندوستانی برادری کے لوگ بھی بڑی تعداد میں جمع ہوئے، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے باہمی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اس پُرجوش استقبال کے لیے غیر مقیم ہندوستانیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کمیونٹی کی یہ محبت ہندوستان اور سلوواکیہ کو جوڑنے والے مضبوط تعلقات کو اجاگر کرتی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا، “میں ہندوستانی برادری کے لوگوں کی اس محبت اور گرمجوشی کے لیے ان کا شکر گزار ہوں۔
ایسے جذبات ہمارے لوگوں کو جوڑنے والے مضبوط تعلقات کو ظاہر کرتے ہیں اور ہند-سلوواکیہ کی دوستی کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔”
وزیر اعظم کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستان بدلتے ہوئے عالمی اور معاشی حالات کے درمیان وسطی اور مشرقی یورپی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھانا چاہتا ہے۔ یورپی یونین اور نیٹو کا رکن سلوواکیہ، تجارت، سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ، دفاعی تعاون، اختراع، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آمدورفت جیسے شعبوں میں ہندوستان کا ایک اہم شراکت دار بن کر ابھرا ہے۔
صدر پیلیگرینی اور وزیر اعظم فیکو کے ساتھ مسٹر مودی کی ملاقاتوں میں معاشی تعاون بڑھانے، صنعتی شراکت داری کو مضبوط کرنے، تکنیکی تعاون میں بہتری لانے اور ثقافتی و تعلیمی تبادلوں کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز ہونے کی امید ہے۔
اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کا امکان ہے۔
ہندوستان اور سلوواکیہ کے درمیان دہائیوں سے دوستانہ سفارتی تعلقات رہے ہیں اور حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھی ہے، جبکہ ہندوستانی کمپنیوں نے سلوواکیہ میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے، خاص طور پر آٹوموبائل، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں۔ وہیں سلوواکیہ کی کمپنیوں نے بھی ہندوستان کی بڑھتی ہوئی معیشت اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
براتیسلاوا کا یہ دورہ مسٹر مودی کے وسیع یورپی سفارتی رابطے کا حصہ ہے۔ امید ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی بات چیت، معاشی تعاون اور عوامی رابطوں کو مضبوط بنا کر ہند-سلوواکیہ تعلقات کو ایک نئی رفتار دے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
امریکہ-ایران معاہدے سے مغربی ایشیا میں امن اور استحکام کی امید : مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا میں ایک اہم پیش رفت میں امریکہ اور ایران کے درمیان بنی رضامندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے خطے میں امن اور استحکام قائم ہوگا۔
مسٹر مودی نے پیر کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، “میں مغربی ایشیا میں تنازعہ ختم کرنے کے سلسلے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئی مفاہمت کا خیرمقدم کرتا ہوں، جس نے دنیا بھر میں سنگین اقتصادی خلل پیدا کیا ہے اور کئی ممالک میں جانی نقصان کا سبب بنا ہے۔” انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریقین کے درمیان بنی رضامندی سے خطے میں امن قائم ہوگا اور جہاز رانی اور تجارت کی آزادی یقینی ہوگی۔
وزیر اعظم نے کہا، ” ہندوستان کو امید ہے کہ اس مفاہمت پر عمل درآمد سے خطے میں امن اور استحکام کی بحالی میں مدد ملے گی اور جہاز رانی اور تجارت کی آزادی یقینی ہوگی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بقیہ مسائل پر بات چیت ایک پائیدار حتمی معاہدے تک پہنچے گی۔” واضح رہے کہ امریکہ اور ایران نے مغربی ایشیا میں گزشتہ 107 دنوں سے چلے آ رہے تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکہ نے آبنائے ہرمز سے بحری ناکہ بندی ہٹانے کی بات کہی ہے۔ دونوں فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائی فوری اور مستقل طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
فضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
نئی دہلی، فضایئہ کا ایک مال بردار طیارہ اے این 32 ہفتہ کو آسام کے جورهاٹ فضائیہ اسٹیشن پر حادثے کا شکار ہو گیا جس میں سوارفضائیہ کے پانچ اہلکار شہید ہو گئے۔ حادثے میں شہید ہوئے فضائیہ کے اہلکاروں میں دو اگنی ویر بھی شامل ہیں۔
فضائیہ کے ترجمان نے بتایا کہ اس حادثے میں اسکواڈرن لیڈر پرشانت سنگھ، فلائٹ لیفٹیننٹ شبھم کمار، سارجنٹ جتیندر شرما، اگنی ویر وایو کھیمارام کماوت اور اگنی ویر وایو دانش عالم نے فرض کی ادائیگی میں عظیم قربانی دی۔
انہوں نے کہا کہ فضائیہ کو اس حادثے میں پانچ بہادر جوانوں کو کھونے کا گہرا دکھ ہے۔ ہندوستانی فضائیہ سوگوار خاندانوں کے تئیں گہری تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں مضبوطی سے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ حادثے کی جانچ کے لیے کورٹ آف انکوائری تشکیل دے دی گئی ہے۔ یہ مال بردار طیارہ صبح دس بجے کے قریب فضائیہ کے جورهاٹ اسٹیشن پر اترنے کے دوران حادثے کا شکار ہوا۔ طیارے کے اترتے وقت اس میں آگ لگ گئی، جس سے یہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ طیارے کے حادثے کی وجوہات کا ابھی پتہ نہیں چلا ہے۔ یہ طیارہ باقاعدہ پرواز پر تھا۔
طیارے میں آگ لگنے کے بعد یہ دو حصوں میں ٹوٹ گیا۔ فضائیہ کے شہید اہلکاروں میں طیارے کا پائلٹ بھی شامل ہے جبکہ کو-پائلٹ زخمی ہوا ہے۔ اے این-32 دو انجن والا مال بردار طیارہ ہے جو دہائیوں سے فضائیہ کے لیے لاجسٹکس کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ اس نے ملک بھر میں، خاص طور پر اونچے علاقوں اور دور دراز کے حصوں میں مختلف مہمات میں اہم کردار نبھایا ہے۔ اس حادثے نے اے این-32 بیڑے کے ساتھ گزشتہ کچھ برسوں میں ہوئے کئی بڑے حادثوں کی یادیں تازہ کر دی ہیں۔
سب سے تکلیف دہ واقعات میں سے ایک جون 2019 میں ہوا تھا، جب 13 لوگوں کو لے جا رہا ایک اے این-32 طیارہ آسام کے جورهاٹ سے اروناچل پردیش کے میچوکا کے لیے پرواز بھرنے کے بعد لاپتہ ہو گیا تھا۔ ایک ہفتے سے زیادہ دن چلے تلاشی اور بچاؤ مہم کے بعد طیارے کا ملبہ اروناچل پردیش کے پہاڑی علاقے میں ملا۔ طیارے میں سوار سبھی 13 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس سے پہلے جولائی 2016 میں 29 لوگوں کو لے جا رہا ایک اور اے این-32 طیارہ چنئی کے تامبرم اسٹیشن سے پورٹ بلیئر جاتے وقت خلیج بنگال کے اوپر لاپتہ ہو گیا تھا۔ فضائیہ کی طرف سے چلائی گئی سب سے بڑی تلاشی اور بچاؤ مہموں میں سے ایک کے باوجود یہ طیارہ کئی برسوں تک لاپتہ رہا۔ آخر کار 2024 میں سمندر کی تہہ میں طیارے کا ملبہ ملا جس سے سبھی 29 لوگوں کی موت کی تصدیق ہوئی تھی۔
اے این-32 طیارہ 1980 کی دہائی سے ہی فضائیہ کے مال بردار بیڑے کی ریڑھ رہا ہے۔ اس طیارے نے فوجیوں کی آمد و رفت، لاجسٹکس سپلائی مشن، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد اور آفات سے راحت کے کاموں میں اہم کردار نبھایا ہے۔ طیارے نے خاص طور پر دشوار گزار علاقوں اور سرحدی علاقوں میں مہمات کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا ہے۔ وقت کے ساتھ، اس طیارے میں ایوی اونکس، نیویگیشن سسٹم اور آپریشنل اپ گریڈیشن کیا گیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان1 week agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
دنیا1 week agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
دنیا5 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا5 days agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
جموں و کشمیر1 week agoکریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار
دنیا7 days agoاسرائیل کے موقف سے قطع نظر امریکہ ایران جوہری معاہدے پر آگے بڑھے گا: وینس
دنیا7 days agoامریکی فوج کا اپاچی ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ
دنیا1 week agoدشمن کو پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دینے کیلئے تیار ہیں: ترجمان ایرانی نیشنل سکیورٹی کمیشن
دنیا1 week agoایران کے خلاف یکطرفہ فوجی کارروائی میں امریکہ شریک نہیں ہوگا: ٹرمپ کا نیتن یاہو کو دوٹوک پیغام
دنیا1 week agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
دنیا6 days agoجے ڈی وینس بھی ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا بیان ماننے پر تیار نہیں
دنیا1 week agoحوثیوں کی دھمکی: اسرائیلی بحری آمدو رفت پر مکمل پابندی لگا دیں گے








































































































