تازہ ترین
زکوٰۃ، صدقہ اور فطرہ: اسلامی معیشت کےاہم ستون اور ان کی صحیح تقسیم

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف انسان کے روحانی تزکیہ پر توجہ دیتا ہے بلکہ ایک متوازن اور منصفانہ معاشی نظام بھی فراہم کرتا ہے، اس نظام کے بنیادی اجزاء زکوٰۃ، صدقہ اور فطرہ ہیں، یہ محض مالی عبادات نہیں ہیں بلکہ معاشرے سے غربت کے خاتمے اور دولت کی گردش کو یقینی بنانے کے طاقتور ذرائع ہیں، اگرزکوۃ کی بات کریں تو یہ اسلام کا تیسرا رکن ہے اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم میں نماز کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ کا ذکر بیسیوں مقامات آیا ہے۔ زکوٰۃ کے لغوی معنی ’’پاک ہونا‘‘ اور ’’بڑھنا‘‘ کے ہیں۔
ہندوستان میں زکوٰۃ کا نظام کتنا فعال ہے؟ یہ ایک اہم اور دلچسپ سوال ہے، کیونکہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادیوں میں سے ایک ہے (تقریباً 20 کروڑ مسلمان)، لیکن زکوٰۃ کا انتظام مکمل طور پر غیر مرکزی اور رضاکارانہ نوعیت کا ہے۔ یہاں کچھ مسلم ممالک جیسے سعودی عرب یاملائیشیا جیسا کوئی سرکاری زکوٰۃ کا نظام موجود نہیں۔ اس لیے اس کی فعالیت کا اندازہ مختلف رپورٹس، سروے اور عملی مشاہدات سے لگایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں زکوٰۃ کی سالانہ رقم کا کوئی سرکاری اعداد و شمار نہیں، لیکن مختلف تخمینوں کے مطابق یہ 7,500 کروڑ سے 40,000 کروڑ روپے (یا اس سے بھی زیادہ) تک ہو سکتی ہے۔ رمضان کے مہینے میں اس کی زیادہ تر ادائیگی ہوتی ہے۔کچھ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر منظم طریقے سے زکوۃ جمع کی جائے تو یہ 25,000 کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔حالیہ اندازوں (2022–2025) میں 10,000 سے 40,000 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا جاتا ہے، جو مسلم کمیونٹی کی معاشی حالت اور عطیہ دہندگان کی تعداد پر منحصر ہے۔یہ رقم اگرچہ بہت بڑی ہے، لیکن ممکنہ صلاحیت سے کافی کم ہے کیونکہ بہت سے اہلِ نصاب مسلمان زکوٰۃ ادا نہیں کرتے۔ 2000 کی دہائی سے لے کر اب تک کے سروے بتاتے ہیں کہ صرف 10–15 فی صد اہلِ نصاب مسلمان زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔زیادہ تر لوگ زکوٰۃ کو رشتہ داروں، محلے کے غریبوں یا مدارس میں براہ راست دیتے ہیں۔ صرف 16فی صد لوگ این جی اوز یا تنظیموں کو دیتے ہیں۔بہت سے لوگ زکوٰۃ کو صرف صدقہ یا خیرات سمجھتے ہیں، جب کہ اس کا مکمل نظام غربت کے خاتمے اور معاشی خودمختاری کے لیے ہے۔
اس لیے زکوٰۃ کا انفرادی سطح پر نظام تو موجود ہے، لیکن اجتماعی اور منظم سطح پر یہ بہت کم فعال ہے۔ ہندوستان میں زکوٰۃ کی تقسیم زیادہ تر ذاتی، مقامی یا چند این جی اوز کے ذریعے ہوتی ہے۔یہ تنظیمیں تعلیم (اسکالرشپس)، ہنر مندی، روزگار کے مواقع، صحت اور قانونی امداد پر توجہ دے رہی ہیں، جو زکوٰۃ کے اصل مقصد (غریبوں کو خود کفیل بنانا) کے قریب ہے۔ ہندوستان میں زکوٰۃ کا نظام جزوی طور پر فعال ہے۔ انفرادی سطح پر بہت سے لوگ صرف فرض ادا کرتے ہیں اور چند تنظیمیں اچھا کام کر رہی ہیں جو غریبوں کو بااختیار بنا رہی ہیں۔ لیکن اجتماعی/قومی سطح پر یہ غیر موثر اور غیر منظم ہے۔اگر زکوٰۃ کوایک متحد پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے،شفاف طریقے سے تقسیم کیا جائے،اور پیداواری شعبوں (تعلیم، ہنر، روزگار) میں استعمال کیا جائے تو یہ مسلم کمیونٹی کی غربت اور پسماندگی کو ختم کرنے میں انقلابی کردار ادا کر سکتی ہے۔زیادہ تر رقم فوری ضروریات (کھانا، کپڑا) پر خرچ ہوتی ہے، طویل مدتی منصوبوں (جیسے کاروبار شروع کرنا) پر کم۔اس میں شفافیت کی کمی ہے اور کئی اداروں میں احتساب نہیں، جس سے لوگوں کا اعتماد کم ہوتا ہے۔سچر کمیٹی رپورٹ اور دیگر مطالعوں کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں میں غربت کی شرح زیادہ ہے۔ اربوں روپے زکوٰۃ کے باوجود کمیونٹی کی معاشی حالت میں نمایاں بہتری نہیں آئی۔ وقت آگیا ہے کہ علماء، تنظیموں اور بااثر مسلمان اس سمت میں سنجیدہ اقدامات کریں تاکہ زکوٰۃ صرف ایک عبادت نہ رہے بلکہ ایک طاقتور معاشی اور سماجی تبدیلی کا ذریعہ بن جائے۔
اسی طرح سے صدقہ ایک نفلی عبادت ہے جو واجب نہیں لیکن اس کی ترغیب کثرت سے دی گئی ہے۔ حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق ’’صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے‘‘۔
صدقہ جاریہ یہ وہ صدقہ ہے جس کا فائدہ انسان کے مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے، جیسے کنواں کھدوانا، مسجد بنوانا یا کوئی تعلیمی ادارہ قائم کرنا۔ صدقہ صرف مال دینے کا نام نہیں بلکہ کسی کو راستہ دکھانا، مسکرا کر ملنا یا کسی کی تکلیف دور کرنا بھی صدقہ ہے۔ یہ معاشرے میں ہمدردی اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے۔
صدقہ فطر رمضان المبارک کے اختتام پر عید کی نماز سے پہلے ادا کیا جاتا ہے۔ یہ ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو صاحبِ استطاعت ہو۔اس کا مقصد روزے کے دوران ہونے والی لغزشوں اور کوتاہیوں کی تلافی کرنا ہے۔ فطرہ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ غریب اور ضرورت مند لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں اور انہیں اس دن کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔
عبادات کی قبولیت کے لیے ان کی صحیح تقسیم انتہائی ضروری ہے۔ آج کے دور میں درج ذیل نکات پر عمل کرنا لازم ہے۔ اسلام میں سب سے پہلا حق غریب رشتہ داروں کا ہے (بشرطیکہ وہ زکوٰۃ کے مستحق ہوں)۔ اس میں دوہرا اجر ہے: ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ پیشہ ور بھکاریوں کی بجائے ان محتاج سفید پوش لوگوں کو تلاش کریں کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ زکوٰۃ اور صدقات کو اس طرح تقسیم کرنا چاہیے کہ لینے والا مستقل طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔ مثلاً کسی کو چھوٹا کاروبار کروا دینا یا کسی کی تعلیمی فیس ادا کرنا۔ صدقہ و زکوٰۃ اس طرح دی جائے کہ ’’ایک ہاتھ سے دیں تو دوسرے کو خبر نہ ہو‘‘۔ ریاکاری عمل کے ثواب کو ضائع کر دیتی ہے۔
زکوٰۃ انسان کے مال کو پاک کرتی ہے اور اس کے دل سے مال کی محبت نکال کر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔زکوٰۃ کا نظام دولت کو چند ہاتھوں میں مرکوز ہونے سے روکتا ہے۔ جب صاحبِ نصاب شخص اپنے مال کا 2.5فی صد حصہ غریبوں کو دیتا ہے تو معاشرے میں قوتِ خرید بڑھتی ہے اور معاشی پہیہ گردش کرتا ہے۔
زکوٰۃ، صدقہ اور فطرہ محض ٹیکس نہیں بلکہ ایک الٰہی نظامِ فلاح و بہبود ہیں۔ اگر مسلم معاشرہ ان خطوط پر ان کی تقسیم شروع کر دے جن کا حکم اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے دیا ہے تو معاشرے سے معاشی تفاوت کا خاتمہ ممکن ہے۔ یہ ادارے انسانیت کی خدمت، خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی ڈھال اور معاشرے کے سکون کا ضامن ہیں۔
دنیا
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے قانون منظور کر لیا۔
تہران ، ایرانی میڈیا نے رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کیلئے قانون منظور کر لیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس لی جائے گی،قانون کے تحت ایران کو یہ حق ہو گا وہ حفاظتی خدمات کے نام پر جہازوں سے ٹیکس وصول کرے،قانون کے تحت یہ طے کیا جائے گا اہم آبی گزرگاہ سے کن ممالک کے جہاز گزریں گے،ایران مخالف ممالک کے بحری جہازوں پرسخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ دوسری جانب ایرانی اسپیکر قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ کیا جنگ بیچ کر دوبارہ عظیم بننا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی 4 آپشنز امریکہ کے سامنے رکھ دیئے ۔
ان کا کہناتھا کہ کیا مہنگائی کو دوبارہ عظیم بنانا چاہتے ہو؟ کیا عوام کی قوت خرید سے محرومی کو عظیم بنانا چاہتے ہیں؟کیا چند طاقتوروں کو دوبارہ عظیم بنانے کے خواہشمند ہو؟کیا ایپسٹین اسکینڈل کودوبارہ عظیم بنانا چاہتے ہو۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اس کی ناکہ بندی ایک بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حیرت ہوئی ہم نے کل آبنائے ہرمز میں جو جہاز پکڑے اس میں ایران کیلیے تحائف تھے جو چین سے جا رہے تھے، چینی صدر شی جی پنگ سے میری اچھی انڈر اسٹیڈنگ ہے لیکن جنگ میں سب چلتا ہے، اس جہاز میں جو کچھ تھا وہ کچھ زیادہ اچھا نہیں تھا۔
یو این آئی۔ م ا ع
دنیا
ایران-امریکہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز بڑی رکاوٹ
واشنگٹن/تہران، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک اور دور کی تیاری کے درمیان آبنائے ہرمز کا معاملہ ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس غیر حل شدہ تنازع کی وجہ سے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ تنگ سمندری راستہ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایک بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔ محفوظ گزرگاہ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث ہزاروں ملاح اس کے دونوں جانب پھنسے ہوئے ہیں۔
ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ سے پہلے اس آبنائے سے روزانہ 100 سے زیادہ جہاز گزرتے تھے، لیکن اب یہ تعداد نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ گزشتہ جمعہ سے اتوار کے درمیان صرف 36 جہاز ہی یہاں سے گزر سکے، تاہم ایران کی جانب سے پابندیوں میں معمولی نرمی کے باعث یہ گزشتہ ہفتوں کے مقابلے میں کچھ بہتر صورتحال ہے۔
شپنگ تجزیاتی ادارے کیپلر نے تصدیق کی ہے کہ 13 اپریل کو امریکی بحری ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد کم از کم 27 ایرانی جہاز اس راستے سے گزر چکے ہیں۔ اسی دوران امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کئی جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ اس وقت خلیج عمان اور خلیج فارس میں آئل ٹینکروں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں اور بہت سے جہاز مالکان کے لیے بغیر سکیورٹی ضمانت کے یہاں سے گزرنا خطرناک بنا ہوا ہے۔
اس تنازع کی بنیادی وجہ اس آبی گزرگاہ پر کنٹرول کا مسئلہ ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران تاریخی طور پر اس راستے پر اپنا اثر و رسوخ رکھتا آیا ہے، اور اب وہ اسے باضابطہ شکل دینے کے لیے فیس نظام نافذ کرنے پر زور دے سکتا ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو عالمی توانائی کی ترسیل پر ایران کا کنٹرول بڑھ جائے گا، جسے امریکہ کے لیے قبول کرنا مشکل ہوگا۔
اس صورتحال کا اثر عالمی منڈیوں پر بھی واضح نظر آ رہا ہے۔ سپلائی میں کمی اور غیر یقینی حالات کے باعث تیل اور گیس کی قیمتیں بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
پاکستان
“اسلام آباد مذاکرات”ایرانی وفد تاحال پاکستان نہیں پہنچ سکا
اسلام آباد، ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی وفد اب تک پاکستان نہیں پہنچ سکا ۔
نشریاتی ادارے نے کہاہے کہ اب تک کوئی بھی ایرانی وفد اسلام آباد نہیں پہنچا۔ آئی آر آئی بی نے مزید کہا کہ متعدد میڈیا رپورٹس کہ ایرانی وفد پاکستان کا سفر کرے گا یا یہ کہ مذاکرات پیر کی شام یا منگل کی صبح طے تھے، غلط تھیں۔ رپورٹ میں اتوار کی شام ایرانی حکام کے بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں اشارہ کیا گیا کہ مذاکرات میں مسلسل شرکت امریکی رویے میں تبدیلیوں پر منحصر ہے اور یہ کہ تہران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو مسترد کرتا ہے۔
پاکستان نے 11-12 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی، جب اس نے 8 اپریل کو 14 روزہ جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا جو بدھ کو ختم ہونے والی ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کے ایک اور دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اس سے قبل پاکستانی ذرائع نے کہا تھا کہ ایرانی حکام کی منگل کو اسلام آباد آمد متوقع ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان واپس پرواز کے لیے تیار تھے، لیکن تہران نے اپنی شرکت کے بارے میں غیر یقینی برقرار رکھی اور امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور ایک جہاز کی ضبطی کے ذریعے جلد ختم ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ وینس کے بارے میں توقع ہے کہ وہ منگل کی صبح مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوں گے۔
امریکہ نے اسی طرح تہران پر الزام لگایا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو ہراساں کرکے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، جو دنیا کے پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل کا راستہ ہے، جسے ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے جواب میں تقریباً بند کر دیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے پیر کو تہران سے اس اشارے کا انتظار کیا کہ وہ اپنا مذاکراتی وفد اسلام آباد بھیجے گا۔ ثالثوں نے ایرانی حکام سے مذاکرات میں شرکت کی درخواست کی ہے اور انہیں وفد بھیجنے پر زور دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ “انتہائی غیر ممکن” ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور یہ کہ بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے مستقل خاتمے کا معاہدہ نہیں ہو جاتا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا5 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
جموں و کشمیر5 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
جموں و کشمیر5 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
ہندوستان1 week agoوزیراعظم مودی کا ‘ناری شکتی’ کے نام خط، خواتین کے ریزرویشن کے عزم کا اعادہ
دنیا5 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری









































































































