جموں و کشمیر
سری نگر آرمی کنٹونمنٹ کے کینٹین میں آتشزدگی کے واقعے میں غیر مقامی جاں بحق

سری نگر، حکام نے بتایا کہ سری نگر میں واقع فوج کی بادامی باغ چھاؤنی کے ایک کنیٹین میں آگ لگنے کے واقعے میں ایک غیر مقامی کی موت واقع ہوئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ آگ مبینہ طور پر چھاؤنی کے احاطے کے اندر ایک نجی کینٹین میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کے دوران لگی جس میں ایک غیر مقامی شخص از جان ہوا۔
متوفی کی شناخت جس میں ہریانہ سے تعلق رکھنے والے سول کنٹریکٹر راجیش کمار کے طور پر ہوئی ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگ گئی ہے۔
تاہم حکام نے آگ لگنے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
یو این آئی- ایم افضل
جموں و کشمیر
سرینگر: یومِ عاشورہ پر تاریخی ماتمی جلوس، لیفٹیننٹ گورنر اور وزیرِ اعلیٰ کی شرکت، ہزاروں عزادار شامل
سرینگر، کربلا میں نواسہ رسولﷺ حضرت امام حسین ؓاور ان کے جانثار ساتھیوں کی لازوال قربانیوں کی یاد میں آج وادیِ کشمیر بالخصوص سرینگر میں ‘یومِ عاشورہ’ عقیدت و احترام اور روایتی ماتمی ماحول میں منایا گیا۔ سرینگر کے علاقے زادی بل میں نکالے گئے مرکزی ‘ذوالجناح’ جلوس میں ہزاروں کی تعداد میں عزاداروں نے شرکت کی اور نوحہ خوانی و سینہ زنی کر کے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے خود زادی بل پہنچ کر جلوس میں شرکت کی اور عزاداروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے زادی بل میں ‘ذوالجناح’ جلوس کے دوران حضرت امام حسینؑ اور ان کے رفقاء کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے امام عالی مقام کی قربانی کو انسانیت کے لیے مشعلِ راہ قرار دیتے ہوئے کہا:
“حضرت امام حسینؑ نے امن، انصاف، محبت اور ہمدردی کے لیے جو عظیم ترین قربانی دی، وہ پوری انسانیت کے لیے ایک ابدی رہنما اصول ہے۔ انہوں نے بے لوث خدمت اور پسے ہوئے طبقات کے لیے ہمدردی کا لافانی پیغام دیا۔ معاشرے کو ان کی پاکیزہ زندگی اور اصولوں سے طاقت حاصل کر کے سچائی، انصاف اور انسانیت کے راستے پر چلنا چاہیے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے اس دوران خود اپنے ہاتھوں سے عزاداروں میں تبرک اور پانی بھی تقسیم کیا۔
وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی زادی بل کا دورہ کیا اور عزاداروں کے ساتھ شامل ہوئے۔ انہوں نے احترام اور یکجہتی کے طور پر جلوس کے راستے میں قائم ایک ‘سبیل’ پر کھڑے ہو کر عزاداروں میں پانی اور دودھ تقسیم کیا۔ اس موقع پر ان کے ساتھ ان کے مشیر ناصر اسلم وانی اور مقامی ایم ایل اے تنویر صادق بھی موجود تھے۔
وزیرِ اعلیٰ نے جلوس کے پرامن انعقاد میں مدد کرنے والے رضاکاروں سے بات چیت کی اور ان کے جذبہ خدمت کی ستائش کی۔ بعد ازاں، انہوں نے زادی بل میں واقع معروف بزرگ میر شمس الدین عراقی (رح) کے آستانہ عالیہ پر حاضری دی، جہاں انہوں نے فاتحہ خوانی کی اور جموں و کشمیر میں امن، بھائی چارے اور خوشحالی کے لیے دعا مانگی۔عاشورہ کے جلوسوں کو پرامن اور منظم طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اور پختہ انتظامات کیے گئے تھے۔
آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے محرم الحرام کے جلوسوں کے دوران عوام، منتظمین اور اسکاؤٹس کے بھرپور تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور رضاکاروں نے تمام سرکاری رہنما خطوط پر عمل کرتے ہوئے نظم و ضبط برقرار رکھنے میں پولیس کا ساتھ دیا۔
یواین آئی ۔م ا ع
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے سب سے زیادہ غیر قانونی اور بیک ڈور بھرتیاں کیں: عمر عبداللہ
سرینگر، جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی پر سخت جوابی حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ پی ڈی پی نے اپنے دورِ اقتدار میں سب سے زیادہ غیر قانونی اور بیک ڈور (بغیر اشتہار و امتحان) بھرتیاں کی تھیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے یہاں زادی بل میں یومِ عاشورہ کے جلوس میں شرکت کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محبوبہ مفتی کے الزامات “الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے” جیسے ہیں۔
عمر عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ پی ڈی پی کے دورِ حکومت میں کی گئیں متعدد بیک ڈور بھرتیاں خود عدالت نے منسوخ کی تھیں۔ انہوں نے پی ڈی پی کے سینئر رہنما اور محبوبہ مفتی کے ماموں سرتاج مدنی کے بیٹے کے کیس کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی عدالتی حکم پر ہی نوکری سے نکالا گیا تھا کیونکہ ان کی بھرتی غیر قانونی تھی۔وزیرِ اعلیٰ نے جموں اینڈ کشمیر بینک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا
“پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت کے دوران جے اینڈ کے بینک میں کی گئیں سینکڑوں بھرتیاں آج بھی تحقیقاتی ایجنسیوں کے ریڈار پر ہیں۔ اگر میں پی ڈی پی-بی جے پی حکومت کے دور کی بیک ڈور بھرتیاں گننا شروع کر دوں، تو آپ کے پاس انہیں ریکارڈ کرنے کے لیے وقت کم پڑ جائے گا۔”عمر عبداللہ نے پی ڈی پی قیادت کو کھلے عام چیلنج کیا کہ وہ موجودہ حکومت کے دور میں ہوئی کسی ایک بھی ایسی نوکری کی نشان دہی کریں جو غیر قانونی یا بیک ڈور طریقے سے دی گئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان ‘بے بنیاد الزامات’ پر خود زیادہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے، لیکن اس حوالے سے تمام حقائق یکجا کر لیے گئے ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ: “اگلے ایک سے دو دنوں میں میرے دو سینئر وزراء میڈیا کے سامنے آئیں گے اور تمام حقائق و دستاویزی ثبوت عوام کے سامنے رکھیں گے۔”
قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ روز (جمعرات کو) پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ حکومت پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ 22 مہینوں میں تقریباً 25,000 بیک ڈور بھرتیاں کی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ یہ بھرتیاں بغیر کسی سرکاری اشتہار یا انٹرویو کے، وزراء، ایم ایل اے اور اتحادیوں کے دباؤ پر تقریباً 200 آؤٹ سورسنگ ایجنسیوں کے ذریعے کی گئی ہیں۔ اب وزیرِ اعلیٰ کے اس جوابی حملے کے بعد جموں و کشمیر کی سیاست میں گرما گرمی مزید بڑھ گئی ہے۔
یواین آئی ۔م ا ع
جموں و کشمیر
آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی کی لیہ میں لیفٹیننٹ گورنر لداخ سے ملاقات
سرینگر، فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے جمعہ کو لداخ کے دورے کے دوران لیہ میں واقع راج نواس میں مرکز کے زیرِ انتظام علاقے لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ سے ملاقات کی۔
آرمی چیف کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب فوج کی جانب سے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل سرحدی علاقوں میں آپریشنل تیاری برقرار رکھنے اور سول انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر بتایا کہ ملاقات کے دوران سول اور فوجی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم بنانے، مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی انتظامیہ اور مسلح افواج کے درمیان بہتر تال میل پیدا کرنے اور لداخ میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گفتگو میں اگنی ویر اسکیم کے تحت خدمات انجام دینے والے نوجوانوں کو مدتِ ملازمت مکمل ہونے کے بعد لداخ کی انتظامیہ میں دوبارہ روزگار فراہم کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا، تاکہ ان کی صلاحیتوں سے سول انتظامیہ میں بھی فائدہ اٹھایا جا سکے۔لیفٹیننٹ گورنر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن، استحکام، ترقی اور عوامی مفاد کے لیے سول انتظامیہ اور فوج کے درمیان مضبوط اشتراکِ عمل ناگزیر ہے۔واضح رہے کہ جنرل اوپیندر دویدی نے جون 2024 میں ہندوستانی فوج کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا، جبکہ ان کی موجودہ مدتِ ملازمت 30 جون 2026 کو مکمل ہونے والی ہے۔
یواین آئی ۔م ا ع
ہندوستان1 week ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
ہندوستان3 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
تازہ ترین5 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
کھیل1 week agoڈیوڈ کی ہیٹ ٹرک، کینیڈا نے قطر کو شکست دے کر ورلڈ کپ میں پہلی بار جیت درج کی
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
دنیا5 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا5 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا1 week agoاعلیٰ ترین قیادت کے دستخط سے معاہدے کی خلاف ورزی کی سیاسی قیمت زیادہ ہو گئی: اسماعیل بقائی
جموں و کشمیر1 week agoکشتواڑ میں دہشت گردوں کے معاون نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی
دنیا1 week agoتل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی: ایران
تازہ ترین5 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا5 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی




































































































