تازہ ترین
اسرائیلی ماڈل پر کشمیری پنڈتوں کی آباد کاری ہوگی

خبراردو:
امریکہ میں متعین ہندوستانی سفارتکار نے آج ایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہاکہ اگر اسرائیل مقبوضہ فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر کرسکتا ہے تو ہندوستان کشمیری پنڈتوں کیلئے جموں وکشمیر میں بستیاں کیونکر تعمیر نہیں کرسکتا۔ کشمیری پنڈت بہت جلد اپنے وطن واپس ہوں گے۔ اُنہوںنے کہاکہ ساری دنیا میں پہلے ہی ایک ’’ اسرائیلی ماڈل‘‘ موجود ہے۔ اِسی خطوط پر ہندوستان بھی عمل کرسکتا ہے۔ نیویارک میں غیر مقیم ہندوستانیوں بشمول کشمیری پنڈت کی ایک چھوٹی سی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان قونصل جنرل سندیپ چکرورتی نے جموں وکشمیر کی دفعہ 370 کی منسوخی پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔
اُنہوںنے کہاکہ جموں وکشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال بہت جلد بہتر ہوجائے گی۔ کشمیری پنڈتوں کو اب وطن واپس ہونے کی راہ ہموار ہوچکی ہے جہاں وہ ہمیشہ کیلئے اپنے آبائی مکانوں میں رہائش اختیار کریں گے۔ انہیں سیکورٹی بھی فراہم کی جائے گی کیونکہ پہلے ہی سے دنیا میں ا سرائیل کا ماڈل موجود ہے۔ اِس طرح ہندوستانی قونصل جنرل اسرائیل کے یہودی بستیوں کے ماڈل کی طرف واضح اشارہ کررہے تھے۔ اُنہوںنے کہاکہ ’’ مجھے نہیں معلوم کہ ہم اِس ماڈل پر کیوں نہیں عمل کرتے۔ مشرق وسطی میں اِس طرح کا واقعہ ہوچکا ہے۔ اگر اسرائیلی یہ کام کرسکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں‘‘۔
ہندوستانی قونصل جنرل کا یہ بیان ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا گیا ہے جو کہ وائرل ہوگیا۔اس کے جواب میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کشمیر مسئلہ پر حکومت ہند کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ عمران خان کی تنقید کے بعد ہندوستانی قونصل جنرل نے وضاحت کی کہ اسرائیل ماڈل پر اُن کے بیان کا غلط مفہوم لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 1967میں بیت المقدس اور مغربی کنارہ میں قبضہ حاصل کرنے کے بعد اسرائیل نے 144 یہودی بستیوں کی تعمیر کی ہے۔ ساری دنیا میں اِس کی مذمت کی گئی اور آج بھی یہ بستیاں غیر قانونی شمار کی جاتی ہیں۔ حال ہی میں البتہ امریکہ نے کہاکہ ان بستیوں کو غیر قانونی قرارنہیں دیاجاسکتا۔وضاحت پر وضاحت پیش کرنے کے بعد ہندوستانی قونصل جنرل سندیپ چکرورتی نے ایک اور متنازعہ بیان دیا کہ وہ یہودی تہذیب کی طرح کشمیری کلچر کی بات کررہے تھے۔
یہودیوں نے 2000 سال تک بے وطن رہنے کے باوجود اپنی شناخت اور تہذیب کی حفاظت کی۔اسی طرح سے کشمیری کلچر جوکہ ہندوستانی اور ہندوکلچر ہے محفوظ رہے گا۔کشمیر کے بغیر ہندوستان کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ ہماری اراضی ہمارے عوام کو ضر ور واپس کی جائے گی۔ صرف وقت درکار ہے۔ حکومت نے تاریخی اقدام کیا ہے۔ کشمیر کی دفعہ 370 کاخاتمہ حکومت ہند کیلئے بہت بڑا بین الاقوامی سفارتی جوکھم تھا بلکہ ایک سفارتی جنگ تھی جس میں ہندوستان کو کامیابی حاصل ہوگئی۔
جموں و کشمیر
کانگریس کا بڑا اعلان: 5 جولائی سے جموں و کشمیر میں عوامی مہم کا آغاز
جموں، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والی 5 جولائی سے پورے مرکز زیرِ انتظام علاقے میں ایک وسیع عوامی مہم شروع کرنے جا رہی ہے۔ یہ مہم طلبا، نوجوانوں، کسانوں اور جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق کے لیے ملک بھر میں چلائے جانے والے احتجاجی پروگرام کا حصہ ہے۔
یہ فیصلہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی سکریٹری دیویا مدیرنا اور جے کے پی سی سی کے ورکنگ پریسیڈنٹ رمن بھلا کی صدارت میں منعقدہ شہری اور دیہی کانگریس کمیٹیوں کے ایک مشترکہ اجلاس میں لیا گیا۔ اس اہم بیٹھک میں ضلع کانگریس کمیٹی (دیہی جموں) کے صدر نیرج کندن، پی سی سی ہیڈکوارٹر انچارج وید مہاجن سمیت بلاک صدور اور سینئر لیڈروں نے شرکت کی۔
اس عوامی مہم کی سب سے اہم خصوصیت ‘طلبا کی گونج’ پروگرام ہے، جو نوجوانوں اور طلبا کے مسائل کو اٹھانے کے لیے کانگریس کی ملک گیر کوششوں کا حصہ ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اکھل بھارتیہ کانگریس کی سکریٹری دیویا مدیرنا نے کہا”کانگریس ان لاکھوں طلبا اور نوجوانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے جن کا مستقبل امتحانی تنازعات کی وجہ سے داؤ پر لگ گیا ہے۔ نیٹ پیپر لیک ملک کے نوجوانوں کی امیدوں کے ساتھ ایک بڑا کھلواڑ ہے اور ہماری یہ مہم بی جے پی حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کرے گی۔”
اس موقع پر جے کے پی سی سی کے ورکنگ پریسیڈنٹ رمن بھلا نے جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاست کا درجہ دینے کی مانگ کو دہرایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایل جی (لیفٹیننٹ گورنر) انتظامیہ اور منتخب حکومت کے درمیان اختیارات کی جنگ (دوہری حکمرانی) نے جوابدہی کو ختم کر دیا ہے اور عوامی فیصلوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام اس وقت بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں، کسانوں کی بدحالی اور بے روزگاری جیسے سنگین چیلنجز سے نبردآزما ہیں، اور 5 جولائی کی مہم حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے ایک مضبوط جمہوری پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر نیرج کندن نے کہا کہ بی جے پی کی پالیسیوں نے نوجوان نسل کا بھروسہ توڑا ہے اور کانگریس انصاف کے حصول تک پرامن اور جمہوری طریقے سے آواز اٹھاتی رہے گی۔ پارٹی قیادت نے تمام سطحوں کے کارکنوں اور عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ زمینی سطح پر عوام کو متحرک کریں اور 5 جولائی کے احتجاجی پروگرام میں زیادہ سے زیادہ عوامی شمولیت کو یقینی بنائیں۔
یواین آئی۔م اع
جموں و کشمیر
امرناتھ یاترا: جموں ایس او جی اور این ایس جی کی مشترکہ ‘موک ڈرل’
جموں، امرناتھ کی سالانہ یاترا کے لیے کیے گئے وسیع حفاظتی انتظامات کے تحت، جموں کے ‘اسپیشل آپریشنز گروپ’ نے ‘نیشنل سیکیورٹی گارڈز’ کے ساتھ مل کر یہاں کے تاریخی رگھوناتھ مندر میں دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ ‘موک ڈرل’ (مستعدی کی مشق) کا انعقاد کیا۔ امرناتھ جی کی سالانہ یاترا تین جولائی سے شروع ہونے جا رہی ہے، جہاں عقیدت مندوں کے پہلے قافلے کو بھگوتی نگر میں واقع یاتری نواس سے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا جائے گا۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ اس مشترکہ موک ڈرل کے دوران ایک انتہائی حساس اور فرضی دہشت گردانہ حملے کا منظرنامہ تیار کیا گیا تھا۔
ترجمان کے مطابق، اس مشق کا اہم مقصد ‘اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز’ کی جانچ کرنا اور کسی بھی ناگہانی سیکیورٹی ایمرجنسی کی صورت میں ایجنسیوں کے درمیان فوری اور مربوط کارروائی کو یقینی بنانا تھا۔یہ ڈرل ان مشترکہ حفاظتی تیاریوں کا حصہ ہے جو جموں بھر کے تمام اہم سرکاری اداروں، تنصیبات اور دیگر حساس مقامات پر منعقد کی جائیں گی۔ اس کا مقصد سیکیورٹی فورسز کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینا اور ممکنہ خطرات کے خلاف حفاظتی نظام کو مزید فول پروف بنانا ہے۔
یواین آئی ۔م ا ع
پاکستان
پاکستان کے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے، 29 دہشت گرد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان نے افغانستان کے مشرقی علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنا کر فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں کی ہیں۔
حکام کے مطابق یہ کارروائیاں پاکستان کی سرحد کے اندر ہونے والے مہلک حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔ کاروائیوں کے نتیجے میں 29 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ “پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں تین اہداف کو انتہائی درست فضائی حملوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا ہے”۔ تارڑ کے مطابق یہ فضائی حملے ایک وسیع آپریشن کا حصہ تھے جس میں پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔
انہوں نے کہا ہےکہ اس آپریشن کا ہدف جماعت الاحرار تھا جسے عموماً تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا ہےکہ رات کے وقت کی جانے والی یہ کارروائی کراچی میں ہفتے کے روز ہونے والے اور تین نیم فوجی اہلکار وں کی ہلاکت کا سبب بننے والےحملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سرحدی صوبوں میں حالیہ پُرتشدد واقعات بھی اس کارروائی کا سبب بنے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے حکام کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اتوار کے روز پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی آپریشن کیا جس کے بعد دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر “انتہائی درست حملے” کیے گئے، جن میں 29 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ پاکستان نے رواں مہینے کے آغاز میں کئے گئے حملے سمیت حالیہ مہینوں میں افغانستان کے اندر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحد اکتوبر میں تشدد میں اضافے کے بعد سے بڑی حد تک بند ہےاور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بھی معطل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان5 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
تازہ ترین1 week agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
دنیا1 week agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا1 week agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تازہ ترین1 week agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
جموں و کشمیر5 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا6 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
دنیا1 week agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
ہندوستان5 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا4 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ






































































































