پاکستان
اس سزا پر عملدرآمد نہیں ہوگا

حامد میر
یہ زخمی زخمی سا آئین ہے، اِسے بار بار توڑا گیا، یہ بار بار بحال ہوتا رہا کیونکہ یہ پاکستانی عوام کو میسر واحد متفقہ قومی دستاویز ہے جس نے تمام تر اندرونی و بیرونی سازشوں کے باوجود پاکستان کے عوام کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔
اس آئین کو توڑنے والے کو کبھی سزا نہ ملی تھی کیونکہ آئین شکن آمروں نے مفاد پرست سیاستدانوں کی مدد سے بار بار آئینی تحفظ حاصل کر لیا لیکن 17؍دسمبر 2019کو پہلی دفعہ ایک آئین شکن آمر پرویز مشرف کو سزا سنائی گئی۔
مشرف کو ملنے والی سزا پر افواجِ پاکستان کے ترجمان کی طرف سے غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
عام پاکستانیوں کو اس غم و غصے کا بھرپور احساس ہے لیکن یہی عام پاکستانی اپنے آئین کا بھی بہت احترام کرتے ہیں جس کو توڑنے کی سزا سنگین غداری کا مقدمہ ہے۔
https://youtu.be/rXzmLucDLMw
اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ مشرف نے پاکستان کے دفاع کے لئے دو جنگیں لڑیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اُنہیں سزا کس الزام میں ملی اور کیا یہ الزام غلط ہے؟ کیا تین نومبر 2007کو مشرف نے آئین معطل نہیں کیا تھا؟ یہ وہ آئین ہے جس سے وفاداری کا حلف مشرف نے اُٹھایا تھا۔
اس آئین کی دفعہ چھ کہتی ہے ’’کوئی بھی شخص جو طاقت کے استعمال یا طاقت سے یا کسی اور غیرآئینی طریقے سے آئین منسوخ کرے یا اُسے معطل کرے یا اُسے منسوخ کرنے کی سازش کرے تو سنگین غداری کا مجرم ہوگا‘‘۔ 17
؍دسمبر 2019سے پہلے صرف سیاستدانوں، صحافیوں اور شاعروں، ادیبوں کو غدار کہا جاتا تھا۔
ایک فوجی آمر ایوب خان نے تو محترمہ فاطمہ جناح کو بھی غدار قرار دے دیا تھا لیکن پہلی دفعہ ایک عدالت نے کسی آمر کو آئین سے غداری کا مجرم ٹھہرایا ہے اس لئے کچھ لوگ عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔
1973کا آئین پہلی دفعہ جنرل ضیاء الحق نے 1977میں پامال کیا لیکن وہ سنگین غداری کے مقدمے سے بچ گئے کیونکہ 1985کی قومی اسمبلی نے اُن کی آئین شکنی کو آٹھویں ترمیم کے ذریعہ تحفظ دے دیا۔
اس آئین کو جنرل پرویز مشرف نے 1999میں دوسری مرتبہ توڑا۔ اُنہیں 2002کی اسمبلی نے 17ویں ترمیم کے ذریعہ تحفظ دے دیا۔
مشرف نے 2007میں اس آئین کو معطل کیا لیکن 2008کی اسمبلی نے اُنہیں تحفظ نہیں دیا۔
2009میں سپریم کورٹ نے اُنہیں غاصب قرار دے کر اُن پر آئین سے بغاوت کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا۔
اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ریاستی اداروں میں مفاہمت کی پالیسی پر عمل پیرا تھے لہٰذا اُنہوں نے مشرف پر مقدمہ چلانے کے بجائے اُنہیں پاکستان سے باہر جانے دیا لیکن اُن کی مفاہمت کی پالیسی ناکام رہی۔
میمو گیٹ اسکینڈل میں زرداری کو غدار قرار دیا گیا اور بعد ازاں گیلانی کو عدلیہ نے نااہل قرار دے دیا۔ 2013کے انتخابات سے قبل مشرف پاکستان واپس آ گئے۔
اُس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کوشش کی کہ مشرف واپس چلے جائیں لیکن مشرف نے کیانی کی نہیں سنی۔
پھر نواز شریف وزیراعظم بن گئے اور اُنہوں نے اپنے وعدے کے مطابق مشرف پر آئین سے غداری کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا۔
نواز شریف نے غلطی یہ کی کہ مشرف کے وزیر قانون زاہد حامد کو اپنا وزیر قانون بنایا لہٰذا مشرف کے وکلا زاہد حامد سمیت شوکت عزیز اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو شریکِ ملزم بنانے کی کوشش کرتے رہے لیکن جب معاملہ سپریم کورٹ میں گیا تو ان تینوں کو چھوڑ دیا گیا کیونکہ ان تین کو شریکِ ملزم بنانے کی صورت میں مشرف کے کور کمانڈرز کو بھی شریک ملزم بنانا پڑتا۔
اس دوران نواز شریف پر دبائو ڈالا گیا کہ وہ مشرف کو بیرونِ ملک جانے دیں ورنہ ریاستی اداروں سے محاذ آرائی میں اضافہ ہوگا۔
نواز شریف نے بھی ریاستی اداروں سے مفاہمت کے نام پر مشرف کو ایک خاموش این آر او دیا اور وہ بیرونِ ملک چلے گئے۔ یہ خاموش این آر او کام نہ آیا اور سپریم کورٹ نے نواز شریف کو بھی نا اہل قرار دے دیا۔
2018میں عمران خان وزیراعظم بنے۔ اُنہوں نے مشرف کے ایک وکیل فروغ نسیم کو وزیر قانون اور مشرف کے دوسرے وکیل انور منصور خان کو اٹارنی جنرل بنا دیا۔
اپوزیشن کے زمانے میں عمران خان بار بار مشرف کے ٹرائل کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔ وزیراعظم بننے کے بعد اُن کی حکومت نے مشرف کو بچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔
خصوصی عدالت بار بار مشرف کو بیان ریکارڈ کرانے کا موقع دیتی رہی لیکن مشرف نے بیان ریکارڈ نہ کرایا اور آخر کار ساڑھے پانچ سال میں 125سماعتوں کے بعد خصوصی عدالت نے مشرف کو سزائے موت سنا دی۔ سب جانتے ہیں کہ مشرف کو سزائے موت نہیں ہو سکتی لیکن یہ وہ سزا ہے جو پاکستان میں سنگین غداری کے ملزمان کو پہلے بھی مل چکی ہے۔
عمران خان کی حکومت کھل کر مشرف کی حمایت کر رہی ہے۔ مشرف کے خلاف سنائے جانے والے فیصلے پر بڑا اعتراض یہ ہے کہ اُن کا ساتھ دینے والوں کو سزا کیوں نہیں ملی؟
سنگین غداری کا مقدمہ صرف حکومت بنا سکتی ہے لہٰذا حکومت چاہے تو کچھ شریک ملزمان پر مقدمہ بنا سکتی ہے لیکن یہ بہت مشکل ہے۔
عمران خان کی اصل ترجیح مشرف کو بچانا ہوگی۔ مشرف کے وکلا اس فیصلے پر اپیل دائر کرنے کا اعلان کر چکے ہیں اور جب اپیل پر سماعت ہوگی تو مقدمہ دوبارہ کھل جائے گا۔ اگر عدالتی فیصلہ برقرار رہتا ہے تو پھر سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کی کوشش ہو گی۔
سزائے موت کو عمر قید میں بدلنا صدرِ مملکت کا اختیار ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ پرویز مشرف پاکستان واپس آ کر گرفتاری پیش کریں۔ پاکستان واپس آنا بہت مشکل ہو گا۔
مشرف کو بینظیر بھٹو قتل کیس میں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ اُن پر غازی عبدالرشید قتل کیس بھی زیر التوا ہے۔ ججز نظر بندی کیس میں اُن پر فردِ جرم عائد ہو چکی ہے۔
12؍مئی 2002کو کراچی میں ہونے والے قتلِ عام کا مقدمہ بھی انجام کو نہیں پہنچا۔ پاکستان واپسی کی صورت میں اُنہیں ان تمام مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
5دسمبر 2019کو شائع ہونے والے میرے کالم کا عنوان تھا ’’دیر ہے اندھیر نہیں‘‘۔
میں نے اپنے کالم میں عرض کیا تھا کہ ’’یاد رکھئے گا! آج نہیں تو کل، پاکستان کی کوئی نہ کوئی عدالت مشرف اور اس کو بچانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف فیصلہ ضرور سنائے گی کیونکہ اس دنیا میں دیر ہے، اندھیر نہیں‘‘۔
کسی بھی عدالت کے فیصلے پر تنقید کرنا یا اُس کے خلاف اپیل میں جانا ہر شہری کا آئینی حق ہے لیکن جب ہم عدالتی فیصلوں کے پیچھے سازشیں اور بدنیتی تلاش کریں گے تو پھر منتخب وزرائے اعظم کے خلاف عدالتی فیصلوں کو بھی سامنے رکھیں۔
اگر وہ فیصلے ٹھیک تھے تو مشرف کے خلاف فیصلہ ٹھیک ہے، اگر مشرف کے خلاف فیصلہ غلط ہے تو پھر وہ فیصلے بھی غلط تھے۔
اس بحث سے نکلئے اور مل جل کر پاکستان کو آگے بڑھائیے۔ خدانخواستہ ہم اپنی اپنی اَنا کے اسیر بن گئے تو قیامت تک یہ بحث جاری رہے گی کہ اگر مشرف غدار نہیں تو فاطمہ جناحؒ بھی غدار نہیں تھیں اور اگر فاطمہ جناحؒ غدار نہیں تھیں تو اُنہیں غدار قرار دینے والوں کی طرف سے معافی کون مانگے گا؟
سچ یہ ہے کہ مشرف کے خلاف سزا کی واپسی بہت مشکل ہے لیکن اس سزا پر عملدرآمد نہیں ہو گا۔
( (Courtesy: Jung news)
پاکستان
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ اسلام آباد کا پہلا اہم ورکنگ سیشن مکمل
اسلام آباد، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ اسلام آباد کا پہلا اہم ورکنگ سیشن مکمل ہو گیا ہے، جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان اہم امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے حکام نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ ورکنگ سیشن کے بعد ایرانی وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات طے ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات اور اپنے دورہ پاکستان کا ایجنڈا مکمل کرنے کے بعد ایرانی وفد اسلام آباد سے مسقط اور پھر ماسکو کے لیے روانہ ہو جائے گا۔
دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر آج اسلام آباد جا رہے ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیوٹ نے دعویٰ کیا صدر ٹرمپ کے کہنے پر ایرانی حکام نے خود رابطہ کیا۔
ایرانی حکام نے براہ راست مذاکرات کیلئے کہا اسی لیے صدر ٹرمپ وفد بھیج رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ جے ڈی وینس ابھی یہیں رہیں گے، صورتحال پر نظر رکھیں گے، امید ہے بات چیت نتیجہ خیز ہوگی اور ڈیل کی جانب بڑھے گی، مذاکراتی عمل میں صدر ٹرمپ نے اپنی ریڈ لائنز واضح کی ہیں، مذاکرات کے عمل میں پاکستان حیرت انگیز ثالث رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں، ایران اپنا مؤقف پاکستان کے ذریعے آگے پہنچائے گا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے ایکس پر بیان میں لکھا پاکستان امن کی بحالی کیلئے ثالثی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ پاکستان صرف دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کے لیے ہے، عباس عراقچی کو ایٹمی معاملے پر مذاکرات کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں دی گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
“اسلام آباد مذاکرات”ایرانی وفد تاحال پاکستان نہیں پہنچ سکا
اسلام آباد، ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی وفد اب تک پاکستان نہیں پہنچ سکا ۔
نشریاتی ادارے نے کہاہے کہ اب تک کوئی بھی ایرانی وفد اسلام آباد نہیں پہنچا۔ آئی آر آئی بی نے مزید کہا کہ متعدد میڈیا رپورٹس کہ ایرانی وفد پاکستان کا سفر کرے گا یا یہ کہ مذاکرات پیر کی شام یا منگل کی صبح طے تھے، غلط تھیں۔ رپورٹ میں اتوار کی شام ایرانی حکام کے بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں اشارہ کیا گیا کہ مذاکرات میں مسلسل شرکت امریکی رویے میں تبدیلیوں پر منحصر ہے اور یہ کہ تہران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو مسترد کرتا ہے۔
پاکستان نے 11-12 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی، جب اس نے 8 اپریل کو 14 روزہ جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا جو بدھ کو ختم ہونے والی ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کے ایک اور دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اس سے قبل پاکستانی ذرائع نے کہا تھا کہ ایرانی حکام کی منگل کو اسلام آباد آمد متوقع ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان واپس پرواز کے لیے تیار تھے، لیکن تہران نے اپنی شرکت کے بارے میں غیر یقینی برقرار رکھی اور امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور ایک جہاز کی ضبطی کے ذریعے جلد ختم ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ وینس کے بارے میں توقع ہے کہ وہ منگل کی صبح مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوں گے۔
امریکہ نے اسی طرح تہران پر الزام لگایا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو ہراساں کرکے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، جو دنیا کے پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل کا راستہ ہے، جسے ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے جواب میں تقریباً بند کر دیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے پیر کو تہران سے اس اشارے کا انتظار کیا کہ وہ اپنا مذاکراتی وفد اسلام آباد بھیجے گا۔ ثالثوں نے ایرانی حکام سے مذاکرات میں شرکت کی درخواست کی ہے اور انہیں وفد بھیجنے پر زور دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ “انتہائی غیر ممکن” ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور یہ کہ بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے مستقل خاتمے کا معاہدہ نہیں ہو جاتا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
عمران خان کو قید تنہائی میں رکھ کر غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہ: علیمہ خان
اسلام آباد، پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے الزام لگایا ہے کہ ان کے بھائی کو قید تنہائی میں رکھ کر ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔
محترمہ خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو 16 اکتوبر 2025 سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، انہوں نے 2025 میں اپنے بیٹوں سے صرف دو بار بات کی اور ایک بار فروری 2026 میں، وہ بھی سپریم کورٹ کے حکم کے بعد۔ بیان کے مطابق اسے پڑھنے کے لیے کتابیں بھی فراہم نہیں کی جا رہی ہیں اور جو کتابیں بھیجی گئی ہیں ان میں سے وہ صرف تین ہی وصول کر سکیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مسٹر خان، جو کہ دوسری صورت میں صحت مند تھے، اچانک ان کی آنکھ میں خون کا جمنا پیدا ہوگیا، لیکن انہیں بروقت طبی امداد دینے سے انکار کردیا گیا۔ اس نے دو ہفتوں تک جیل حکام کو بتایا کہ وہ دیکھنے سے قاصر ہے، اس کے باوجود علاج میں تاخیر ہوئی۔ الزام ہے کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ غفور انجم نے تین ماہ تک ماہر ڈاکٹر کو بلانے میں تاخیر کی جس سے آنکھ کو مستقل نقصان پہنچا۔
اہل خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دوسری آنکھ بھی اسی طرح کی پریشانی کا شکار ہو سکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسٹر خان نے پچھلے کچھ مہینوں میں کئی بار علاج سے عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور ایک انجیکشن کے بعد ان میں معمولی بہتری آئی تھی، لیکن اس کے بعد کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ دریں اثناء ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بھی آنکھوں میں تکلیف ہوئی اور حال ہی میں ان کا آپریشن ہوا۔ اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مسٹر خان کو بیماری کی وجہ معلوم کرنے کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں مناسب معائنہ اور علاج فراہم کیا جائے۔ محترمہ خان نے اسے “غیر انسانی” قرار دیا اور کہا کہ یہ پاکستانی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا7 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ





































































































