تازہ ترین
اناو آبروریزی معاملہ: ٹرک – کارکی ٹکرمیں 2 چاچیوں کی موت ، آبرو ریزی متاثرہ کی حالت سنگین

خبراردو: یہ حادثہ رائے بریلی ضلع کے اتروا گاوں میں ٹرک اورکارکی آمنے سامنے ٹکرسے ہوا۔ لڑکی کا لکھنو کے ٹراما سینٹرمیں علاج چل رہا ہے۔ تاہم اس کی حالت سنگین بتائی جارہی ہے۔
اناو بی جے پی کے رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر پرآبروریزی کا الزام لگانے والی لڑکی اوراس کے اہل خانہ کے ساتھ حادثہ ہوگیا۔ آبروریزی متاثرہ لڑکی رائے بریلی میں چچا سے جیل میں ملنے جارہی تھی، تبھی یہ حادثہ ہوگیا۔ اس حادثے میں متاثرہ کی دو چاچیوں کی موقع پر ہی موت ہوگئی ہے۔ زخمی آبروریزی متاثرہ اوروکیل کو لکھنو کے ٹراما سینٹرمیں داخل کرایا گیا ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق یہ حادثہ رائے بریلی ضلع کے اتروا گاوں میں ٹرک اورکارکے آمنے سامنے ٹکرانے سے ہوا۔ آبروریزی متاثرہ اپنی چاچی اوروکیل مہندرسنگھ کے ساتھ رائے بریلی جارہی تھی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پرپہنچی اورحادثے کا شکار ہوئے لوگوں کو سنگین حالت میں لکھنو کے ٹراما سینٹرکے لئے بھجوا دیا، جہاں آبرو ریزی کے وکیل مہندرسنگھ کی موت ہوگئی۔ وہیں آبروریزی متاثرہ لڑکی کی حالت سنگین بتائی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ متاثرہ نے الزام لگایا تھا کہ اناو کے بانگرمئو سے رکن اسمبلی کلدیپ سینگرنے اس کے ساتھ 4 جون، 2017 کواپنی رہائش گاہ پرعصمت دری کی، جہاں وہ اپنے ایک رشتہ دارکے ساتھ نوکری مانگنے کے لئے گئی تھی۔
بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ کے خلاف اناو کے ماکھی تھانے میں معاملہ درج کیا گیا تھا۔ انتظامیہ نے اس حکم میں اس پورے معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی سفارش کی تھی، جسے ایجنسی نے قبول کرلیا تھا۔ کلدیپ اناوکے الگ الگ اسمبلی سیٹوں سے چاربارسے مسلسل رکن اسمبلی ہیں۔
جموں و کشمیر
مذہبی فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ میرواعظ نے نظربندی کا سنگین الزام لگا دیا
سرینگر، حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے سرینگر کے بيمينہ علاقے میں واقع امام بارگاہ میں ایک مذہبی اجتماع میں شرکت کے لیے جانے سے پہلے نظربند کیے جانے کا الزام لگایا ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ شیعہ سنی اتحاد اورحضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور شہدائے کربلا کے ساتھ مشترکہ عقیدت و احترام کے طور پر، آغا سید ہادی کی دعوت پر میرواعظ کو امام بارگاہ بيمينہ میں خطاب کرنا تھا۔ اس سفر کا مقصد ان کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اور کربلا سے ملنے والے اتحاد، امن اور بھائی چارے کے پیغام کو عام کرنا تھا۔ میرواعظ نے کہا کہ انہیں نظربند کر دیا گیا ہے اور اس اجتماع میں شامل ہونے سے روکا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، “کشمیر ہمیشہ سے باہمی احترام، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کی ایک مثال رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے وقت میں جب معاشرہ کئی محاذوں پر چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، اتحاد، تحمل، باہمی احترام اور یکجہتی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی تفرقہ انگیز قوت کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور صدیوں پرانے باہمی تعلقات کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، جو طویل عرصے سے کشمیر کے لوگوں کی پہچان رہے ہیں۔میرواعظ نے معاشرے کے تمام طبقات کے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے سب سے وقار، صبر اور باہمی احترام برقرار رکھنے اور سچائی، ہمدردی، انصاف اور اتحاد پر قائم رہ کر پیغامِ کربلا کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا۔
میرواعظ کے نظربند کیے جانے کے دعوے پر پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
یواین آئی ۔م ا ع
تجزیہ
یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر: اسباب، تباہ کاریاں اور مستقبل کا لائحہ عمل
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
اکیسویں صدی میں کرہ ارض کو درپیش سب سے بڑا اور سنگین ترین چیلنج ‘موسمیاتی تبدیلی’ (کلائمیٹ چینج) اور ‘عالمی حدت’ (گلوبل وارمنگ) ہے حالیہ برسوں میں اس کے اثرات محض سائنسی رپورٹس اور کانفرنسوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اب یہ انسانی زندگیوں، معیشتوں اور ماحولیاتی نظاموں پر براہِ راست اثر انداز ہو رہے ہیں اس کی تازہ ترین اور ہولناک ترین مثال یورپ میں آنے والی حالیہ شدید ترین ہیٹ ویو ہے، جس نے ماضی کے تمام ریکارڈز کو توڑ دیے ہیں۔ جرمنی، اٹلی، فرانس، ڈنمارک اور سلوواکیہ جیسے ممالک، جو تاریخی طور پر معتدل یا سرد موسم کے لیے جانے جاتے تھے، اس وقت تپتے ہوئے صحراؤں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ درجہ حرارت چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جانا اور رات کے وقت بھی گرمی کی شدت برقرار رہنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ زمین کا موسمیاتی نظام مکمل طور پر بگڑ چکا ہے۔
مغربی یورپ سے شروع ہونے والا یہ شدید موسمی نظام اب مشرق کی طرف پھیل چکا ہے اور اس کی شدت میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ مختلف یورپی ممالک میں اس ہیٹ ویو نے جو تباہی مچائی ہے، اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں: جرمنی، جو اپنی صنعتی ترقی اور بہترین انفراسٹرکچر کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، اس وقت شدید موسمی حالات کا سامنا کر رہا ہے۔
جرمن قومی موسمیاتی سروس (ڈی ڈبلیو ڈی) کے مطابق ملک بھر میں اوسط درجہ حرارت 36ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے جبکہ کئی مقامات پر اس کے 42ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کے قوی امکانات ہیں۔
فرانس کی سرحد کے قریب واقع شہر ساربروکن میں درجہ حرارت 41.3 سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا، جو جرمنی کی تاریخ کے گرم ترین درجہ حرارت کے بالکل قریب ہے۔ جرمن حکام نے تقریباً پورے ملک کے لیے شدید گرمی کی ریڈ وارننگ جاری کی ہے۔ شہروں میں پانی کی کھپت میں بے پناہ اضافے کے باعث عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پانی بچائیں تاکہ پانی کی فراہمی کا نظام مفلوج نہ ہو۔
اٹلی بھی اس ہیٹ ویو کی زد میں بری طرح آچکا ہے۔ روم، میلان اور فلورنس جیسے تاریخی شہروں میں درجہ حرارت مسلسل 40ڈگری سینٹی گریڈسے اوپر برقرار ہے۔ سیاحوں اور مقامی آبادی کے لیے گھروں سے نکلنا محال ہو چکا ہے اور ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کا تانتا بندھ گیا ہے۔
اس ہیٹ ویو کی سب سے حیران کن اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اس نے اسکینڈینیوین ممالک (Scandinavia) کو بھی نہیں بخشا۔ ڈنمارک کے موسمیاتی ادارے کے مطابق اوڈینس (Odense) کے شمالی علاقے میں درجہ حرارت 36.6 سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا۔ 1874ء میں جب سے ڈنمارک میں موسم کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا شروع کیا گیا ہے، گزشتہ 150 سے زائد سالوں میں یہ وہاں کا گرم ترین دن ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ گرمی کی لہریں اب قطب شمالی کے قریبی علاقوں تک کا رخ کر رہی ہیں۔
فرانس اس ہیٹ ویو کا ابتدائی ہدف بنا جہاں درجہ حرارت 40ڈگری سینٹی گریڈسے تجاوز کرنے کے باعث درجنوں افراد، بالخصوص نوجوان اور بوڑھے، لقمہ اجل بن گئے۔ فرانسیسی حکومت کو ہنگامی اقدامات کے تحت اسکولوں کو معطل کرنا پڑا، بیرونی تقریبات ملتوی کرنی پڑیں اور پبلک مقامات پر الکحل کے استعمال پر پابندی عائد کرنی پڑی کیونکہ الکحل جسم میں پانی کی کمی (Dehydration) کو تیز کرتی ہے۔
موسمیاتی نظام جیسے ہی مشرق کی طرف منتقل ہوا، اس نے نئے ریکارڈ بنانا شروع کر دیے۔ سلوواکیہ میں جمعہ کی رات تاریخ کی گرم ترین رات ریکارڈ کی گئی، جہاں درجہ حرارت 26.3سے نیچے نہیں گرا۔ رات کے وقت اس قدر زیادہ درجہ حرارت انسانی جسم کو ٹھنڈا ہونے اور آرام کرنے کا موقع نہیں دیتا، جو صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ماہرین کے مطابق اب یہ لہر پولینڈ کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں مزید ریکارڈ ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔
سائنسدانوں اور ماہرینِ موسمیات کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ یورپ میں آنے والی یہ حالیہ گرمی کی لہر کوئی قدرتی واقعہ نہیں ہے۔ عالمی ماحولیاتی سائنسدانوں کے مطابق انسانوں کی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلی کے بغیر اس نوعیت کی شدید ہیٹ ویو کا آنا تقریباً ناممکن تھا۔’
صنعتی انقلاب کے بعد سے انسانوں نے فوسل فیول (کوئلہ، تیل، اور گیس) کے بے تحاشہ استعمال، جنگلات کی کٹائی اور زہریلی گیسوں کے اخراج کے ذریعے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ زمین نے سورج کی گرمی کو اپنے اندر قید کرنا شروع کر دیا ہے۔
سائنسی ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سرگرمیوں نے اس ہفتے رات کے وقت کے درجہ حرارت کو دو دہائیوں (20 سال) پہلے کے مقابلے میں 100گنا زیادہ شدید بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب راتیں بھی ٹھنڈی نہیں رہیں، جو کہ گلوبل وارمنگ کا ایک بھیانک رخ ہے۔
شدید گرمی کی یہ لہر محض تھرمامیٹر کے پارہ بڑھنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے اثرات انسانی زندگی اور ملکی نظام کے ہر شعبے پر مرتب ہو رہے ہیں۔
ہمارا جسم ایک خاص حد تک گرمی برداشت کرنے کے لیے بنا ہے۔ جب درجہ حرارت مسلسل چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہتا ہے تو انسانی جسم کا درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کا نظام فیل ہو جاتا ہے۔
فرانس سمیت دیگر ممالک میں درجنوں اموات ہو چکی ہیں۔ بوڑھے، بچے اور وہ لوگ جو دل یا سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں، اس کا سب سے پہلا شکار بنتے ہیں۔ شدید گرمی کی وجہ سے لوگ نیند کی کمی اور مسلسل شدید گرمی کے ماحول میں رہنے سے انسانی رویوں میں چڑچڑاپن اور ذہنی تناؤ بڑھ جاتا ہے۔
یورپی ممالک کا بنیادی ڈھانچہ تاریخی طور پر سرد موسم کے لحاظ سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ گھروں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ایئر کنڈیشننگ (اے سی)کا نظام اس سطح پر موجود نہیں ہے جیسا کہ ایشیا یا مشرقِ وسطیٰ میں ہوتا ہے۔
شدید گرمی کی وجہ سے لوہے کی پٹریوں کے پھیلنے اور مڑنے کا خطرہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یورپ بھر میں ٹرینوں کی رفتار کم کر دی گئی ہے یا سفر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ فرانس اور جرمنی میں نیوکلیئر پاور پلانٹس کو ٹھنڈا کرنے کے لیے دریاؤں کا پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ دریاؤں کا پانی پہلے ہی گرم ہونے کی وجہ سے ان پاور پلانٹس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے، جبکہ دوسری طرف ایئر کنڈیشنرز اور پنکھوں کے استعمال کی وجہ سے بجلی کی طلب ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔
کئی ممالک میں بیرونی کاموں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، تعمیراتی کام روک دیے گئے ہیں اور اسکولوں کو بند کرنا پڑا ہے۔ اس سے روزمرہ کی معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ سیاحت، جو کہ اٹلی اور فرانس کی معیشت کا ایک بڑا ستون ہے، اس ہیٹ ویو کے باعث بری طرح متاثر ہو رہی ہے کیونکہ سیاح شدید دھوپ میں باہر نکلنے سے قاصر ہیں۔
ڈونر ویٹر کے ماہرِ موسمیات کارسٹن برانڈٹ سمیت دیگر عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال عارضی نہیں ہے۔
اگر عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو فوری طور پر کم نہ کیا گیا توجو ہیٹ ویو پہلے صدی میں ایک بار آتی تھی، وہ اب ہر دو سے تین سال بعد آیا کرے گی۔یورپ کا موسم بتدریج نیم صحرائی (Semi-arid) شکل اختیار کر سکتا ہے، جہاں گرمیاں طویل اور خشک، جبکہ سردیاں انتہائی مختصر ہوں گی اورزراعت کا نظام تباہ ہو جائے گا، کیونکہ فصلوں کو اگنے کے لیے معتدل درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس عالمی تباہی سے نمٹنے کے لیے دنیا کو ہنگامی بنیادوں پر دوہرا لائحہ عمل اپنانا ہو گا۔فوسل فیول کا استعمال فوری طور پر ترک کر کے شمسی اور ہائیڈروجن توانائی کی طرف منتقلی۔ جنگلات کا تحفظ اور شجرکاری مہم۔ یورپی شہروں کے بنیادی ڈھانچے کو گرم موسم کے مطابق ڈھالنا۔ عمارتوں کو ‘گرین روفس’ (Green Roofs) اور انسولیشن کے ذریعے ٹھنڈا رکھنا۔
جرمنی، اٹلی اور ڈنمارک میں ریکارڈ توڑنے والی یہ ہیٹ ویو قدرت کی طرف سے ایک انتباہ ہے۔ یہ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ یہ ہمارے حال میں موجود ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے۔ اگر اب بھی دنیا کے امیر اور صنعتی ممالک نے پیرس ماحولیاتی معاہدے (Paris Agreement) پر عمل کرتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے اضافے کو محدود کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلوں کے لیے یہ زمین رہنے کے قابل نہیں رہے گی۔ اب وقت تقریروں کا نہیں بلکہ عملی اور انقلابی اقدامات کا ہے۔
(یواین آئی)
ہندوستان
کھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
نئی دہلی، 2 کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کرناٹک سے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں راجیہ سبھا رکن کے طور پر حلف لیا راجیہ سبھا کے چیئرمین اور نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے انہیں عہدے اور رازداری کا حلف دلایا حلف برداری کے بعد مسٹر کھرگے نے کہا کہ راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر دوبارہ حلف لینا ان کے لیے فخر اور بڑی ذمہ داری کا موضوع ہے انہوں نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر اس باوقار ایوان کی خدمت جاری رکھنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ مسٹر کھرگے نے راجیہ سبھا کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین ہری ونش کے تعاون اور حمایت کے لیے تشکر کا اظہار کیا۔
انہوں نے کانگریس لیڈر محترمہ سونیا گاندھی، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی، کانگریس ممبرانِ پارلیمنٹ، پارٹی قیادت، کارکنوں اور حامیوں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اٹوٹ یقین اور حوصلہ افزائی نے عوامی زندگی اور پارلیمانی سفر میں ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے۔ مسٹر کھرگے نے تمام سیاسی جماعتوں کے ایوان کے رہنماؤں، خاص طور پر انڈیا اتحاد اور اپوزیشن کے بھرپور تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے مانسون سیشن میں اپوزیشن پہلے سے زیادہ تال میل کے ساتھ حکومت کو جوابدہ بنانے کا کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور اپوزیشن عوام کے سلگتے ہوئے مسائل، خواہشات اور آواز کو پوری ایمانداری، مضبوطی اور عزم کے ساتھ پارلیمنٹ میں اٹھاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا، “عوام کی آواز کو بلند کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے اور میں اسے پوری وفاداری کے ساتھ نبھاتا رہوں گا۔”
یو این آئی ایف اے
ہندوستان5 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
تازہ ترین1 week agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
دنیا1 week agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا1 week agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تازہ ترین1 week agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا1 week agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
جموں و کشمیر7 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر5 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا6 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا1 week agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
ہندوستان5 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا4 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ







































































































