تازہ ترین
اٌمت میں اختلافات وہ بھی منظرِ عام پر!


مصنف: جاوید اختر بھارتی
خبراردو
یہ سچ ہے کہ اتحاد زندگی ہے،، اور اختلاف موت ہے ،، اسے سمجھنے کی اور غور کرنے کی ضرورت ہے،، اگر جماعت میں اختلاف ہوجائے تو جماعت کی موت، قوم میں اختلاف ہوجائے تو قوم کی موت، آبادی میں اختلاف ہوجائے تو آبادی کی موت، شناخت اور پہچان اور تعداد میں اختلاف ہوجائے تو بھی موت یعنی پھر کثیر تعداد میں ہوتے ہوئے بھی احساس کمتری کی چادر اوڑھنا بچھونا بن جایا کرتی ہے سوچ کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے
رونا رونے کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں آتا جب قوم اختلافات کا شکار ہوتی ہے تو اپنے آباؤ اجداد کی تاریخ کو بھلا دیتی ہے اور جو قوم اپنے آباؤ اجداد کی، اپنے اسلاف کی تاریخ بھلادیتی ہے تو وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹنے لگتی ہے پھر اس کا پرسان حال کوئی نہیں ہوتا اور سیاسی پارٹیاں بھی اس قوم کو کرکٹ کے میدان کا بارہواں کھلاڑی سمجھتی ہیں،، جبکہ اتحاد سے آنکھوں میں اور پیشانی پر چمک آتی ہے قوم منظم اور متحرک ہوتی ہے، معاشرہ فعال ہوتا ہے، سوچ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے، احساس برتری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جماعت طاقتور ہوتی ہے تو دل دماغ اتنا روشن ہوتا ہے کہ اسلاف کی، آباؤ اجداد کی تاریخ یاد رہتی ہے اور وہی تاریخ قوم کیلئے رہنمائی کا ذریعہ بناکرتی ہے
مذہب اسلام نے اتحاد کا پیغام دیا ہے اور اتحاد کی تعلیم دی ہے خلفائے راشدین نے اسی پاکیزہ تعلیم پر عمل کیا تو سربلندی حاصل رہی ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عثمان غنی، مولا علی رضوان اللہ علیہم اجمعین نے صداقت، عدالت، سخاوت، شجاعت کا پرچم لہرا کر صبح قیامت تک کیلئے اعلان کردیا کہ امت مسلمہ میں اتحاد کتاب و سنت کی ہی بنیاد پر ممکن ہے اور اسی میں کامیابی و کامرانی ہے
لیکن دور خلافت کے آخری مراحل میں جو اختلافات کا سلسلہ شروع ہوا تو پھر بڑھتا ہی گیا یہاں تک کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت بھی ہوئی پھر بھی یہ سلسلہ نہیں ٹھہرا یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بھی شہادت ہوئی اس کے بعد تو ایسا بھی موقع آیا کہ جب ملک شام میں یزید تخت نشین ہوا تو وہ بدبخت آل رسول سے ہی دشمنی کربیٹھا رب کے قرآن اور نبی کے فرمان سے ہی بغاوت کر بیٹھا یہاں تک کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ اور انکے جانثاروں کو سرزمین کربلا پر قتل کروا دیا،، اور آج معرکہء کربلا پر بھی مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوگیا جبکہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو امام حسین کے بچپن میں ہی بتادیا تھا کہ آپکی امت آپ کے نواسے کو قتل کردیگی کربلا کی مٹی بھی بارگاہ رسالت میں پیش کرنیکی روایت ملتی ہے –
بہرحال اس کے بعد اختلاف شروع ہوا مسلک کے نام پر اور اس کے بعد تو اختلافات کی رفتار اتنی تیز ہوگئی کہ بیان کرنا اور تحریر کرنا اور شمار کرنا انتہائی مشکل ہوگیا مکتب فکر کے نام پر، فرقہ بندی کے نام پر، مساجد و مدارس کے نام پر، مزاروں و خانقاہوں کے نام پر، بزرگانِ دین کے نام پر، یہاں تک کہ رسول پاک صل اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے مختلف گوشوں کے نام پر اتنا اختلاف کہ اب تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ اسلام اتحاد کا پیغام دیتا ہے لیکن اسلام کے ماننے والے اتحاد سے کوسوں دور ہیں اور یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ہم جس نبی کا کلمہ پڑھیں تو انکی حیات مبارکہ پر بھی اختلاف رکھیں
اور اختلاف بھی اتنا شدید کہ تقریریں بھی اختلافی، تحریریں بھی اختلافی یعنی اختلافات اسٹیج پر بھی، کتاب کی شکل میں بھی،، ایک تو اختلاف دوسرے زور و شور کے ساتھ اختلافات کا پرچار،، یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ اس سے مذہب اسلام کا اور ملت اسلامیہ کا کس قدر نقصان ہورہا ہے کوئی بول بول کر نذرانے میں مست ہے تو کوئی اس مقرر آتش فشاں کی تعریف میں مست ہے اور حالت یہ ہے کہ نماز پر اتفاق ہے تو نماز کی ادائیگی پر اختلاف، امام کا ہونا ضروری ہے تو امام کے انتخاب پر اختلاف، تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھنے کے مقام پر اختلاف، ہاتھ باندھنے کے بعد امام کے ساتھ سورہ فاتحہ پڑھنے نہ پڑھنے پر اختلاف، قرآن کے آخری کتاب ہونے پر اتفاق ہے تو قرآن کے ترجمے و تفسیر پر اختلاف، نذر و نیاز پر اختلاف، تراویح سنت مؤکدہ ہونے پر اتفاق ہے تواسکی رکعتوں پر اختلاف اسی کو دیکھتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا ہے کہ
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں، کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں افسوس اس بات کا بھی ہے کہ مسلمانوں کے سارے کے سارے اختلافات منظر عام پر ہیں جبکہ دوسرے مذاہب میں بھی اختلافات ہیں لیکن منظر عام پر نہیں ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اختلافات باعث رحمت ہیں باعث زحمت نہیں جبکہ یہ نہیں بتایا جاتا کہ کس طرح کے اختلافات باعث رحمت ہیں یہاں تو اختلافات کی وجہ سے رشتہ داریاں ختم ہوجاتی ہیں، دل ٹوٹ جاتے ہیں، مانگیں اجڑجاتی ہیں، نکاح،، طلاق میں تبدیل ہوجاتا ہے، گالی گلوج مارپیٹ کی نوبت اجاتی ہے مقدمہ بازی تک ہوجاتی ہے پھر اختلافات کیسے باعث رحمت ثابت ہوئے کبھی آواز اٹھتی ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد ہونا چاہیے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان ذمہ دار رہنماؤں کے ذریعے اور ذمہ دار اداروں کے ذریعے آج بھی اتحاد کی آواز بلند نہیں ہوتی کہ جن کی آواز پر اتحاد قائم ہوسکتا ہے خانقاہوں سے اتحاد کا نعرہ بلند ہو تو بات بنے، مدارس سے اتحاد کا نعرہ بلند ہو تو بات بنے، ایک مکتب فکر کے ادارے کے جلسے میں دوسرے مکتب فکر کے علماء و ذمہ داران کو مدعو کیا جائے اور شرکت کیا جائے تو بات بنے لیکن ایسا کرنا بہت مشکل ہے اور کبھی اس طرح کی آواز نہیں اٹھتی کیونکہ سب کو اپنی اپنی مسند پیاری ہے اپنی اپنی انفرادیت والی پہچان پیاری ہے چاہے بھلے ہی پوری قوم مسلم خسارے کے دلدل میں دھنس جائے آج کسی کے اندر اپنی غلطی تسلیم کرنے کا جذبہ نہیں ہے اور اخلاص و فا کے ساتھ اصلاحی جذبے کا بھی فقدان ہے یہی وجہ ہے کہ بھائی بھائی کے مابین دشمنی بڑھتی جا رہی ہے زندگی میں بعض ایسے بھی مواقع آتے ہیں کہ ان موقعوں پر دشمنی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے لیکن اب ایسے مواقع پر بھی نظرانداز کردیا جاتا ہے جبکہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسليم کے زمانے میں ایک شخص قربانی کرنے کیلئے اپنے جانور کو زمین پر لٹاچکا تھا لیکن اس کی اپنے حقیقی بھائی سے دشمنی تھی اللہ کے رسول جلدی جلدی اس کے مکان پر پہنچے اور کہا خبردار جانور کی گردن پر چھری نہ چلانا مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے اور تمہارے بھائی کے درمیان دشمنی ہے، بات چیت بند ہے اور تم نے اسے منانے کی کوشش نہیں کی ہے یاد رکھنا اگر تم دونوں کے درمیان دشمنی بغض اور حسد قائم رہا تو تمہاری قربانی تمہارے منہ پر مار دی جائے گی بارگاہ خداوندی میں قبول نہیں ہوگی اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اختلاف، دشمنی، کینہ بغض و حسد کتنی بری چیز ہے اسلام ایک سچا مذہب ہے، اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اسلام نے دنیا کو جو امن پیار اور محبت کا پیغام دیا ہے وہ پوری انسانیت کیلئے ہے امت اسلامیہ امت دعوت ہے امت مسلمہ کا ظہور ہی تمام بنی نوع انسان کی ہدایت و رہنمائی کیلئے ہوا ہے ملت اسلامیہ کی موجودہ ذلت اور رسوائی و پستی کا اہم سبب امت کا اپنی اصل حیثیت کو فراموش کرنا ہے، اپنے اسلاف کے بتائے ہوئے راستے سے منہ موڑ لینا ہے آج مذہب اسلام سے متعلق الکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا نے غیر مسلموں میں بہت زیادہ غلط فہمیاں پھیلا رکھی ہیں تو ایسی صورت میں اسلام سے متعلق شکوک و شبہات کا ازالہ کرنا اور اسلام کی سچی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ساتھ ہی ساتھ میڈیا کے ذریعے پھیلائے جارہے غلط پروپیگنڈوں کو بے نقاب کرنا بھی ضروری ہے تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ اسلام انسانیت کا جس قدر محافظ ہے اتنا دنیا کا کوئی اور مذہب نہیں ہے،، انسانیت کو امن و سلامتی کی سعادتوں اور برکتوں سے بہرہ ور کرنے اور اسے فتنہ و فساد اور ظلم و ستم سے بچانے کیلئے اسلام کے پاکیزہ نظام امن کی اشد ضرورت ہے اور اسی سے دنیا امن و سلامتی کا گہوارہ بن سکتی ہے آج بھی کچھ لوگ ہیں جو اس طرح کا فریضہ انجام دے رہے ہیں مگر ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے اور وہ لوگ سیاسی و سماجی پہچان رکھنے والے ہیں، وہ یونیورسٹیوں سے آنے والے لوگ ہیں تو یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ان کے اوپر دوسرا لیبل لگا دیا جاتا ہے اور انکی اپیلیں بے اثر ہو جایا کرتی ہیں جبکہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے دامے درمے قدمے سخنے تعاؤن ہونا چاہیے –
آجکل مغربی ممالک میں بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں وہ لوگ آج کے مسلمانوں کے کردار و اخلاق اور معاشرے کو دیکھ کر نہیں بلکہ قرآن و حدیث کی مقدس تعلیمات سے متاثر ہوکر مذہب اسلام قبول کر رہے ہیں اور آجکل قوم مسلم داخلی اور خارجی دونوں سطح پر اسلام دشمن قوتوں کے نرغے میں پھنسی ہوئی ہے اور آج صرف ایک ہی راستہ نظر ارہا ہے کہ قوم و ملت کی حفاظت کیلئے ہر قسم کے آپسی اختلافات کو بھلا کر اتحاد و اتفاق کے ساتھ فرقہ پرستوں کو زیر کیا جائے، آپسی اتحاد و اتفاق کو قائم رکھنے کے لیے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھاما جائے،، امت مسلمہ میں اتحاد و اتفاق کتاب و سنت کی بنیاد پر ہی ممکن ہے جب سبھی لوگ قرآن و حدیث کا حوالہ دیتے ہیں اور اپنی بات کو حق بجانب قرار دیتے ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ کہیں نہ کہیں اندھیرا ہے اور اسی اندھیروں میں بھولی بھالی عوام کو لے جایا جاتا ہے اور کبھی کبھی یہ کہہ کر پلہ جھاڑ لیا جاتا ہے کہ نبی نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل میں 72 فرقے تھے اور میری امت میں 73 فرقے ہوں گے ایک فرقہ حق پر ہوگا اور باقی 72 فرقے جہنمی ہوں گے اور ہر فرقہ اپنے کو حق پر قائم ہونے کا ثبوت پیش کرے گا،، تو آج سبھی مکتب فکر کے لوگ اپنے کو حق پر کہتے ہیں لیکن نبی نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ تم فرقوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے پر لعن و طعن کرکے اپنے کو حق پر ہونا ثابت کرنا تو پھر کیوں ایک دوسرے کے خلاف تقریریں ہوتی ہیں، کیوں ایک دوسرے کے خلاف کتابیں لکھی جاتی ہیں سب لوگوں کو صرف اپنا نظریہ پیش کرنا چاہئیے کہ ہم کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے،، کبھی تو سنجیدگی سے غور کیجئے قرآن کہتا ہے کانہم بنیان مرصوص یعنی شیشہ پلائی دیوار بن جاؤ اور ہم بکھرتے جارہے ہیں، منتشر ہوتے جا رہے ہیں اور نہیں تو کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے اندر سیاسی اتحاد ہونا چاہیے شرم آنی چاہیے دین کی بنیاد پر انتشار اور سیاسی بنیاد پر اتحاد،، یعنی دنیا میں اقتدار حاصل کرنے کی خواہش ہے اور اس خواہش کی تکمیل کے لیے سب مسلمان ہیں اور جہاں اسلام کی ترویج و اشاعت کی بات آئے، اللہ و رسول کی بات آئے تو وہاں ایک دوسرے کو مسلمان ہی تسلیم کرنے کو تیار نہیں یہی وجہ کہ ہم سیاسی، سماجی، دینی و ملی بیداری سے بہت دور ہو چکے ہیں اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جمہوریت میں وہی قوم سربلند ہوتی ہے جو سیاسی طور پر بیدار ہوتی ہے-
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یوپی
رابطہ 8299579972، javedbharti508@gmail.com
جموں و کشمیر
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس نے امرناتھ یاترا کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا
سری نگر، کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس وی کے بردی نے شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر بدھ کو پہلگام میں سکیورٹی انتظامات کا جامع جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق آئی جی پی نے ضلع اننت ناگ میں یاترا کے راستے پر سکیورٹی انتظامات کا معائنہ کیا اور سکیورٹی گرڈ کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے یاترا کے آغاز سے قبل مضبوط تیاری، باہمی تال میل کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی تعیناتی پر زور دیا۔
اس دوران پولیس کے انسپکٹر جنرل نے ایکس رے اسکریننگ پوائنٹ کا بھی معائنہ کیا، جہاں انہوں نے یاتریوں اور ان کے سامان کی جانچ کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عقیدت مندوں کے لیے محفوظ اور سہل یاترا کو یقینی بنانے کی خاطر باریک بینی سے جانچ کرنے، تمام ایجنسیوں کے درمیان مؤثر رابطہ برقرار رکھنے اور معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت دی۔
مسٹر بردی نے ننوان بیس کیمپ کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے سکیورٹی کے مجموعی انتظامات، اہلکاروں کی تعیناتی، نگرانی کے نظام، داخلی کنٹرول کے اقدامات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے تعینات افسران اور جوانوں سے بات چیت کی اور یاترا کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے میں ان کی لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی ستائش کی۔
کثیر سطحی سکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے مسٹر بردی نے افسران کو ہائی الرٹ رہنے، مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل مضبوط کرنے اور تمام حفاظتی ضوابط پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے سالانہ یاترا کو پُرامن اور محفوظ انداز میں مکمل کرانے کے لیے فعال پولیسنگ، مسلسل نگرانی اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی پر زور دیا۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
ہندوستان اور پاکستان کے کئی سرکردہ شخصیات کی مودی اور شریف سے بات چیت اور سفارتی تعلقات بحال کرنے کی اپیل
نئی دہلی، ہندوستان اور پاکستان کے کئی سرکردہ شخصیات کے ایک گروپ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے “جنوبی ایشیا میں امن، معمول کے حالات، بات چیت اور تعاون بحال کرنے کی سمت میں معنی خیز اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔
دونوں ممالک کے 117 لوگوں کے دستخط والے اس مشترکہ خط میں سفارتی تعلقات بحال کرنے، منظم بات چیت، اعتماد کو مضبوط کرنے والے مسلسل اقدامات کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان عداوت کم کرنے اور امن کو فروغ دینے کے لیے عوام کے درمیان رابطے بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس خط پر ہندوستان کے 61 اور پاکستان کے 56 لوگوں نے دستخط کیے ہیں۔ خط میں دونوں حکومتوں سے معمول کے حالات بحال کرنے کی سمت میں معنی خیز اقدامات کرنے کا اصرار کیا گیا ہے جس میں سفارتی تعلقات کی مکمل بحالی، دارالحکومت دہلی اور اسلام آباد میں ہائی کمشنروں کی دوبارہ تقرری اور دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے باقاعدہ ویزا خدمات پھر سے شروع کرنا شامل ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر سمیت تمام زیر التوا مسائل پر جامع دوطرفہ بات چیت پھر سے شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور 2004-2007 کے بات چیت کے فریم ورک پر پھر سے غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
خط میں کشیدگی کم کرنے، فوجی تعیناتی گھٹانے اور مسلسل بات چیت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، ساتھ ہی دونوں فریقوں کے “جائز سکیورٹی خدشات” کو بھی ذہن میں رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ طویل عرصے سے چلے آ رہے تناؤ کی وجہ سے لاکھوں لوگ بالخصوص نوجوان ترقی، خوشحالی اور محفوظ مستقبل کے مواقع سے محروم ہو رہے ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان مل کر دنیا کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں، اور یہاں کے لوگوں کا مستقبل بداعتمادی اور تصادم کے بجائے امن، کنیکٹیویٹی اور تعاون سے طے ہونا چاہیے۔ انہوں نے تجارت اور سفر کے لیے اٹاری-واگھہ سرحد پھر سے کھولنے، سرینگر-مظفرآباد بس سروس بحال کرنے اور سفر کا وقت اور خرچ کم کرنے کے لیے تجارتی پروازوں کے واسطے فضائی حدود کھول کر فضائی رابطے بڑھانے کا اصرار کیا ہے۔ انہوں نے کرتارپور صاحب راہداری کو پھر سے شروع کرنے اور پاکستان کی نیلم وادی میں شاردا پیٹھ تک رسائی آسان بنانے کے ساتھ ساتھ سرحد کے دونوں طرف مذہبی اور ثقافتی ورثے کے مقامات تک وسیع رسائی کی بھی اپیل کی ہے۔
خط پر دستخط کرنے والے ہندوستانیوں میں نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، پی ڈی پی صدر محترمہ محبوبہ مفتی، راجیہ سبھا ایم پی منوج جھا، کانگریس کے منی شنکر ائیر اور را کے سابق چیف اے ایس دلت شامل ہیں۔ پاکستان کی طرف سے دستخط کرنے والوں میں سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سفارت کار اشرف جہانگیر قاضی، نیشنل اسمبلی کے رکن اسفندیار بھنڈارا اور سائنسدان پرویز ہودبھائی شامل ہیں۔ ‘سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس’ کی جانب سے یہ پہل ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سرحد پار دہشت گردی اور پہلگام حملے جیسے حالیہ واقعات کی وجہ سے تناؤ بنا ہوا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو ملتوی کرنے کے ہندوستان کے فیصلے کے بعد پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات مزید بگڑ گئے۔
اسلام آباد میں انٹرنیشنل انڈس واٹرز ٹریٹی کانفرنس میں اظہارخیال کرتے ہوئے، پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مبینہ طور پر ہندوستان کو “1960 کے معاہدے کو کمزور کرنے کی کوششوں” کے خلاف وارننگ دی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مشترکہ دریاؤں کا استعمال کبھی بھی “ہتھیار کے طور پر نہیں کیا جانا چاہیے” اور انتباہ دیا کہ پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے والا کوئی بھی اقدام علاقائی امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ہندوستان کے اس موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہ سرحد پار دہشت گردی کے باعث پاکستان سے بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی، حکام نے دہرایا کہ معنی خیز بات چیت تبھی ممکن ہے جب ماحول دہشت گردی سے پاک ہو، پاکستان دہشت گردانہ ڈھانچے کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے اور ہندوستان کے سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے قابل اعتماد یقین دہانی کرائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان بات چیت کی حمایت تبھی کرتا ہے جب تحمل برتنے اور دہشت گردی سے پاک ماحول کے واضح ثبوت ہوں، جس سے مستحکم اور معنی خیز تعلقات قائم ہو سکیں۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، ضرورت پڑی تو پھر حملہ کریں گے: نیتن یاہو
تل ابیب، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل ایران پر دوبارہ حملہ کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔ گزشتہ روز اسرائیلی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ہم نے خود کو ایرانی ایٹمی بموں کے خطرے سے محفوظ بنایا ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان، پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) 18 جون سے نافذ العمل ہو چکی ہے۔
اس دستاویز پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکٹرانک دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تنازع کے خاتمے اور باقی ماندہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس میں جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کی بحالی اور وسیع تر علاقائی سلامتی سے متعلق امور شامل ہیں۔ اسرائیل متعدد مواقع پر تہران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی مخالفت کا اظہار کر چکا ہے اور ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان2 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا6 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا6 days agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
ہندوستان4 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا6 days agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں







































































































