تازہ ترین
بجٹ میں نیچرل فارمنگ اور ڈیجیٹل اگریکلچر پر زور دیا گیا:مودی

حیدرآباد۔5فروری(یو این آئی)وزیر اعظم نریندر مودی نے زراعت کے شعبہ کے تمام چیلنجس سے ملک کو باہر نکالنے کیلئے سائنسدانوں اور عوام کی مشترکہ مساعی پر زور دیا۔انہوں نے آج حیدرآباد کے نواحی علاقہ پٹن چیرو میں اکریساٹ کی 50 ویں یوم تاسیس تقریب کے موقع پر ایک لوگو اور یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔
اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے موسمی تبدیلیو ں کے مسائل اور ملک میں زراعت پر اس کے اثرات کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ موسمی تبدیلیوں سے ملک میں چھوٹے کسان سب سے زیادہ متاثر ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئے بجٹ میں موسمی تبدیلیوں کے مسائل کو اہمیت دی گئی ہے۔انہوں نے موسمی تحفظ کے اقدامات کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ اس بجٹ سے 80 فیصد چھوٹے کسانوں کو مدد ملے گی۔کیونکہ اس بجٹ میں نیچرل فارمنگ اور ڈیجیٹل اگریکلچر کو اہمیت دی گئی ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل اگریکلچرل ملک کا مستقبل ہے۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ عصری ٹکنالوجیز کے استعمال میں اہم رول ادا کریں اور انوکھی حکمت عملی اختیار کریں۔تاکہ کسانوں کے صرفہ میں کمی ہوسکے اور ہائی ٹیک زرعی خدمات کے ذریعہ پیداوار میں اضافہ ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ کروڑ روپے کے اگری انفرافنڈ سے ملک میں 35ملین ٹن کی گنجائش والے کولڈ اسٹوریجس کی تیاری میں مدد ملی ہے۔یہ کہتے ہوئے کہ ملک میں موجودہ طورپر 170 خشک سالی کے امکانی اضلاع ہیں انہوں نے کہا کہ بنیادی چیزوں پر توجہ دیتے ہوئے مستقبل کی سمت مارچ کی ضرورت ہے۔تاکہ ان علاقوں میں زراعت کے چیلنجس سے ابھر سکیں۔انہوں نے آئیل فیلڈ کی کاشت بالخصوص آئیل پام کی توسیع کیلئے درکار تمام ممکنہ مدد بھی کسانوں اور ریاستوں کو یقین دہانی کروائی۔
انہوں نے کہا کہ اکریساٹ جیسے بین الاقوامی ادارے کو بائیو فیول کی ریسرچ اور پیداوار میں اضافہ کیلئے زرعی یونیورسٹیوں کے ساتھ ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔یہ کہتے ہوئے کہ ہندوستان دنیا میں سب سے بڑا غذائی سلامتی کا پروگرام چلا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تغذیہ کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ہندوستان میں 15ایگرو موسمی زون ہے۔یہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور زراعت میں انہیں کافی پرانا تجربہ ہے۔اس تجربہ کو دستیاب کروانے کی ضرورت ہے جس کیلئے اکریساٹ کو اہم رول ادا کرنا چاہئے۔
دنیا
قطر میں منجمد 12ارب ڈالرز کے اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالرز جاری کیے جائیں گے: ایرانی صدر
تہران، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالرز کے اثاثے جَلد جاری کر دیے جائیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مجموعی طور پر 12 ارب ڈالرز کی رقوم میں سے آدھی رقم واپس ایران منتقل کی جائے گی۔
ایرانی صدر نے کہا ہے کہ یہ پیش رفت موجودہ مذاکرات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سامنے آ رہی ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ صورتِ حال مسلسل بدل رہی ہے اور معاملات پر پیش رفت جاری ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ایران کے کسی منجمد اثاثے کی حوالگی عمل میں نہیں آئی ہے۔
ادھر خلیجی علاقے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں ایران کی جانب سے بحرین اور کویت کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو مذاکرات مکمل طور پر روک دیے جائیں گے جس سے خطے میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے، جو کل دوحہ میں ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے مختصر بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جلی حرفوں میں لکھا ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے، یہ ملاقات کل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ گیس کی قیمتیں تیزی سے نیچے آرہی ہیں، خام تیل کی قیمتیں بھی نیچے آرہی ہیں، خام تیل کی موجودہ قیمت ایران جنگ سے پہلے کی قیمت سے بھی کم سطح پر ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
تازہ ترین
یاسین ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ، 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کیس میں نئی چارج شیٹ

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، یعنی جے کے ایل ایف، کے چیئرمین یاسین ملک کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ایک طرف وہ پہلے ہی نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، تو دوسری جانب اب 36 سال پرانے کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ قتل کیس میں بھی ان کے خلاف ایک نئی چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی، یعنی ایس آئی اے، نے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے یاسین ملک سمیت پانچ افراد کو سرلا بھٹ کے اغوا، تشدد اور قتل کی سازش میں ملوث قرار دیا ہے۔ ایس آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرلا بھٹ کا قتل کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ جے کے ایل ایف کی قیادت میں انجام دی گئی ایک منظم دہشت گردانہ سازش کا حصہ تھا۔
تحقیقات کے مطابق سرلا بھٹ، جو اس وقت شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی سکمز میں بطور نرس خدمات انجام دے رہی تھیں، 18 اپریل 1990 کو مبینہ طور پر اسپتال سے اغوا کی گئیں۔ ایس آئی اے کے مطابق انہیں سری نگر کے مالباغ اور عمر کالونی کے علاقے میں لے جایا گیا، جہاں ان پر مبینہ طور پر شدید جسمانی تشدد کیا گیا اور بعد ازاں خودکار ہتھیاروں سے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش پانچ روز بعد برآمد ہوئی، جس کے ساتھ ایک پرچی بھی ملی تھی جس میں انہیں مبینہ طور پر “مخبر” قرار دیا گیا تھا۔
چارج شیٹ میں یاسین ملک کے علاوہ خورشید احمد چلو، عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تین افراد عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی اور غلام محمد ٹپلو کی وفات ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چلو مفرور ہے اور ایس آئی اے کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود ہے۔ ایجنسی نے اس کے خلاف قانونی کارروائی اور اشتہاری کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔
ایس آئی اے نے اس مقدمے میں اغوا، قتل، مجرمانہ سازش، شواہد مٹانے، ٹاڈا ایکٹ اور آرمز ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس چارج شیٹ میں زبانی، دستاویزی، فرانزک، بیلسٹک، طبی اور الیکٹرانک شواہد شامل کیے گئے ہیں، جنہیں کئی دہائیوں پر محیط تحقیقات کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے اس پیش رفت کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چارج شیٹ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی سے متعلق جرائم میں وقت گزر جانا کسی بھی ملزم کے لیے قانونی تحفظ نہیں بن سکتا۔ پولیس کے مطابق چاہے کئی دہائیاں ہی کیوں نہ گزر جائیں، ایسے جرائم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
سرلا بھٹ اس وقت صرف 27 برس کی تھیں اور ان چند کشمیری پنڈت خاندانوں میں شامل تھیں جنہوں نے 1990 میں عسکریت پسندی کے آغاز کے باوجود وادی کشمیر نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا قتل بعد میں کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی اور نمایاں واقعات میں شمار کیا گیا۔
یاسین ملک اس وقت بھی کئی دیگر اہم مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مئی 2022 میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت، حکومت ہند کے خلاف سازش اور دیگر الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے دو مرتبہ عمر قید اور متعدد دیگر سزائیں سنائی تھیں۔ وہ 2019 سے تہاڑ جیل میں بند ہیں، جبکہ این آئی اے دہلی ہائی کورٹ میں ان کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل بھی کر چکی ہے، جس پر کارروائی جاری ہے۔
اس کے علاوہ یاسین ملک 1989 میں اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی صاحبزادی روبیہ سعید کے اغوا کے مقدمے اور 1990 میں بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے کے مقدمے میں بھی بطور ملزم نامزد ہیں۔
سرلا بھٹ قتل کیس میں 36 برس بعد دائر ہونے والی یہ چارج شیٹ ایک ایسے مقدمے میں اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے جو طویل عرصے سے انصاف کا منتظر تھا۔ اب تمام نظریں عدالت پر ہیں، جہاں اس مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور دلائل کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔
تازہ ترین1 week agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان6 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا1 week agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا1 week agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا5 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
تازہ ترین1 week agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر5 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا6 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
ہندوستان6 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا1 week agoامریکہ ایران مذاکرات میں مثبت پیش رفت: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی






































































































