تازہ ترین
جانئے : وادی کشمیر میں کس شعبے میں کتنا نقصان ان چار ماہ میں ہوا

خبراردوڈیسک:
وادی کشمیر میں ۵ اگست کے بعد سے غیر اعلانیہ ہڑتال سے تمام کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہونے کی وجہ سے ہرایک شعبے کو ہزاروں کا خسارہ ہوا ہے ۔
۵ اگست کے بعد سے ہوئے کاروباری نقصان پر کاروباری انجمن کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے ایک ابتدائی رپورٹ جاری کی گئی ہے ۔
اس رپورٹ میں ہر ایک شعبے میں ہوئے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر کے دس اضلاع میں کاروباری باری سرگرمیاں ٹھپ رہنے کی وجہ سے ۱۲۰ روز میں ۱۸ ہزار کروڑ کا نقصان ہوا ہے ۔
نقصان کا تعین کرنے کے لئے اس کاروباری انجمن نے دو طریقہ کار اپنائے ہیں ۔ جن میں پہلا مجموعی گھریلو پیداوار ۲۰۱۷۔ ۲۰۱۸ ، جو گزشتہ سال کے جموں کشمیر اقتصادی سروے پر مبنی ہے۔
اس کے مطابق بتایا گیا ہے وادی کشمیر جو کہ دس اضلاع پر مشتمل ہے اور کل آبادی کا ۵۵ فیصد حصہ ہے ۔ اور ۵ اگست کے بعد وادی کے مختلف کاروباری شعبے اور ان کے زیلی شعبوں میں معیشت کو 17,878.18 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔
اگر شعبہ جات کی بات کی جائے تو رپورٹ کے مطاب مطابق زراعت و باغبانی اور اسکے زیلی شعبہ جات میں 2827 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔
اسی طرح سے زندہ مال اور جنگلات وغیرہ کو1764 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے جبکہ پیداواری شعبے کو2466 کروڑ کا نقصان ہوا ہے ۔ اسی طرح سے دیگر شعبہ جات کی
انڈسٹریز میں تعمیری شعبے کے علاوہ کان کنی ، کھدائی ،بجلی گیس ، پانی اور دیگر ضروری سروسز کو 1629کروڑ کا خسارہ اٹھانا پڑا ۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ تجارت بشمول ہوٹل اور ریستوران کو 2615 کروڑ جبکہ ٹرانسپورٹ اور موصلات کو 2267کروڑ کا خسارہ ہوا ہے ۔
اسکے علاوہ مالی خدما ت کو ۱۱۸۴ کروڑ اور ریل اسٹیٹ کاروبار کو 3125 کروڑ کا نقصان ہوا ہے ۔
کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے نقصانات کا تخمینہ لگانے کےلئے دوسرا طریقہ کار بھی عملایا گیا ۔ اس میں چیمبر نے ہر ایک شعبے میں کام کررہے افراد کی تعداد کا بھی اندازہ لگایا ہے ۔
وہیں ہر دن کس شعبے میں کتنا نقصان ہوا ہے وہ بھی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے ۔اس میں چیمبر نے ہر شعبے کے ذیلی شعبوں کو ملا کر نقصانات کے اعدادوشمار مرتب کئے ہیں ۔
سب سے پہلے سیاحت کے شعبے کو دیکھے تو اسمیں ، ہوٹل ، ہوس بوٹ ، شکارہ و دیگر ذیلی شعبوں کو ملا کر کل نقصان ایک ہزار ۵۶ کروڑ سے زائد کا ہوا ہے ۔جبکہ ہر دن سیاحت میں ۸ کروڑ کا نقصان ہوا ہے ۔
دستکار ی کے شعبے کو ۷۲۰ کروڑ ۸۰ لاکھ کا نقصان ہوا ہے ، جبکہ ہر دن اس شعبے کو چھ کروڑ کا نقصان ہوا ہے ۔ اسکے بعد زراعت ، باغبانی ، ریشم اور پھولوں کے شعبے کو ۲ ہزار کروڑ کا نقصان ہوا ہے جبکہ ہر روز ان شعبوں کو ۱۶ کروڑ کا نقصان اٹھانا پرا ہے ۔
اسکے بعد صنعت یا انڈسٹریز کو ڈھائی ہزار کروڑ کا نقصان اٹھانا پڑا ہے ، جبکہ ہر روز اس صنعت کو اکیس کروڑ کا نقصان ہوا ہے ۔ جنرل تجارت کو تین ہزار کروڑ کا نقصا ن ہوا ہے جبکہ ہر روز اسے ۲۶ کروڑ کا نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔اسکے بعد ٹرانسپورٹ کو سولہ سوکروڑ کا خسارہ ہوا ہے جبکہ ہر روز اسے ۱۳ کروڑ کا نقصان ہوا ہے ۔
جبکہ مزید ٹھیکداروں اور دیگر تعمیرات اور پاور پروجیکٹوں وغیرہ کو بھی سو لہ سو کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے ۔
اسکے علاوہ ہیلتھ کیئر کو ۵۴ کروڑ ،سروس سیکٹر کو ۷۰۰ کروڑ تعلیمی شعبے کو ۴۸ کروڑ اور مالی شعبے کو ۸۰۰ کروڑ کا نقصان ہوا ہے ۔
کل ملا کر یہ نقصا ن چودہ ہزار کروڑ سے زائد بنتا ہے ۔
چار ماہ میں کشمیر میں ۵ لاکھ افراد کو روز گار سے ہاتھ دھونا پڑا
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کشمیر کے دس اضلاع میں ان ۱۲۰ روز میں ۵ لاکھ کے قریب نوکریاں چلی گئی ہیں ۔
ہر ایک شعبے کا ا عدادوشمار کے مطابق سیاحت میں ۷۴ ہزار لوگ بے روز گار ہو گئے ہیں جبکہ دستکاری میں ۷۰ ہزار بے روز گار ہو گئے ہیں ۔
اسی طرح سے زراعت و باغبانی میں ۲۰ ہزار ، ٹرانسپورٹ میں ۶۰ ہزار ، انڈسٹریز میں ۷۰ ہزار اور جنرل ٹریڈ میں ایک لاکھ ۲۰ ہزار افراد کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے ۔
اسکے علاوہ ٹھیکہ داری وغیرہ میں بیس ہزار ، میڈیکل اور ہیلتھ کیئر میں ۲۵ سو ، سروس سیکٹر میں ۶۶ ہزار اور مالی شعبے میں ایک ہزار افراد بے روز گار ہو گئے ہیں ۔
موجودہ غیر یقینی صورتحال اور دوسری جانب سے بے رور گار ہوتے نوجوانوں میں اب نفسیاتی امراض میں مبتلا ہونے میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے ۔
ہندوستان
ہندوستان اور پاکستان کے کئی سرکردہ شخصیات کی مودی اور شریف سے بات چیت اور سفارتی تعلقات بحال کرنے کی اپیل
نئی دہلی، ہندوستان اور پاکستان کے کئی سرکردہ شخصیات کے ایک گروپ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے “جنوبی ایشیا میں امن، معمول کے حالات، بات چیت اور تعاون بحال کرنے کی سمت میں معنی خیز اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔
دونوں ممالک کے 117 لوگوں کے دستخط والے اس مشترکہ خط میں سفارتی تعلقات بحال کرنے، منظم بات چیت، اعتماد کو مضبوط کرنے والے مسلسل اقدامات کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان عداوت کم کرنے اور امن کو فروغ دینے کے لیے عوام کے درمیان رابطے بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس خط پر ہندوستان کے 61 اور پاکستان کے 56 لوگوں نے دستخط کیے ہیں۔ خط میں دونوں حکومتوں سے معمول کے حالات بحال کرنے کی سمت میں معنی خیز اقدامات کرنے کا اصرار کیا گیا ہے جس میں سفارتی تعلقات کی مکمل بحالی، دارالحکومت دہلی اور اسلام آباد میں ہائی کمشنروں کی دوبارہ تقرری اور دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے باقاعدہ ویزا خدمات پھر سے شروع کرنا شامل ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر سمیت تمام زیر التوا مسائل پر جامع دوطرفہ بات چیت پھر سے شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور 2004-2007 کے بات چیت کے فریم ورک پر پھر سے غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
خط میں کشیدگی کم کرنے، فوجی تعیناتی گھٹانے اور مسلسل بات چیت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، ساتھ ہی دونوں فریقوں کے “جائز سکیورٹی خدشات” کو بھی ذہن میں رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ طویل عرصے سے چلے آ رہے تناؤ کی وجہ سے لاکھوں لوگ بالخصوص نوجوان ترقی، خوشحالی اور محفوظ مستقبل کے مواقع سے محروم ہو رہے ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان مل کر دنیا کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں، اور یہاں کے لوگوں کا مستقبل بداعتمادی اور تصادم کے بجائے امن، کنیکٹیویٹی اور تعاون سے طے ہونا چاہیے۔ انہوں نے تجارت اور سفر کے لیے اٹاری-واگھہ سرحد پھر سے کھولنے، سرینگر-مظفرآباد بس سروس بحال کرنے اور سفر کا وقت اور خرچ کم کرنے کے لیے تجارتی پروازوں کے واسطے فضائی حدود کھول کر فضائی رابطے بڑھانے کا اصرار کیا ہے۔ انہوں نے کرتارپور صاحب راہداری کو پھر سے شروع کرنے اور پاکستان کی نیلم وادی میں شاردا پیٹھ تک رسائی آسان بنانے کے ساتھ ساتھ سرحد کے دونوں طرف مذہبی اور ثقافتی ورثے کے مقامات تک وسیع رسائی کی بھی اپیل کی ہے۔
خط پر دستخط کرنے والے ہندوستانیوں میں نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، پی ڈی پی صدر محترمہ محبوبہ مفتی، راجیہ سبھا ایم پی منوج جھا، کانگریس کے منی شنکر ائیر اور را کے سابق چیف اے ایس دلت شامل ہیں۔ پاکستان کی طرف سے دستخط کرنے والوں میں سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سفارت کار اشرف جہانگیر قاضی، نیشنل اسمبلی کے رکن اسفندیار بھنڈارا اور سائنسدان پرویز ہودبھائی شامل ہیں۔ ‘سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس’ کی جانب سے یہ پہل ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سرحد پار دہشت گردی اور پہلگام حملے جیسے حالیہ واقعات کی وجہ سے تناؤ بنا ہوا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو ملتوی کرنے کے ہندوستان کے فیصلے کے بعد پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات مزید بگڑ گئے۔
اسلام آباد میں انٹرنیشنل انڈس واٹرز ٹریٹی کانفرنس میں اظہارخیال کرتے ہوئے، پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مبینہ طور پر ہندوستان کو “1960 کے معاہدے کو کمزور کرنے کی کوششوں” کے خلاف وارننگ دی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مشترکہ دریاؤں کا استعمال کبھی بھی “ہتھیار کے طور پر نہیں کیا جانا چاہیے” اور انتباہ دیا کہ پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے والا کوئی بھی اقدام علاقائی امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ہندوستان کے اس موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہ سرحد پار دہشت گردی کے باعث پاکستان سے بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی، حکام نے دہرایا کہ معنی خیز بات چیت تبھی ممکن ہے جب ماحول دہشت گردی سے پاک ہو، پاکستان دہشت گردانہ ڈھانچے کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے اور ہندوستان کے سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے قابل اعتماد یقین دہانی کرائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان بات چیت کی حمایت تبھی کرتا ہے جب تحمل برتنے اور دہشت گردی سے پاک ماحول کے واضح ثبوت ہوں، جس سے مستحکم اور معنی خیز تعلقات قائم ہو سکیں۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، ضرورت پڑی تو پھر حملہ کریں گے: نیتن یاہو
تل ابیب، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل ایران پر دوبارہ حملہ کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔ گزشتہ روز اسرائیلی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ہم نے خود کو ایرانی ایٹمی بموں کے خطرے سے محفوظ بنایا ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان، پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) 18 جون سے نافذ العمل ہو چکی ہے۔
اس دستاویز پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکٹرانک دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تنازع کے خاتمے اور باقی ماندہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس میں جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کی بحالی اور وسیع تر علاقائی سلامتی سے متعلق امور شامل ہیں۔ اسرائیل متعدد مواقع پر تہران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی مخالفت کا اظہار کر چکا ہے اور ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک ایران مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا: قالیباف
تہران، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک ایران مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے جاری موجودہ ملاقاتوں کا مقصد ایم او یو کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ لبنان،ایران،امریکہ، لبنان میں جنگ کے خاتمے کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کریں گے۔
اسپیکر باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز سے بغیر کسی لاگت کے گزرنے کی اجازت صرف 60 دن کے لیے ہوگی، ایران آبنائے ہرمز میں اپنے حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر خودمختاری ایران اور عمان کی ہے، آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت انہی انتظامات کے مطابق ہوگی جو ایران مقرر کرے گا۔
باقر قالیباف نے کہا کہ بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد سے ایران 40 ملین سے زائد بیرل تیل برآمد کر چکا ہے، اگر امریکہ ایران کو تیل فروخت کرنے سے روکنے کا ارادہ رکھتا ہے تو پھر کوئی بھی تیل سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اب اپنا تیل پہلے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان2 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا6 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا6 days agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
ہندوستان4 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
دنیا6 days agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت






































































































