جموں و کشمیر
جموں وکشمیر کے پولیس اسٹیشنوں کو جدید آلات و دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں:دلباغ سنگھ

سری نگر، جموں وکشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر کے کم از کم 43 پولیس اسٹیشنوں کو آپریشن کیپسٹی بلڈنگ کے تحت جدید آلات اور دیگر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں تاکہ باقی ماندہ ملی ٹنسی کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے تحت اب تک 21 پولیس اسٹیشنوں کو کور کیا گیا ہے۔
موصوف پولیس سربراہ نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے شیری علاقے میں منعقدہ ایک پاسنگ آئوٹ پریڈ سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘ہم نے آپریشن کیپسٹی بلڈنگ شروع کی ہے اور اس کے تحت 21 پولیس اسٹیشنوں کو مستحکم کرکے ان کو جدید آلات اور دیگر سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ باقی ماندہ دہشت گردی کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے’۔
ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے تحت مزید 22 پولیس اسٹیشنوں کو لایا جائے گا۔
گذشتہ تین دہائیوں کے دوران اپنی جانیں نچھاور کرنے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دلباغ سنگھ نے کہا کہ امسال 14 ہزار نئے پولیس اہلکاروں کو تربیت دی گئی جن میں سے 18 سو اہلکاروں کو کمانڈوز ٹریننگ اسکول میں تربیت دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ان کمانڈوز کو یونین ٹریٹری کے مختلف حصوں میں تعینات کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا: ‘اسی طرح 25 سو نئے پولیس اہلکاروں نے سائیبر کرائم ٹریننگ مکمل کی ہے جو ایک بہتر سماج کی تشکیل کے لئے اپنا رول نبھا رہے ہیں’۔
پولیس سربراہ نے کہا کہ کشمیر میں پر امن صورتحال کے باوجود چلینجز کا سامنا یے اور جموں وکشمیر پولیس تمام چلینجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پر عزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ روز قبل کشمیر پولیس سروس (کے پی ایس) کے 27 افسروں کو انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) میں شامل کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار کے پی ایس افسروں کی اتنی تعداد آئی پی ایس میں شامل ہوئی ہے۔
دلباغ سنگھ نے کہا کہ امسال پولیس کنبوں پر 62 کروڑ روپیے صرف کئے گئے جبکہ ایس پی اوز کو مزید سہولیات فراہم کرنے کے لئے مزید 2.25 کروڑ روپیے رکھے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے احکامات صادر کرکے 4 ہزار اہلکاروں کو ترقیاں دی گئیں۔
نئے پاس آئوٹس کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دو خواتین بٹالین بنائے جا رہے ہیں جبکہ آنے والے مہینوں کے دوران بارڈر گرڈ کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔
یو این آئی۔ ایم افضل۔ شا پ
جموں و کشمیر
جعلی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر نوکری پانے کے معاملے میں چار لوگوں کے خلاف چارج شیٹ
سرینگر، جموں و کشمیر پولیس کی اقتصادی جرائم کے ونگ (ای او ڈبلیو) نے جعلی تعلیمی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر محکمہ صحت میں سرکاری نوکری حاصل کرنے کے الزام میں چار لوگوں کے خلاف فردِ جرم داخل کی ہے۔ حکام نے جمعرات کو بتایا کہ بھرتی گھوٹالے کا انکشاف ہونے کے تقریباً 12 برس بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔ اقتصادی جرائم کے ونگ کے مطابق ملزمان کے خلاف رنبیر تعزیرات ہند (آر پی سی) کی دفعہ 420 (دھوکہ دہی)، 468 (جعل سازی) اور 471 (جعلی دستاویز کا استعمال) کے تحت فردِ جرم داخل کی گئی ہے۔
تحقیقاتی ایجنسی نے بتایا کہ یہ معاملہ ایک شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ چار امیدواروں نے سروس سلیکشن ریکروٹمنٹ بورڈ (ایس ایس آر بی) کے ذریعے محکمہ صحت میں مختلف عہدوں پر تقرری فرضی تعلیمی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر حاصل کی تھی۔ ای او ڈبلیو کے مطابق، دستاویزات کی تصدیق کے دوران ملزمان کی طرف سے پیش کردہ سرٹیفکیٹس جعلی پائے گئے اور انتخاب کے وقت فراہم کیے گئے ریکارڈ سے ان کا میل نہیں ہوا۔ اس کے بعد چاروں کی تقرریاں منسوخ کر دی گئیں۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان نے جعلی سرٹیفکیٹس کا استعمال کر کے دھوکہ دہی سے سرکاری نوکری حاصل کی اور متعلقہ حکام کو گمراہ کیا۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس نے امرناتھ یاترا کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا
سری نگر، کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس وی کے بردی نے شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر بدھ کو پہلگام میں سکیورٹی انتظامات کا جامع جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق آئی جی پی نے ضلع اننت ناگ میں یاترا کے راستے پر سکیورٹی انتظامات کا معائنہ کیا اور سکیورٹی گرڈ کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے یاترا کے آغاز سے قبل مضبوط تیاری، باہمی تال میل کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی تعیناتی پر زور دیا۔
اس دوران پولیس کے انسپکٹر جنرل نے ایکس رے اسکریننگ پوائنٹ کا بھی معائنہ کیا، جہاں انہوں نے یاتریوں اور ان کے سامان کی جانچ کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عقیدت مندوں کے لیے محفوظ اور سہل یاترا کو یقینی بنانے کی خاطر باریک بینی سے جانچ کرنے، تمام ایجنسیوں کے درمیان مؤثر رابطہ برقرار رکھنے اور معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت دی۔
مسٹر بردی نے ننوان بیس کیمپ کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے سکیورٹی کے مجموعی انتظامات، اہلکاروں کی تعیناتی، نگرانی کے نظام، داخلی کنٹرول کے اقدامات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے تعینات افسران اور جوانوں سے بات چیت کی اور یاترا کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے میں ان کی لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی ستائش کی۔
کثیر سطحی سکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے مسٹر بردی نے افسران کو ہائی الرٹ رہنے، مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل مضبوط کرنے اور تمام حفاظتی ضوابط پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے سالانہ یاترا کو پُرامن اور محفوظ انداز میں مکمل کرانے کے لیے فعال پولیسنگ، مسلسل نگرانی اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی پر زور دیا۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: سائبر فراڈ میں استعمال ہونے والے ‘میول اکاؤنٹس’ چلانے والوں کے خلاف مقدمہ درج
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے شمالی کشمیر کے سوپور سب ڈویژن میں سائبر ٹھگوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے میول اکاؤنٹس (رقوم کی غیر قانونی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والے بینک اکاؤنٹس) کے آپریشن اور فروغ میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی سائبر جرائم پیشہ عناصر کے مالیاتی نیٹ ورک کو توڑنے اور شہریوں کو آن لائن مالیاتی دھوکہ دہی سے محفوظ رکھنے کے لیے جاری مہم کا حصہ ہے۔پولیس نے بتایا کہ میول اکاؤنٹس ایسے بینک کھاتے ہوتے ہیں جو دانستہ یا نادانستہ طور پر سائبر مجرموں کے اختیار میں دے دیے جاتے ہیں، تاکہ مختلف آن لائن فراڈ کے ذریعے حاصل کی گئی رقوم کی منتقلی اور لین دین کو آسان بنایا جا سکے۔ ان جرائم میں سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی، ڈیجیٹل اریسٹ فراڈ، او ٹی پی فراڈ، یو پی آئی فراڈ، ملازمت کا جھانسہ دے کر لوٹ مار، فشنگ حملے اور دیگر سائبر جرائم شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے اکاؤنٹس کا استعمال دھوکہ بازوں کی شناخت چھپانے اور غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی رقوم کو مختلف کھاتوں میں منتقل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جس سے تفتیشی اداروں کے لیے اصل مجرموں تک پہنچنا دشوار ہو جاتا ہے۔
سوپور کے سائبر پولیس اسٹیشن نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر درج کر لی ہے، جبکہ تفتیشی افسران اس نیٹ ورک سے وابستہ تمام افراد کی شناخت اور فراڈ کے ذریعے حاصل کی گئی رقوم کے بہاؤ کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں۔
دریں اثنا، سوپور پولیس نے عوامی مفاد میں ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بینک اکاؤنٹ کسی دوسرے شخص کے استعمال کے لیے ہرگز نہ دیں، اور نہ ہی اے ٹی ایم کارڈ، چیک بک، انٹرنیٹ یا موبائل بینکنگ کی معلومات، یو پی آئی آئی ڈی، ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ، او ٹی پی، پن یا پاس ورڈ کسی کے ساتھ شیئر کریں۔
پولیس نے خبردار کیا ہے کہ جان بوجھ کر یا غفلت کے باعث اپنے بینک اکاؤنٹ یا ڈیجیٹل مالیاتی سہولت کو سائبر فراڈ کی رقوم وصول کرنے یا منتقل کرنے کے لیے استعمال ہونے دینا ایک سنگین جرم ہے، جس پر متعلقہ قانونی دفعات کے تحت فوجداری کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔پولیس نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ہر قسم کے مشتبہ مالیاتی لین دین یا سائبر دھوکہ دہی کی کوشش کی اطلاع فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا قومی سائبر کرائم ہیلپ لائن کو دیں، تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
یواین آئی ۔م ا ع
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان3 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا7 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا7 days agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
دنیا7 days agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت







































































































