جموں و کشمیر
جی ڈبیلو 13پروجیکٹ کی بدولت کشمیر کو سرمائی ایام میں معقول بجلی فراہم ہوگی :ایل جی منوج سنہا

سری نگر، جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعے کے روز کہاکہ جی ڈبیلو 13قابل تجدید توانائی پروجیکٹ کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کا مشکور ہوں۔
انہوں نے کہاکہ اس پروجیکٹ کو لہیہ ، آلسٹینگ سری نگر ٹرانسمیشن لائن سے بھی جوڑا جائے گا جس سے وادی کشمیر کو سردی کے ایام میں متواتر بجلی فراہم ہوگی ۔
ان کے مطابق یہ منصوبہ وادی کو بجلی کا متبادل ذریعہ پیش کرئے گا جس کے نتیجے میں سرمائی ایام کے دوران جموں وکشمیر کو بجلی کی معقول فراہمی یقینی بن جائے گی۔ان باتوں کا اظہار جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے راج بھون سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہاکہ حالیہ دنوں مرکزی حکومت نے لداخ کے لئے جی ڈبیلو 13قابل تجدید توانائی پروجیکٹ کو منظوری دی ہے اور اس پروجیکٹ کو لہیہ آلسٹینگ سری نگر لائن سے بھی جوڑا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے سے وادی کشمیر کو بھی بجلی فراہم ہوگی اور یہ کہ میں مرکزی حکومت خاص کر وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
منوج سنہا نے کہاکہ 13گیگا واٹ قابل تجدید توانائی پروجیکٹ سے ملک کے دیگر حصوں کے علاوہ جموں وکشمیر بھی مستفید ہوگا۔انہوں نے کہاکہ یوٹی انتظامیہ لوگوں کو بغیر خلل اور قابل بھروسہ بجلی کی فراہمی کے لئے پر عزم ہے۔
منوج سنہا نے مزید کہاکہ یہ باوقار منصوبہ چوبیس گھنٹے بجلی کی دستیابی کو یقینی بنائے گا۔ان کے مطابق لداخ سے کشمیر کو بجلی کی منتقلی سے جموں خطے میں بھی برقی رو کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔
ایل جی نے کہاکہ بجلی پیدا کرنے کے لئے ٹرانسمیشن لائن ہماچل پردیش اور پنجاب سے ہوتے ہوئے ہریانہ تک چلے گی جو نیشنل گرڈ کے ساتھ مربوط ہوگی اور لداخ کے موجودہ گرڈ اور کشمیر کے گاندربل ضلع میں 220کے وی آلسٹینگ گرڈ سے لہیہ ، آلسٹینگ سری نگر لائن کے ذریعے بجلی فراہم کرئے گی اور اس طرح سے وادی کشمیر کو بھی اس سے فائدہ ہوگا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ گاندربل ضلع میں آلسٹینگ گرڈ کو مزید 220کے وی زینہ کوٹ گرڈ سے جوڑا گیا ہے ، مزید براں 220کے وی میر بازار گرڈ کو آلسٹینگ گرڈ سے منسلک کیا جارہا ہے۔
کشمیر کے 220کے وی گرڈز کے ساتھ لداخ کے مجوزہ کنیکٹوٹی کو مد نطر رکھتے ہوئے یہ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ لداخ سے بجلی کی منتقلی پوری وادی کشمیر پر مثبت اثر ڈالے گی، خاص طور پر موسم سرما کے مہینوں میں بجلی کی دستیابی میں کافی بہتری آنے کی امیدہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جی ڈبیلو 13منصوبہ بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم سے لیس ہیں جو لدخ اور کشمیر کے درمیان بچھائے گئے ٹرانسمیشن سسٹم کی صلاحیت کی بنیاد پر جموں وکشمیر کو چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔انہوں نے کہاکہ اس منصوبے کی بدولت سردی کے ایام میں وولٹیج میں بھی بہتری واقع ہوگی ۔
منوج سنہا نے کہاکہ خط لداخ میں آر ای پروجیکٹ کم کاربن فوٹ پرنٹس کے ساتھ قابل تجدید توانائی فراہم کرے گا اور کشمیر ، لدخ خطوں میں سردی کے ایام میں بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھائے گا۔انہوں نے مزید کہاکہ موجودہ لہیہ آلسٹینگ سری نگر لائن کے ذریعے آر ای پاور کی دستیابی وادی میں ٹرانسمیشن سسٹم کو بھی بہتر بنائے گا۔انہوں نے کہاکہ یوٹی انتظامیہ نے لداخ سے کشمیر تک چار سو کے وی کی نئی ٹرانسمشین لائن بچھانے کی تجویز پیش کی ہے ۔
سردی کے ایام میں بجلی فراہم کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ایل جی منوج سنہا نے کہا کہ انتظامیہ نے سردیوں کے دوران مزید بجلی کی فراہم کی خاطر زمینی سطح پر کام شروع کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ برف ہٹانے کے لئے درکار سازو سامان بھی بہتر پوزیشن میں ہیں ۔ایل جی نے کہاکہ راشن ، ادویات اور دیگر ضروری سہولیات کی بلا تعطل فراہمی کو بھی یقینی بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ لداخ میں قابل تجدید توانائی کے لئے کافی گنجائش موجود ہے اور اسی وجہ سے گیگا واٹ پیمانے پر شمسی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت قائم کرنے کی خاطر ایک موزون جگہ ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے 15اگست 2020کو یوم آزادی کی تقریب کے دوران لداخ میں 7.5میگاواٹ سولر پارک قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
وسیع فیلڈ سروے کے بعد نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت نے بارہ جی ڈبیلو بیٹر ی انرجی سسٹم کے ساتھ جی ڈبیلو 13قابل تجدید توانائی پیدواری صلاحیت قائم کرنے کے لئے منصوبہ تیار کیا ہے۔
بجلی کی اس بڑی مقدار کو حاصل کرنے کی خاطر بین ریاستی ٹرانسمیشن انفرا سٹرکچر بنایا جارہا ہے
یہ منصوبہ ملک کی طویل مدتی توانائی کی حفاظت کو فروغ دینے اور کاربن فوٹ پرنٹ کو کم کرکے ماحولیاتی طور پر پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
لداخ کا خطہ بجلی اور دیگر متعلقہ شعبوں میں ہنر مند اور غیر ہنر مند اہلکاروں کے لیے براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے بڑے مواقع بھی پیدا کرے گا۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جعلی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر نوکری پانے کے معاملے میں چار لوگوں کے خلاف چارج شیٹ
سرینگر، جموں و کشمیر پولیس کی اقتصادی جرائم کے ونگ (ای او ڈبلیو) نے جعلی تعلیمی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر محکمہ صحت میں سرکاری نوکری حاصل کرنے کے الزام میں چار لوگوں کے خلاف فردِ جرم داخل کی ہے۔ حکام نے جمعرات کو بتایا کہ بھرتی گھوٹالے کا انکشاف ہونے کے تقریباً 12 برس بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔ اقتصادی جرائم کے ونگ کے مطابق ملزمان کے خلاف رنبیر تعزیرات ہند (آر پی سی) کی دفعہ 420 (دھوکہ دہی)، 468 (جعل سازی) اور 471 (جعلی دستاویز کا استعمال) کے تحت فردِ جرم داخل کی گئی ہے۔
تحقیقاتی ایجنسی نے بتایا کہ یہ معاملہ ایک شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ چار امیدواروں نے سروس سلیکشن ریکروٹمنٹ بورڈ (ایس ایس آر بی) کے ذریعے محکمہ صحت میں مختلف عہدوں پر تقرری فرضی تعلیمی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر حاصل کی تھی۔ ای او ڈبلیو کے مطابق، دستاویزات کی تصدیق کے دوران ملزمان کی طرف سے پیش کردہ سرٹیفکیٹس جعلی پائے گئے اور انتخاب کے وقت فراہم کیے گئے ریکارڈ سے ان کا میل نہیں ہوا۔ اس کے بعد چاروں کی تقرریاں منسوخ کر دی گئیں۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان نے جعلی سرٹیفکیٹس کا استعمال کر کے دھوکہ دہی سے سرکاری نوکری حاصل کی اور متعلقہ حکام کو گمراہ کیا۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس نے امرناتھ یاترا کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا
سری نگر، کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس وی کے بردی نے شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر بدھ کو پہلگام میں سکیورٹی انتظامات کا جامع جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق آئی جی پی نے ضلع اننت ناگ میں یاترا کے راستے پر سکیورٹی انتظامات کا معائنہ کیا اور سکیورٹی گرڈ کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے یاترا کے آغاز سے قبل مضبوط تیاری، باہمی تال میل کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی تعیناتی پر زور دیا۔
اس دوران پولیس کے انسپکٹر جنرل نے ایکس رے اسکریننگ پوائنٹ کا بھی معائنہ کیا، جہاں انہوں نے یاتریوں اور ان کے سامان کی جانچ کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عقیدت مندوں کے لیے محفوظ اور سہل یاترا کو یقینی بنانے کی خاطر باریک بینی سے جانچ کرنے، تمام ایجنسیوں کے درمیان مؤثر رابطہ برقرار رکھنے اور معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت دی۔
مسٹر بردی نے ننوان بیس کیمپ کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے سکیورٹی کے مجموعی انتظامات، اہلکاروں کی تعیناتی، نگرانی کے نظام، داخلی کنٹرول کے اقدامات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے تعینات افسران اور جوانوں سے بات چیت کی اور یاترا کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے میں ان کی لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی ستائش کی۔
کثیر سطحی سکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے مسٹر بردی نے افسران کو ہائی الرٹ رہنے، مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل مضبوط کرنے اور تمام حفاظتی ضوابط پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے سالانہ یاترا کو پُرامن اور محفوظ انداز میں مکمل کرانے کے لیے فعال پولیسنگ، مسلسل نگرانی اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی پر زور دیا۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: سائبر فراڈ میں استعمال ہونے والے ‘میول اکاؤنٹس’ چلانے والوں کے خلاف مقدمہ درج
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے شمالی کشمیر کے سوپور سب ڈویژن میں سائبر ٹھگوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے میول اکاؤنٹس (رقوم کی غیر قانونی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والے بینک اکاؤنٹس) کے آپریشن اور فروغ میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی سائبر جرائم پیشہ عناصر کے مالیاتی نیٹ ورک کو توڑنے اور شہریوں کو آن لائن مالیاتی دھوکہ دہی سے محفوظ رکھنے کے لیے جاری مہم کا حصہ ہے۔پولیس نے بتایا کہ میول اکاؤنٹس ایسے بینک کھاتے ہوتے ہیں جو دانستہ یا نادانستہ طور پر سائبر مجرموں کے اختیار میں دے دیے جاتے ہیں، تاکہ مختلف آن لائن فراڈ کے ذریعے حاصل کی گئی رقوم کی منتقلی اور لین دین کو آسان بنایا جا سکے۔ ان جرائم میں سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی، ڈیجیٹل اریسٹ فراڈ، او ٹی پی فراڈ، یو پی آئی فراڈ، ملازمت کا جھانسہ دے کر لوٹ مار، فشنگ حملے اور دیگر سائبر جرائم شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے اکاؤنٹس کا استعمال دھوکہ بازوں کی شناخت چھپانے اور غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی رقوم کو مختلف کھاتوں میں منتقل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جس سے تفتیشی اداروں کے لیے اصل مجرموں تک پہنچنا دشوار ہو جاتا ہے۔
سوپور کے سائبر پولیس اسٹیشن نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر درج کر لی ہے، جبکہ تفتیشی افسران اس نیٹ ورک سے وابستہ تمام افراد کی شناخت اور فراڈ کے ذریعے حاصل کی گئی رقوم کے بہاؤ کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں۔
دریں اثنا، سوپور پولیس نے عوامی مفاد میں ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بینک اکاؤنٹ کسی دوسرے شخص کے استعمال کے لیے ہرگز نہ دیں، اور نہ ہی اے ٹی ایم کارڈ، چیک بک، انٹرنیٹ یا موبائل بینکنگ کی معلومات، یو پی آئی آئی ڈی، ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ، او ٹی پی، پن یا پاس ورڈ کسی کے ساتھ شیئر کریں۔
پولیس نے خبردار کیا ہے کہ جان بوجھ کر یا غفلت کے باعث اپنے بینک اکاؤنٹ یا ڈیجیٹل مالیاتی سہولت کو سائبر فراڈ کی رقوم وصول کرنے یا منتقل کرنے کے لیے استعمال ہونے دینا ایک سنگین جرم ہے، جس پر متعلقہ قانونی دفعات کے تحت فوجداری کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔پولیس نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ہر قسم کے مشتبہ مالیاتی لین دین یا سائبر دھوکہ دہی کی کوشش کی اطلاع فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا قومی سائبر کرائم ہیلپ لائن کو دیں، تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
یواین آئی ۔م ا ع
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان3 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا7 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا7 days agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
دنیا7 days agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت







































































































