تازہ ترین
سال 2019ء میں کھیلوں کے میدان میں کھڑے ہونے والے بڑے تنازعات

خبراردو:
سال 2019ء اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی کھیلوں کی دنیا میں متعدد مقابلوں کا انعقاد ہوا۔ ان مقابلوں میں کوئی جیتا تو کوئی ہارا، کوئی رویا اور کوئی ہنسا۔
لیکن کھیل کے میدان میں ہار جیت کے بعد جس معاملے کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، اسے تنازعات کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ یہ ایسی خطرناک بلا کا نام ہے، جو بڑے بڑے ناموں کو زیرو کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھنے کے ساتھ ساتھ نتائج کو بدلنے کے حوالے سے بھی خوب شہرت رکھتی ہے۔
اس سال بھی یہ تنازعات کھیلوں کے شائقین اور منتظمین کے لیے دردِ سر بنے رہے۔ سال کے ان اختتامی دنوں میں ہم اپنے قارئین کی دلچسپی کے لیے رواں سال ہونے والے چند اہم تنازعات کا جائزہ پیش کررہے ہیں۔
کرکٹ کے عالمی کپ کا متنازع ترین فائنل
اس سال انگلینڈ میں مئی کے اواخر سے جولائی کے وسط تک ایک روزہ کرکٹ کا عالمی کپ منعقد ہوا۔ اس عالمی کپ میں جہاں متعدد دلچسپ اور سنسنی خیز میچ دیکھنے کو ملے وہیں بہت سے اہم مقابلے بارش سے متاثر ہوئے۔
عالمی کپ میں پہلا تنازع اس وقت پیدا ہوا جب بہت سے ناقدین نے ٹورنامنٹ کے تمام میچوں کے لیے اضافی دن نہ رکھنے پر اعتراض اٹھایا۔ اس کے ساتھ ساتھ خراب امپائرنگ نے بھی بہت زیادہ دکھ پہنچایا۔
اس عالمی کپ کا فائنل لارڈز کے تاریخی میدان پر انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا گیا۔ یہ فائنل اس اعتبار سے بھی دلچسپ تھا کہ جو ٹیم بھی جیتے گی وہ پہلی مرتبہ عالمی چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کرے گی۔
اس میچ میں نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 241 رنز جوڑے۔ بظاہر آسان نظر آنے والے ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کو ابتدائی طور پر مشکلات کا سامنا رہا۔ ایک موقع پر انگلینڈ کے 4 کھلاڑی صرف 86 رنز پر آؤٹ ہوگئے تھے، جس کے بعد بین اسٹوکس اور جوس بٹلز نے 110 رنز کی شراکت قائم کرکے اپنی ٹیم کی امید بڑھائی۔ آخری اوور میں انگلینڈ کو جیت کے لیے 15 رنز درکار تھے۔
نیوزی لینڈ کے کپتان نے یہ آخری اوور کرنے کی ذمہ داری ٹرینٹ بولٹ کو سونپی۔ اس اوور کی پہلی 2 گیندوں پر کوئی رن نہیں بنا۔ تیسری گیند کو بین اسٹوکس نے 6 رنز کے لیے باؤنڈری سے باہر پھینک کر میچ میں سنسنی پیدا کردی۔ چوتھی گیند پر بین اسٹوکس نے ایک زوردار شاٹ کھیلا اور 2 رنز حاصل کیے۔
بس یہی وہ لمحہ ہے، جس نے دنیا بھر کی نظریں اپنی جانب متوجہ کرلیں اور ایک بھرپور تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ ہوا کچھ یوں کہ جس وقت انہوں نے دوسرا رن مکمل کرنے کے لیے اپنی کریز میں ڈائیو لگائی ٹھیک اس وقت فیلڈر کی جانب سے پھینکی گئی گیند آکر ان کے بلے سے ٹکرائی اور پلک جھپکنے میں باؤنڈری سے باہر چلی گئی۔ یوں جس گیند پر صرف 2 رنز بننے تھے اس پر انگلینڈ کو 6 رنز مل گئے، اور اب بقیہ 2 گیندوں پر انگلینڈ کو جیت کے لیے 3 رنز درکار تھے لیکن وہ صرف 2 رنز ہی بناسکے اور میچ ٹائی ہوگیا۔
ٹورنامنٹ کے قانون کے مطابق فائنل کو فیصلہ کن بنانے کے لیے سپر اوور کھیلا گیا، مگر حیران کن طور پر سپر اوور بھی ٹائی ہوگیا۔ عام کرکٹ شائقین کو تو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ اب ہوگا کیا؟ لیکن اس صورتحال سے نکلنے کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا قانون موجود تھا، اور اسی عجیب و غریب قانون کی بنیاد پر انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا۔
قانون کچھ یہ تھا کہ جس ٹیم نے بھی ٹائی ہونے کی صورت میں میچ میں زیادہ باؤنڈریز اسکور کی ہوں گی، وہی ٹیم فاتح تصور ہوگی۔
پھر میچ ختم ہونے کے محض چند گھنٹے بعد ہی آئی سی سی کے ایلیٹ پینل سے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے امپائر سائمن ٹوفل نے اس وقت صورتحال کو مزید دلچسپ بنا دیا جب انہوں نے کرکٹ کے قوانین کی تشریح کرتے ہوئے یہ بات ثابت کردی کہ 50ویں اوور کی چوتھی گیند پر انگلیند کو اصل میں 5 رنز ملنے چاہیے تھے اور 6 رنز دے کر امپائر نے علطی کی۔
فائنل میچ کے اختتامی لمحات میں ہونے والے ان 2 واقعات نے انگلینڈ کی جیت کو متنازع بنادیا۔ یہ واقعات کرکٹ کا انتظام چلانے والے ادارے آئی سی سی کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ وہ اہم مقابلوں میں ایسے امپائر نامزد کریں جو قوانین کو صحیح طریقے سے سمجھتے ہوں۔
عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کی جانب سے روس پر پابندی
سال کا یہ آخری مہینہ روس کے لیے کوئی اچھا پیغام لے کر نہیں آیا۔ سوئٹزرلینڈ میں 9 دسمبر کو عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (WADA) کے ایک اہم اجلاس میں روس پر 4 سال کی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ یقینی طور پر روس کے لیے بڑا دھچکا ہے کیونکہ انہی 4 سالوں کے دوران یعنی اگلے سال ٹوکیو اولمپکس اور 2022ء میں قطر میں فیفا فٹ بال ورلڈ کپ کا انعقاد ہونا ہے، اور اس پابندی کی وجہ سے روس ان میں شرکت نہیں کرسکے گا۔
اس فیصلے کا مطلب یہ بھی ہے کہ روس اگلے 4 سال تک کسی بھی بین الاقوامی مقابلے کی میزبانی بھی نہیں کرسکے گا۔
اس فیصلے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ روس کی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی ممنوعہ ادویات کی روک تھام کے لیے عالمی ادارے سے تعاون نہیں کر رہی۔
روس کی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی پر عالمی ادارے کے احکامات نہ ماننے کا الزام عائد کرنے کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ روسی ادارے نے جنوری 2019ء میں عالمی ایجنسی کو جو ڈیٹا فراہم کیا تھا اس میں جان بوجھ کر تبدیلی کی گئی تھی۔
ماضی میں عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے ممنوعہ ادویات لینے کے الزام میں متعدد کھلاڑیوں پر تو پابندی عائد کی ہے، لیکن کسی ملک پر اس طرح کی پابندی کبھی نہیں لگائی گئی، اور اس اعتبار سے پابندی کا شکار ہونے والا روس پہلا ملک بن گیا ہے۔
وی اے آر ٹیکنالوجی سے متعلق تنازع
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے عالمی کپ اور تنازعات ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہوچکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر عالمی کپ میں ریفری کی غلطی سے ہونے والا تنازع اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ٹورنامنٹ اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہوچکا ہوتا ہے اور ایک غلطی کسی بھی ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر کرسکتی ہے۔
رواں سال فرانس میں خواتین کا عالمی فٹبال ورلڈ کپ کھیلا گیا۔ اس عالمی مقابلے میں انگلینڈ اور امریکا کے درمیان کھیلا جانے والا پہلا سیمی فائنل تنازعات کا شکار رہا۔
اس میچ میں امریکا نے 10ویں منٹ میں گول کرکے برتری حاصل کی، جسے 19ویں منٹ میں انگلینڈ نے برابر کردیا۔ کھیل کے 41ویں منٹ میں امریکا نے ایک اور گول کرکے اپنی برتری کو دوبارہ حاصل کرلیا۔
امریکا کی برتری کو ختم کرنے کے لیے انگلینڈ نے سر توڑ کوشش کی اور اسے اس محنت کا نتیجہ ٹھیک 26 منٹ بعد 67ویں منٹ میں اس وقت ملا جب انگلیند کی کھلاڑی ایلن وائٹ نے گیند کو جال میں پھینک دیا۔
اب بظاہر مقابلہ برابر ہوگیا تھا لیکن امریکا کے کھلاڑیوں نے وی اے آر (ویڈیو اسسٹنس ریفری) کے استعمال کی اپیل کی اور وی اے آر سے ثابت ہوا کہ انگلینڈ کی کھلاڑی کے پاؤں کا صرف انگوٹھا ہی آف سائیڈ پوزیشن میں تھا اور یوں اس ٹیکنالوجی کی مدد سے فیصلہ واپس لینا پڑگیا۔ لیکن یہ فیصلہ کسی بھی طور پر انگلینڈ کی کھلاڑیوں، آفیشلز اور کمنٹیٹرز کو ایک آنکھ نہ بھایا اور ان کے حمایتیوں نے بھی کھیل کے دوران اور میچ کے بعد اس فیصلے پر اپنی ناپسندیدگی کا کھل کر اظہار کیا۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ فٹبال کو تنازعات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہی وی اے آر ٹیکنالوجی کو متعارف کروایا گیا تھا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بڑھتی ٹیکنالوجی جس کسی کے بھی خلاف فیصلہ دے، وہ ناخوش ہی رہتا ہے، بلکہ اس کو ایک تنازع کی شکل دینا شروع کردیتا ہے۔
اب اس میچ میں مزے کی بات تو اس وقت ہوئی جب 80ویں منٹ میں اسی وی اے آر ٹیکنالوجی کے استعمال سے انگلینڈ کو پنالٹی کک ملی۔ اب تو لگ رہا تھا کہ انگلینڈ کی ساری شکایتیں دُور ہونے والی ہیں، مگر حیران کن طور پر انگلینڈ کی ٹیم میچ برابر کرنے کے اس سنہری موقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکی اور یوں امریکا نے یہ میچ جیت کر فائنل میں جگہ بنا لی۔
ویسے مجھے یقین ہے کہ اگر انگلینڈ کی ٹیم اس پنالٹی کک سے فائدہ اٹھا لیتی تو وی اے آر سے متعلق اس کی شکایت بہت حد تک کم ہوجاتی۔
لباس کی وجہ سے کھڑا ہونے والا تنازع
رواں سال آسٹریلوی ٹینس کھلاڑی نک کِرگیوس کو یو ایس اوپن کے دوران اس وقت ایک تنازع کا سامنا کرنا پڑا جب اس ٹورنامنٹ کے دوسرے راؤنڈ کے دوران ان کی جرسی کے کالر پر لکھے ہوئے الفاظ کی وجہ سے میچ ریفری نے انہیں کالر نیچے کرنے کا حکم دیا۔
نک کِرگیوس نے ریفری کے اس فیصلے کو چیلنج کیا اور سپروائزر کو ٹینس کے قوانین کی کتاب لانے کو کہا۔ نک کِرگیوس کو امپائر کے ساتھ اس بحث و مباحثے کا فائدہ یہ ہوا کہ ان کو ٹورنامنٹ کے اگلے راؤنڈ کے میچوں کے لیے اپنے کالر پر لکھے الفاظ چھپانے کی ممانعت سے آزادی مل گئی۔
جرسی کے کالر پر لکھے ہوئے الفاظ کی وجہ سے میچ ریفری نے نک کِرگیوس کو کالر نیچے کرنے کا حکم دیا—اے ایف پی|ٹوئٹر
نک کِرگیوس کو جو کوئی بھی جانتا ہے اسے معلوم ہے کہ وہ گرم مزاج کے کھلاڑی ہیں۔
ان کا وہ واقعہ بہت مشہور ہے جب انہوں نے ٹینس کی عالمی تنظیم ATP کو اس وقت نہایت کرپٹ قرار دیا جب ایک صحافی نے میچ ریفری سے بدتمیزی کرنے پر 1 لاکھ 67 ہزار امریکی ڈالرز کے جرمانے سے متعلق ان سے سوال پوچھا تھا۔
تاریخ میں شاید ہی ایسا کوئی سال گزرا ہو جس میں مختلف کھیلوں کے میدان تنازعات سے آزاد رہے ہوں۔
یہ درست ہے کہ کھلاڑی اپنے مداحوں کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں لیکن یہ کھلاڑی بھی جذبات رکھتے ہیں۔ جیت کے لیے سالہا سال تیاری کرتے ہیں لیکن بعض اوقات جب یہ اپنی محنت کو ضائع ہوتے دیکھتے ہیں تو جذبات میں آکر کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتے ہیں جو ان کے لیے اور ان کے ملک کے لیے بدنامی کا باعث بنتی ہے۔
ویسے تو کھیل کے میدان میں اور بھی کئی ایسے تنازعات ہوئے ہوں گے جن کا یہاں ذکر کرنا رہ گیا، مگر چونکہ یہ عالمی سطح کا معاملہ تھا، اس لیے سوچا کہ قارئین کے ساتھ اس کو شئیر کیا جائے۔بشکریہ ڈان
دنیا
قطر میں منجمد 12ارب ڈالرز کے اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالرز جاری کیے جائیں گے: ایرانی صدر
تہران، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالرز کے اثاثے جَلد جاری کر دیے جائیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مجموعی طور پر 12 ارب ڈالرز کی رقوم میں سے آدھی رقم واپس ایران منتقل کی جائے گی۔
ایرانی صدر نے کہا ہے کہ یہ پیش رفت موجودہ مذاکرات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سامنے آ رہی ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ صورتِ حال مسلسل بدل رہی ہے اور معاملات پر پیش رفت جاری ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ایران کے کسی منجمد اثاثے کی حوالگی عمل میں نہیں آئی ہے۔
ادھر خلیجی علاقے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں ایران کی جانب سے بحرین اور کویت کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو مذاکرات مکمل طور پر روک دیے جائیں گے جس سے خطے میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے، جو کل دوحہ میں ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے مختصر بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جلی حرفوں میں لکھا ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے، یہ ملاقات کل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ گیس کی قیمتیں تیزی سے نیچے آرہی ہیں، خام تیل کی قیمتیں بھی نیچے آرہی ہیں، خام تیل کی موجودہ قیمت ایران جنگ سے پہلے کی قیمت سے بھی کم سطح پر ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
تازہ ترین
یاسین ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ، 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کیس میں نئی چارج شیٹ

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، یعنی جے کے ایل ایف، کے چیئرمین یاسین ملک کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ایک طرف وہ پہلے ہی نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، تو دوسری جانب اب 36 سال پرانے کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ قتل کیس میں بھی ان کے خلاف ایک نئی چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی، یعنی ایس آئی اے، نے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے یاسین ملک سمیت پانچ افراد کو سرلا بھٹ کے اغوا، تشدد اور قتل کی سازش میں ملوث قرار دیا ہے۔ ایس آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرلا بھٹ کا قتل کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ جے کے ایل ایف کی قیادت میں انجام دی گئی ایک منظم دہشت گردانہ سازش کا حصہ تھا۔
تحقیقات کے مطابق سرلا بھٹ، جو اس وقت شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی سکمز میں بطور نرس خدمات انجام دے رہی تھیں، 18 اپریل 1990 کو مبینہ طور پر اسپتال سے اغوا کی گئیں۔ ایس آئی اے کے مطابق انہیں سری نگر کے مالباغ اور عمر کالونی کے علاقے میں لے جایا گیا، جہاں ان پر مبینہ طور پر شدید جسمانی تشدد کیا گیا اور بعد ازاں خودکار ہتھیاروں سے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش پانچ روز بعد برآمد ہوئی، جس کے ساتھ ایک پرچی بھی ملی تھی جس میں انہیں مبینہ طور پر “مخبر” قرار دیا گیا تھا۔
چارج شیٹ میں یاسین ملک کے علاوہ خورشید احمد چلو، عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تین افراد عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی اور غلام محمد ٹپلو کی وفات ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چلو مفرور ہے اور ایس آئی اے کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود ہے۔ ایجنسی نے اس کے خلاف قانونی کارروائی اور اشتہاری کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔
ایس آئی اے نے اس مقدمے میں اغوا، قتل، مجرمانہ سازش، شواہد مٹانے، ٹاڈا ایکٹ اور آرمز ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس چارج شیٹ میں زبانی، دستاویزی، فرانزک، بیلسٹک، طبی اور الیکٹرانک شواہد شامل کیے گئے ہیں، جنہیں کئی دہائیوں پر محیط تحقیقات کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے اس پیش رفت کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چارج شیٹ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی سے متعلق جرائم میں وقت گزر جانا کسی بھی ملزم کے لیے قانونی تحفظ نہیں بن سکتا۔ پولیس کے مطابق چاہے کئی دہائیاں ہی کیوں نہ گزر جائیں، ایسے جرائم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
سرلا بھٹ اس وقت صرف 27 برس کی تھیں اور ان چند کشمیری پنڈت خاندانوں میں شامل تھیں جنہوں نے 1990 میں عسکریت پسندی کے آغاز کے باوجود وادی کشمیر نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا قتل بعد میں کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی اور نمایاں واقعات میں شمار کیا گیا۔
یاسین ملک اس وقت بھی کئی دیگر اہم مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مئی 2022 میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت، حکومت ہند کے خلاف سازش اور دیگر الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے دو مرتبہ عمر قید اور متعدد دیگر سزائیں سنائی تھیں۔ وہ 2019 سے تہاڑ جیل میں بند ہیں، جبکہ این آئی اے دہلی ہائی کورٹ میں ان کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل بھی کر چکی ہے، جس پر کارروائی جاری ہے۔
اس کے علاوہ یاسین ملک 1989 میں اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی صاحبزادی روبیہ سعید کے اغوا کے مقدمے اور 1990 میں بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے کے مقدمے میں بھی بطور ملزم نامزد ہیں۔
سرلا بھٹ قتل کیس میں 36 برس بعد دائر ہونے والی یہ چارج شیٹ ایک ایسے مقدمے میں اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے جو طویل عرصے سے انصاف کا منتظر تھا۔ اب تمام نظریں عدالت پر ہیں، جہاں اس مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور دلائل کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔
تازہ ترین1 week agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان5 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا1 week agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا1 week agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا4 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
تازہ ترین1 week agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
ہندوستان5 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر5 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا6 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا1 week agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف






































































































