تازہ ترین
سفری تفصیلات چھپانا،انسانی جانوں سے کھلواڑ

ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ کی اہلیہ ڈاکٹر بلقیس شاہ نے کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر لوگوں کو گھروں میں ہی بیٹھنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب میرے شوہر زندگی کے33 برس جیل میں گذار سکتے ہیں تو لوگ 33 دنوں تک گھروں میں کیوں نہیں بیٹھ سکتے۔ان باتوں کا اظہار ڈاکٹر بلقیس نے کشمیر نیوز سروس کے مدیر اعلیٰ محمد اسلم بٹ کے سات فون پر کیا۔
انہوں نے کہاکہ لوگ گھروں میں بیٹھ کر اپنی ہی نہیں بلکہ ملین لوگوں کی زندگیاں بچا سکتے ہیں۔ڈاکٹر بلقیس جواہر لال نہرو میموریل ہسپتال ر عنا واری سری نگر میں ریذیڈنٹ میڈیکل افسر کے بطور تعینات ہیں اور وہاں قائم قرنطینہ سینٹر میں زیر نگرانی مریضوں کی خدمت میں اپنے صحت کی پرواہ کئے بغیر دن رات مصروف عمل ہیں۔
انہوں نے اپنا گھر پریوار چھوڑ کر قرنطینہ میں زیر نگران مریضوں کی خدمت میں اپنی صحت کی پرواہ کئے بغیر اپنی کام انجام دے رہی ہے۔انہوں نے کہا جب سے اس وائرس وباء کا سلسلہ شروع ہوا ہے تب سے میں نے گھر کا دروازہ بھی نہیں دیکھا۔انہوں نے اپنی پریوار کی بات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میرے شوہر جیل میں ہے اور بڑی بیٹی ریاست سے باہر ہے گھر پر چھوٹی بیٹی اکیلی ہے میں نے بھی اپنا گھر بار چھوڑا اپنا پریوار چھوڑا تاکہ ہم اس وبا ء کو قابو میں کرکے ان افراد کی اچھی طرح سے جانچ کرسکے جو ریاست کے باہر آئے ہیں اور ہم اسی کوشش میں ہے کہ ان کو الگ الگ کر کے یہ پتہ چل سکے کہ کون منفی ہے کون مثبت ہے اس کی جانچ کرکے جن افراد کا ٹسٹ منفی ہے ان کو واپس اپنے گھر بیجتے لیکن ستم ظریفی اس بات کی ہے کہ جو مریض قرنطینہ میں زیر نگرانی ہے وہاں گھر جانے کی جلد ی میں ہوتے ہیں کہیں لوگ فون کررہے ہیں اب ہمیں یہ نہیں ہے وہ نہیں ہے انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ گھروں میں رہے احتیاط برتے کیونکہ یہ وائرس نہ چھوٹا دیکھتا ہے نہ بڑا جو اسکی لپیٹ میں آتا ہے وہ آتا ہے۔
انہوں نے لابازار کے مثبت تین بچوں جو کہ ایک تیسری جماعت میں ہے دوسرا ساتویں جماعت کا تیسرا۔نویں جماعت کا ہے جن کا ٹسٹ مثبت آیا وجہ ہے ان کا باپ کلکتہ سے آیا تھا اور اپنی ٹرویل ہسٹری چھپائی تھی اور اس کی لاپروائی کی وجہ سے ان کے تین بچوں کا ٹسٹ مثبت آیا کیوں لوگ گھروں میں نہیں بیٹھ سکتے اگر لوگ گھروں میں ہی بیٹھے اس وباء سے بچنے کے لئے سخت سے سخت احتیاط کرے تو شاید اس کوئی اچھی صورت سامنے آسکتی ہے انہوں کہا بس ضروت اس بات کی ہے کہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے باہر جانے کوشش ہی نہ کرے تاکہ اس وباء سے لڑھا جاسکے۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کو امید ہے کہ ایران-امریکہ امن معاہدے کو کوئی سبوتاژ نہیں کرے گا۔
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز امید ظاہر کی کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے عبوری امن معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے کوئی بھی فریق ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے امن عمل متاثر ہو۔
سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ معاہدے کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں اور حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے دنیا کو مزید پیش رفت کا انتظار کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’نہ آپ جانتے ہیں اور نہ میں کہ اس امن معاہدے میں کیا شامل ہے۔ فی الحال امریکہ، ایران اور پاکستان کو کسی حد تک اس کی معلومات ہوں گی۔ ہمیں جمعہ تک انتظار کرنا ہوگا۔‘‘
انہوں نے مزید کہاکہ ’’جمعہ تک ہم امید کرتے ہیں کہ کوئی بھی اس امن معاہدے کو توڑنے کی کوشش نہیں کرے گا، لیکن ہماری خواہش ہے کہ یہ جنگ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ خطے میں معمولاتِ زندگی بحال ہوں گے، جن میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کا دوبارہ کھلنا بھی شامل ہے، جو خلیجی کشیدگی کے باعث متاثر ہونے والا دنیا کا ایک اہم تیل بردار بحری راستہ ہے۔
عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ ایران کو اس جنگ کے دوران شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے اور بمباری سے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ایران کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ بمباری میں اس کے اثاثے تباہ ہوئے۔ ان کی کوئی غلطی نہیں تھی۔ انہوں نے جنگ شروع نہیں کی تھی بلکہ جنگ ان پر مسلط کی گئی تھی۔ ہمیں امید ہے کہ انہیں جو معاوضہ ملنا چاہیے، اس کا ذکر بھی کہیں نہ کہیں اس معاہدے میں ہوگا۔‘‘
دریں اثنا، رکن پارلیمنٹ اور نیشنل کانفرنس کے ناراض رہنما روح اللہ مہدی نے کہا کہ ایران کے عوام نے ہمیشہ مزاحمتی تحریکوں کی حمایت کی ہے اور جسے انہوں نے خطے میں ’’امریکہ-اسرائیل بالادستی‘‘ قرار دیا، اس کے سامنے جھکنے سے انکار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران طویل عرصے سے دباؤ اور تنازعات کا سامنا کرنے کے باوجود اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
ایران کو محدود سطح پر یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت ہو گی: ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ نئے معاہدے کے تحت ایران کو صرف محدود سطح پر یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت ہو گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران انتہائی محدود سطح پر یورینیئم افزودہ کر سکتا ہے، جسے فوجی مقاصد کے لیے بالکل استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یورینیئم افزودگی کی یہ حد سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور کے جوہری معاہدے میں مقرر کردہ 3.67 فیصد افزودگی کے برابر ہی ہو گی؟ امریکی صدر نے اس سوال کے جواب میں واضح شرح بتانے کے بجائے کہا کہ ایران صرف پرامن مقاصد کے لیے یورینیئم افزودہ کر سکے گا۔
واضح رہے کہ معاہدے کا اعلان کرنے سے کچھ دیر پہلے ایک امریکی اہلکار نے کہا تھا کہ اس نئے معاہدے کے تحت ایران کا جوہری پروگرام ختم کر دیا جائے گا اور انتہائی افزودہ یورینیئم کو ختم کر دیا جائے گا، لیکن فی الحال اس بات کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
’امریکہ ایران معاہدہ نیتن یاہو کی ذاتی شکست ہے‘: اسرائیلی تجزیہ کار کا دعویٰ
تل ابیب، معروف اسرائیلی سیاسی تجزیہ کار گیڈون لیوی نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو اسرائیل اور بالخصوص اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی ’ذاتی شکست‘ قرار دیا ہے۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے گیڈون لیوی نے کہا کہ ایران کا معاملہ نیتن یاہو کا ’زندگی بھر کا منصوبہ‘ رہا ہے، تاہم موجودہ معاہدے میں اسرائیل کو مذاکراتی عمل سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا، جس کے باعث تل ابیب کے پاس صرف تخریبی کارروائیوں کا راستہ بچا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اتوار کو بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی حملے اسی نوعیت کی کوششوں کا حصہ تھے، ان کارروائیوں کے باوجود اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ اس پورے عمل میں اسرائیل کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اسرائیلی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ اصل امتحان ابھی باقی ہے اور یہ دیکھنا ہو گا کہ امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل کو کس حد تک قابو میں رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں، کیونکہ نیتن یاہو ایسے کسی بھی جنگ بندی معاہدے کو ناکام بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں جو اسرائیل کے بنیادی اہداف پورے نہ کرے۔ گیڈون لیوی نے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ اب بھی انتہائی نازک مرحلے میں ہے اور اس کی کامیابی کا سب سے بڑا امتحان لبنان کی صورتِ حال ہو گی۔ ان کے مطابق ایران لبنان کی صورتِ حال کو معاہدے کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب رہا ہے، جبکہ اسرائیلی فوج کی لبنان میں موجودگی جنگ بندی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔
گیڈون لیوی نے کہا کہ جب تک اسرائیلی افواج لبنان میں موجود رہیں گی اور ان کا انخلاء کا کوئی ارادہ نہیں ہو گا، تب تک مکمل جنگ بندی کا قیام مشکل دکھائی دیتا ہے کیونکہ اسرائیلی موجودگی کے خلاف مزاحمت جاری رہنے کا امکان موجود ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان1 week agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
دنیا1 week agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
دنیا4 days agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
جموں و کشمیر1 week agoکریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار
دنیا5 days agoجے ڈی وینس بھی ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا بیان ماننے پر تیار نہیں
دنیا4 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoایران کے خلاف یکطرفہ فوجی کارروائی میں امریکہ شریک نہیں ہوگا: ٹرمپ کا نیتن یاہو کو دوٹوک پیغام
دنیا1 week agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
دنیا6 days agoامریکی فوج کا اپاچی ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ
دنیا1 week agoدشمن کو پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دینے کیلئے تیار ہیں: ترجمان ایرانی نیشنل سکیورٹی کمیشن
دنیا6 days agoاسرائیل کے موقف سے قطع نظر امریکہ ایران جوہری معاہدے پر آگے بڑھے گا: وینس
دنیا5 days agoپاکستان کا افغانستان پر حملہ، 11 بچوں سمیت 13 افراد ہلاک





































































































