تازہ ترین
سپورٹس نوجوانوں کو نشے سے باز رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے: پدم شری انعام یافتہ مارشل آرٹس کوچ فیصل علی

سری نگر، (یو این آئی) : سپورٹس نوجوانوں کو نشے کی لت میں پڑنے سے باز رکھنے کی صلاحیت وقدرت رکھتا ہے۔یہ کہنا ہے شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے مارشل آرٹس کوچ فیصل علی ڈار کا جنہیں ملک کے 73 ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر کھیل میں نمایاں خدمات انجام دینے کے اعزاز میں پدم شری ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔
انہوں نے یو این آئی کے ساتھ گفتگو میں کہا: ’میں نے نشے کی لت میں پڑنے والے 47 نوجوانوں کو سپورٹس کی طرف راغب کرکے ان کی زندگیوں کو بھی بچایا اور ان کے اہلخانہ کے عزت نفس کو بھی بحال رکھا جس پر مجھے ایک قومی ایوارڈ سے نوازا گیا‘۔ان کا کہنا تھا: ’جب نوجوانوں کو سپورٹس کی تربیت میں لگایا جائے گا تو انہیں خرافاتی چیزوں کی طرف راغب ہونے کی کبھی فرصت ہی نہیں ملے گی‘۔
موصوف کوچ نے کہا کہ میں نے مارشل ا?رٹس کھیلنے کا سفر سال2003 میں شروع کیا اس وقت یہاں مارشل آرٹس کی طرف لوگوں کا کوئی رجحان نہیں تھا۔انہوں نے کہا: ’سال 2010 میں مجھے ایشین چمپئین شپ میڈل سے نوازا گیا لیکن اس کے بعد بھی یہاں مارشل آرٹس کی طرف لوگ راغب نہیں ہوئے‘۔ان کا کہنا تھا:‘بعد ازاں میں نے علی سپورٹس اکیڈیمی کے نام سے اپنی ایک اکیڈیمی شروع کی تاکہ چھوٹے بچوں کو مارشل آرٹس کی تربیت کر سکوں‘۔
فیصل احمد نے کہا کہ اس وقت یونین ٹریٹری کے مختلف اضلاع میں میرے 17 یونٹ چل رہے ہیں جن سے اب تک آٹھ بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی جبکہ سینکڑوں قومی سطح کے کھلاڑی نکلے ہیں۔انہوں نے والدین سے تاکید کی کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کود میں حصہ لینے کی بھی حوصلہ افزائی کریں۔
ان کا کہنا تھا: ’یہاں ابھی بھی کھیل کود کو عزت کی نگاہوں سے نہیں دیکھا جاتا ہے بلکہ بعض والدین سمجھتے ہیں کہ یہ وقت ضائع کرنے کے برابر ہے‘۔پدم شری ایوارڈ یافتہ کوچ نے کہا کہ جس طرح والدین بچے کو ٹیویشن کے لئے فیس دیتے ہیں اسی طرح انہیں سپورٹس کی تربیت حاصل کرنے کے لئے بھی اپنے بچوں کو فیس دینا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ سپورٹس اکیڈیمی میں پہلے ہی سال چمپئین بن جائے جو ممکن نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بچے کھیل کود میں بھی نمایاں کار کردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر انہیں بھر پور موقع دیا جائے تو وہ اس میں بھی اپنا، اپنے والدین اور وطن کا نام روشن کر سکتے ہیں۔
حکومت کی طرف سے جاری کی جانے والی سپورٹس پالیسی کی سراہنا کرتے ہوئے فیصل احمد نے کہا کہ اس پالیسی سے جموں وکشمیر میں سپورٹس کا شعبہ مزید بہتر ہو سکتا ہے۔نوجوانوں کے نام اپنے پیغام میں انہوں نے کہا: ’ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ کھیل کود میں بھی دلچسپی لیں اور اپنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کریں اس سے نہ صرف وہ اپنا نام روشن کر سکتے ہیں بلکہ وہ اپنا روز گار بھی حاصل کرسکتے ہیں۔
جموں و کشمیر
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس نے امرناتھ یاترا کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا
سری نگر، کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس وی کے بردی نے شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر بدھ کو پہلگام میں سکیورٹی انتظامات کا جامع جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق آئی جی پی نے ضلع اننت ناگ میں یاترا کے راستے پر سکیورٹی انتظامات کا معائنہ کیا اور سکیورٹی گرڈ کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے یاترا کے آغاز سے قبل مضبوط تیاری، باہمی تال میل کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی تعیناتی پر زور دیا۔
اس دوران پولیس کے انسپکٹر جنرل نے ایکس رے اسکریننگ پوائنٹ کا بھی معائنہ کیا، جہاں انہوں نے یاتریوں اور ان کے سامان کی جانچ کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عقیدت مندوں کے لیے محفوظ اور سہل یاترا کو یقینی بنانے کی خاطر باریک بینی سے جانچ کرنے، تمام ایجنسیوں کے درمیان مؤثر رابطہ برقرار رکھنے اور معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت دی۔
مسٹر بردی نے ننوان بیس کیمپ کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے سکیورٹی کے مجموعی انتظامات، اہلکاروں کی تعیناتی، نگرانی کے نظام، داخلی کنٹرول کے اقدامات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے تعینات افسران اور جوانوں سے بات چیت کی اور یاترا کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے میں ان کی لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی ستائش کی۔
کثیر سطحی سکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے مسٹر بردی نے افسران کو ہائی الرٹ رہنے، مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل مضبوط کرنے اور تمام حفاظتی ضوابط پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے سالانہ یاترا کو پُرامن اور محفوظ انداز میں مکمل کرانے کے لیے فعال پولیسنگ، مسلسل نگرانی اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی پر زور دیا۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
ہندوستان اور پاکستان کے کئی سرکردہ شخصیات کی مودی اور شریف سے بات چیت اور سفارتی تعلقات بحال کرنے کی اپیل
نئی دہلی، ہندوستان اور پاکستان کے کئی سرکردہ شخصیات کے ایک گروپ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے “جنوبی ایشیا میں امن، معمول کے حالات، بات چیت اور تعاون بحال کرنے کی سمت میں معنی خیز اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔
دونوں ممالک کے 117 لوگوں کے دستخط والے اس مشترکہ خط میں سفارتی تعلقات بحال کرنے، منظم بات چیت، اعتماد کو مضبوط کرنے والے مسلسل اقدامات کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان عداوت کم کرنے اور امن کو فروغ دینے کے لیے عوام کے درمیان رابطے بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس خط پر ہندوستان کے 61 اور پاکستان کے 56 لوگوں نے دستخط کیے ہیں۔ خط میں دونوں حکومتوں سے معمول کے حالات بحال کرنے کی سمت میں معنی خیز اقدامات کرنے کا اصرار کیا گیا ہے جس میں سفارتی تعلقات کی مکمل بحالی، دارالحکومت دہلی اور اسلام آباد میں ہائی کمشنروں کی دوبارہ تقرری اور دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے باقاعدہ ویزا خدمات پھر سے شروع کرنا شامل ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر سمیت تمام زیر التوا مسائل پر جامع دوطرفہ بات چیت پھر سے شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور 2004-2007 کے بات چیت کے فریم ورک پر پھر سے غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
خط میں کشیدگی کم کرنے، فوجی تعیناتی گھٹانے اور مسلسل بات چیت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، ساتھ ہی دونوں فریقوں کے “جائز سکیورٹی خدشات” کو بھی ذہن میں رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ طویل عرصے سے چلے آ رہے تناؤ کی وجہ سے لاکھوں لوگ بالخصوص نوجوان ترقی، خوشحالی اور محفوظ مستقبل کے مواقع سے محروم ہو رہے ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان مل کر دنیا کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں، اور یہاں کے لوگوں کا مستقبل بداعتمادی اور تصادم کے بجائے امن، کنیکٹیویٹی اور تعاون سے طے ہونا چاہیے۔ انہوں نے تجارت اور سفر کے لیے اٹاری-واگھہ سرحد پھر سے کھولنے، سرینگر-مظفرآباد بس سروس بحال کرنے اور سفر کا وقت اور خرچ کم کرنے کے لیے تجارتی پروازوں کے واسطے فضائی حدود کھول کر فضائی رابطے بڑھانے کا اصرار کیا ہے۔ انہوں نے کرتارپور صاحب راہداری کو پھر سے شروع کرنے اور پاکستان کی نیلم وادی میں شاردا پیٹھ تک رسائی آسان بنانے کے ساتھ ساتھ سرحد کے دونوں طرف مذہبی اور ثقافتی ورثے کے مقامات تک وسیع رسائی کی بھی اپیل کی ہے۔
خط پر دستخط کرنے والے ہندوستانیوں میں نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، پی ڈی پی صدر محترمہ محبوبہ مفتی، راجیہ سبھا ایم پی منوج جھا، کانگریس کے منی شنکر ائیر اور را کے سابق چیف اے ایس دلت شامل ہیں۔ پاکستان کی طرف سے دستخط کرنے والوں میں سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سفارت کار اشرف جہانگیر قاضی، نیشنل اسمبلی کے رکن اسفندیار بھنڈارا اور سائنسدان پرویز ہودبھائی شامل ہیں۔ ‘سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس’ کی جانب سے یہ پہل ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سرحد پار دہشت گردی اور پہلگام حملے جیسے حالیہ واقعات کی وجہ سے تناؤ بنا ہوا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو ملتوی کرنے کے ہندوستان کے فیصلے کے بعد پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات مزید بگڑ گئے۔
اسلام آباد میں انٹرنیشنل انڈس واٹرز ٹریٹی کانفرنس میں اظہارخیال کرتے ہوئے، پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مبینہ طور پر ہندوستان کو “1960 کے معاہدے کو کمزور کرنے کی کوششوں” کے خلاف وارننگ دی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مشترکہ دریاؤں کا استعمال کبھی بھی “ہتھیار کے طور پر نہیں کیا جانا چاہیے” اور انتباہ دیا کہ پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے والا کوئی بھی اقدام علاقائی امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ہندوستان کے اس موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہ سرحد پار دہشت گردی کے باعث پاکستان سے بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی، حکام نے دہرایا کہ معنی خیز بات چیت تبھی ممکن ہے جب ماحول دہشت گردی سے پاک ہو، پاکستان دہشت گردانہ ڈھانچے کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے اور ہندوستان کے سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے قابل اعتماد یقین دہانی کرائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان بات چیت کی حمایت تبھی کرتا ہے جب تحمل برتنے اور دہشت گردی سے پاک ماحول کے واضح ثبوت ہوں، جس سے مستحکم اور معنی خیز تعلقات قائم ہو سکیں۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، ضرورت پڑی تو پھر حملہ کریں گے: نیتن یاہو
تل ابیب، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل ایران پر دوبارہ حملہ کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔ گزشتہ روز اسرائیلی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ہم نے خود کو ایرانی ایٹمی بموں کے خطرے سے محفوظ بنایا ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان، پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) 18 جون سے نافذ العمل ہو چکی ہے۔
اس دستاویز پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکٹرانک دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تنازع کے خاتمے اور باقی ماندہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس میں جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کی بحالی اور وسیع تر علاقائی سلامتی سے متعلق امور شامل ہیں۔ اسرائیل متعدد مواقع پر تہران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی مخالفت کا اظہار کر چکا ہے اور ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان3 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا7 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر5 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا6 days agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
ہندوستان4 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
دنیا6 days agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت







































































































