تازہ ترین
عالمگیر وبا سے کب تک ملے گی نجات؟

سنگاپور یونیورسیٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ ڈیزائن کے تحقیق کاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا سے کورونا وائرس 9 دسمبر تک ختم ہو جائے گا۔مذکورہ تحقیقی ادارے کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق ہندوستان سے26جولائی تک اور پاکستان سے8جون تک کورونا وائرس ختم ہوگا۔کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق دنیا بھر کے ملکوں میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ اب تک 2 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے جبکہ 30 لاکھ سے زیادہ لوگ کورونا انفیکشن کی زد میں ہیں۔کورونا انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کے لئے دنیا بھر کے ملکوں نے لاک ڈاون لگا رکھا ہے۔
ان سب کے بیچ سنگاپور یونیورسیٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ ڈیزائن کے تحقیق کاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا سے کورونا وائرس 9دسمبر تک ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے ہندوستان کے بارے میں بھی ایک اندازہ لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان سے 26 جولائی تک کورونا کے پوری طرح سے ختم ہونے کا امکان ہے۔کورونا وائرس نے دنیا کو گھروں میں قید کر دیا ہے۔
ہر کسی کے ذہن میں بس ایک ہی سوال ہے کہ آخر کورونا وائرس کب ختم ہو گا؟۔ لوگ یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ لاک ڈاون کھلنے کے بعد کیا کورونا وائرس کا انفیکشن اور تیزی سے حملہ کرے گا۔لوگوں کے انہی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے سنگاپور یونیورسیٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ ڈیزائن کے تحقیق کاروں نے آرٹیفیشیل انٹلی جنس ڈروین ڈیٹا انالیسس کے ذریعہ دنیا کو امید کی ایک کرن دکھائی ہے۔تحقیق کے مطابق، دنیا کے سبھی ملکوں سے دسمبر کے آغاز تک کورونا پوری طرح سے ختم ہو جائے گا۔ادھر ہندوستان کے ہمسایہ ملک پاکستان میں نئے نوول کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں لاک ڈاؤن جاری ہے جس میں وقتاً فوقتاً اضافہ بھی کیا جارہا ہے اور بظاہر کیسز کی شرح میں اضافے کو دیکھتے ہوئے اس کے جلد خاتمے کا امکان نظر نہیں آتا۔یعنی یہ کہنا مشکل ہے کہ کب تک ملک میں اس بیماری کے پھیلاؤ کو قابو میں کرلیا جائے گا مگر سنگاپور یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ ڈیزائن (ایس یو ٹی ڈی) کی پیشگوئی کو دیکھا جائے تو پاکستان میں اس وائرس پر کنٹرول کے لیے ابھی مزید لگ بھگ ڈیڑھ ماہ کا عرصہ درکار ہے۔اس یونیورسٹی نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس ڈیٹا کے تجزیے سے دنیا بھر کے ممالک میں کووڈ 19 کی وبا کے خاتمے کے وقت کی پیشگوئی کی ہے۔اس مقصد کے لیے محققین نے مشتبہ۔ مصدقہ۔
ریکور یا ایس آئی آر وبائی ماڈل کو استعمال کیا جس کے لیے مختلف ممالک کے مشتبہ اور مصدقہ کیسز کے ساتھ صحتیاب افراد کے ڈیٹا کو استعمال کرکے دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے دورانیے کی پیشگوئی کی گئی۔سنگاپور یونیورسٹی نے پیشگوئی یا یوں کہہ لیں کہ تخمینہ لگایا ہے کہ پاکستان میں اس وبا پر 8 جون تک 97 فیصد قابو پالیا جائے گا۔ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں درحقیقت ابھی یہ وبا عروج پر نہیں پہنچی اور 27اپریل سے یہ عروج پر پہنچنا شروع ہوگی، جس کے بعد کیسز کی شرح میں بتدریج کمی آئے گی اور 9جون تک اس پر 97فیصد،23 جون تک 99 فیصد اور یکم ستمبر تک سو فیصد قابو پایا جاسکتا ہے۔یونیورسٹی نے واضح کیا کہ ہے کہ پیششگوئی کا تخمینے کو روزانہ نئے ڈیٹا کی بنیاد پر اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے جبکہ یہ تجزیہ اور تخمینہ صرف تعلیمی اور تحقیقی مقاصد کے لیے ہے جس میں غلطی کا امکان موجود ہے۔
یونیورسٹی کے مطابق عالمی سطح پر اس وبا پر29 مئی تک 97 فیصد قابو پایا جاسکتا ہے، یہ شرح17 جون تک99 فیصد اور9 دسمبر میں سو فیصد تک پہنچے گی۔اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ملک امریکا میں 11 مئی تک 97 فیصد قابو پایا جاسکتا ہے جبکہ سوفیصد کنٹرول 27 اگست تک ممکن ہوگا۔اٹلی میں 7 مئی، سعودی عرب میں 21 مئی، متحدہ عرب امارات میں 11 مئی، ترکی میں 16 مئی، برطانیہ میں 15 مئی، اٹلی میں 7مئی، اسپین میں 3مئی، جرمنی میں 2مئی، فرانس میں 5مئی، جاپان میں 18 مئی، ایران میں 19 مئی، انڈونیشیا میں 6جون، ملائیشیا میں 6 مئی، سنگاپور میں 4 جون اور بھارت میں 26جولائی تک اس وبا پر97 فیصد تک کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
اب یہ اے آئی تجزیہ اور تخمینہ کس حد تک درست ثابت ہوتا ہے اس کا فیصلہ آئندہ چند دن میں ہوجائے گا۔
دنیا
ایران آبنائے ہرمز میں شپنگ کنٹرول سسٹم کا اعلان کرے گا: رکن پارلیمنٹ
تہران، ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی آبنائے ہرمز (اسٹریٹ آف ہرمز) میں سمندری ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نئے نظام کا آغاز کرے گا۔
علاقائی کشیدگی اور سمندری سلامتی سے متعلق جاری تنازعات کے درمیان، سینئر ایرانی رکن پارلیمنٹ ابراہیم عزیزی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر یہ معلومات مشترک کی ہیں۔ پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ‘ایکس’ پر لکھا، “ایران نے اپنی قومی خودمختاری اور بین الاقوامی تجارتی سلامتی کی ضمانت کے تحت آبنائے ہرمز میں ایک طے شدہ راستے سے ٹریفک مینجمنٹ کے لیے ایک پیشہ ورانہ نظام تیار کر لیا ہے، جس کا جلد ہی اعلان کیا جائے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس نئے نظام کے تحت صرف انہی تجارتی جہازوں اور فریقین کو آبنائے ہرمز پار کرنے کی اجازت ہوگی جو ایران کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ایران اس اسکیم کے تحت فراہم کی جانے والی خصوصی خدمات کے لیے فیس (ٹیکس) بھی نافذ کرے گا۔
یواین آئی۔م س
جموں و کشمیر
پہلگام سڑک حادثے میں گجرات کے دو سیاح ہلاک، تین زخمی
سری نگر، جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے پہلگام علاقے میں آرو ویلی روڈ پر ہفتہ کے روز ایک سیاحتی ٹیکسی حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں دو سیاح ہلاک جبکہ ڈرائیور سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔
حکام کے مطابق سیاحتی ٹیکسی بے قابو ہو کر سڑک سے پھسل کر ایک گہری کھائی میں جا گری۔
ہلاک ہونے والوں کی شناخت باوِن بھاوسر اور نینا کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں گجرات کے رہائشی تھے۔
زخمیوں میں اوِن بھاوسر، اشوک نینا، دونوں ساکنان گجرات اور ڈرائیور رئیس احمد بٹ، ساکن رنگورڈ پہلگام شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو علاج کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن پہلگام میں ایف آئی آر نمبر 41/2026 درج کر لی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ حکومت نے بارہمولہ اور راجوری کے لیے 72 کروڑ روپے کے گندے پانی کے منصوبوں کی منظوری دے دی
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے بارہمولہ اور راجوری کے لیے استعمال شدہ پانی کے انتظام کے منصوبوں کو منظوری دے دی ہے، جن کی تخمینی لاگت بالترتیب 37.96 کروڑ روپے اور 34.43 کروڑ روپے ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد دونوں شہری علاقوں میں صفائی ستھرائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور گندے پانی کے انتظام کے مسائل سے نمٹنا ہے۔ یہ بات ایک سرکاری ترجمان نے ہفتہ کو بتائی۔
عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے ان منصوبوں سے سیوریج کے سائنسی طریقے سے ٹھیک کرنے کو یقینی بنایا جائے گا، آبی ذخائر کو آلودگی سے بچایا جائے گا اور بارہمولہ و راجوری کے رہائشیوں کی صحت، صفائی اور مجموعی معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ محکمہ نے سوچھ بھارت مشن (اربن) 2.0 کے کیپیکس جزو کے تحت میونسپل کونسل بارہمولہ اور میونسپل کونسل راجوری کے لیے استعمال شدہ پانی کے انتظام کے منصوبوں کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس (ڈی پی آر) تیار کی ہیں۔
ان ڈی پی آرز کا تکنیکی جائزہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سری نگر نے لیا ہے۔ ان منصوبوں پر سیکوینشل بیچ ری ایکٹر (ایس بی آر) ٹیکنالوجی کے ذریعے عمل درآمد کیا جائے گا، جو ایک ہی مرحلے میں حیاتیاتی طریقے سے گندے پانی کے مؤثر علاج کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
یہ منصوبے بارہمولہ اور راجوری میں صفائی کی سہولیات کو بہتر بنانے اور پائیدار گندے پانی کے علاج کے نظام قائم کرنے کے مقصد سے تیار کیے گئے ہیں۔ دونوں منصوبوں کو 18 ماہ کی مدت میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
ہندوستان7 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا4 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا4 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
ہندوستان5 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
دنیا7 days agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
ہندوستان6 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
تازہ ترین7 days agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
دنیا5 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان4 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا1 week agoسخت حالات میں ساتھ کھڑے ہونے والے دوستوں کو ایران کبھی فراموش نہیں کرے گا: ایرانی سفیر
دنیا7 days agoٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی امریکی پیشکش پر ایران کے ردعمل کو ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیا






































































































