پاکستان
پاکستان کا فتح 4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
راولپنڈی، پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح 4 گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق فتح 4 جدید ترین نیویگیشنل معاون نظام سے لیس ہے اور طویل فاصلے تک انتہائی درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ میزائل تجربے کا مشاہدہ آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے سینئر افسران نے کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم، چیف آف ڈیفنس فورسز، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہان نے فتح 4 کے کامیاب تجربے کو سراہا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق فتح 4 میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان کی مقامی دفاعی صلاحیتوں اور جدید میزائل ٹیکنالوجی میں پیش رفت کا اہم مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
ٰیواین آئی۔ م س
پاکستان
پاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ
اسلام آباد، محمد اسحق ڈار نے اپنے چینی ہم منصب وانگ ای کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے میں خطے کی تازہ صورتحال، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی، اور اسلام آباد کی ثالثی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
غیرملکی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مستقل جنگ بندی برقرار رکھنے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی اور بحری آمد و رفت کو معمول کے مطابق جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب رواں ہفتے بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم مذاکرات متوقع ہیں، جن میں خطے کی کشیدہ صورتحال بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ نے براہ راست ایرانی حکام سے رابطے کیے ہیں اور واشنگٹن تہران کے ساتھ معاہدے کی سمت تیزی سے پیش رفت چاہتا ہے، تاہم اس معاملے میں جلد بازی نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے ایک بار پھر اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران “سو فیصد” یورینیم افزودگی روک دے گا اور امریکی دباؤ کے باعث تہران کو ایٹمی ہتھیار تیار کرنے سے باز رکھا جائے گا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ حالیہ امریکی حملوں نے ایران کی فوجی قیادت اور عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے “نیوکلیئر ڈسٹ” کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بالآخر اعلیٰ افزودہ یورینیم کے اس ذخیرے تک رسائی حاصل کر لے گا جو اب بھی ایرانی سرزمین کے اندر زیر زمین موجود ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ جاری تنازع بغیر کسی عجلت کے حل ہو جائے گا اور ایران کو شدید عالمی تنہائی کا سامنا ہے، جس سے اس کے مالی وسائل متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا اشارہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری دباؤ اور محاصرے کی طرف تھا۔
انہوں نے یہ پیش گوئی بھی کی کہ بحری دباؤ کے نتیجے میں ایرانی معیشت شدید بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل پیر کی شام ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کی صورتحال کو “آئی سی یو” میں قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ تہران کے ساتھ موجودہ معاہدہ کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے “پروجیکٹ فریڈم” کو دوبارہ فعال کرنے کا عندیہ بھی دیا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی رہنمائی کرنا ہے۔ یہ بیان منصوبے کے آغاز کے صرف ایک دن بعد سامنے آیا تھا۔
امریکی صدر کی جانب سے یہ سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو نئی تجاویز پیش کی تھیں، تاہم تہران کے ردعمل پر ٹرمپ نے ناراضی ظاہر کی۔
ذرائع کے مطابق اعلیٰ افزودہ یورینیم کی منتقلی، ایران کے اندر افزودگی کا عمل روکنے اور آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ایرانی پابندی کے کھلا رکھنے جیسے معاملات اب بھی دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات بنے ہوئے ہیں۔
یواین آئی۔ م س
پاکستان
پاک-ایران وزرائے خارجہ کا رابطہ،مذاکراتی بحالی پر غور
اسلام آباد، پاکستان کے اعلیٰ سفارت کار اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق یہ گفتگو اسلام آباد کی ان جاری کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کو بحال کرنا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کے طویل مدتی تنازع کا بات چیت کے ذریعے حل نکالا جا سکے۔ اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس گفتگو کا محور “علاقائی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جاری سفارتی کوششیں” تھیں۔ جواب میں عباس عراقچی نے پاکستان کے “تعمیری” کردار اور دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کی “مخلصانہ” کوششوں کی تعریف کی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسحاق ڈار نے تعمیری روابط کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے مستقل عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی مسائل کے پرامن حل اور خطے اور اس سے باہر پائیدار امن و استحکام کے حصول کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ یہ تازہ ترین رابطہ اس وقت ہوا ہے جب چند گھنٹے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ تہران جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی ترمیم شدہ 14 نکاتی تجویز پر امریکی جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ ایٹمی مسئلہ اس کی حالیہ تجویز کا حصہ نہیں تھا، بلکہ اس نے مشورہ دیا تھا کہ اس پیچیدہ مسئلے پر دونوں فریقین کے درمیان مستقل جنگ بندی کے بعد مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں بحث کی جائے۔ ثالثی کے عمل سے واقف پاکستانی ذرائع نے اناطولیہ ایجنسی کو بتایا کہ امریکہ نے اسلام آباد کے ذریعے ایران کو بھیجے گئے اپنے جواب میں ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق معاہدے کو مستقل جنگ بندی کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایران کی ترمیم شدہ تجویز میں مشورہ دیا گیا تھا کہ موجودہ جنگ بندی کو مستقل جنگ کے خاتمے میں تبدیل کیا جائے اور ایٹمی مسئلے کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کر دیا جائے۔ پاکستان نے 11-12 اپریل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کی تھی، تاہم اس وقت جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا۔ یہ مذاکرات 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد ہوئے تھے جس کی بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توسیع کر دی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان میں خسرہ کی وبا نے خطرناک صورتحال اختیار کرلی، اب تک 40 بچے جاں بحق
کراچی، محکمہ صحت نے چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں رواں سال خسرہ سے 40 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ میں خسرہ کی وبا نے خطرناک صورتحال اختیار کرلی ، محکمہ صحت متعدی امراض پر قابو پانے میں بری طرح ناکام نظر آ رہا ہے، جس کے نتیجے میں معصوم بچوں کی اموات کا سلسلہ تھم نہ سکا۔
رواں سال کے دوران سندھ میں خسرہ کے باعث اب تک 40 بچے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 11 سو 83 بچے خسرہ کا شکار ہوچکے ہیں۔ رواں سال فروری سے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوا، جو اب ایک وبائی شکل اختیار کر چکا ہے، ماہرِ امراضِ اطفال ڈاکٹر خالد شفیع اور دیگر طبی ماہرین نے موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی بچاؤ کی مہمات خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہیں ، کیسز میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ والدین کا اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے (ویکسین) نہ لگوانا ہے۔ ستمبر میں گھر گھر جا کر مہم چلائی گئی اور والدین سے درخواست کی گئی، لیکن تعاون کی کمی کے باعث مسئلہ جوں کا توں ہے۔
ڈاکٹر خالد شفیع کا کہنا ہے کہ خسرہ ایک جان لیوا بیماری ثابت ہو رہی ہے اور اس سے بچاؤ کا واحد حل صرف اور صرف ویکسینیشن ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے اپنے بچوں کی زندگی محفوظ بنانے کے لیے حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کروائیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا6 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
دنیا6 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
ہندوستان1 week agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
ہندوستان1 week agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا
دنیا5 days agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
دنیا1 week agoایران نے ایک بار پھر پر امن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا اعلان کر دیا
دنیا6 days agoاسرائیل کے غزہ میں جنگ بندی کے باوجود فضائی حملے، 9 فلسطینی شہید
دنیا6 days agoامریکی کوشش پھر ناکام، روس نے اقوام متحدہ میں ایران مخالف قرارداد مسترد کر دی
ہندوستان6 days agoبی جے پی دورِ حکومت میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ، دھامی حکومت عصمت دری کے ملزمان کو بچا رہی ہے: کانگریس
دنیا6 days agoحج 2026: رضاکارانہ کام کے خواہشمند افراد کیلیے خوشخبری
ہندوستان3 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی













































































































