تازہ ترین
عالمی وبا کی زد میں جموں،کشمیر اور لداخ،متاثرہ افرادکی تعداد12

سرینگر/19مارچ/کے این ایس / عالمی وبا کے پھیلاؤ کے پیش نظر اور سرینگر میں پہلے مثبت کیس کی تصدیق کے ساتھ ہی پوری وادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی جبکہ کئی علاقوں میں کرونا وائرس کے خوف سے لاک ڈاؤن ہوگیا۔تجارتی مرکز لالچوک سمیت پورے شہر میں دکانات،تجارتی مراکز اور کاروباری ادا رے بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا جسکے نتیجے میں سرکاری ونجی دفاتر میں ملازمین کی حاضری بہت کم رہی۔ادھر انتظامیہ کی جانب سے بھی شہر خاص سمیت کئی علاقوں میں احتیاطی اقدامات کے تحت بندشیں بھی عائد کی گئیں۔
انتظامیہ نے سرینگر آنے والی بین الضلعی ٹرانسپورٹ اور ریل سروس کو بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جبکہ وادی کشمیر کے سبھی10اضلاع میں آگلے اعلان تک دفعہ144نافذ کی گئی۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق پوری دنیا کیساتھ ساتھ جموں وکشمیر اور لداخ بھی عالمی وبا ’کورونا وائرس‘ کی زد میں آگیا ہے۔تینوں خطوں میں تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد12ہے جبکہ وادی کشمیر میں گذشتہ روز (بدھ) کو پہلے مثبت کیس کی تصدیق ہوگئی،جس نے پوری وادی کو تشویش میں مبتلاء کیا۔سرینگر میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ کیس کے بعد جمعرات کو لاک ڈاؤن کے مناظر چہار سو دیکھنے کو ملے جبکہ انتظامیہ نے بھی احتیاطی اقدامات کے تحت بندشیں عائد کیں اور فورسز کی بھاری نفری میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تعینات کی گئی۔وائرس کو پھیلنے سے بچانے کے اقدامات کے تحت شہر میں نرمی کیساتھ بندشیں عائد کی گئیں۔اس سلسلے میں ضلع ترقیاتی کمشنر جوکہ ضلع مجسٹریٹ بھی ہیں،شاہد اقبال چودھری نے دفعہ144سے متعلق ایک آرڈر جاری کیا۔
اس دوران لوگوں نے احتیاطی اقدامات کے تحت گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔تجارتی مرکز لالچوک کے گھنٹہ گھر،کوکربازار،بڈ شاہ چوک،مائسمہ،ریل چوک،پولو ویو،گونی کھن،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ،مہاراجہ بازار سمیت پورے شہر میں سبھی بازاروں میں دکانات،تجارتی مراکز،کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا،البتہ نجی گاڑیاں،آٹو رکھشا اور موٹر سائیکل چلتے دیکھے گئے۔شہر میں لاک ڈاؤن جیسی صورتحال کے نتیجے میں چہار سو ہو کا عالم دیکھنے کو ملا۔سیکیورٹی فورسز نے لوگوں کی نقل وحرکت کو محدود رکھنے کیلئے شہر خاص اور سیول لائنز کو ملانے والے راستوں پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی تھیں،جس دوران راستوں کو سیل کرنے کیلئے خار دار تار کا بھی استعمال کیا گیا۔
ایس ایم سی کی جانب سے جگہ جگہ کیڑے مار دوا اسپرے کرنے والی ٹیموں تعینات کی گئی تھیں،جو گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر اسپرے کررہی تھیں۔ ضلع مجسٹریٹ،شاہد اقبال چودھری کا کہنا ہے کہ انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے گئے،جسکے تحت شہر میں بندشیں عائد کی گئیں۔ان کا کہناتھا کہ ایک خاتون جو کہ بیرون ملک سے سفر کرکے آئی تھیں،کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد عوامی نقل وحرکت کو محدود کرنے کیلئے بندشیں عائد کرنی پڑی۔ادھرآرڈر میں کہا گیا ہے کہ عوامی نقل وحرکت اور تجاری سرگرمیوں پر عائد بندشیں اگلے اعلان تک جاری رہیں گی۔
ڈاکٹر شاہد نے بتایا کہ ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایکٹ2005کے تحت پہلے جاری کئے حکمنامہ میں مزید توسیع کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں مجرما نہ جرم کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔ان کا کہناتھا کہ عوامی تعاؤن سے ہی کورونا وائرس پر قابو پایاجاسکتا ہے جبکہ ہم سب کو مل جل کر اس وائرس کے خلاف جنگ کر نی ہوگی۔انہوں نے عوام کو یقینی دہانی کرائی ہے کہ غذائی اجناس اور ایشا ضروریہ کوئی قلت نہیں ہوگی۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ جس بھی شخص نے کووڈ۔19متاثر ہ مریضہ سے ملاقات کی ہے کہ وہ نذدیکی صحت سہولیاتی مرکز یا 0194245755 2,0194245754 3,9419028251فون نمبرات پر رابطہ قائم کرے۔
ادھر بانڈی پورہ،بارہمولہ،پلوامہ اور کولگام اضلاع میں بھی دفعہ144نافذ کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ وسطی ضلع بڈگام میں بھی جمعرات کو کئی علاقوں میں بندشیں عا ئد رہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ خیام خانیار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون جوکہ سعودی عربیہ سے کشمیر عمرہ کرنے کے بعد لوٹی ہے،کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔مذکورہ خاتون 16مارچ کو کشمیر وارد ہوئی تھی۔حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کیساتھ سفر کرنے والے سبھی مسافروں کا بھی کورونا ٹیسٹ کیا جائیگا۔اس دوران انتظامیہ کی جانب سے ایک حکمنامہ جاری کیا گیا ہے،جس کے تحت سرینگر آنے والی بین الضلعی ٹرانسپورٹ کو بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ریجنل ٹرانسپورٹ افسر کشمیر کی جانب سے جاری آرڈر زیر نمبرRTOK/MVD/2020/920-28کے تحت جنوبی وشمالی کشمیر اور وسطی کشمیر کے اضلاع سے شہر میں داخل ہونے والے ٹرانسپورٹ مکمل پابندی عائد کی جارہی ہے۔حکمنامہ کے مطابق اگلے اعلان تک سرینگر میں بس سروس،منی بس سروس،مکسی کیب سروس اور آٹو مسافر سروس بند رہے گی۔اسی طرح سرینگرآنے والی بین الضلعی ٹرانسپورٹ سروس بھی بند رہے گی۔معلوم ہوا ہے کہ بارہمولہ۔بانہال ریل سروس کو بھی31مارچ تک بند رکھنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ریل حکام نے بھی اس ضمن میں با ضابط طور پر حکمنامہ جاری کیا ہے،جسکے تحت اگلے اعلان تک وادی کشمیر میں ریل سروس مکمل طور پر بند رہے گی۔یاد رہے کہ جموں،کشمیر اور لداخ میں اب تک 12افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ادھربہت سے مسلم ممالک کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لئے مساجد کو عارضی طور پر بند کر رہے ہیں، کشمیر میں بھی مذہبی رہنما ہفتے کے روز اس معاملے پر اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔
کشمیر کے مفتی اعظم ناصر الاسلام نے کہا کہ انہوں نے ہفتے کے روز تمام مذہبی رہنماوں کا اجلاس بلایا ہے۔ہفتہ کے اجلاس میں شرکت کرنے والے اس اجلاس میں جماعت اسلامی، جمعیت اہل حدیث، عوامی ایکشن کمیٹی، متحدہ مجلس علما، جمعیت ہمدانی، اتحاد المسلمین، متحدہ مسلم کونسل، انجمن اتحاد اتحاد المسلمین،مسلم پرسنل لا بورڈ، دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ اور لال بازار، کاروان اسلامی، انجمنِ حمایت الاسلام، اسلامک اسٹڈی سرکل، اور انجمن شرعی شیعان اور دیگر تنظیمیں شرکت کریں گی۔مفتی ناصر الاسلام نے کہا کہ ہم تین نکات پر تبادلہ خیال کریں گے جس میں مسجدوں کو صرف نماز جمعہ کے لئے محدود رکھنا، جمعہ کے روز مختصر خطبہ، اور مساجد میں نماز کو مکمل طور پر منسوخ کرنا شامل ہیں۔ ہمارے پاس اسلام میں یہ آپشن ہے۔ اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔مفتی اعظم نے حکومت ہند سے بھی اپیل کی کہ وہ کشمیر کے باہر مختلف جیلوں میں بند کشمیری قیدیوں کو رہا کرے۔
کاروان اسلامی کے سرپرست مولانا غلام رسول نے کہا کہ اسلام میں ایک ایسی شق موجود ہے جس کے تحت زندگی کو خطرے میں ڈالنے والی صورتحال کے وقت مساجد میں نماز عارضی طور پر منسوخ کی جاسکتی ہے۔ دریں اثنامتحدہ مجلس علما (ایم ایم یو)، جس کی سربراہی میر واعظ عمر فاروق کر رہے ہیں،نے علمائے کرام، خطیبوں اور مساجد کے انتظامات سے اپیل کی ہے کہ وہ رہنما اصولوں پر سختی سے عمل کریں۔جمعہ کی نماز میں عربی خطبہ انتہائی مختصر اور دعا صرف موجودہ وبا سے بچنے کیلئے کی جائے۔چین سے ظاہر ہونے والی وبا کورو نا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے،دنیا میں بھر میں 9ہزار کے قریب افراد ہلاک اور دو لاکھ سے زیادہ افراد اس وبا میں مبتلاء ہیں۔
دنیا
قطر میں منجمد 12ارب ڈالرز کے اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالرز جاری کیے جائیں گے: ایرانی صدر
تہران، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالرز کے اثاثے جَلد جاری کر دیے جائیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مجموعی طور پر 12 ارب ڈالرز کی رقوم میں سے آدھی رقم واپس ایران منتقل کی جائے گی۔
ایرانی صدر نے کہا ہے کہ یہ پیش رفت موجودہ مذاکرات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سامنے آ رہی ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ صورتِ حال مسلسل بدل رہی ہے اور معاملات پر پیش رفت جاری ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ایران کے کسی منجمد اثاثے کی حوالگی عمل میں نہیں آئی ہے۔
ادھر خلیجی علاقے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں ایران کی جانب سے بحرین اور کویت کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو مذاکرات مکمل طور پر روک دیے جائیں گے جس سے خطے میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے، جو کل دوحہ میں ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے مختصر بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جلی حرفوں میں لکھا ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے، یہ ملاقات کل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ گیس کی قیمتیں تیزی سے نیچے آرہی ہیں، خام تیل کی قیمتیں بھی نیچے آرہی ہیں، خام تیل کی موجودہ قیمت ایران جنگ سے پہلے کی قیمت سے بھی کم سطح پر ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
تازہ ترین
یاسین ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ، 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کیس میں نئی چارج شیٹ

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، یعنی جے کے ایل ایف، کے چیئرمین یاسین ملک کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ایک طرف وہ پہلے ہی نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، تو دوسری جانب اب 36 سال پرانے کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ قتل کیس میں بھی ان کے خلاف ایک نئی چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی، یعنی ایس آئی اے، نے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے یاسین ملک سمیت پانچ افراد کو سرلا بھٹ کے اغوا، تشدد اور قتل کی سازش میں ملوث قرار دیا ہے۔ ایس آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرلا بھٹ کا قتل کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ جے کے ایل ایف کی قیادت میں انجام دی گئی ایک منظم دہشت گردانہ سازش کا حصہ تھا۔
تحقیقات کے مطابق سرلا بھٹ، جو اس وقت شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی سکمز میں بطور نرس خدمات انجام دے رہی تھیں، 18 اپریل 1990 کو مبینہ طور پر اسپتال سے اغوا کی گئیں۔ ایس آئی اے کے مطابق انہیں سری نگر کے مالباغ اور عمر کالونی کے علاقے میں لے جایا گیا، جہاں ان پر مبینہ طور پر شدید جسمانی تشدد کیا گیا اور بعد ازاں خودکار ہتھیاروں سے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش پانچ روز بعد برآمد ہوئی، جس کے ساتھ ایک پرچی بھی ملی تھی جس میں انہیں مبینہ طور پر “مخبر” قرار دیا گیا تھا۔
چارج شیٹ میں یاسین ملک کے علاوہ خورشید احمد چلو، عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تین افراد عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی اور غلام محمد ٹپلو کی وفات ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چلو مفرور ہے اور ایس آئی اے کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود ہے۔ ایجنسی نے اس کے خلاف قانونی کارروائی اور اشتہاری کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔
ایس آئی اے نے اس مقدمے میں اغوا، قتل، مجرمانہ سازش، شواہد مٹانے، ٹاڈا ایکٹ اور آرمز ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس چارج شیٹ میں زبانی، دستاویزی، فرانزک، بیلسٹک، طبی اور الیکٹرانک شواہد شامل کیے گئے ہیں، جنہیں کئی دہائیوں پر محیط تحقیقات کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے اس پیش رفت کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چارج شیٹ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی سے متعلق جرائم میں وقت گزر جانا کسی بھی ملزم کے لیے قانونی تحفظ نہیں بن سکتا۔ پولیس کے مطابق چاہے کئی دہائیاں ہی کیوں نہ گزر جائیں، ایسے جرائم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
سرلا بھٹ اس وقت صرف 27 برس کی تھیں اور ان چند کشمیری پنڈت خاندانوں میں شامل تھیں جنہوں نے 1990 میں عسکریت پسندی کے آغاز کے باوجود وادی کشمیر نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا قتل بعد میں کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی اور نمایاں واقعات میں شمار کیا گیا۔
یاسین ملک اس وقت بھی کئی دیگر اہم مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مئی 2022 میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت، حکومت ہند کے خلاف سازش اور دیگر الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے دو مرتبہ عمر قید اور متعدد دیگر سزائیں سنائی تھیں۔ وہ 2019 سے تہاڑ جیل میں بند ہیں، جبکہ این آئی اے دہلی ہائی کورٹ میں ان کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل بھی کر چکی ہے، جس پر کارروائی جاری ہے۔
اس کے علاوہ یاسین ملک 1989 میں اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی صاحبزادی روبیہ سعید کے اغوا کے مقدمے اور 1990 میں بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے کے مقدمے میں بھی بطور ملزم نامزد ہیں۔
سرلا بھٹ قتل کیس میں 36 برس بعد دائر ہونے والی یہ چارج شیٹ ایک ایسے مقدمے میں اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے جو طویل عرصے سے انصاف کا منتظر تھا۔ اب تمام نظریں عدالت پر ہیں، جہاں اس مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور دلائل کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔
تازہ ترین1 week agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان6 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا1 week agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا1 week agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا5 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
تازہ ترین1 week agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
دنیا6 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
ہندوستان6 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر5 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا1 week agoامریکہ ایران مذاکرات میں مثبت پیش رفت: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی






































































































