تازہ ترین
عمر عبد اللہ کی رہائی،سیاسی حلقوں کی جانب سے اظہار اطمینان

سرکارکی جانب سے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر وسابق وزیر اعلیٰ عبد اللہ کی نظر بندی8ماہ بعد ختم کی ہے، جس پرتمام سیاسی پارٹیوں نے یک زبان ہو کر رہائی کو ایک خوش آئند قدم قرار دیتے ہوئے تمام سیاسی لیڈران سمیت 5اگست کے بعد گرفتار مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ااس دوران کانگریس کے ریاستی صدر جے اے میر نے بتایاکہ فیصلہ ایک خوش آئند قدم ہے جس کو سرکار کو پہلے ہی اٹھانا تھا نہیں اٹھا گیا،انہوں نے پی ڈی پی سرپرست اعلیٰ قید میں اکیلی خاتون سیاست دان محبوبہ مفتی کی فوری رہائی کامطالبہ کیا ہے۔ اس دوران سی پی آئی ایم کے لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے تمام گرفتار سیاسی لیڈران سمیت 5اگست کے بعد گرفتارتمامافراد کی رہائی کی اپیل کی ہے۔
ادھر ڈی پی این کے چیر مین غلام حسن میر، پی ڈی ایف کے چیر مین حکیم محمد یاسین، عوامی نیشنل کانفرنس نے عمر عبد اللہ کی رہائی کا خیر مقدم کیاکشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق سرکار نے جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور این سی کے نائب صدرعمر عبد اللہ کو 8ماہ تک اسیر رہنے کے بعدمنگل کے روز رہا کیا ہے۔اس دوران وادی کشمیر کے مختلف سیاسی پارٹیوں اور لیڈران نے عمر عبد اللہ کی نظر بندی ختم کرنے پر اپنے الگ الگ رد عمل میں اظہار کیا،جس میں تمام لیڈران نے فیصلے کو ایک اچھا قدم قرار دیکرسبھی سیاسی لیڈران کی رہائی کا مطالبہ کیا، تاکہ یہاں 8ماہ سے معطل سیاسی عمل کو بحال کیاجائے۔ اس دوران پردیش کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے کے این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہاگر سرکار پہلے یہ قدم اٹھاتی شائد مزہ کچھ اور ہوتا،میر نے کہا اب کیا ہوگا سرکار نے کورونا وائرس کو فائدہ اٹھا کرعمر عبد اللہ کو ایک جیل سے رہا کر کے دورسے جیل میں منتقل کیا۔تائم میر نے سرکاری فیصلے کو دیر عائد درست عائد کے مثداق قراردیا ہے۔
انہوں نے کہا اس وقت پورا ملک لاکڈون میں ہے، آنے والے دوماہ میں پابندی وائرس کے نتیجے میں عائد ہونے کا امکان ہے انہوں نے بتایا کہ محبوبہ مفتی اکیلی خاتون جیل میں ہے ان کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی لیڈران کو فوری طوررہا کرنے کے ساتھجن لیڈران پر پابندیاں عائد ہیں انہیں بھی رہا کیا جائے۔صدر کانگریس جموں کشمیر نے بتایا سرکار کواس وقت ایسے تمام فیصلے انسانی بنیادوں پر اٹھانے چاہے تھا،کیوں کہ اس وقت جو لوگ گرفتار ہیں وہ بھی اپنے افراد کانہ کے ساتھ گھروں میں رہتے جب ہر کسی کو صحت مند اور مہلک وائرس سے بچنے کے لئے محفوظ رہتے ہیں۔ اس دوران سی پی آئی ایم لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے کشمیر نیوز سروس کے نیوز ایڈیٹرسید اعجاز کے ساتھ فون پربات کرتے ہوئے عمر عبد اللہ کی رہائی کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا ہے۔انہوں سرکار سے ان تمام سیاسی لیڈران اور عام لوگوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے جو کو 5اگست2019کے بعد وادی اور بیرون وادی کے جیلوں میں نظر بند ہیں۔انہوں نے بتایا کچھ لوگوں جن میں سیاسی لیڈران کے علاوہ عام لوگ بھی شامل ہیں کو بیرون ریاست کے جیلوں کو منتقل کیا ہے جن کو وہاں مسلسل بند رکھنے سے ان کی حالت خراب ہو ئی ہے۔
محمد یوسف رایگامی نے بتایااس وقت کورونا وائرس کی وجہ سے مہلک کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں لاکڈون ہے کوئی بھی کشمیری گھر سے باہر نہیں جا سکتا ہے اور نتیجے کے طورگرفتار افراد کے رشتہ داراس مشکل وقت میں طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔تاریگامی نے بتایا افسوس کا مقام یہ ہے کہ جیلوں میں نظر بند لوگوں نے ابھی کوئی جرم کیا ہی نہیں تو انہیں جیلوں میں بند رکھا گیا ہے سراسر نا انصافی ہے انہوں نے تمام گرفتار لیڈان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر ڈی پی این کے چیر مین غلام حسن میر نے بتایاعمر عبد اللہ کی رہائی ایک خوش آئند قدم ہے انہوں نے سرکارسے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزائے اعلی ٰ محبوبہ مفتی کے علاوہ نوجوان سیاست دان ڈاکٹرشاہ فیصل کے علاوہ وادی کے کار باری افراد اور عام نوجوانوں جن کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا ہے کو فوری طور رہا کیا جائے۔
ادھر پی ڈی ایف کے حکیم محمد یاسین نے بتایا فیصلہ خوش آئند ہے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں انہوں نے بتایا باقی لیڈران کو بھی فوری طور رہا کیا جانا چاہے تاکہ 7ماہ سے متاثرہ ہوئے سیاسی ماحول کو بحال کیا جائے۔ادھر کے این ایس کے مطابق عوامی نیشنل کانفرنس نے فاروق عبد اللہ کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے اور بعد میں پارٹی صدر بیگم خالدہ شاہ جو فاروق عبد اللہ لہ ہمشیرہ بھی ہے کے علاوہ پارٹی کے سینئر نائب صدر مظفر شاہ نے عمرعبد اللہ کو رہائی پرخوشی کا اظہار کر کیانہیں مبارک باد پیش کی ہے۔
خیال رہے عمر عبد اللہ باقی سیاست دانوں کے ہمراہ گزشتہ8ماہ تک نظر بند تھے جس دوران سرکار نے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ،محبوبہ مفتی اور عمر عبد اللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا تھا۔تاہم فاروق عبد اللہ کو گزشتہ دنوں رہا کیا گیا ہے اور منگل کو عمر عبد اللہ کی رہائی عمل میں لائی گئی ہے جبکہ محبوبہ مفتی سمیت متعدد لیڈران تاحال مسلسل5اگست2019 نظر بند ہیں۔
دنیا
قطر میں منجمد 12ارب ڈالرز کے اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالرز جاری کیے جائیں گے: ایرانی صدر
تہران، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالرز کے اثاثے جَلد جاری کر دیے جائیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مجموعی طور پر 12 ارب ڈالرز کی رقوم میں سے آدھی رقم واپس ایران منتقل کی جائے گی۔
ایرانی صدر نے کہا ہے کہ یہ پیش رفت موجودہ مذاکرات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سامنے آ رہی ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ صورتِ حال مسلسل بدل رہی ہے اور معاملات پر پیش رفت جاری ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ایران کے کسی منجمد اثاثے کی حوالگی عمل میں نہیں آئی ہے۔
ادھر خلیجی علاقے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں ایران کی جانب سے بحرین اور کویت کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو مذاکرات مکمل طور پر روک دیے جائیں گے جس سے خطے میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے، جو کل دوحہ میں ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے مختصر بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جلی حرفوں میں لکھا ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے، یہ ملاقات کل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ گیس کی قیمتیں تیزی سے نیچے آرہی ہیں، خام تیل کی قیمتیں بھی نیچے آرہی ہیں، خام تیل کی موجودہ قیمت ایران جنگ سے پہلے کی قیمت سے بھی کم سطح پر ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
تازہ ترین
یاسین ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ، 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کیس میں نئی چارج شیٹ

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، یعنی جے کے ایل ایف، کے چیئرمین یاسین ملک کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ایک طرف وہ پہلے ہی نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، تو دوسری جانب اب 36 سال پرانے کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ قتل کیس میں بھی ان کے خلاف ایک نئی چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی، یعنی ایس آئی اے، نے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے یاسین ملک سمیت پانچ افراد کو سرلا بھٹ کے اغوا، تشدد اور قتل کی سازش میں ملوث قرار دیا ہے۔ ایس آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرلا بھٹ کا قتل کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ جے کے ایل ایف کی قیادت میں انجام دی گئی ایک منظم دہشت گردانہ سازش کا حصہ تھا۔
تحقیقات کے مطابق سرلا بھٹ، جو اس وقت شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی سکمز میں بطور نرس خدمات انجام دے رہی تھیں، 18 اپریل 1990 کو مبینہ طور پر اسپتال سے اغوا کی گئیں۔ ایس آئی اے کے مطابق انہیں سری نگر کے مالباغ اور عمر کالونی کے علاقے میں لے جایا گیا، جہاں ان پر مبینہ طور پر شدید جسمانی تشدد کیا گیا اور بعد ازاں خودکار ہتھیاروں سے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش پانچ روز بعد برآمد ہوئی، جس کے ساتھ ایک پرچی بھی ملی تھی جس میں انہیں مبینہ طور پر “مخبر” قرار دیا گیا تھا۔
چارج شیٹ میں یاسین ملک کے علاوہ خورشید احمد چلو، عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تین افراد عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی اور غلام محمد ٹپلو کی وفات ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چلو مفرور ہے اور ایس آئی اے کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود ہے۔ ایجنسی نے اس کے خلاف قانونی کارروائی اور اشتہاری کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔
ایس آئی اے نے اس مقدمے میں اغوا، قتل، مجرمانہ سازش، شواہد مٹانے، ٹاڈا ایکٹ اور آرمز ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس چارج شیٹ میں زبانی، دستاویزی، فرانزک، بیلسٹک، طبی اور الیکٹرانک شواہد شامل کیے گئے ہیں، جنہیں کئی دہائیوں پر محیط تحقیقات کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے اس پیش رفت کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چارج شیٹ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی سے متعلق جرائم میں وقت گزر جانا کسی بھی ملزم کے لیے قانونی تحفظ نہیں بن سکتا۔ پولیس کے مطابق چاہے کئی دہائیاں ہی کیوں نہ گزر جائیں، ایسے جرائم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
سرلا بھٹ اس وقت صرف 27 برس کی تھیں اور ان چند کشمیری پنڈت خاندانوں میں شامل تھیں جنہوں نے 1990 میں عسکریت پسندی کے آغاز کے باوجود وادی کشمیر نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا قتل بعد میں کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی اور نمایاں واقعات میں شمار کیا گیا۔
یاسین ملک اس وقت بھی کئی دیگر اہم مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مئی 2022 میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت، حکومت ہند کے خلاف سازش اور دیگر الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے دو مرتبہ عمر قید اور متعدد دیگر سزائیں سنائی تھیں۔ وہ 2019 سے تہاڑ جیل میں بند ہیں، جبکہ این آئی اے دہلی ہائی کورٹ میں ان کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل بھی کر چکی ہے، جس پر کارروائی جاری ہے۔
اس کے علاوہ یاسین ملک 1989 میں اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی صاحبزادی روبیہ سعید کے اغوا کے مقدمے اور 1990 میں بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے کے مقدمے میں بھی بطور ملزم نامزد ہیں۔
سرلا بھٹ قتل کیس میں 36 برس بعد دائر ہونے والی یہ چارج شیٹ ایک ایسے مقدمے میں اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے جو طویل عرصے سے انصاف کا منتظر تھا۔ اب تمام نظریں عدالت پر ہیں، جہاں اس مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور دلائل کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔
تازہ ترین1 week agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان6 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا1 week agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا1 week agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا5 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
تازہ ترین1 week agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
ہندوستان6 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر5 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا6 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا1 week agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف






































































































