تازہ ترین
فیضان عارف کینگ: سری نگر سے تعلق رکھنے والا 21 سالہ ماہر موسمیات

سری نگر، (یو این آئی): وادی کشمیر میں موسمی صورتحال کی جانکاری حاصل کرنے کے لئے گرچہ متعلقہ محکمہ اور اس کے عہدیدار ہی معروف ذرائع ہیں لیکن سری نگر سے تعلق رکھنے والا 21 سالہ نوجوان ایک ایسا ماہر موسمیات ہے جو اس شعبے کے کسی انسٹی ٹیوٹ میں بغیر کوئی تربیت حاصل کئے برسوں سے موسم کے متعلق بر وقت اور صحیح پیش گوئیاں کرتا ہے۔
کئی بار ایسا بھی دیکھا گیا کہ ان کی پیش گوئیاں ہی متعلقہ محکمے کی طرف سے کی جانے والی پیش گوئیوں کے مقابلے میں زیادہ درست ثابت ہوئیں۔
سری نگر کے نوا کدل سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ فیضان عارف کینگ بچپن سے ہی موسمی تبدیلیوں جیسے بارش، گرج چمک وغیرہ کے ساتھ دلچسپی رکھتے تھے اور انہیں موسم میں ہونے والی ان تبدیلیوں کے محرکات کو جاننے کا اشتیاق دامن گیر رہتا تھا۔
وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہی شوق و اشتیاق ان کے ماہر موسمیات بن جانے کا وجہ بن گیا ہے۔
موصوف ماہر موسمیات کی موسمی پیش گوئیوں کو جاننے کے لئے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبدللہ جیسے کئی بڑے سیاسی لیڈران اور بڑے صحافی ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ’کشمیر ویدر‘ کو فالو کرتے ہیں۔
انہوں نے اپنے اس شوق اور سفر کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے یو این آئی کو بتایا کہ بچن سے ہی میں موسمی تبدیلیوں میں دلچسپی رکھتا تھا۔
ان کا کہنا تھا: ’میں بہت چھوٹا تھا، ایل کے جی یا یو کے جی میں پڑھتا تھا تب سے میں موسمی تبدیلیوں کے بارے میں دلچسپی رکھتا تھا، جب کبھی بارش ہوتی تھی میں کھڑکی پر بیٹھ کر گرج چمک کا نظارہ دیکھتا تھا اور اپنے والدین سے اس کے متعلق پوچھتا تھا‘۔
فیضان عارف نے کہا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ میری یہ دلچسپی بھی بڑھتی گئی اور ساتویں یا آٹھویں جماعت سے ہی میں نے موسمیات کے متعلق ’فور کاسٹ‘ دیکھنے شروع کئے۔
انہوں نے کہا کہ بعد میں، میں نے انٹرنیٹ پر موسمیات کے متعلق گہرائی کے ساتھ تحقیق کرنا شروع کیا اس کے متعلق دستیاب تمام تر مواد کا مطالعہ کیا۔
ان کا کہنا تھا: ’تحقیق کے دوران میں نے دیکھا کہ گلوبل فور کاسٹنگ سسٹم (جی ایف ایس) نامی ایک امریکی موسمیاتی ماڈل ہے جو پورے دنیا کے موسم کے متعلق پیش گوئی فراہم کرتا ہے‘۔
فیضان عارف نے کہا کہ میں نے اس موسمیاتی ماڈل کا تجزیہ کرنا شروع کیا اور جس کے باعث میں اپنے جموں وکشمیر کے بارے میں موسمی پیش گوئیاں دیتا ہوں۔
انہوں نے کہا: ’اس دوران میں نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ’کشمیر ویدر‘ کے نام سے ایپلی کیشن شروع کی جس کے ذریعے میں موسمی پیش گوئیاں دیتا ہوں اور کئی لوگ اس کو دیکھتے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا: ’میں نے ابھی تک اس کی الگ ویب سائیٹ نہیں بنائی ہے جبکہ کئی لوگوں نے یہ مشورہ بھی دیا تھا لیکن میں فی الوقت پڑھائی کے ساتھ مصروف ہوں لہذا ابھی کوئی ایسا ارادہ نہیں ہے۔
موصوف نوجوان نے کہا کہ موسم ہر سیکنڈ کے بعد تبدیل ہوتا ہے لہذا کسی مخصوص جگہ یا وقت کے بارے میں صحیح پیش گوئی کرنا مشکل ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسمی صورتحال کے باریک بین تجزیے کے بعد ایک ہفتے کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’میں نے مختلف وسائل کی مدد سے باریک بین مشاہدے کے بعد چار ماہ نومبر، دسمبر، جنوری اور فروری کی پیش گوئی کی تھی جس میں سے نومبر اور دسمبر کی پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی لیکن جنوری کی پیش گوئی صحیح ثابت نہیں ہوئی ہے‘۔

تصویریو این آئی
فیضان عارف نے کہا کہ دنیا میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے باوجود بھی ایک لمبی پیش گوئی کرنا محال ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب کے متعلق بارش کی شدت کو پیش نظر رکھ کر پیش گوئی کی جاسکتی ہے لیکن زلزلے کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی ہے صرف اس کی شدت بتائی جاسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بادل پھٹنے کے بارے میں بھی کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی ہے۔
اکیس سالہ فیضان نے کہا کہ اس مخصوص شعبے میں ملک کی کسی بھی یونیورسٹی میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی نہیں جاتی ہے تاہم پوسٹ گریجویشن کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں اسی شعبے میں اپنی پوسٹ گریجوشن کرکے اس کو اپنی روزی روٹی کا وسیلہ بھی بناؤں گا اور اپنے وطن کے لوگوں کی خدمت بھی کروں گا۔
کشمیر کے نوجوانوں کے نام اپنے پیغام میں فیضان عارف کا کہنا تھا : ’ہمارے یہاں نوجوان صرف یا تو ڈاکٹر یا انجینئر بننا چاہتے ہیں جبکہ ان کے علاوہ بھی بے شمار ایسے شعبے ہیں جن میں اپنا نام روشن کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ دیگر کورسز میں داخلہ کرنا چاہئے اور اپنے آپ کو بعض مخصوص شعبوں تک ہی محدود نہیں رکھنا چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ سرکار موسمیات کے شعبے کو مستحکم کرنے کے لئے کام کر رہی ہے لیکن اس سلسلے میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
فیضان عارف کا ماننا ہے کہ جس قدر یہ شعبہ مستحکم و فعال ہوگا اس قدر لوگوں کو مشکلات اور مالی و جانی نقصان ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ موسمیات کے متعلق بر وقت پیش گوئیوں سے شعبہ ذراعت اور باغبانی سے وابستہ لوگوں کو نقصان ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔
جموں و کشمیر
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس نے امرناتھ یاترا کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا
سری نگر، کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس وی کے بردی نے شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر بدھ کو پہلگام میں سکیورٹی انتظامات کا جامع جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق آئی جی پی نے ضلع اننت ناگ میں یاترا کے راستے پر سکیورٹی انتظامات کا معائنہ کیا اور سکیورٹی گرڈ کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے یاترا کے آغاز سے قبل مضبوط تیاری، باہمی تال میل کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی تعیناتی پر زور دیا۔
اس دوران پولیس کے انسپکٹر جنرل نے ایکس رے اسکریننگ پوائنٹ کا بھی معائنہ کیا، جہاں انہوں نے یاتریوں اور ان کے سامان کی جانچ کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عقیدت مندوں کے لیے محفوظ اور سہل یاترا کو یقینی بنانے کی خاطر باریک بینی سے جانچ کرنے، تمام ایجنسیوں کے درمیان مؤثر رابطہ برقرار رکھنے اور معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت دی۔
مسٹر بردی نے ننوان بیس کیمپ کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے سکیورٹی کے مجموعی انتظامات، اہلکاروں کی تعیناتی، نگرانی کے نظام، داخلی کنٹرول کے اقدامات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے تعینات افسران اور جوانوں سے بات چیت کی اور یاترا کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے میں ان کی لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی ستائش کی۔
کثیر سطحی سکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے مسٹر بردی نے افسران کو ہائی الرٹ رہنے، مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل مضبوط کرنے اور تمام حفاظتی ضوابط پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے سالانہ یاترا کو پُرامن اور محفوظ انداز میں مکمل کرانے کے لیے فعال پولیسنگ، مسلسل نگرانی اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی پر زور دیا۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
ہندوستان اور پاکستان کے کئی سرکردہ شخصیات کی مودی اور شریف سے بات چیت اور سفارتی تعلقات بحال کرنے کی اپیل
نئی دہلی، ہندوستان اور پاکستان کے کئی سرکردہ شخصیات کے ایک گروپ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے “جنوبی ایشیا میں امن، معمول کے حالات، بات چیت اور تعاون بحال کرنے کی سمت میں معنی خیز اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔
دونوں ممالک کے 117 لوگوں کے دستخط والے اس مشترکہ خط میں سفارتی تعلقات بحال کرنے، منظم بات چیت، اعتماد کو مضبوط کرنے والے مسلسل اقدامات کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان عداوت کم کرنے اور امن کو فروغ دینے کے لیے عوام کے درمیان رابطے بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس خط پر ہندوستان کے 61 اور پاکستان کے 56 لوگوں نے دستخط کیے ہیں۔ خط میں دونوں حکومتوں سے معمول کے حالات بحال کرنے کی سمت میں معنی خیز اقدامات کرنے کا اصرار کیا گیا ہے جس میں سفارتی تعلقات کی مکمل بحالی، دارالحکومت دہلی اور اسلام آباد میں ہائی کمشنروں کی دوبارہ تقرری اور دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے باقاعدہ ویزا خدمات پھر سے شروع کرنا شامل ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر سمیت تمام زیر التوا مسائل پر جامع دوطرفہ بات چیت پھر سے شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور 2004-2007 کے بات چیت کے فریم ورک پر پھر سے غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
خط میں کشیدگی کم کرنے، فوجی تعیناتی گھٹانے اور مسلسل بات چیت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، ساتھ ہی دونوں فریقوں کے “جائز سکیورٹی خدشات” کو بھی ذہن میں رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ طویل عرصے سے چلے آ رہے تناؤ کی وجہ سے لاکھوں لوگ بالخصوص نوجوان ترقی، خوشحالی اور محفوظ مستقبل کے مواقع سے محروم ہو رہے ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان مل کر دنیا کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں، اور یہاں کے لوگوں کا مستقبل بداعتمادی اور تصادم کے بجائے امن، کنیکٹیویٹی اور تعاون سے طے ہونا چاہیے۔ انہوں نے تجارت اور سفر کے لیے اٹاری-واگھہ سرحد پھر سے کھولنے، سرینگر-مظفرآباد بس سروس بحال کرنے اور سفر کا وقت اور خرچ کم کرنے کے لیے تجارتی پروازوں کے واسطے فضائی حدود کھول کر فضائی رابطے بڑھانے کا اصرار کیا ہے۔ انہوں نے کرتارپور صاحب راہداری کو پھر سے شروع کرنے اور پاکستان کی نیلم وادی میں شاردا پیٹھ تک رسائی آسان بنانے کے ساتھ ساتھ سرحد کے دونوں طرف مذہبی اور ثقافتی ورثے کے مقامات تک وسیع رسائی کی بھی اپیل کی ہے۔
خط پر دستخط کرنے والے ہندوستانیوں میں نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، پی ڈی پی صدر محترمہ محبوبہ مفتی، راجیہ سبھا ایم پی منوج جھا، کانگریس کے منی شنکر ائیر اور را کے سابق چیف اے ایس دلت شامل ہیں۔ پاکستان کی طرف سے دستخط کرنے والوں میں سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سفارت کار اشرف جہانگیر قاضی، نیشنل اسمبلی کے رکن اسفندیار بھنڈارا اور سائنسدان پرویز ہودبھائی شامل ہیں۔ ‘سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس’ کی جانب سے یہ پہل ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سرحد پار دہشت گردی اور پہلگام حملے جیسے حالیہ واقعات کی وجہ سے تناؤ بنا ہوا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو ملتوی کرنے کے ہندوستان کے فیصلے کے بعد پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات مزید بگڑ گئے۔
اسلام آباد میں انٹرنیشنل انڈس واٹرز ٹریٹی کانفرنس میں اظہارخیال کرتے ہوئے، پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مبینہ طور پر ہندوستان کو “1960 کے معاہدے کو کمزور کرنے کی کوششوں” کے خلاف وارننگ دی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مشترکہ دریاؤں کا استعمال کبھی بھی “ہتھیار کے طور پر نہیں کیا جانا چاہیے” اور انتباہ دیا کہ پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے والا کوئی بھی اقدام علاقائی امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ہندوستان کے اس موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہ سرحد پار دہشت گردی کے باعث پاکستان سے بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی، حکام نے دہرایا کہ معنی خیز بات چیت تبھی ممکن ہے جب ماحول دہشت گردی سے پاک ہو، پاکستان دہشت گردانہ ڈھانچے کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے اور ہندوستان کے سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے قابل اعتماد یقین دہانی کرائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان بات چیت کی حمایت تبھی کرتا ہے جب تحمل برتنے اور دہشت گردی سے پاک ماحول کے واضح ثبوت ہوں، جس سے مستحکم اور معنی خیز تعلقات قائم ہو سکیں۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، ضرورت پڑی تو پھر حملہ کریں گے: نیتن یاہو
تل ابیب، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل ایران پر دوبارہ حملہ کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔ گزشتہ روز اسرائیلی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ہم نے خود کو ایرانی ایٹمی بموں کے خطرے سے محفوظ بنایا ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان، پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) 18 جون سے نافذ العمل ہو چکی ہے۔
اس دستاویز پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکٹرانک دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تنازع کے خاتمے اور باقی ماندہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس میں جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کی بحالی اور وسیع تر علاقائی سلامتی سے متعلق امور شامل ہیں۔ اسرائیل متعدد مواقع پر تہران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی مخالفت کا اظہار کر چکا ہے اور ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان3 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا7 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا6 days agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
ہندوستان4 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
دنیا6 days agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت






































































































