تازہ ترین
ملک گیر لاک ڈاءون کا تیسرا مرحلہ ،پابندیاں ،بندشیں مزید سخت

’کورونا وائرس‘ سے متاثر افراد کی تعداد میں روزانہ اضافے کے پیش نظر انتظامیہ نے جموں وکشمیر میں پابندیاں مزید بڑھاتے ہوئے’شبانہ کرفیو‘ عائد کرنے کا فیصلہ لیا۔حکمنامے کے تحت شام 7بجے سے صبح 7بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔اس دوران لوگوں کی ہر طرح کی آزاد نقل وحرکت پر مکمل طور پابندی عائد کی گئی،تاہم میڈیکل ایمرجنسی کو کرفیو سے مستثنیٰ رکھا گیا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر انتظامیہ کے پرنسپل سیکریٹری اورحکومتی ترجمان، روہت کنسل نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ’جموں و کشمیر کے تمام علاقہ جات میں شام7بجے سے صبح 7بجے تک کرفیو نافذ کیا جائے گا‘۔ انہوں نے کہا ’کرفیو کے دوران ضلع انتظامیہ کی جانب سے اجرا کیے گئے پاسز کے بغیر آمدورفت کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم طبی پیشہ اور ضروری خدمات فراہم کرنے والے افراد پر یہ پابندی عائد نہیں ہوں گی‘۔ گزشتہ روز انتظامیہ نے جموں و کشمیر کے13اضلاع کو ریڈزون زمرے میں لایا تھا۔ ان میں کشمیر کے تمام اضلاع کے ساتھ ساتھ جموں صوبے کے جموں، کٹھوعہ اور سامبا بھی شامل ہے۔ ریاسی، ادھم پور، رامبن اور راجوری اورنج زون میں ہیں جبکہ ڈوڈہ، کشتوار اور پونچھ گرین زون میں ہیں۔ رواں مہینے کی یکم تاریخ کو مرکزی حکومت کی جانب سے لاک ڈان کے تیسرے مرحلے کے دوران عائد پابندیوں کیلئے ہدایت جاری کرتے ہوئے ملک کے733اضلاع کو ریڈ اورنج اور گرین زون باندھا گیا تھا۔ عوام کو پابندیوں میں رعایت بھی انہیں زون کے مطابق دی جائیگی۔
مرکزی وزارت صحت کے مطابق ’اگرچہ ان پابندیاں پر ہر ہفتے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد نظرثانی کی جاسکتی ہے تاہم پابندیاں کتنی بڑھانی ہے اور کتنی کم کرنی ہے اس کا حتمی فیصلہ ضلع انتظامیہ کو ہی لینا ہے۔‘جموں وکشمیر میں اب تک کورونا وائرس کے 701 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے زائد از 600 کشمیر کے ہیں۔ اب تک وائرس سے متاثرہ قریب 300 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ8 مریضوں کی موت ہوچکی ہے۔ اس دوران جموں وکشمیر نے ایک دن میں 2ہزار کورونا وائرس ٹیسٹ کرنے کے ہدف کا کامیاب تعاقب کیا ہے۔ادھرعالمی وبا کوروناوائرس کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر لاک ڈان میں مزید دو ہفتوں کی توسیع کے ساتھ ہی محکمہ تعلیم نے بھی جموں وکشمیر میں تمام تعلیمی اداروں اور تربیتی مراکز کو رواں ماہ کی17تاریخ تک بند رکھنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے۔اس حکمنامے کے مطابق کوروناوائرس کے پھیلا کی روکتھام کے لیے محکمہ اسکول تعلیم نے تمام تعلیمی اداروں کو مزید وقت کے لیے بند کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔جموں وکشمیرمیں کوروناوائرس کی بیماری کے دستک کے بعد سے ہی اسکولوں میں تمام تعلیمی اور تدریسی سرگرمیوں کو معطل کیا گیا تھا۔
اب چونکہ گزشتہ ہفتے مرکزی وزارت داخلہ نے ملک گیر لاک ڈان کو مزید دو ہفتوں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا یے۔ اس تناظر میں اب محکمہ تعلیم نے بھی ایک مرتبہ پھر بچوں سے تاکید کی ہے کہ وہ بندوشوں اور پابندیوں کے دوران گھروں میں ہی پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھے۔ جبکہ لاک ڈان کی صورت میں محکمہ کی جانب سے شروع کیے گئے آن لائن اور ٹیلی کلاسز سے بھی استفادہ حاصل کریں۔ پڑھائی کے وقت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے وادی کشمیر کے سرکاری اور بعض نجی اسکولوں نے بھی طلبہ کو آن لائن پڑھانے کا انتظام کیا ہے۔ جس کے لیے زوم کلاسز اور دیگر ایپس استعمال کی جارہی ہیں۔چھوٹے بچوں کے لیے والدین کے موبائل فون پر ایس ایم ایس بھیج کر بچوں کو واٹس آیپ گروپ میں شامل ہوکر آن لائن اسائنمنٹس اور دیگر ہوم ورک دیا جاتا ہے۔ وہیں اب آن لائن سسٹم کے ذریعے ہی یونٹIstاور یونٹ2ndامتحانات لینے کی بھی بات کی جارہی ہے۔
سست رفتار 2جی انٹرنٹ کی دستیابی کی وجہ سے بچے اکثر اوقات تعلیمی مواد ڈان لوڈ بھی نہیں کر پارہے ہیں۔ وہیں والدین بھی شکایت کرتے رہتے ہیں کہ ان کے ایک سے زیادہ بچے کسی اسکول میں زیر تعلیم ہیں تو مختلف کلاسز کے بچوں کو ایک ہی وقت میں پڑھانے کے نتیجے میں کئی بچوں کے کلاسز چھوٹ جاتے ہیں۔ جس سے ان کا تعلیمی نقصان ہوتا ہے۔ طلبہ کو درپیش دیگر دشواریوں کے باعث بھی آن لائن کلاسز زیادہ سودمند ثابت نہیں ہو پا رہے ہیں۔اب محکمہ تعلیم نے ایک غیر معمولی فیصلے کے تحت بچوں کو تعلیم دینے کے لیے آل انڈیا ریڈیو کے اشتراک سے آڈیو کلاسز شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
دنیا
ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت بھی جنرل قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ کی جانب سے قاسم سلیمانی کو ہلاک کیے جانے کے بعد ایران کی قیادت ’’خوش‘‘ تھی کیوں کہ ان کے بقول وہ مبینہ طور پر سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے ’’روڈ ٹو میجورٹی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی حملے کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی نے خطے کی سیکیورٹی کی صورت حال کو نئی شکل دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں خامنہ ای اور ایران میں دیگر لوگ بھی اس بات پر خوش تھے کہ میں نے قاسم سلیمانی کو جان سے مارا، کیوں کہ ان کے بقول ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، سلیمانی ایران کی قیادت کے لیے بھی ایک طاقت ور شخصیت بن چکا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے اور آواز کی نقل کرتے ہوئے مضحکہ خیز انداز میں کہا ایران کی قیادت سنبھالنے کے لیے کوئی تیار نہیں، اب کوئی بھی ایران کا صدر بننا نہیں چاہتا، جب وہاں پوچھا جاتا ہے کہ ایران کا صدر کون بننا چاہے گا؟ سب جواب دیتے ہیں ’’نہیں نہیں، شکریہ!‘‘
قاسم سلیمانی کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں قتل کیا تھا، ٹرمپ نے تعریف بھی کی کہ وہ ایک جینئس تھا، لیکن اس نے ہمارے فوجیوں کو مارا تھا۔ یاد رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو 3 جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی افواج کے ایک ڈرون حملے کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او
لندن، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل آکر لگا، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا۔
ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے، جبکہ فی الحال کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
آپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
نئی دہلی وزارتِ دفاع نے آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے فوجیوں کے بارے میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے تعلق سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جا رہے تنازع پر ہفتہ کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کہی جا رہی باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے اعتبار سے غلط ہیں۔
آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے چھ فوجیوں کے نام حال ہی میں نیشنل وار میموریل (قومی جنگی یادگار) پر کندہ کیے جانے کے بعد، سوشل میڈیا پر مسٹر سنگھ کے آپریشن سندور میں شہید فوجیوں کی تعداد کے بارے میں پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے اس معلومات کو چھپایا ہے۔
وزارتِ دفاع نے بیان جاری کر کے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں وزیرِ دفاع کی طرف سے گزشتہ سال 28 جولائی کو پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان پوسٹس میں تقریر کے ایک حصے کو جان بوجھ کر چن کر غلط مطلب نکالا گیا ہے، جیسے کہ وزیرِ دفاع نے کہا ہو کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران کسی بھی ہندستانی فوجی کی جان نہیں گئی۔ یہ باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے حساب سے غلط ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے وزیرِ دفاع کی پارلیمانی تقریر کے تعلق سے تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے ان کی باتوں کے وسیع تناظر کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے، “یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کے وقت، میڈیا کے کچھ حصوں اور سوشل میڈیا پر ایک خاص اور زور شور سے پھیلائی جا رہی بات چل رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران ہندستانی پائلٹ مارے گئے تھے۔ یہ بات پوری طرح سے غلط تھی، پھر بھی اسے جارحانہ طریقے سے پھیلایا جا رہا تھا تاکہ آپریشن کی کامیابی کو کم تر دکھایا جا سکے اور عوام کا حوصلہ توڑا جا سکے۔ وزیرِ دفاع نے اسی خاص اور شرارت آمیز بیانیہ کے جواب میں وہ بیان دیا تھا۔ اس لیے، ان کی باتیں اس وقت خطرناک حد تک پھیل رہی ایک غلط بات کا درست اور تناظر کے ساتھ جواب تھیں۔”
وزارت نے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کو اس کے پورے اور صحیح تناظر میں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کا بیان پوری طرح سے ‘آپریشن سندور’ کی شاندار کامیابی کا فخر سے بھرپور اور صحیح احوال تھا۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس میں ہندستانی دفاعی افواج نے بے مثال درستگی، عزم اور فوجی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ آپریشن کے دوران، 100 سے زیادہ دہشت گردوں اور پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا، ساتھ ہی پاکستانی ایئر بیس اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر تعینات ان کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ یہ تقریر ہندستانی دفاعی افواج کے حوصلے اور صلاحیت کے لیے ایک موزوں خراجِ تحسین تھی، اور ان لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا جو ہندستان کا نقصان چاہتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ دفاع اور حکومتِ ہند ہندستانی دفاعی افواج کے ہر رکن کے تئیں احترام، شکرگزاری اور عقیدت کا جذبہ رکھتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر، ان لوگوں کے تئیں جنہوں نے ملک کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ان کی قربانی مادرِ وطن کی خدمت کی اعلیٰ ترین شکل ہے، اور اسے ہمیشہ اس احترام، فخر اور سنجیدگی کے ساتھ یاد کیا جائے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔ حکومت نے ان کی عظیم قربانی کو عزت دیتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ ان کے نام ‘نیشنل وار میموریل’ کی دیواروں پر کندہ کیے جائیں۔ حکومت نے ان بہادروں کے خاندانوں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات میں رعایتیں دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔
یو این آئی ایف اے
تازہ ترین6 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان4 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
کھیل1 week agoڈیوڈ کی ہیٹ ٹرک، کینیڈا نے قطر کو شکست دے کر ورلڈ کپ میں پہلی بار جیت درج کی
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
دنیا6 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا1 week agoتل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی: ایران
دنیا6 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
جموں و کشمیر1 week agoکشتواڑ میں دہشت گردوں کے معاون نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی
دنیا3 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
دنیا4 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا1 week agoاسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پورا لبنان جلا دینا چاہیے: اسرائیلی وزیر کا بیان
تازہ ترین6 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ




































































































